Sunan Abu Dawood 2853

شکار کا بیان

2853Sunan Abu Dawood

سدھائے ہوئے کتے اور تیر سے شکار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ خُلَيْفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدُنَا يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَقْتَفِي أَثَرَهُ الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، ثُمَّ يَجِدُهُ مَيِّتًا وَفِيهِ سَهْمُهُ أَيَأْكُلُ، قَالَ: نَعَمْ إِنْ شَاءَ، أَوْ قَالَ: يَأْكُلُ إِنْ شَاءَ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے شکار کو تیر مارتا ہے پھر اسے دو دو تین تین دن تک تلاش کرتا پھرتا ہے، پھر اسے مرا ہوا پاتا ہے، اور اس کا تیر اس میں پیوست ہوتا ہے تو کیا وہ اسے کھائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اگر چاہے یا فرمایا: کھا سکتا ہے اگر چاہے ۔

Narrated Adi ibn Hatim: Messenger of Allah, one of us shoots at the game, and follows its mark for two or three days, and then finds it dead, and there is his arrow (pierced) in it, may he eat it? He said: Yes, if he wishes, or he said: he may eat if he wishes.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٨٥٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصید ٨ (٥٤٨٥ تعلیقًا) (صحیح )