ام کرز کعبیہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے: (عقیقہ) میں لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر کی ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد نے مكافئتان کے معنی یہ کئے ہیں کہ دونوں (عمر میں) برابر ہوں یا قریب قریب ہوں۔
Narrated Umm Kurz al-Kabiyyah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Two resembling sheep are to be sacrificed for a boy and one for a girl. Abu Dawud said: I heard Ahmad (ibn Hanbal) say: The Arabic word mukafiAtani means equal (in age) or resembling each other.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ١٧ (١٥١٦)، سنن النسائی/العقیقة ٢ (٤٢٢١)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٨١، ٤٢٢)، سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠٠٩) (صحیح )
ام کرز ؓ کہتی ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں بیٹھے رہنے دو (یعنی ان کو گھونسلوں سے اڑا کر تکلیف نہ دو ) ، میں نے آپ ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے: لڑکے کی طرف سے (عقیقہ میں) دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اور تمہیں اس میں کچھ نقصان نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ ۔
Narrated Umm Kurz (RA) : I heard the Prophet ﷺ say: Let the birds stay in their roosts. She said: I also heard him say: Two sheep are to be sacrificed for a boy and one for a girl, but it does you no harm whether they are male or female.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العقیقة ٣ (٤٢٢٣، ٤٢٢٢)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٧)، وقد أخرجہ: دی/ الأضاحی ٩ (٢٠١١) (ضعیف) (یہ حدیث ضعیف ہے، اس کی سند میں اضطراب ہے، عقیقہ سے متعلق حدیث کے لئے اوپر اور نیچے کی احادیث دیکھئے، ملاحظہ ہو: صحیح ابوداود ٨/١٨٣ )
ام کرز ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (عقیقے میں) لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہی دراصل حدیث ہے، اور سفیان کی حدیث (نمبر: ٢٨٣٥) وہم ہے ١ ؎۔
Narrated Umm Kurz (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Two sheep which resemble each other are to be sacrificed for a boy and one for a girl. Abu Dawud said: This is a sound tradition, and the tradition narrated by Sufyan is misunderstanding.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: عبید اللہ بن ابی یزید کے بعد سند میں عن ابیہ کا اضافہ سفیان کا وہم ہے، حماد کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ہے اور یہی دیگر لوگوں کی روایتوں میں ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٧) (صحیح )
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی ہے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور عقیقہ کا خون اس کے سر پر لگایا جائے ١ ؎۔ قتادہ سے جب پوچھا جاتا کہ کس طرح خون لگایا جائے؟ تو کہتے: جب عقیقے کا جانور ذبح کرنے لگو تو اس کے بالوں کا ایک گچھا لے کر اس کی رگوں پر رکھ دو، پھر وہ گچھا لڑکے کی چندیا پر رکھ دیا جائے، یہاں تک کہ خون دھاگے کی طرح اس کے سر سے بہنے لگے پھر اس کے بعد اس کا سر دھو دیا جائے اور سر مونڈ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: يدمى ہمام کا وہم ہے، اصل میں ويسمى تھا جسے ہمام نے يدمى کردیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اس پر عمل نہیں ہے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: A boy is in pledge for his Aqiqah. Sacrifice is made for him on the seventh day, his head is shaved and is smeared with blood. When Qatadah was asked about smearing with blood, how that should be done, he said: When you cut the head (i. e. throat) of the animal (meant for Aqiqah), you may take a few hair of it, place them on its veins, and then place them in the middle of the head of the infant, so that the blood flows on the hair (of the infant) like a threat. Then its head may be washed and shaved off. Abu Dawud said: In narrating the word is smeared with blood (yudamma) there is a misunderstanding on the part of Hammam. Abu Dawud said: Hammam has been opposed in narrating the words is smeared with blood. This is misunderstanding of Hammam. They narrated he word he is given a name (yusamma) and Hammam narrated it is smeared with blood (yudamma). Abu Dawud said: This tradition is not followed.
Notes · وضاحت
١ ؎: بریدہ ؓ کی آنے والی حدیث نمبر (٢٨٤٣) اس حدیث کے لئے ناسخ ہے، لہٰذا عقیقہ کا خون بچے کے سر پر نہیں لگایا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ٢٣ (١٥٢٢)، سنن النسائی/العقیقة ٤ (٤٢٢٥)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العقیقة ٢ (٥٤٧٢)، مسند احمد (٥/٧، ٨، ١٢، ١٧، ١٨، ٢٢)، سنن الدارمی/الأضاحي ٩ (٢٠١٢) (صحیح) (لیکن يدمى کی جگہ يسمى صحیح ہے جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے، ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں يسمى ہی ہے )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، ساتویں روز اس کی طرف سے ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لفظ يسمى لفظ يدمى سے زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے اسی طرح قتادہ، ایاس بن دغفل اور اشعث سے اور ان لوگوں نے حسن سے روایت کی ہے، اس میں ويسمى کا لفظ ہے، اور اسے اشعث نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اس میں بھی ويسمى ہی ہے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: A boy is in pledge for his Aqiqah, Sacrifice is made for him on the seventh day, his head is shaved and he is given name. Abu Dawud said: The word wa yusamma is sounder as narrated by Salam bin Abi Muti from Qatadah, and narrated by Iyas bin Daghfal and Ashath from al-Hassan who narrated wa yusamma (and he is given a name).
سلمان بن عامر ضبی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑکے کی پیدائش کے ساتھ اس کا عقیقہ ہے تو اس کی جانب سے خون بہاؤ، اور اس سے تکلیف اور نجاست کو دور کرو (یعنی سر کے بال مونڈو اور غسل دو ) ۔
Narrated Salman bin Amir al-Dabbi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Along with a boy there is an Aqiqah, so shed blood on his behalf, and remove injury from him.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عقوق (ماں باپ کی نافرمانی) کو پسند نہیں کرتا گویا آپ ﷺ نے اس نام کو ناپسند فرمایا، اور مکروہ جانا، اور فرمایا: جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی (عقیقہ) کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں کرے، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری پھر آپ ﷺ سے فرع کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: فرع حق ہے اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اونٹ جوان ہوجائے، ایک برس کا یا دو برس کا، پھر اس کو بیواؤں محتاجوں کو دے دو، یا اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے دے دو، یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کو (پیدا ہوتے ہی) کاٹ ڈالو کہ گوشت اس کا بالوں سے چپکا ہو (یعنی کم ہو) اور تم اپنا برتن اوندھا رکھو، (گوشت نہ ہوگا تو پکاؤ گے کہاں سے) اور اپنی اونٹنی کو بچے کی جدائی کا غم دو ۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather that the Messenger of Allah ﷺ was asked about the aqiqah. He replied: Allah does not like the breaking of ties (uquq), as though he disliked the name. And he said: If anyone has a child born to him and wishes to offer a sacrifice on its behalf, he may offer two resembling sheep for a boy and one for a girl. And he was asked about Fara. He replied: Fara is right. If you leave it (i. e. let it grow till it becomes a healthy camel of one year or two years, then you give it to a widow or give it in the path of Allah for using it as a riding beast, it is better than slaughtering it at the age when its meat is stuck to its hair, and you turn over your milking vessel and annoy your she-camel.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العقیقة ١ (٤٢١٧)، (تحفة الأشراف: ١٩١٦٩، ٨٧٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٢، ١٨٣، ١٩٤) (حسن )
بریدہ ؓ کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں جب ہم میں سے کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ ایک بکری ذبح کرتا اور اس کا خون بچے کے سر میں لگاتا، پھر جب اسلام آیا تو ہم بکری ذبح کرتے اور بچے کا سر مونڈ کر زعفران لگاتے تھے (خون لگانا موقوف ہوگیا) ١ ؎۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: When a boy was born to one of us in the pre-Islamic period, we sacrificed a sheep and smeared his head with its blood; but when Allah brought Islam, we sacrificed a sheep, shaved his head and smeared his head with saffron.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث سمرہ کی حدیث نمبر (٢٨٣٧) کی ناسخ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٦٤) (حسن صحیح )