ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہیں جو جاہلیت سے نکل کر ابھی نئے نئے ایمان لائے ہیں، وہ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں تو کیا ہم اس میں سے کھائیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بسم الله کہہ کر کھاؤ ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) : (the narrator Musa did not mention the words from Aisha (RA) in his version from Hammad, and al-Qanabi also did not mention the word from Aisha (RA) in his version from Malik). They (the people) said: Messenger of Allah, there are people here, recent converts from polytheism, who bring us meat and we do not know whether or not they mentioned Allahs name over it. The Messenger of Allah ﷺ said: Mention Allahs name and eat.
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ تم اہل اسلام کے سلسلے میں نیک گمان رکھو کہ انہوں نے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہوگا، پھر بھی شک و شبہ کو دور کرنے کے لئے کھاتے وقت بسم الله کہہ لیا کرو۔
نبیشہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو پکار کر کہا: ہم جاہلیت میں رجب کے مہینے میں عتيرة (یعنی جانور ذبح) کیا کرتے تھے تو آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جس مہینے میں بھی ہو سکے اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرو، اللہ کے لیے نیکی کرو، اور کھلاؤ ۔ پھر وہ کہنے لگا: ہم زمانہ جاہلیت میں فرع (یعنی قربانی) کرتے تھے، اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر چرنے والے جانور میں ایک فرع ہے، جس کو تمہارے جانور جنتے ہیں، یا جسے تم اپنے جانوروں کی فرع کھلاتے ہو، جب اونٹ بوجھ لادنے کے قابل ہوجائے (نصر کی روایت میں ہے: جب حاجیوں کے لیے بوجھ لادنے کے قابل ہوجائے) تو اس کو ذبح کرو پھر اس کا گوشت صدقہ کرو۔ خالد کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا: مسافروں پر صدقہ کرو۔ یہ بہتر ہے ۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: کتنے جانوروں میں ایسا کرے؟ انہوں نے کہا: سو جانوروں میں۔
Narrated Nubayshah (RA) : A man called the Messenger of Allah ﷺ : We used to sacrifice Atirah in pre-Islamic days during Rajab; so what do you command us? He said: Sacrifice for the sake of Allah in any month whatever; obey Allah, Most High, and feed (the people). He said: We used to sacrifice a Fara in pre-Islamic days, so what do you command us? He said: On every pasturing animal there is a Fara which is fed by your cattle till it becomes strong and capable of carrying load. The narrator Nasr said (in his version): When it becomes capable of carrying load of the pilgrims, you may slaughter it and give its meat as charity (sadaqah). The narrator Khalids version says: You (may give it) to the travellers, for it is better. Khalid said: I asked Abu Qilabah: How many pasturing animals? He replied: One hundred.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الفرع والعتیرة ١ (٤٢٣٣)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٢ (٣١٣٧)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٥، ٧٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (اسلام میں) نہ فرع ہے اور نہ عتیرہ ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Prophet ﷺ sa saying: There is no Fara and atirah.
Notes · وضاحت
١ ؎: فرع زمانہ جاہلیت میں جس جانور کا پہلوٹہ بچہ پیدا ہوتا اس کو بتوں کے نام ذبح کرتے تھے، اور ابتدائے اسلام میں مسلمان بھی ایسا اللہ کے واسطے کرتے تھے پھر کفار سے مشابہت کی بنا پر اسے منسوخ کردیا گیا، اور اس کام سے منع کردیا گیا، اور عتیرہ رجب کے پہلے عشرہ میں تقرب حاصل کرنے کے لئے زمانہ جاہلیت میں ذبح کرتے تھے، اور اسلام کے ابتداء میں مسلمان بھی ایسا کرتے تھے، کافر اپنے بتوں سے تقرب کے لئے اور مسلمان اللہ تعالیٰ سے تقرب کے لئے کرتے تھے، پھر یہ دونوں منسوخ ہوگئے، اب نہ فرع ہے اور نہ عتیرہ، بلکہ مسلمانوں کے لئے عیدالاضحی کے روز قربانی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہر پچاس بکری میں سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض حضرات نے فرع کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اونٹ کے سب سے پہلے بچہ کی پیدائش پر کفار اسے بتوں کے نام ذبح کر کے کھالیتے، اور اس کی کھال کو درخت پر ڈال دیتے تھے، اور عتیرہ ایسے جانور کو کہتے ہیں جسے رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کرتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to sacrifice goat out of every fifty goats. Abu Dawud said: Fara means the first baby camel born (to the Arabs). They used to sacrifice it for their idols, and then eat it, and its skin was thrown on a tree. Atira was a sacrifice made during the first ten days of Rajab.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم مستحب تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٥٨، ٢٥١) (صحیح )