مخنف بن سلیم ؓ کہتے ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! (سن لو) ہر سال ہر گھر والے پر قربانی اور عتیرہ ہے ١ ؎ کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہے؟ یہ وہی ہے جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عتیرہ منسوخ ہے یہ ایک منسوخ حدیث ہے۔
Narrated Mikhnaf ibn Sulaym: We were staying with the Messenger of Allah ﷺ at Arafat; he said: O people, every family must offer a sacrifice and an atirah. Do you know what the atirah is? It is what you call the Rajab sacrifice. Abu Dawud said: Atirah has been abrogated, and this tradition is an abrogated one.
Notes · وضاحت
١ ؎: عتیرہ وہ ذبیحہ ہے جو اوائل اسلام میں رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کیا جاتا تھا، اسی کا دوسرا نام رجبیہ بھی تھا، بعد میں عتیرہ منسوخ ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ١٩(١٥١٨)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ١(٤٢٢٩)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٢ (٣١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٢٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١٥، ٥/٧٦) (حسن )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اضحی کے دن (دسویں ذی الحجہ کو) مجھے عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے مقرر و متعین فرمایا ہے ، ایک شخص کہنے لگا: بتائیے اگر میں بجز مادہ اونٹنی یا بکری کے کوئی اور چیز نہ پاؤں تو کیا اسی کی قربانی کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، تم اپنے بال کتر لو، ناخن تراش لو، مونچھ کتر لو، اور زیر ناف کے بال لے لو، اللہ عزوجل کے نزدیک (ثواب میں) بس یہی تمہاری پوری قربانی ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: I have been commanded to celebrate festival (Id) on the day of sacrifice, which Allah, Most High, has appointed for this community. A man said: If I do not find except a she-goat or a she-camel borrowed for milk or other benefits, should I sacrifice it? He said: No, but you should clip your hair, and nails, trim your moustaches, and shave your pubes. This is all your sacrifice in the eyes of Allah, Most High.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الضحایا ١ (٤٣٧٠)، (تحفة الأشراف: ٨٩٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٩) (حسن) (البانی کے نزدیک یہ حدیث عیسیٰ کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، جبکہ عیسیٰ ب تحقیق ابن حجر صدوق ہیں، اور اسی وجہ سے شیخ مساعد بن سلیمان الراشد نے احکام العیدین للفریابی کی تحقیق وتخریج میں اسے حسن قرار دیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ٢ ؍ ٣٧٠ )
حنش کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ (یعنی قربانی میں ایک دنبہ کفایت کرتا ہے آپ دو کیوں کرتے ہیں) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، تو میں آپ کی طرف سے (بھی) قربانی کرتا ہوں۔
Narrated Hanash (RA) : I saw Ali sacrificing two rams; so I asked him: What is this? He replied. The Messenger of Allah ﷺ enjoined upon me to sacrifice on his behalf, so that is what I am doing.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ٣ (١٤٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٠٧، ١٤٩، ١٥٠) (ضعیف) (اس کے راوی ابوالحسناء مجہول ہیں، نیز حنش کے بارے میں بھی اختلاف ہے )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس قربانی کا جانور ہو اور وہ اسے عید کے روز ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو جب عید کا چاند نکل آئے تو اپنے بال اور ناخن نہ کترے ١ ؎۔
Narrated Umm Salamah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone has sacrificial animal and intends to sacrifice it, and he sights the new moon of Dhul-Hajjah, he must not take any of his hair and nails until he sacrifices Abu Dawud said: The name of Amr bin Muslim in the chain narrated by Malik and Muhammad bin Amr is disputed. Some say that it is Umar and the majority holds that it is Amr. Abu Dawud said: He is Amr bin Muslim bin Ukaimah al-Laithi al-Jundui.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگ دار مینڈھا لانے کا حکم دیا جس کی آنکھ سیاہ ہو، سینہ، پیٹ اور پاؤں بھی سیاہ ہوں، پھر اس کی قربانی کی، آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ چھری لاؤ ، پھر فرمایا: اسے پتھر پر تیز کرو ، تو میں نے چھری تیز کی، آپ ﷺ نے اسے ہاتھ میں لیا اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور کہا:بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد اللہ کے نام سے ذبح کرتا ہوں، اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد کی جانب سے اسے قبول فرما پھر آپ ﷺ نے اس کی قربانی کی۔
Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ ordered a horned ram with black legs, black belly and black round the eyes, and it was brought from him to sacrifice. He said: Aisha (RA) , get the knife then he said: Sharpen it with a stone. So I did. He took it, then take the ram he placed it on the ground and slaughtered it. He then said: In the name of Allah. O Allah, accept it for Muhammad, Muhammads family and Muhammads people. Then he sacrificed it.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحي ٣ (١٩٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧٨) (حسن )
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے سات اونٹ کھڑے کر کے نحر کئے اور مدینہ میں دو سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کی جن کا رنگ سیاہ اور سفید تھا (یعنی ابلق تھے سفید کھال کے اندر سیاہ دھاریاں تھیں) ۔
Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ sacrificed seven camels standing with his own hand, and sacrificed at Madina two horned rams which were white with black markings.
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سینگ دار ابلق دنبوں کی قربانی کی، اپنا دایاں پاؤں ان کی گردن پر رکھ کر بسم الله، الله أكبر کہہ کر انہیں ذبح کر رہے تھے۔
Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ sacrificed two horned rams which were white with black markings, slaughtered, and uttered: Allah is Most Great. and mentioned Allahs name and placed his foot on their sides.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے قربانی کے دن سینگ دار ابلق خصی کئے ہوئے دو دنبے ذبح کئے، جب انہیں قبلہ رخ کیا تو آپ ﷺ نے یہ دعا پڑھی: إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض على ملة إبراهيم حنيفا وما أنا من المشرکين، إن صلاتي ونسکي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له، وبذلک أمرت وأنا من المسلمين، اللهم منک ولک وعن محمد وأمته باسم الله والله أكبر میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں ابراہیم کے دین پر ہوں، کامل موحد ہوں، مشرکوں میں سے نہیں ہوں بیشک میری نماز میری تمام عبادتیں، میرا جینا اور میرا مرنا خالص اس اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی عطا ہے، اور خاص تیری رضا کے لیے ہے، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول کر، (بسم اللہ واللہ اکبر) اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ بہت بڑا ہے پھر ذبح کیا۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ sacrificed two horned rams which were white with black markings and had been castrated. When he made them face the qiblah, he said: I have turned my face towards Him. Who created the heavens and the earth, following Abrahams religion, the true in faith, and I am not one of the polytheists. My prayer, and my service of sacrifice, my life and my death are all for Allah, the Lord of the Universe, Who has no partner. That is what I was commanded to do, and I am one of the Muslims. O Allah it comes from Thee and is given to Thee from Muhammad and his people. In the name of Allah, and Allah is Most Great. He then made sacrifice.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١ (٣١٢١)، (تحفة الأشراف: ٣١٦٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي ٢٢ (١٥٢١)، مسند احمد (٣/٣٥٦، ٣٦٢، ٣٧٥)، سنن الدارمی/الأضاحي ١ (١٩٨٩) (حسن) (اس کے راوی ابوعیاش مصری مجہول، لین الحدیث ہیں، لیکن تابعی ہیں، اور تین ثقہ راویوں نے ان سے روایت کی ہے، نیز حدیث کی تصحیح ابن خزیمہ، حاکم، اور ذھبی نے کی ہے، البانی نے پہلے اسے ضعیف ابی داود میں رکھا تھا، پھر تحسین کے بعد اسے صحیح ابی داود میں داخل کیا) (٨ ؍ ١٤٢ )
ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سینگ دار فربہ دنبہ کی قربانی کرتے تھے جو دیکھتا تھا سیاہی میں اور کھاتا تھا سیاہی میں اور چلتا تھا سیاہی میں (یعنی آنکھ کے اردگرد) ، نیز منہ اور پاؤں سب سیاہ تھے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to sacrifice a choice, horned ram with black round the eyes, the mouth and the feet.
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صرف مسنہ ١ ؎ ہی ذبح کرو، مسنہ نہ پاؤ تو بھیڑ کا جذعہ ذبح کرو ۔
Narrated Jabir: The Messenger of Allah ﷺ as saying: Sacrifice only a full-grown animal unless it is difficult for you, in which case sacrifice a lamb.
Notes · وضاحت
١ ؎: مسنہ وہ جانور جس کے دودھ کے دانت ٹوٹ چکے ہوں، یہ اونٹ میں عموماً اس وقت ہوتا ہے جب وہ پانچ برس پورے کر کے چھٹے میں داخل ہوگیا ہو، گائے بیل اور بھینس جب وہ دو برس پورے کرکے تیسرے میں داخل ہوجائیں، بکری اور بھیڑ میں جب ایک برس پورا کرکے دوسرے میں داخل ہوجائیں، جذعہ اس دنبہ یا بھیڑ کو کہتے ہیں جو سال بھر کا ہوچکا ہو، اہل لغت اور شارحین میں محققین کا یہی قول صحیح ہے، (دیکھئے مرعاۃ شرح مشکاۃ )
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحي ٢ (١٩٦٢)، سنن النسائی/الضحایا ١٢ (٤٣٨٣)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٧ (٣١٤١)، (تحفة الأشراف: ٢٧١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٢، ٣٢٧) (صحیح) (اس حدیث پر مزید بحث کے لئے ملاحظہ ہو: ضعیف أبي داود ٢/٣٧٤، والضعیفہ ٦٥، والإرواء ١١٤٥، وفتح الباري ١٠/١٥ )
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام میں قربانی کے جانور تقسیم کئے تو مجھ کو ایک بکری کا بچہ جو جذع تھا (یعنی دوسرے سال میں داخل ہوچکا تھا) دیا، میں اس کو لوٹا کر آپ کے پاس لایا اور میں نے کہا کہ یہ جذع ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی قربانی کر ڈالو ، تو میں نے اسی کی قربانی کر ڈالی۔
Narrated Zayd ibn Khalid al-Juhani (RA) : The Messenger of Allah ﷺ distributed sacrificial animals among his Companions. He gave me a kid (of less than a year). I took it to him and said: This is a kid. He said: Sacrifice it. so I sacrificed it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٥١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوکالة ١ (٢٣٠٠)، والشرکة ١٢ (٢٥٠٠)، والأضاحي ٢، (٥٥٤٧) ٧ (٥٥٥٥)، صحیح مسلم/الأضاحي ٢ (١٩٦٥)، سنن الترمذی/الأضاحي ٧ (١٥٠٠)، سنن النسائی/الضحایا ١٢ (٤٣٨٤)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٧ (٣١٣٨)، مسند احمد (٤/١٤٩، ١٥٢، ٥/١٩٤)، سنن الدارمی/الأضاحي ٤ (١٩٩٦)، کلھم عن عقبة بن عامر رضي اللہ عنہ (حسن صحیح )
کلیب کہتے ہیں کہ ہم مجاشع نامی بنی سلیم کے ایک صحابی رسول کے ساتھ تھے اس وقت بکریاں مہنگی ہوگئیں تو انہوں نے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: جذع (ایک سالہ) اس چیز سے کفایت کرتا ہے جس سے ثنی (وہ جانور جس کے سامنے کے دانت گرگئے ہوں) کفایت کرتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مجاشع بن مسعود ؓ تھے۔
Narrated Asim bin Kulaib: On the authority of his father: We were with a man from the Companions of the Prophet ﷺ called Mujashi who belonged to Banu Sulaim. There was a scarcity if goats (in those days). He commanded a man to announce (among the people); so he announced that the Messenger of Allah ﷺ used to say: A lamb may be given as full payent for that for which has full-grown animal is payment. Abu Dawud said: His name is Mujashi bin Masud.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الضحایا ١٢(٤٣٨٩)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٧ (٣١٤٠)، (تحفة الأشراف: ١١٢١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٦٨) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دسویں ذی الحجہ کو نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: جس نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی، اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، تو اس نے قربانی کی (یعنی اس کو قربانی کا ثواب ملا) اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی تو وہ گوشت کی بکری ١ ؎ ہوگی ، یہ سن کر ابوبردہ بن نیار ؓ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے قربانی کر ڈالی اور میں نے یہ سمجھا کہ یہ دن کھانے اور پینے کا دن ہے، تو میں نے جلدی کی، میں نے خود کھایا، اور اپنے اہل و عیال اور ہمسایوں کو بھی کھلایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ گوشت کی بکری ہے ٢ ؎، تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سالہ جوان بکری اور وہ گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا وہ میری طرف سے کفایت کرے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہوگی (یعنی یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے) ۔
Narrated Al-Bara bin Azib: The Messenger of Allah ﷺ delivered a sermon to us on the day of sacrifice after the prayer. He said: If anyone prays like our prayer, and sacrifices like our sacrifice, his sacrifice is all right. If anyone sacrifices before the prayer (forEid), that is goat meant for flesh. Abu Burdah bin Niyar stood up and said: Messenger of Allah, I swear by Allah, I sacrificed before I went for prayer. I thought it was the day of eating and drinking; so I made haste, and ate myself, and supplied flesh to my family and neighbors. The Messenger of Allah ﷺ said: That is a goat meant for eating flesh. He said: I have a kid (of less than a year) which is better than two goats meant for flesh. Will it be valid from me ? He said: Yes, but it will not be valid for anyone after you.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ قربانی شمار نہیں ہوگی اور نہ ہی اسے قربانی کا ثواب ملے گا اس سے صرف گوشت حاصل ہوگا جسے وہ کھا سکتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی اس سے تمہیں صرف گوشت حاصل ہوا قربانی کا ثواب نہیں۔
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میرے ابوبردہ نامی ایک ماموں نے نماز سے پہلے قربانی کرلی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: یہ تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس بکریوں میں سے ایک پلی ہوئی جذعہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسی کو ذبح کر ڈالو، لیکن تمہارے سوا اور کسی کے لیے ایسا کرنا درست نہیں ۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: A maternal uncle of mine called Abu Burdah sacrificed before the prayer (for Eid). The Messenger of Allah ﷺ said: Your goat is meant for flesh. He said: Messenger of Allah, I have a domestic kid with me. He said: Sacrifice it, but it is not valid for any man other than you.
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب ؓ سے پوچھا کہ: کون سا جانور قربانی میں درست نہیں ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، میری انگلیاں آپ ﷺ کی انگلیوں سے چھوٹی ہیں اور میری پوریں آپ کی پوروں سے چھوٹی ہیں، آپ ﷺ نے چار انگلیوں سے اشارہ کیا اور فرمایا: چار طرح کے جانور قربانی کے لائق نہیں ہیں، ایک کانا جس کا کانا پن بالکل ظاہر ہو، دوسرے بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن بالکل واضح ہو، اور چوتھے دبلا بوڑھا کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ، میں نے کہا: مجھے قربانی کے لیے وہ جانور بھی برا لگتا ہے جس کے دانت میں نقص ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: جو تمہیں ناپسند ہو اس کو چھوڑ دو لیکن کسی اور پر اس کو حرام نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( لا تنقى کا مطلب یہ ہے کہ) اس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔
Narrated Ubayd ibn Firuz (RA) : I asked al-Bara ibn Azib: What should be avoided in sacrificial animals? He said: The Messenger of Allah ﷺ stood among us, and my fingers are smaller than his fingers, and my fingertips are smaller than his fingertips. He said (pointing with his fingers): Four (types of animals) should be avoided in sacrifice (RA) : A One-eyed animal which has obviously lost the sight of one eye, a sick animal which is obviously sick, a lame animal which obviously limps and an animal with a broken leg with no marrow. I also detest an animal which has defective teeth. He said: Leave what you detest, but do not make it illegal for anyone. Abu Dawud said: (By a lean animal mean) and animal which has no marrow.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ٥ (١٤٩٧)، سنن النسائی/الضحایا ٤ (٤٣٧٤)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٨ (٣١٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الضحایا ١(١)، مسند احمد (٤/٢٨٤، ٢٨٩، ٣٠٠، ٣٠١)، سنن الدارمی/الأضاحي ٣ (١٩٩٢) (صحیح )
یزید ذومصر کہتے ہیں کہ میں عتبہ بن عبد سلمی کے پاس آیا اور ان سے کہا: ابوالولید! میں قربانی کے لیے جانور ڈھونڈھنے کے لیے نکلا تو مجھے سوائے ایک بکری کے جس کا ایک دانت گر چکا ہے کوئی جانور پسند نہ آیا، تو میں نے اسے لینا اچھا نہیں سمجھا، اب آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس کو تم میرے لیے کیوں نہیں لے آئے، میں نے کہا: سبحان اللہ! آپ کے لیے درست ہے اور میرے لیے درست نہیں، انہوں نے کہا: ہاں تم کو شک ہے مجھے شک نہیں، رسول اللہ ﷺ نے بس مصفرة والمستأصلة والبخقاء والمشيعة، اور کسراء سے منع کیا ہے، مصفرة وہ ہے جس کا کان اتنا کٹا ہو کہ کان کا سوراخ کھل گیا ہو، مستأصلة وہ ہے جس کی سینگ جڑ سے اکھڑ گئی ہو، بخقاء وہ ہے جس کی آنکھ کی بینائی جاتی رہے اور آنکھ باقی ہو، اور مشيعة وہ ہے جو لاغری اور ضعف کی وجہ سے بکریوں کے ساتھ نہ چل پاتی ہو بلکہ پیچھے رہ جاتی ہو، کسراء وہ ہے جس کا ہاتھ پاؤں ٹوٹ گیا ہو، (لہٰذا ان کے علاوہ باقی سب جانور درست ہیں، پھر شک کیوں کرتے ہو) ۔
Narrated Yazid Dhu Misr (RA) : I came to Utbah ibn AbdusSulami and said: AbulWalid, I went out seeking sacrificial animals. I did not find anything which attracted me except an animal whose teeth have fallen. So I abominated it. What do you say (about it)? He said: Why did you not bring it to me? He said: Glory be to Allah: Is if lawful for you and not lawful for me? He said: Yes, you doubt and I do not doubt. The Messenger of Allah ﷺ has forbidden an animal whose ear has been uprooted so much so that its hole appears (outwardly), and an animal whose horn has broken from the root, and an animal which has totally lost the sight of its eye, and an animal which is so thin and weak that it cannot go with the herd, and an animal with a broken leg.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٧٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٨) (ضعیف) (اس کے راوی یزید ذومصر لین الحدیث ہیں )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان خوب دیکھ لیں (کہ اس میں ایسا نقص نہ ہو جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو) اور کانے جانور کی قربانی نہ کریں، اور نہ مقابلة کی، نہ مدابرة کی، نہ خرقاء کی اور نہ شرقاء کی۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا عضباء کا بھی ذکر کیا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں (عضباء اس بکری کو کہتے ہیں جس کے کان کٹے ہوں اور سینگ ٹوٹے ہوں) ۔ میں نے پوچھا مقابلة کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کا کان اگلی طرف سے کٹا ہو، پھر میں نے کہا: مدابرة کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کے کان پچھلی طرف سے کٹے ہوں، میں نے کہا:خرقاء کیا ہے؟ کہا: جس کے کان پھٹے ہوں (گولائی میں) میں نے کہا: شرقاء کیا ہے؟ کہا: جس بکری کے کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں (نشان کے لیے) ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ enjoined upon us to pay great attention to the eye and both ears, and not to sacrifice a one-eyed animal, and an animal with a slit which leaves something hanging at the front or back of the ear, or with a lengthwise slit with a perforation in the ear. I asked Abu Ishaq: Did he mention an animal with broken horns and uprooted ears? He said: No. I said: What is the Muqabalah ? He replied: It has been cut from the back of its ear. I said: What about the Sharqa? He replied: The ear has been split. I said: What about the Kharqa? He replied: A hole is made (in its ears) as a distinguishing mark.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ٦ (١٤٩٨)، سنن النسائی/الضحایا ٨ (٤٣٧٧) ٨ (٤٣٧٨)، ٩ (٤٣٧٩)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٨ (٣١٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٠١٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٠، ١٠٨، ١٢٨، ١٤٩)، سنن الدارمی/الأضاحي ٣ (١٩٩٥) (ضعیف) (اس کے راوی ابواسحاق مختلط اور مدلس ہیں، نیز شریح سے ان کا سماع نہیں، اس لیے سند میں انقطاع بھی ہے، مگر مطلق کان، ناک دیکھ بھال کرلینے کا حکم صحیح ہے )
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عضباء (یعنی سینگ ٹوٹے کان کٹے جانور) کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ prohibited to sacrifice an animal with a slit ear and broken horn. Abu Dawud said: The narrator Jurayy (b. Kulaib) is Sadusi, and belongs to Basrah. No one narrated traditions from him except Qatadah.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ٩ (١٥٠٤)، سنن النسائی/الضحایا ١١ (٤٣٨٢)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٨ (٣١٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٣، ١٠١، ١٠٩، ١٢٧، ١٢٩، ١٥٠) (ضعیف) (اس کے راوی جری لین الحدیث ہیں )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں حج تمتع کرتے تو گائے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کرتے تھے، اور اونٹ بھی سات آدمیوں کی طرف سے، ہم سب اس میں شریک ہوجاتے ١ ؎۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : We performed tamattu during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ , sacrificed a cow for seven and a camel for seven people. We shared them.
Notes · وضاحت
١ ؎: سات افراد کی طرف سے اونٹ یا گائے ذبح کرنے کا یہ ضابطہ و اصول ہدی کے جانوروں کے لئے ہے، قربانی میں اونٹ دس افراد کی طرف سے بھی جائز ہے، سنن ترمذی میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہم سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، قربانی کا وقت آگیا تو گائے میں ہم سات آدمی شریک ہوئے، اور اونٹ میں دس آدمی، یہ روایت سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں بھی ہے۔