قربانی کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 12 · 46 hadiths · Page 2 of 3

2808Sunan Abu Dawood

اونٹ گائے اور بھینس وغیرہ کہ قربانی کتنے افراد کی طرف سے ہو سکتی ہے؟

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: گائے سات کی طرف سے کفایت کرتی ہے اور اونٹ بھی سات کی طرف سے ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: A cow serves for seven, and a camel serves for seven.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٤٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦٣) (صحیح )
2809Sunan Abu Dawood

اونٹ گائے اور بھینس وغیرہ کی قربانی کتنے افراد کی طرف سے ہو سکتی ہے؟

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَّةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ نحر کئے، اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : We sacrificed along with the Messenger of Allah ﷺ at al-Hudaybiyyah a camel for seven and a cow for seven people.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ المناسک ٦٢ (١٣١٨)، سنن الترمذی/ الحج ٦٦ (٩٠٤)، الأضاحی ٨ (١٥٠٢)، سنن ابن ماجہ/ الأضاحی ٥ (٣١٣٢)، (تحفة الأشراف: ٢٩٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٣) (صحیح )
2810Sunan Abu Dawood

کئی آدمیوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَضْحَى بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ نَزَلَ مِنْ مِنْبَرِهِ وَأُتِيَ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں عید الاضحی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید گاہ میں موجود تھا، جب آپ ﷺ خطبہ دے چکے تو منبر سے اترے اور آپ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، تو آپ ﷺ نے: بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت کے ہر اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی ہے ١ ؎ کہہ کر اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : I witnessed sacrificing along with the Messenger of Allah ﷺ at the place of prayer. When he finished his sermon, he descended from his pulpit, and a ram was brought to him. The Messenger of Allah ﷺ slaughtered it with his hand, and said: In the name of Allah, Allah, is Most Great. This is from me and from those who did not sacrifice from my community.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس جملے سے ثابت ہوا کہ مسلم کی جس روایت میں اجمال ہے (یعنی: یہ میری امت کی طرف سے ہے) اس سے مراد امت کے وہ زندہ لوگ ہیں جو عدم استطاعت کے سبب اس سال قربانی نہیں کرسکے تھے نہ کہ مردہ لوگ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأضاحي ٢٢ (١٥٢١)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١ (٣١٢١)، (تحفة الأشراف: ٣٠٩٩)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأضاحي ١ (١٩٨٩)، مسند احمد (٣/٣٥٦، ٣٦٢) (صحیح )
2811Sunan Abu Dawood

امام اپنی قربانی عید گاہ میں ذبح کرے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ حدَّثَهُمْ عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِالْمُصَلَّى وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی قربانی عید گاہ میں ذبح کرتے تھے۔ اور ابن عمر ؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ used to slaughter his sacrificial animal at the place of prayer. Ibn Umar used to do so.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١٧ (٣١٦١)، (تحفة الأشراف: ٧٤٧٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین ٢٢ (٩٨٢)، والأضاحي ٦ (٥٥٥٢)، سنن الترمذی/الضحایا ٩ (١٥٠٨)، سنن النسائی/العیدین ٢٩ (١٥٩٠)، والأضاحي ٢ (٤٣٧١)، مسند احمد (٢/١٠٨، ١٥٢) (حسن صحیح) (ابن عمر ؓ کے فعل کے متعلق جملہ صحیح نہیں ہے )
2812Sunan Abu Dawood

قربانی کے گوشت کو رکھ چھوڑنا

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: دَفَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الأَضْحَى فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادَّخِرُوا الثُّلُثَ، وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ذَلِكَ، قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ وَيَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الأَسْقِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ، أَوْ كَمَا قَالَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَهَيْتَ عَنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ عَلَيْكُمْ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا.

عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں قربانی کے موقع پر (مدینہ میں) کچھ دیہاتی آگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تین روز تک کا گوشت رکھ لو، جو باقی بچے صدقہ کر دو ، عائشہ ؓ کہتی ہیں: تو اس کے بعد جب پھر قربانی کا موقع آیا تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگ اس سے پہلے اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے، ان کی چربی محفوظ رکھتے تھے، ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بات کیا ہے؟ یا ایسے ہی کچھ کہا، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے اس وقت اس لیے منع کردیا تھا کہ کچھ دیہاتی تمہارے پاس آگئے تھے (اور انہیں بھی کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے ملنا چاہیئے تھا) ، اب قربانی کے گوشت کھاؤ، صدقہ کرو، اور رکھ چھوڑو ۔

Narrated Aisha (RA) : Some people of desert came at the time of sacrifice in the time of Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said: Store up for three days and give the rest as sadaqah (alms). After than the people said to the Messenger of Allah ﷺ : Messenger of Allah, the people used to benefit from their sacrifices, take and dissolve fat from them, and make water-bags (from their skins). The Messenger of Allah ﷺ said: What is that ? or whatever he said: They said: Messenger of Allah ﷺ , you have prohibited to preserve the meat of sacrifice after three days. The Messenger of Allah ﷺ said: I prohibited you due to a body of people who came to you. Now eat, give it as sadaqah (alms), and store up.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحي ٥ (١٩٧١)، سنن النسائی/الضحایا ٣٦ (٤٤٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٦١٦٥، ١٧٩٠١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي ١٤ (١٥١١)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١٦ (٣١٦٠)، موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٧)، مسند احمد (٦/٥١) (صحیح )
2813Sunan Abu Dawood

قربانی کے گوشت کو رکھ چھوڑنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا، أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

نبیشہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا (بھی) رکھو اور (صدقہ دے کر) ثواب (بھی) کماؤ، سن لو! یہ دن کھانے، پینے اور اللہ عزوجل کی یاد (شکر گزاری) کے ہیں ۔

Narrated Nubayshah (RA) : The Prophet ﷺ said: We forbade you to eat their meat for more than three days in order that you might have abundance; now Allah has produced abundance, so you may eat, store up and seek reward. Beware, these days are days of eating, drinking and remembrance of Allah, Most High.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٢ (٤٢٤١)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١٦(٣١٦٠)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٥، ٧٦)، دی/ الأضاحی ٦ (٢٠٠١) (صحیح )
2814Sunan Abu Dawood

قربانی کے جانور پر شفقت کرنا

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: خَصْلَتَانِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا قَالَ: غَيْرُ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (سفر میں) قربانی کی اور کہا: ثوبان! اس بکری کا گوشت ہمارے لیے درست کرو (بناؤ) ، ثوبان ؓ کہتے ہیں: تو میں برابر وہی گوشت آپ ﷺ کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے۔

Narrated Thawban (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sacrificed during a journey and then said: Thawban, mend the meat of this goat. I then kept on supplying its meat until we reached Madina.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحي ٥ (١٩٧٥)، (تحفة الأشراف: ٢٠٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٨١)، سنن الدارمی/الأضاحي ٦ (٢٠٠٣) (صحیح )
2815Sunan Abu Dawood

قربانی کے جانور پر شفقت کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ فَرَأَى فِتْيَانًا أَوْ غِلْمَانًا قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ أَنَسٌ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ.

شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ایک یہ کہ: اللہ نے ہر چیز کو اچھے ڈھنگ سے کرنے کو فرض کیا ہے لہٰذا جب تم (قصاص یا حد کے طور پر کسی کو) قتل کرو تو اچھے ڈھنگ سے کرو (یعنی اگر خون کے بدلے خون کرو تو جلد ہی فراغت حاصل کرلو تڑپا تڑپا کر مت مارو) ، (اور مسلم بن ابراہیم کے سوا دوسروں کی روایت میں ہے) تو اچھے ڈھنگ سے قتل کرو، اور جب کسی جانور کو ذبح کرنا چاہو تو اچھی طرح ذبح کرو اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کرلے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے ۔

Narrated Shaddad bin Aws (RA) : There are two characteristics that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah has decreed that everything should be done in a good way, so when you kill use a good method. The version of the narrators other than Muslim says: So kill in a good manner. And when you slaughter, you should use a good method, for one of you should sharpen his knife, and give the animal as little pain as possible.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ١١ (١٩٥٥)، سنن الترمذی/الدیات ١٤ (١٤٠٩)، سنن النسائی/الضحایا ٢١ (٤٤١٠)، ٢٦ (٤٤١٩)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٣ (٣١٧٠)، (تحفة الأشراف: ٤٨١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٣، ١٢٤، ١٢٥)، سنن الدارمی/الأضاحي ١٠ (٢٠١٣) (صحیح )
2816Sunan Abu Dawood

مسافر بھی قربانی کرے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ،عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَنَا لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ.

ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس ؓ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس گیا، تو وہاں چند نوجوانوں یا لڑکوں کو دیکھا کہ وہ سب ایک مرغی کو باندھ کر اسے تیر کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انس ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Hisham bin Zaid: I entered upon al-Hakam bin Ayyub along with Anas. He saw some youths or boys who had set up a hen and shooting at it. Anas said: The Messenger of Allah ﷺ forbade to kill an animal in confinement.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٢٥ (٥٥١٣)، صحیح مسلم/الصید ١٢(١٩٥٦)، سنن النسائی/الضحایا ٤٠ (٤٤٤٤)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٠ (٣١٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٧، ١٧١، ١٩١) (صحیح )
2817Sunan Abu Dawood

اہل کتاب کے ذبیحہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ فکلوا مما ذکر اسم الله عليه سو جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ (سورۃ الانعام: ١١٨) ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم الله عليه اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو (سورۃ الانعام: ١٢١) تو یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے، اس میں سے اہل کتاب کے ذبیحے مستثنیٰ ہوگئے ہیں (یعنی ان کے ذبیحے درست ہیں) ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وطَعام الذين أوتوا الکتاب حل لکم وطعامکم حل لهم اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے (سورۃ المائدہ: ٥) ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The verse: So eat of (meats) on which Allahs name hath been pronounced and the verse: Eat not of (meats) on which Allahs name hath not been pronounced were abrogated, meaning an exception was made therein by the verse: The food of the people of the Book is lawful unto you and yours is lawful unto them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٥٩) (حسن )
2818Sunan Abu Dawood

اہل کتاب کے ذبیحہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ سورة الأنعام آية 121 يَقُولُونَ مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلَا تَأْكُلُوا وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ فَكُلُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے جو یہ فرمایا ہے: وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں (سورۃ المائدہ: ١٢١) تو اس کا شان نزول یہ ہے کہ لوگ کہتے تھے: جسے اللہ نے ذبح کیا (یعنی اپنی موت مرگیا) اس کو نہ کھاؤ، اور جسے تم نے ذبح کیا اس کو کھاؤ، تب اللہ نے یہ آیت اتاری ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم الله عليه ان جانوروں کو نہ کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا (سورۃ الانعام: ١٢١) ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : explaining the verse But the evil ones ever inspire their friend to contend with you They used to say: Do not eat which Allah killed, but eat which you slaughtered. So Allah revealed the verse: Eat not of (meats) on which Allahs name hath not been pronounced. . . to the end of the verse.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الضحایا ٤٠ (٤٤٤٨)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٤ (٣١٧٣)، (تحفة الأشراف: ٦١١١) (صحیح )
2819Sunan Abu Dawood

اہل کتاب کے ذبیحہ کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ الْيَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلْنَا وَلَا نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلَ اللَّهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم اس جانور کو کھاتے ہیں جسے ہم ماریں اور جسے اللہ مارے اسے ہم نہیں کھاتے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم الله عليه۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Jews came to the Prophet ﷺ and said: We eat which we kill but we do not eat which Allah kills? So Allah revealed: Eat not of (meats) on which Allahs name hath not been pronounced. to the end of the verse.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر الأنعام ٦ (٣٠٦٩)، (تحفة الأشراف: ٥٥٦٨) (صحیح) (یہود کا تذکرہ وہم ہے اصل معاملہ مشرکین کا ہے، ترمذی میں کسی کا تذکرہ نہیں ہے صرف الناس ہے )
2820Sunan Abu Dawood

جن جانوروں کو عرب اظہار تفاخر کے طور پر ذبح کریں ان کو کھانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ مُعَاقَرَةِ الأَعْرَابِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: اسْمُ أَبِي رَيْحَانَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَطَرٍ، وَغُنْدَرٌ أَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان جانوروں کے کھانے سے منع فرمایا ہے جنہیں اعرابی تفاخر کے طور پر کاٹتے ہیں ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوریحانہ کا نام عبداللہ بن مطر تھا، اور راوی غندر نے اسے ابن عباس ؓ پر موقوف کردیا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade to eat (the meat of animals) slaughtered by the bedouins for vainglory and pride. Abu Dawud said: The narrator Ghundar narrated this tradition as a saying of Ibn Abbas (and not of the Prophet).

Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ ان جانوروں سے اللہ کی خوشنودی مقصود نہیں ہوتی تھی اسی لئے انہیں ما أهل لغير الله به کے مشابہ ٹھہرایا گیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٨١١) (حسن صحیح )
2821Sunan Abu Dawood

مروہ (سفید پتھر) سے ذبح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، أَفَنَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرِنْ أَوْ أَعْجِلْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا أَوْ ظُفْرًا، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ، وَتَقَدَّمَ بِهِ سَرْعَانٌ مِنَ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا فَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ النَّاسِ، فَنَصَبُوا قُدُورًا فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ وَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ مِثْلَ هَذَا.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمنوں سے مقابلہ کرنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم سفید (دھار دار) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے (بانس کی کھپچی) سے ذبح کریں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جلدی کرلو ١ ؎ جو چیز کہ خون بہا دے اور اللہ کا نام اس پر لیا جائے تو اسے کھاؤ ہاں وہ دانت اور ناخن سے ذبح نہ ہو، عنقریب میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں، دانت سے تو اس لیے نہیں کہ دانت ایک ہڈی ہے، اور ناخن سے اس لیے نہیں کہ وہ جبشیوں کی چھریاں ہیں ، اور کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھ گئے، انہوں نے جلدی کی، اور کچھ مال غنیمت حاصل کرلیا، اور رسول اللہ ﷺ سب سے پیچھے چل رہے تھے تو ان لوگوں نے دیگیں چڑھا دیں، رسول اللہ ﷺ ان دیگوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں پلٹ دینے کا حکم دیا، چناچہ وہ پلٹ دی گئیں، اور ان کے درمیان آپ ﷺ نے (مال غنیمت) تقسیم کیا تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا، ایک اونٹ ان اونٹوں میں سے بھاگ نکلا اس وقت لوگوں کے پاس گھوڑے نہ تھے (کہ گھوڑا دوڑا کر اسے پکڑ لیتے) چناچہ ایک شخص نے اسے تیر مارا تو اللہ نے اسے روک دیا (یعنی وہ چوٹ کھا کر گرگیا اور آگے نہ بڑھ سکا) اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان چوپایوں میں بھی بدکنے والے جانور ہوتے ہیں جیسے وحشی جانور بدکتے ہیں تو جو کوئی ان جانوروں میں سے ایسا کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۔

Narrated Rafi bin Khadij (RA) : I came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, we shall meet the enemy tomorrow and we have no knives with us. May we kill with a sharp-edged white stone (flint) and with splinter of a staff ? The Messenger of Allah ﷺ said: Hasten in slaughtering it. When Allahs name is mentioned you may eat what is killed by anything which causes the blood to flow except tooth and claw. I shall tell you about it. The tooth is a bone, and the claw is the knife of Abyssinians. Some people hastened and went forward, they made haste and got booty, while the Messenger of Allah ﷺ was in the rear and they setup cooking pots. The Messenger of Allah ﷺ passed by over the cooking pots. He ordered to turn them over. He then divided (the spoils of war) between them, and gave them a camel for ten goats in equation. One of the camels of the people ran away, and they had no horses with them at that time. A man shot an arrow at it, and Allah prevented it from escaping. The Prophet ﷺ said: Among animals (i. e. camels) there are some which bolt like wild animals ; so when any of them does so, do with it like this.

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ ایسی ہی کوئی صورت کر کے جلدی ذبح کرلو اور گوشت کھاؤ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرکة ٣ (٢٤٨٨)، ١٦ (٢٥٠٧)، الجھاد ١٩١ (٣٠٧٥)، الذبائح ١٥ (٥٤٩٨)، ١٨ (٥٥٠٣)، ٢٣ (٥٥٠٩)، ٣٦ (٥٥٤٣)، ٣٧ (٥٥٤٤)، صحیح مسلم/الأضاحي ٤ (١٩٦٨)، سنن الترمذی/الصید ١٩ (١٤٩٢)، السیر ٤٠ (١٦٠٠)، سنن النسائی/الصید ١٧ (٤٣٠٢)، الضحایا ١٥ (٤٣٩٦)، ٢٦ (٤٤١٤، ٤٤١٥)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٩ (٣١٨٣)، (تحفة الأشراف: ٣٥٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤٦٤، ٤/١٤٠، ١٤٢) (صحیح )
2822Sunan Abu Dawood

مروہ (سفید پتھر) سے ذبح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، وَحَمَّادًا حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ، أَوْ صَفْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: اصَّدْتُ أَرْنَبَيْنِ فَذَبَحْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْهُمَا فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا.

محمد بن صفوان یا صفوان بن محمد کہتے ہیں میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید (دھار دار) پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔

Narrated Muhammad ibn Safwan or Safwan ibn Muhammad (RA) : I hunted two hares and slaughtered them with a flint. I asked the Messenger of Allah ﷺ about them. He permitted me to eat them.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصید ٢٥ (٤٣١٨)، والضحایا ١٧ (٤٤٠٤)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٧ (٣٢٤٤)، (تحفة الأشراف: ١١٢٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧١) (صحیح )
2823Sunan Abu Dawood

مروہ (سفید پتھر) سے ذبح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ، فَأَخَذَهَا الْمَوْتُ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يَنْحَرُهَا بِهِ فَأَخَذَ وَتِدًا فَوَجَأَ بِهِ فِي لَبَّتِهَا حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهَا، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا.

بنو حارثہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ وہ احد پہاڑ کے دروں میں سے ایک درے پر اونٹنی چرا رہا تھا، تو وہ مرنے لگی، اسے کوئی ایسی چیز نہ ملی کہ جس سے اسے نحر کر دے، تو ایک کھوٹی لے کر اونٹنی کے سینہ میں چبھو دی یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ نے اسے اس کے کھانے کا حکم دیا۔

Narrated Ata ibn Yasar (RA) : A man of Banu Harith was pasturing a pregnant she-camel in one of the ravines of Uhud, (he saw that) it was about to die; he could find nothing to slaughter it; he took a stake and stabbed it in the upper part of its breast until he made its blood flow. He then came to the Prophet ﷺ and informed him about that, and he ordered him to eat it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٤١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الذبائح ٢ (٣) مسند احمد (٤/٣٦، ٥/٥٣٠) (صحیح )
2824Sunan Abu Dawood

مروہ (سفید پتھر) سے ذبح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُرَيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ أَحَدُنَا أَصَابَ صَيْدًا، وَلَيْسَ مَعَهُ سِكِّينٌ أَيَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا، فَقَالَ: أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کسی کو کوئی شکار مل جائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ سفید (دھار دار) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے سے (اس شکار کو) ذبح کرلے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم بسم اللہ اکبر کہہ کر (اللہ کا نام لے کر) جس چیز سے چاہے خون بہا دو ۔

Narrated Adi ibn Hatim: I said: Messenger of Allah, tell me when one of us catches game and has no knife; may he slaughter with a flint and a splinter of stick. He said: Cause the blood to flow with whatever you like and mention Allahs name.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصید ٢٠ (٤٣٠٩)، الضحایا ١٨(٤٤٠٦)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٥ (٣١٧٧)، (تحفة الأشراف: ٩٨٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٦، ٢٥٨، ٣٧٧) (صحیح )
2825Sunan Abu Dawood

وجانور کسی اونچی جگہ سے گر پڑے اس کے ذبح کر نیکا طریقہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا مِنَ اللَّبَّةِ أَوِ الْحَلْقِ ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَا يَصْلُحُ إِلَّا فِي الْمُتَرَدِّيَةِ وَالْمُتَوَحِّشِ.

ابوالعشراء اسامہ کے والد مالک بن قہطم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ذبح سینے اور حلق ہی میں ہوتا ہے اور کہیں نہیں ہوتا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اس کے ران میں نیزہ مار دو تو وہ بھی کافی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ متردی ١ ؎ اور متوحش ٢ ؎ کے ذبح کا طریقہ ہے۔

Narrated AbulUshara: AbulUshara reported on the authority of his father: He asked: Messenger of Allah, is the slaughtering to be done only in the upper part of the breast and the throat? The Messenger of Allah ﷺ replied: If you pierced its thigh, it would serve you. Abu Dawud said: This is the way suitable for slaughtering an animal which has fallen into a well or runs loose.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو جانور گرپڑے اور ذبح کی مہلت نہ ملے۔ ٢ ؎: ایسا جنگلی جانور جو بھاگ نکلے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصید ١٣ (١٤٨١)، سنن النسائی/الضحایا ٢٤ (٤٤١٣)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٩ (٣١٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤)، دی/ الأضاحي ١٢ (٢٠١٥) (منکر) (اس کے راوی ابوالعشراء مجہول اعرابی ہیں ان کے والد بھی مجہول ہیں مگر صحابی ہیں )
2826Sunan Abu Dawood

ذبح خوب اچھی طرح کرنا چاہئے

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عِيسَى مَوْلَى ابن المبارك، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، زَادَ ابْنُ عِيسَى، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرِيطَةِ الشَّيْطَانِ، زَادَ ابْنُ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ وَهِيَ الَّتِي تُذْبَحُ فَيُقْطَعُ الْجِلْدُ وَلَا تُفْرَى الأَوْدَاجُ، ثُمَّ تُتْرَكُ حَتَّى تَمُوتَ.

عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شريطة الشيطان سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ ابن عیسیٰ کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے: اور وہ یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جا رہا ہو اس کی کھال تو کاٹ دی جائے لیکن رگیں نہ کاٹی جائیں، پھر اسی طرح اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ (تڑپ تڑپ کر) مرجائے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ibn Isa added: (Ibn Abbas) and Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ forbade the devils sacrifice. Abu Isa added in his version: This refers to the slaughtered animal whose skin cut off, and is then left to die without its jugular veins being severed.

Notes · وضاحت
١ ؎: شریط کے معنی نشتر مارنے کے ہیں، یہ شریط حجامت سے ماخوذ ہے، اسی وجہ سے اسے شریط کہا گیا ہے، اور شیطان کی طرف اس کی نسبت اس وجہ سے کی گئی ہے کہ شیطان ہی اسے اس عمل پر اکساتا ہے، اس میں جانور کو تکلیف ہوتی ہے، خون جلدی نہیں نکلتا اور اس کی جان تڑپ تڑپ کر نکلتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦١٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٨٩) (ضعیف) (اس کے راوی عمرو بن عبد اللہ بن الاسوار ضعیف ہیں )
2827Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی زکوة (ذبح) کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ، فَقَالَ: كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَنْحَرُ النَّاقَةَ، وَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ وَالشَّاةَ فَنَجِدُ فِي بَطْنِهَا الْجَنِينَ أَنُلْقِيهِ أَمْ نَأْكُلُهُ ؟ قَالَ: كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جو ماں کے پیٹ سے ذبح کرنے کے بعد نکلتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو اسے کھالو ١ ؎۔ مسدد کی روایت میں ہے: ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں، گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں اور اس کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں تو کیا ہم اس کو پھینک دیں یا اس کو بھی کھا لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چاہو تو اسے کھالو، اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا بھی ذبح کرنا ہے ۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : I asked the Messenger of Allah ﷺ about the embryo. He replied: Eat it if you wish. Musaddads version says: we said: Messenger of Allah, we slaughter a she-camel, a cow and a sheep, and we find an embryo in its womb. Shall we throw it away or eat it? He replied: Eat it if you wish for the slaughter of its mother serves its slaughter.

Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر علماء کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ سے اس کے خلاف مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اگر زندہ نکلے تو ذبح کر کے کھائے اور اگر مردہ ہو تو نہ کھائے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ٢ (١٤٧٦)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٥ (٣١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٣٩٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١، ٣٩، ٥٣) (صحیح )