Sunan Abu Dawood 2819

قربانی کا بیان

2819Sunan Abu Dawood

اہل کتاب کے ذبیحہ کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ الْيَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلْنَا وَلَا نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلَ اللَّهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم اس جانور کو کھاتے ہیں جسے ہم ماریں اور جسے اللہ مارے اسے ہم نہیں کھاتے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم الله عليه۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Jews came to the Prophet ﷺ and said: We eat which we kill but we do not eat which Allah kills? So Allah revealed: Eat not of (meats) on which Allahs name hath not been pronounced. to the end of the verse.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر الأنعام ٦ (٣٠٦٩)، (تحفة الأشراف: ٥٥٦٨) (صحیح) (یہود کا تذکرہ وہم ہے اصل معاملہ مشرکین کا ہے، ترمذی میں کسی کا تذکرہ نہیں ہے صرف الناس ہے )