اہل کتاب کے ذبیحہ کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ فکلوا مما ذکر اسم الله عليه سو جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ (سورۃ الانعام: ١١٨) ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم الله عليه اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو (سورۃ الانعام: ١٢١) تو یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے، اس میں سے اہل کتاب کے ذبیحے مستثنیٰ ہوگئے ہیں (یعنی ان کے ذبیحے درست ہیں) ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وطَعام الذين أوتوا الکتاب حل لکم وطعامکم حل لهم اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے (سورۃ المائدہ: ٥) ۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The verse: So eat of (meats) on which Allahs name hath been pronounced and the verse: Eat not of (meats) on which Allahs name hath not been pronounced were abrogated, meaning an exception was made therein by the verse: The food of the people of the Book is lawful unto you and yours is lawful unto them.