عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر دو (یہودی) قبیلے تھے، نضیر قریظہ سے زیادہ باعزت تھے، جب قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو اسے اس کے بدلے قتل کردیا جاتا، اور جب نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو سو وسق کھجور فدیہ دے کر اسے چھڑا لیا جاتا، جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی تو نضیر کے ایک آدمی نے قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کردیا، تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسے ہمارے حوالے کرو، ہم اسے قتل کریں گے، نضیر نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی اکرم ﷺ فیصلہ کریں گے، چناچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو آیت وإن حکمت فاحکم بينهم بالقسط اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو اتری، اور انصاف کی بات یہ تھی کہ جان کے بدلے جان لی جائے، پھر آیت أفحکم الجاهلية يبغون کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلہ کو پسند کرتے ہیں؟ نازل ہوئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قریظہ اور نضیر دونوں ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : Qurayzah and Nadir (were two Jewish tribes). An-Nadir were nobler than Qurayzah. When a man of Qurayzah killed a man of an-Nadir, he would be killed. But if a man of an-Nadir killed a man of Qurayzah, a hundred wasq of dates would be paid as blood-money. When Prophethood was bestowed upon the Prophet ﷺ , a man of an-Nadir killed a man of Qurayzah. They said: Give him to us, we shall kill him. They replied: We have the Prophet ﷺ between you and us. So they came to him. Thereupon the following verse was revealed: If thou judge, judge in equity between them. In equity means life for a life. The following verse was then revealed: Do they seek of a judgment of (the days) ignorance? Abu Dawud said: Quraizah and al-Nadir were the descendants of Harun the Prophet ﷺ
ابورمثہ ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، آپ نے میرے والد سے پوچھا: یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میرے والد نے کہا: ہاں رب کعبہ کی قسم! آپ ﷺ نے فرمایا: سچ مچ؟ انہوں نے کہا: میں اس کی گواہی دیتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ مسکرائے، کیونکہ میں اپنے والد کے مشابہ تھا، اور میرے والد نے قسم کھائی تھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: سنو! نہ یہ تمہارے جرم میں پکڑا جائے گا، اور نہ تم اس کے جرم میں اور پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ولا تزر وازرة وزر أخرى کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی (الانعام: ١٦٤، الاسراء: ١٥، الفاطر: ١٨) ۔
Narrated Abu Rimthah (RA) : I went to the Prophet ﷺ with my father. The Messenger of Allah ﷺ then asked my father: Is this your son? He replied: Yes, by the Lord of the Kabah. He again said: Is it true? He said: I bear witness to it. The Messenger of Allah ﷺ then smiled for my resemblance with my father, and for the fact that my father took an oath upon me. He then said: He will not bring evil on you, nor will you bring evil on him. The Messenger of Allah ﷺ recited the verse: No bearer of burdens can bear the burden of another.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٤٢٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٧) (صحیح )
ابوشریح خزاعی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو (اپنے کسی رشتہ دار کے) قتل ہونے، یا زخمی ہونے کی تکلیف پہنچی ہو اسے تین میں سے ایک چیز کا اختیار ہوگا: یا تو قصاص لے لے، یا معاف کر دے، یا دیت لے لے، اگر وہ ان کے علاوہ کوئی چوتھی بات کرنا چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو، اور جس نے ان (اختیارات) میں زیادتی کی تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے ۔
Narrated Abu Shurayh al-Khuzai (RA) : The Prophet ﷺ said: If a relative of anyone is killed, or if he suffers khabl, which means a wound, he may choose one of the three things: he may retaliate, or forgive, or receive compensation. But if he wishes a fourth (i. e. something more), hold his hands. After this whoever exceeds the limits shall be in grave penalty.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٣ (٢٦٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤/٣١)، سنن الدارمی/الدیات ١ (٢٣٩٦) (ضعیف )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب بھی نبی اکرم ﷺ کے پاس کوئی ایسا مقدمہ لایا جاتا جس میں قصاص لازم ہوتا تو میں نے آپ کو یہی دیکھا کہ (پہلے) آپ اس میں معاف کردینے کا حکم دیتے۔
Narrated Anas ibn Malik: I never saw the Messenger of Allah ﷺ that some dispute which involved retaliation was brought to him but he commanded regarding it for remission.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٢٣ (٤٧٨٧، ٤٧٨٨)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣٥ (٢٦٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١٣، ٢٥٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص قتل کردیا گیا تو یہ مقدمہ نبی اکرم ﷺ کی عدالت میں پیش کیا گیا، آپ نے اس (قاتل) کو مقتول کے وارث کے حوالے کردیا، قاتل کہنے لگا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے وارث سے فرمایا: سنو! اگر یہ سچا ہے اور تم نے اسے قتل کردیا، تو تم جہنم میں جاؤ گے یہ سن کر اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، اس کے دونوں ہاتھ ایک تسمے سے بندھے ہوئے تھے، وہ اپنا تسمہ گھسیٹتا ہوا نکلا، تو اس کا نام ذوالنسعۃ یعنی تسمہ والا پڑگیا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man was killed in the lifetime of the Prophet ﷺ . The matter was brought to the Prophet ﷺ . He entrusted him to the legal guardian of the slain. The slayer said: Messenger of Allah, I swear by Allah, I did not intend to kill him. The Messenger of Allah ﷺ said to the legal guardian: Now if he is true and you kill him, you will enter Hell-fire. So he let him go. His hands were tied with a strap. He came out pulling his strap. Hence he was called Dhu an-Nisah (possessor of strap).
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک قاتل لایا گیا، اس کی گردن میں تسمہ تھا آپ نے مقتول کے وارث کو بلوایا، اور اس سے پوچھا: کیا تم معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو کیا دیت لو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو کیا تم قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا لے جاؤ اسے چناچہ جب وہ (اسے لے کر) چلا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: کیا تم اسے معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم دیت لو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے لے جاؤ چوتھی بار میں آپ ﷺ نے فرمایا: سنو! اگر تم اسے معاف کر دو گے تو یہ اپنا اور مقتول دونوں کا گناہ اپنے سر پر اٹھائے گا یہ سن کر اس نے اسے معاف کردیا۔ وائل کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا وہ اپنے گلے میں پڑا تسمہ گھسیٹ رہا تھا۔
Narrated Wail ibn Hujr (RA) : I was with the Prophet ﷺ when a man who was a murderer and had a strap round his neck was brought to him. He then called the legal guardian of the victim and asked him: Do you forgive him? He said: No. He asked: Will you accept the blood-money? He said: No. He asked: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him. When he turned his back, he said: Do you forgive him? He said: No. He said: Will you accept the blood-money? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him. After repeating all this a fourth time, he said: If you forgive him, he will bear the burden of his own sin and the sin of the victim. He then forgave him. He (the narrator) said: I saw him pulling the strap.
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص ایک حبشی کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اس نے میرے بھتیجے کو قتل کیا ہے، آپ نے اس سے پوچھا: تم نے اسے کیسے قتل کردیا؟ وہ بولا: میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری اور وہ مرگیا، میرا ارادہ اس کے قتل کا نہیں تھا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس مال ہے کہ تم اس کی دیت ادا کرسکو اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: بتاؤ اگر میں تمہیں چھوڑ دوں تو کیا تم لوگوں سے مانگ کر اس کی دیت اکٹھی کرسکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے مالکان اس کی دیت ادا کردیں گے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ نے اس شخص (مقتول کے وارث) سے فرمایا: اسے لے جاؤ جب وہ اسے قتل کرنے کے لیے لے کر چلا تو آپ نے فرمایا: اگر یہ اس کو قتل کر دے گا تو اسی کی طرح ہوجائے گا وہ آپ کی بات سن رہا تھا جب اس کے کان میں یہ بات پہنچی تو اس نے کہا: وہ یہ ہے، آپ جو چاہیں اس کے سلسلے میں حکم فرمائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، وہ اپنا اور تمہارے بھتیجے کا گناہ لے کر لوٹے گا اور جہنمیوں میں سے ہوگا چناچہ اس نے اسے چھوڑ دیا۔
Narrated Wail (bin Hujr): A man brought an Abyssinian to the Prophet ﷺ and said: This man has killed my nephew. He asked: How did you kill him? He replied: I struck his head with axe but I did not intend to kill him. He asked: Have you some money so that you pay his blood-wit? He said: No. He said: What is your opinion if I send you so that you ask the people (for money) and thus collect your blood-wit? He said: No. He asked: Will your masters give you his blood-wit (to pay his relatives)? He said: No. He said to the man. Take him. So he brought him out to kill him. The Messenger of Allah ﷺ said: If he kill him, he will be like him. This (statement) reached the man where he was listening to his statement. He said: He is here, order regarding him as you like. The Messenger of Allah ﷺ said: Leave him alone. And he once said: He will bear the burden of the sin of the slain and that of his own and thus he will become one of the Companions of Hell. So he let him go.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٤٩٩)، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٩) (صحیح )
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں کہ ہم عثمان ؓ کے ساتھ تھے، آپ گھر میں محصور تھے، گھر میں داخل ہونے کا ایک راستہ ایسا تھا کہ جو اس میں داخل ہوجاتا وہ باہر سطح زمین پر کھڑے لوگوں کی گفتگو سن سکتا تھا، عثمان اس میں داخل ہوئے اور ہمارے پاس لوٹے تو ان کا رنگ متغیر تھا، کہنے لگے: ان لوگوں نے ابھی ابھی مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے، تو ہم نے عرض کیا: امیر المؤمنین! آپ کی ان سے حفاظت کے لیے اللہ کافی ہے، اس پر انہوں نے کہا: آخر یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: تین باتوں کے بغیر کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں: ایک یہ کہ اسلام لانے کے بعد وہ کفر کا ارتکاب کرے، دوسرے یہ کہ شادی شدہ ہو کر زنا کرے، اور تیسرے یہ کہ ناحق کسی کو قتل کر دے تو اللہ کی قسم! میں نے نہ تو جاہلیت میں، اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی زنا کیا، اور جب سے اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہے میں نے کبھی نہیں چاہا کہ میرا دین اس کے بجائے کوئی اور ہو، اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، تو آخر کس بنیاد پر مجھے یہ قتل کریں گے؟۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان اور ابوبکر ؓ نے تو جاہلیت میں بھی شراب سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی۔
Narrated Abu Umamah ibn Sahl (RA) : We were with Uthman when he was besieged in the house. There was an entrance to the house. He who entered it heard the speech of those who were in the Bilat. Uthman then entered it. He came out to us, looking pale. He said: They are threatening to kill me now. We said: Allah will be sufficient for you against them, Commander of the Faithful! He asked: Why kill me? I heard the Messenger of Allah ﷺ say: It is not lawful to kill a man who is a Muslim except for one of the three reasons: Kufr (disbelief) after accepting Islam, fornication after marriage, or wrongfully killing someone, for which he may be killed. I swear by Allah, I have not committed fornication before or after the coming of Islam, nor did I ever want another religion for me instead of my religion since Allah gave guidance to me, nor have I killed anyone. So for what reason do you want to kill me? Abu Dawud said: Uthman and Abu Bakr (Allah be pleased with them) abandoned drinking wine in pre-Islamic times.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ١ (٢١٥٨)، سنن النسائی/المحاربة ٦ (٤٠٢٤)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١ (٢٥٣٣)، (تحفة الأشراف: ٩٧٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٦١، ٦٢، ٦٥، ٧٠)، دی/ الحدود ٢ (٢٣٤٣) (صحیح )
زبیر بن عوام اور ان والد عوام ؓ (یہ دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھے) سے روایت ہے کہ محلم بن جثامہ لیثی نے اسلام کے زمانے میں قبیلہ اشجع کے ایک شخص کو قتل کردیا، اور یہی پہلی دیت ہے جس کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ نے کیا، تو عیینہ نے اشجعی کے قتل کے متعلق گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ عطفان سے تھا، اور اقرع بن حابس نے محلم کی جانب سے گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ خندف سے تھا تو آوازیں بلند ہوئیں، اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کرسکتے؟ عیینہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، اس وقت تک نہیں جب تک میں اس کی عورتوں کو وہی رنج و غم نہ پہنچا دوں جو اس نے میری عورتوں کو پہنچایا ہے، پھر آوازیں بلند ہوئیں اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کرسکتے؟ عیینہ نے پھر اسی طرح کی بات کہی یہاں تک کہ بنی لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے مکیتل کہا جاتا تھا، وہ ہتھیار باندھے تھا اور ہاتھ میں سپر لیے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شروع اسلام میں اس نے جو غلطی کی ہے، اسے میں یوں سمجھتا ہوں جیسے چند بکریاں چشمے پر آئیں اور ان پر تیر پھینکے جائیں تو پہلے پہل آنے والیوں کو تیر لگے، اور پچھلی انہیں دیکھ کر ہی بھاگ جائیں، آج ایک طریقہ نکالئے اور کل اسے بدل دیجئیے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پچاس اونٹ ابھی فوراً دے دو، اور پچاس مدینے لوٹ کردینا ۔ اور یہ واقعہ ایک سفر کے دوران پیش آیا تھا، محلم لمبا گندمی رنگ کا ایک شخص تھا، وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا، آخر کار جب وہ چھوٹ گیا تو رسول اللہ ﷺ کے سامنے آ بیٹھا، اور اس کی آنکھیں اشک بار تھیں اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے گناہ کیا ہے جس کی خبر آپ کو پہنچی ہے، اب میں توبہ کرتا ہوں، آپ اللہ سے میری مغفرت کی دعا فرمائیے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ نے بہ آواز بلند فرمایا: کیا تم نے اسے ابتداء اسلام میں اپنے ہتھیار سے قتل کیا ہے، اے اللہ! محلم کو نہ بخشنا ابوسلمہ نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ یہ سن کر محلم کھڑا ہوا، وہ اپنی چادر کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں: محلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل کا کہنا ہے کہ غير کے معنی دیت کے ہیں۔
Narrated Ziyad ibn Saad ibn Dumayrah as-Sulami (RA) : On the authority of his father (Saad) and his grandfather (Dumayrah) (according to Musas version) who were present in the battle of Hunayn with the Messenger of Allah ﷺ : After the advent of Islam, Muhallam ibn Jaththamah al-Laythi killed a man of Ashja. That was the first blood-money decided by the Messenger of Allah ﷺ (for payment). Uyaynah spoke about the killing of al-Ashjai, for he belonged to Ghatafan, and al-Aqra ibn Habis spoke on behalf of Muhallam, for he belonged to Khunduf. The voices rose high, and the dispute and noise grew. So the Messenger of Allah ﷺ said: Do you not accept blood-money, Uyaynah? Uyaynah then said: No, I swear by Allah, until I cause his women to suffer the same fighting and grief as he caused my women to suffer. Again the voices rose high, and the dispute and noise grew. The Messenger of Allah ﷺ said: Do you not accept the blood-money Uyaynah? Uyaynah gave the same reply as before, and a man of Banu Layth called Mukaytil stood up. He had a weapon and a skin shield in his hand. He said: I do not find in the beginning of Islam any illustration for what he has done except the one that some sheep came on, and those in the front were shot; hence those in the rear ran away. (The other example is that) make a law today and change it. The Messenger of Allah ﷺ said: Fifty (camels) here immediately and fifty when we return to Madina. This happened during some of his journeys. Muhallam was a tall man of dark complexion. He was with the people. They continued (to make effort for him) until he was released. He sat before the Messenger of Allah ﷺ , with his eyes flowing. He said: Messenger of Allah! I have done (the act) of which you have been informed. I repent to Allah, the Exalted, so ask Allahs forgiveness for me. Messenger of Allah! The Messenger of Allah ﷺ then said: Did you kill him with your weapon at the beginning of Islam. O Allah! do not forgive Muhallam. He said these words loudly. Abu Salamah added: He (Muhallam) then got up while he was wiping his tears with the end of his garment. Ibn Ishaq said: His people alleged that the Messenger of Allah ﷺ asked forgiveness for him after that. Abu Dawud said: Al-Nadr bin Shumail said: al-ghiyar means blood-wit.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٤ (٢٦٢٥)، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٥/١١٢، ٦/١٠) (ضعیف )
ابوشریح کعبی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سنو خزاعہ کے لوگو! تم نے ہذیل کے اس شخص کو قتل کیا ہے، اور میں اس کی دیت دلاؤں گا، میری اس گفتگو کے بعد کوئی قتل کیا گیا تو مقتول کے لوگوں کو دو باتوں کا اختیار ہوگا یا وہ دیت لے لیں یا قتل کر ڈالیں ۔
Narrated Abu Shurayb al-Kabi (RA) : The Prophet ﷺ said: Then you, Khuzaah, have killed this man of Hudhayl, but I will pay his blood-wit. After these words of mine if a man of anyone is killed, his people will have a choice to accept blood-wit or to kill him.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ١٣ (١٤٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤/٣١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: جس کا کوئی قتل کیا گیا تو اسے اختیار ہے یا تو دیت لے لے، یا قصاص میں قتل کرے یہ سن کر یمن کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے یہ لکھ دیجئیے (عباس بن ولید کی روایت اکتب لی کے بجائے اکتبوا لی یہ صیغۂ جمع ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھ دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اکتبوا لی سے مراد نبی اکرم ﷺ کا خطبہ ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : When Makkah was conquered, the Messenger of Allah ﷺ got up and said: If a relative of anyone is killed, he will have a choice between two: he (the slayer) will either pay the blood-wit or he will be killed. A man of the Yemen called Abu Shah stood up and said: Write for me, Messenger of Allah. The narrator al-Abbas (b. al-Walid) said: Write to me, (you people). The Messenger of Allah ﷺ said: Write (you people), for Abu Shah. These are the wordings of the tradition of Ahmad. Abu Dawud said: Write (you people), for me, that is, the address of the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٠١٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٨٣، ١٥٣٦٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی کافر کے بدلے مومن کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور جو کسی مومن کو دانستہ طور پر قتل کرے گا، وہ مقتول کے وارثین کے حوالے کردیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کریں اور چاہیں تو دیت لے لیں ۔
Narrated Amr bin Shuaib: On his fathers authority said that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: A believer will not be killed for an infidel. If anyone kills a man deliberately, he is to be handed over to the relatives of the one who has been killed. If they wish, they may kill, but if they wish, they may accept blood-wit
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک زہر آلود بکری لے کر آئی، آپ نے اس میں سے کچھ کھالیا، تو اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے اس سلسلے میں اس سے پوچھا، تو اس نے کہا: میرا ارادہ آپ کو مار ڈالنے کا تھا، آپ نے فرمایا: اللہ تجھے کبھی مجھ پر مسلط نہیں کرے گا صحابہ نے عرض کیا: کیا ہم اسے قتل نہ کردیں، آپ نے فرمایا: نہیں چناچہ میں اس کا اثر برابر رسول اللہ ﷺ کے مسوڑھوں میں دیکھا کرتا تھا۔
Narrated Anas bin Malik (RA): A Jewess brought a poisoned sheep to the Messenger of Allah ﷺ , and he ate of it. She was then brought to the Messenger of Allah ﷺ who asked her about it. She said: I intended to kill you. He said: Allah will not give you control over it ; or he said: over me. They (the Companions) said: Should we not kill her ? He said: No. He (Anas) said: I always found it in the uvula of the Messenger of Allah ﷺ
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٢٨ (٢٦١٧)، صحیح مسلم/السلام ١٨ (٢١٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٨١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک زہر آلود بکری بھیجی، لیکن آپ نے اس عورت سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرحب کی ایک یہودی بہن تھی جس نے نبی اکرم ﷺ کو زہر دیا تھا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A Jewess presented a poisoned sheep to the Prophet ﷺ , but the Prophet ﷺ did not interfere with he. Abu Dawud said: The Jewess who poisoned the Prophet ﷺ was sister of Marhab.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥١٤٠، ١٣١٢٢، ١٥١٤٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجزیة ٧ (٣١٦٩)، المغازي ٤١ (٤٢٤٩)، الطب ٥٥ (٥٧٧٧) (صحیح) ( سفیان بن حسین کی زہری سے روایت میں ضعف ہے، لیکن اصل حدیث صحیح ہے اور صحیح بخاری میں ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے تھے کہ خیبر کی ایک یہودی عورت نے بھنی ہوئی بکری میں زہر ملایا، پھر اسے رسول اللہ ﷺ کو تحفہ میں بھیجا، آپ نے دست کا گوشت لے کر اس میں سے کچھ کھایا، آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت نے بھی کھایا، پھر ان سے آپ نے فرمایا: اپنے ہاتھ روک لو اور آپ نے اس یہودیہ کو بلا بھیجا، اور اس سے سوال کیا: کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟ یہودیہ بولی: آپ کو کس نے بتایا؟ آپ نے فرمایا: دست کے اسی گوشت نے مجھے بتایا جو میرے ہاتھ میں ہے وہ بولی: ہاں (میں نے ملایا تھا) ، آپ نے پوچھا: اس سے تیرا کیا ارادہ تھا؟ وہ بولی: میں نے سوچا: اگر نبی ہوں گے تو زہر نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اگر نہیں ہوں گے تو ہم کو ان سے نجات مل جائے گی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے معاف کردیا، کوئی سزا نہیں دی، اور آپ کے بعض صحابہ جنہوں نے بکری کا گوشت کھایا تھا انتقال کر گئے، رسول اللہ ﷺ نے بکری کے گوشت کھانے کی وجہ سے اپنے شانوں کے درمیان پچھنے لگوائے، جسے ابوہند نے آپ کو سینگ اور چھری سے لگایا، ابوہند انصار کے قبیلہ بنی بیاضہ کے غلام تھے۔
Narrated Ibn Shihab (RA) : Jabir ibn Abdullah used to say that a Jewess from the inhabitants of Khaybar poisoned a roasted sheep and presented it to the Messenger of Allah ﷺ who took its foreleg and ate from it. A group of his companions also ate with him. The Messenger of Allah ﷺ then said: Take your hands away (from the food). The Messenger of Allah ﷺ then sent someone to the Jewess and he called her. He said to her: Have you poisoned this sheep? The Jewess replied: Who has informed you? He said: This foreleg which I have in my hand has informed me. She said: Yes. He said: What did you intend by it? She said: I thought if you were a prophet, it would not harm you; if you were not a prophet, we should rid ourselves of him (i. e. the Prophet). The Messenger of Allah ﷺ then forgave her, and did not punish her. But some of his companions who ate it, died. The Messenger of Allah ﷺ had himself cupped on his shoulder on account of that which he had eaten from the sheep. Abu Hind cupped him with the horn and knife. He was a client of Banu Bayadah from the Ansar.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٠٠٦)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة ١١ (٦٩) (ضعیف )
ابوسلمہ ؓ کہتے ہیں کہ خیبر کی ایک یہودی عورت نے رسول اللہ ﷺ کو بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی، پھر راوی نے ویسے ہی بیان کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے، ابوسلمہ کہتے ہیں: پھر بشر بن براء بن معرور انصاری فوت ہوگئے، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا بھیجا اور فرمایا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا: تو وہ قتل کردی گئی، اور انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا ہے ١ ؎۔
Narrated Abu Salamah (RA) : A Jewess presented a roasted sheep to the Messenger of Allah ﷺ at Khaybar. He then mentioned the rest of the tradition like that of Jabir (No. 4495). He said: Then Bashir ibn al-Bara ibn Marur al-Ansari died. He sent someone to call on the Jewess, and said to her (when she came): What motivated you to do the work you have done? He then mentioned the rest of the tradition similar to the one mentioned by Jabir (No. 4495). The Messenger of Allah ﷺ then ordered regarding her and she was killed. But he (Abu Salamah) did not mention the matter of cupping. Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ would accept a present, but would not accept alms (sadaqah). And Wahb bin Baqiyyah narrated to us, elsewhere, from Khalid, from Muhammad ibn Amr said on the authority of Abu Salamah, and he did not mention the name of Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to accept presents but not alms (sadaqah). This version adds: So a Jewess presented him at Khaybar with a roasted sheep which she had poisoned. The Messenger of Allah ﷺ ate of it and the people also ate. He then said: Take away your hands (from the food), for it has informed me that it is poisoned. Bishr ibn al-Bara ibn Marur al-Ansari died. So he (the Prophet) sent for the Jewess (and said to her): What motivated you to do the work you have done? She said: If you were a prophet, it would not harm you; but if you were a king, I should rid the people of you. The Messenger of Allah ﷺ then ordered regarding her and she was killed. He then said about the pain of which he died: I continued to feel pain from the morsel which I had eaten at Khaybar. This is the time when it has cut off my aorta.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلی والی حدیث میں معاف کردیئے جانے کا ذکر ہے، جبکہ اس حدیث میں قتل کئے جانے کا ذکر ہے، قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ شروع میں جب زہر کھلانے کا علم ہوا، اور کہا گیا کہ اسے قتل کردیا جائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، لیکن جب اس زہر کی وجہ سے بشر بن البراء بن معرور انتقال کرگئے تب آپ نے اس یہودیہ کو ان کے ورثہ کے حوالے کردیا، پھر وہ بطور قصاص قتل کی گئی۔ (عون المعبود ١٢ ؍ ١٤٩ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، نیز اسی سند سے ایک اور مقام پر ابوہریرہ کے ذکر کے بغیر صرف ابوسلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول فرماتے تھے اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ کو خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی جس میں اس نے زہر ملا رکھا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس میں سے کھایا اور لوگوں نے بھی کھایا، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: اپنے ہاتھ روک لو، اس (گوشت) نے مجھے بتایا ہے کہ وہ زہر آلود ہے چناچہ بشر بن براء بن معرور انصاری مرگئے، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا کر فرمایا: ایسا کرنے پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا؟ وہ بولی: اگر آپ نبی ہیں تو جو میں نے کیا ہے وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو میں نے لوگوں کو آپ سے نجات دلا دی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو وہ قتل کردی گئی، پھر آپ نے اپنی اس تکلیف کے بارے میں فرمایا: جس میں آپ نے وفات پائی کہ میں برابر خیبر کے اس کھانے کے اثر کو محسوس کرتا رہا یہاں تک کہ اب وہ وقت آگیا کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٤٥٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٢) (حسن صحیح) (ابوسلمہ نے اس حدیث میں ابوہریرہ ؓ کا ذکر نہیں کیا ہے، لیکن اس سے پہلے اور بعد کی حدیثوں میں صراحت ہے ملاحظہ ہو نمبر: ٤٥٠٩ اور ٤٥١٢ )
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٩) (حسن صحیح )
کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ام مبشر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اس مرض میں جس میں آپ نے وفات پائی کہا: اللہ کے رسول! آپ کا شک کس چیز پر ہے؟ میرے بیٹے کے سلسلہ میں میرا شک تو اس زہر آلود بکری پر ہے جو اس نے آپ کے ساتھ خیبر میں کھائی تھی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے سلسلہ میں بھی میرا شک اسی پر ہے، اور اب یہ وقت آچکا ہے کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرزاق نے کبھی اس حدیث کو معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے اور کبھی معمر نے اسے زہری سے اور، زہری نے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔ اور عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس حدیث کو ان سے کبھی مرسلاً روایت کرتے تو وہ اسے لکھ لیتے اور کبھی مسنداً روایت کرتے تو بھی وہ اسے بھی لکھ لیتے، اور ہمارے نزدیک دونوں صحیح ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: جب ابن مبارک معمر کے پاس آئے تو معمر نے وہ تمام حدیثیں جنہیں وہ موقوفاً روایت کرتے تھے ان سے متصلًا روایت کیں۔
Narrated Ibn Kab bin Malik: On the authority of his father: Umm Mubashshir said to the Prophet ﷺ during the sickness of which he died: What do you think about your illness, Messenger of Allah ﷺ ? I do not think about the illness of my son except the poisoned sheep of which he had eaten with you at Khaybar. The Prophet ﷺ said: And I do not think about my illness except that. This is the time when it cut off my aorta. Abu Dawud said: Sometime Abd al-Razzaq transmitted this tradition, omitting the link of the Companion, from Mamar, from al-Zuhri, from the Prophet ﷺ , and sometimes he transmitted it from al-Zuhri from Abdur-Rahman bin Kab bin Malik, Abdur-Rahman mentioned that Mamar sometimes transmitted the tradition in a mursal form (omitting the link of the Companion), and they recorded it. And all this is correct with us. Abd al-Razzaq said: When Ibn al-Mubarak came to Mamar, he transmitted the traditions in a musnad form (with a perfect chain) which he transmitted as mauquf traditions (statements of the Companions and not of the Prophet). Narrated Abdur-Rahman bin Abdullah bin Kab bin Malik: On the authority of his mother than Umm Mubashshir said (Abu Saeed bin al-Arabi said: So he said it on the authority of his mother ; what is correct is: on the authority of his father, instead of his mother): I entered upon the Prophet ﷺ . He then mentioned the tradition of Makhlad bin Khalid in a way similar to the tradition of Jabir. The narrator said: Then Bishr bin al-Bara bin Marur died. So he (the Prophet) sent for the Jewess and said: What did motivate you for your work you have done ? He (the narrator) then mentioned the rest of the tradition like the tradition of Jabir. The Messenger of Allah ﷺ ordered regarding her and she was killed. He (the narrator in this version) did not mention cupping.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١١٣٩، ١٩٨١٥، ١٨٣٥٨، ١٨٣٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٦/١٨) (صحیح )
ام مبشر ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں پھر راوی نے مخلد بن خالد کی حدیث کا مفہوم اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی روایت میں ہے، اس میں ہے کہ بشر بن براء بن معرور مرگئے، تو آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور پوچھا: یہ تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ پھر راوی نے وہی باتیں ذکر کیں جو جابر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اور وہ قتل کردی گئی لیکن انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا۔
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١١٣٩، ١٨٣٥٨) (صحیح )
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے، اور جو اس کے اعضاء کاٹے گا ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے ۔
Narrated Samurah (RA) : The Prophet ﷺ Said: If anyone kills his slave, we shall kill him, and if anyone cuts off the nose of his slave, we shall cut off his nose.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ١٨ (١٤١٤)، سنن النسائی/القسامة ٦ (٤٧٤٠)، ٧ (٤٧٤٣)، ١٢ (٤٧٥٧)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٣ (٢٦٦٣)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٥/١٠، ١١، ١٢، ١٨)، دی/ الدیات ٧ (٢٤٠٣) (ضعیف) (سند میں قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حسن بصری نے عقیقہ کی حدیث کے علاوہ سمرہ سے دوسری احادیث نہیں سنی ہے )