حاکم اگر صاحب حق کو خون معاف کرنے کا حکم دے تو کیا ہے؟
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُفِعَ إِلَيْهِ شَيْءٌ فِيهِ قِصَاصٌ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب بھی نبی اکرم ﷺ کے پاس کوئی ایسا مقدمہ لایا جاتا جس میں قصاص لازم ہوتا تو میں نے آپ کو یہی دیکھا کہ (پہلے) آپ اس میں معاف کردینے کا حکم دیتے۔
Narrated Anas ibn Malik: I never saw the Messenger of Allah ﷺ that some dispute which involved retaliation was brought to him but he commanded regarding it for remission.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٢٣ (٤٧٨٧، ٤٧٨٨)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣٥ (٢٦٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١٣، ٢٥٢) (صحیح )