اس سند سے بھی قتادہ سے بھی اسی کے مثل حدیث مروی ہے اس میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کریں گے اس کے بعد راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے شعبہ اور حماد کی حدیث میں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوداؤد طیالسی نے ہشام سے معاذ کی حدیث کی طرح نقل کیا ہے۔
Narrated Qatadah (RA) : Through the same chain of narrators as mentioned before, i. e. Samurah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone castrates his slave, we shall castrate him. He then mentioned the rest of the tradition like that of Shubah and Hammad. Abu Dawud said: Abu Dawud al-Tayalisi transmitted it from Hisham like the tradition of Muadh.
اس سند سے بھی قتادہ سے شعبہ کی سند والی روایت کے مثل مروی ہے اس میں اضافہ ہے کہ پھر حسن (راوی حدیث) اس حدیث کو بھول گئے چناچہ وہ کہتے تھے: آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
Qatadah transmitted the tradition mentioned above through a chain of narrators like that of Shubah. This version adds: Then al-Hasan forgot this tradition, and he used to say: A free man is not to be killed for a slave.
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس کی ایک لونڈی تھی، آپ نے فرمایا: ستیاناس ہو تمہارا، بتاؤ کیا ہوا؟ اس نے کہا: برا ہوا، میرے آقا کی ایک لونڈی تھی اسے میں نے دیکھ لیا، تو اسے غیرت آئی، اس نے میرا ذکر کٹوا دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کو میرے پاس لاؤ تو اسے بلایا گیا، مگر کوئی اسے نہ لاسکا تب آپ نے (اس غلام سے) فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ہر مومن پر یا کہا: ہر مسلمان پر تیری مدد لازم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جو آزاد ہوا اس کا نام روح بن دینار تھا، اور جس نے ذکر کاٹا تھا وہ زنباع تھا، یہ زنباع ابوروح ہیں جو غلام کے آقا تھے۔
Narrated Amr bin Shuaib: On his fathers authority, said that his grandfather told that a A man came to the Prophet ﷺ crying for help. He said: His slave-girl, Messenger of Allah! He said: Woe to you, what happened with you ? He said that it was an evil one. He saw the slave-girl of his master; he became jealous of him, and cut off his penis. The Messenger of Allah ﷺ said: Bring the man to me. The man was called, but people could not get control over him. The Messenger of Allah ﷺ then said: Go away, you are free. He asked: Messenger of Allah! upon whom does my help lie? He replied: On every believer, or he said: On every Muslim. Abu Dawud said: The name of the man who was emancipated was Rawh bin Dinar Abu Dawud said: The man who cut off the penis was Zinba Abu Dawud said: The Zinba Abu Rawh was master of the slave.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٩ (٢٦٨٠)، (تحفة الأشراف: ٨٧١٦، ٤٥٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٢، ٢٢٥) (حسن )
سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل دونوں خیبر کی طرف چلے اور کھجور کے درختوں میں (چلتے چلتے) دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے، پھر عبداللہ بن سہل قتل کردیے گئے، تو ان لوگوں نے یہودیوں پر تہمت لگائی، ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور ان کے چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ اکٹھا ہوئے اور وہ سب نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، عبدالرحمٰن بن سہل جو ان میں سب سے چھوٹے تھے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنے چلے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو (اور انہیں گفتگو کا موقع دو ) یا یوں فرمایا: بڑے کو پہلے بولنے دو چناچہ ان دونوں (حویصہ اور محیصہ) نے اپنے عزیز کے سلسلے میں گفتگو کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے پچاس آدمی یہودیوں کے کسی آدمی پر قسم کھائیں تو اسے رسی سے باندھ کر تمہارے حوالے کردیا جائے ان لوگوں نے کہا: یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے، پھر ہم کیسے قسم کھا لیں؟ آپ نے فرمایا: پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسم کے ذریعہ خود کو تم سے بچا لیں گے وہ بولے: اللہ کے رسول! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسموں کا کیا اعتبار؟ ) چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی طرف سے دیت دے دی، سہل کہتے ہیں: ایک دن میں ان کے شتر خانے میں گیا، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی، حماد نے یہی کہا یا اس جیسی کوئی بات کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے بشر بن مفضل اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے: کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے ساتھی کے خون، یا اپنے قاتل کے مستحق ہوتے ہو؟ البتہ بشر نے لفظ دم یعنی خون کا ذکر نہیں کیا ہے، اور عبدہ نے یحییٰ سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے حماد نے کی ہے، اور اسے ابن عیینہ نے یحییٰ سے روایت کیا ہے، تو انہوں نے ابتداء تبرئكم يهود بخمسين يمينا يحلفون سے کی ہے اور استحقاق کا ذکر انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کا وہم ہے۔
Narrated Sahl bin Abi Hathmah and Rafi bin Khadij (RA) : Muhayyasah bin Masud and Abdullah bin Sahl came to Khaibar and parted (from each other) among palm trees. Abdullah bin Sahl was killed. The Jews were blamed (for the murder). Abdur-Rahman bin Sahl and Huwayyasah and Muhayyasah, the sons of his uncle (Masud) came to the Prophet ﷺ . Abdur-Rahman, who was the youngest, spoke about his brother, but the Messenger of Allah ﷺ said to him: (Respect) the elder, (respect) the elder or he said: Let the eldest begin. They then spoke about their friend and the Messenger of Allah ﷺ said: Fifty of you should take oaths regarding a man from them (the Jews) and he should be entrusted (to him) with his rope (in his neck). They said: It is a matter which we did not see. How can we take oaths ? He said: The Jews exonerate themselves by the oaths of fifty of them. They said: Messenger of Allah! they are a people who are infidels. So the Messenger of Allah ﷺ paid them bloodwit himself. Sahl said: Once I entered the resting place of their camels, and the she-camel struck me with her lef. Hammad said this or (something) similar to it. Abu Dawud said: Another version transmitted by Yahya bin Saeed has: Would you swear fifty oaths and make you claim regarding your friend or your slain man ? Bishr, the transmitter, did mention blood. Abdah transmitted it from Yahya as transmitted by Hammad. Ibn Uyainah has also transmitted it from Yahya, and began with his words: The Jew will exonerate themselves by fifty oaths which they will swear. He did not mention the claim. Abu Dawud said: This is a misunderstanding on the part of Ibn Uyainah.
Notes · وضاحت
١ ؎: قسامہ یہ ہے کہ جب مقتول کی نعش کسی بستی یا محلہ میں ملے اور اس کا قاتل معلوم نہ ہو تو مقتول کے ورثہ کا جس پر گمان ہو اس پر پچاس قسمیں کھائیں کہ اس نے قتل کیا ہے اگر مقتول کے ورثہ قسم کھانے سے انکار کریں تو اہل محلہ میں سے جنہیں وہ اختیار کریں ان سے قسم لی جائے گی، اگر قسم کھا لیں تو ان پر کچھ مواخذہ نہیں، اور قسم نہ کھانے کی صورت میں وہ دیت دیں، اور اگر نہ مقتول کے ولی قسم کھائیں، اور نہ ہی بستی یا محلہ والے تو سرکاری خزانہ سے اس مقتول کی دیت ادا کی جائے گی، جیسا کہ آپ ﷺ نے ادا کیا۔
سہل بن ابی حثمہ انصاری ؓ اور ان کے قبیلہ کے کچھ بڑوں سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ ؓ کسی پریشانی کی وجہ سے جس سے وہ دو چار ہوئے خیبر کی طرف نکلے پھر کسی نے آ کر محیصہ کو خبر دی کہ عبداللہ بن سہل مار ڈالے گئے اور انہیں کسی کنویں یا چشمے میں ڈال دیا گیا، وہ (محیصہ) یہود کے پاس آئے اور کہنے لگے: قسم اللہ کی! تم نے ہی انہیں قتل کیا ہے، وہ بولے: اللہ کی قسم ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل تینوں (رسول اللہ ﷺ کے پاس) آئے، محیصہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کیونکہ وہی خیبر میں ساتھ تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑوں کو بڑائی دو آپ کی مراد عمر میں بڑائی سے تھی چناچہ حویصہ نے گفتگو کی، پھر محیصہ نے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یا تو یہ لوگ تمہارے آدمی کی دیت دیں، یا لڑائی کے لیے تیار ہوجائیں پھر آپ نے اس سلسلے میں انہیں خط لکھا تو انہوں نے اس کا جواب لکھا کہ اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، تو آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن سے پوچھا: کیا تم قسم کھاؤ گے کہ اپنے بھائی کے خون کا مستحق بن سکو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس پر آپ نے فرمایا: تو پھر یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے اس پر وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کردی، اور سو اونٹ بھیج دیے گئے یہاں تک کہ وہ ان کے مکان میں داخل کردیے گئے، سہل کہتے ہیں: انہیں میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری ہے۔
Sahl bin Abi Hathmah and some senior men of the tribe told that Abdullah bin Abi Sahl and Muhayyasah came to Khaibar on account of the calamity (i. e. famine) that befall them. Muhayyasah came and told the Abdullah bin Sahl had been killed and thrown in a well or stream. He hen came to the Jews and said: I swear by Allah, you have killed him. They said: We swear by Allah, we have not killed him. He then proceeded and came to his tribe and mentioned this to them. Then he, his brother Huwayyasah, who was older to him, and Abdur-Rahman bin Sahl came forward (to the Prophet). Muhayyasah began to speak. It was he who was at Khaibar. The Messenger of Allah ﷺ then said to him: Let the eldest (speak), let the eldest (speak), meaning age. So Huwayyasah spoke, and after him Muhayyasah spoke. The Messenger of Allah ﷺ then said: They should either pay the bloodwit for you friend or they should be prepared for war. So the Messenger of Allah ﷺ wrote to them about it. They wrote (in reply): We swear by Allah, we have not killed him. The Messenger of Allah ﷺ then said to Huwayyasah, Muhayyasah and Abdur-Rahman: Will you take an oath and thus have the claim to the blood of your friend ? They said: No. He (the Prophet) said: The Jews will then take an oath. They said: They are not Muslims. Then the Messenger of Allah ﷺ himself paid the bloodwit. The Messenger of Allah ﷺ then sent on one hundred she-camels and they were entered in their house. Sahl said: A red she-camel of them gave me a kick.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٥٥٣٦، ٤٦٤٤، ١٥٥٩٢) (صحیح )
عمرو بن شعیب رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے قسامہ سے بنی نصر بن مالک کے ایک آدمی کو بحرۃ الرغاء ١ ؎ میں لیۃ البحرہ ٢ ؎ کے کنارے پر قتل کیا، راوی کہتے ہیں: قاتل اور مقتول دونوں بنی نصر کے تھے، ببحرة الرغاء على شطر لية البحر کے یہ الفاظ محمود کے ہیں اور محمود اس حدیث کے سلسلہ میں سب سے زیادہ درست آدمی ہیں۔
Narrated Amr bin Shuaib: The Messenger of Allah ﷺ killed a man of Banu Nadr ibn Malik at Harrah ar-Righa at the bank of Layyat al-Bahrah. The transmitter Mahmud (ibn Khalid) also mentioned the words along with the words at Bahrah the slayer and the slain were from among them. Mahmud alone transmitted in this tradition the words at the bank of Layyah.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: ایک وادی کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩١٧٣) (ضعیف) (اس سند میں عمرو بن شعیب نے رسول اللہ صلی+اللہ+علیہ+وسلم سے روایت کی ہے، عموماً وہ اپنے والد اور ان کے والد عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کرتے ہیں، اس لئے سند میں اعضال ہیں یعنی مسلسل دو راوی ایک جگہ سے ساقط ہیں )
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہوگئے، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا: تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، وہ کہنے لگے: ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چناچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے، تو آپ نے ان سے فرمایا: تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے پاس گواہ نہیں ہے، اس پر آپ نے فرمایا: پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے وہ کہنے لگے: ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہوں گے، پھر آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا خون ضائع ہوجائے چناچہ آپ نے اس کی دیت زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ خود دے دی۔
Narrated Bashir bin Yasar (RA) : That a man of the Ansar called Sahl bin Abi Hathmah told him that some people of his tribe went to Khaibar and separated there. They found one of them slain. They said to those with whom they had found him: You have killed our friend. They replied: We did not kill him, nor do we know the slayer. We (the people of the slain) then went to the Prophet of Allah ﷺ . He said to them: Bring proof against the one who has slain him. They replied: We have no proof. He said: Then they will take an oath for you. They said: We do not accept the oaths of the Jews. The Messenger of Allah ﷺ did not like no responsibility should be fixed for his blood. So he himself paid his bloodwit consisting of one hundred camels of sadaqah (i. e. camels sent to the Prophet as zakat).
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٤٥٢٠)، (تحفة الأشراف: ٤٦٤٤، ١٥٥٣٦، ١٥٥٩٢) (صحیح )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی خیبر میں قتل کردیا گیا، تو اس کے وارثین نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے مقتول ہوجانے کی گواہی دیں؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں پر تو مسلمانوں میں سے کوئی نہیں تھا، وہ تو سب کے سب یہودی ہیں اور وہ اس سے بڑے جرم کی بھی جرات کرلیتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو ان میں پچاس افراد منتخب کر کے ان سے قسم لے لو لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی۔
Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : A man of the Ansar was killed at Khaybar and his relatives went to the Prophet ﷺ and mentioned that to him. He asked: Have you two witnesses who can testify to the murderer of your friend? They replied: Messenger of Allah! there was not a single Muslim present, but only Jews who sometimes have the audacity to do even greater crimes than this. He said: Then choose fifty of them and demand that they take an oath; but they refused and the Prophet ﷺ paid the blood-wit himself.
عبدالرحمٰن بن بجید کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم، سہل کو اس حدیث میں وہم ہوگیا ہے، واقعہ یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود کو لکھا کہ تمہارے بیچ ایک مقتول ملا ہے تو تم اس کی دیت ادا کرو، تو انہوں نے جواب میں لکھا: ہم اللہ کی پچاس قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا، اور نہ ہمیں اس کے قاتل کا پتا ہے، وہ کہتے ہیں: اس پر اس کی دیت رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے سو اونٹ (خود) ادا کی۔
Narrated Abdur-Rahman bin Bujaid: I swear by Allah, Sahl had a misunderstanding about this tradition. The Messenger of Allah ﷺ wrote to the Jews: A slain man has been found amongnst you, so pay his bloodwit. They wrote (to him): Swearing by Allah fifty oaths, we neither killed him nor do we know his slayer. He said: Then the Messenger of Allah ﷺ himself paid his bloodwit which consisted of one hundred she-camels.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٤٥٢٠)، (تحفة الأشراف: ٩٦٨٦) (منکر )
انصار کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پہلے یہود سے کہا: تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں تو انہوں نے انکار کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے انصار سے کہا: تم اپنا حق ثابت کرو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے؟ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا۔
Narrated Abu Salamah bin Abdur-Rahman and Sulaiman bin Yasar: On the authority of some men of the Ansar: The Prophet ﷺ said to the Jews and started with them: Fifty of you should take the oaths. But they refused (to take the oaths). He then said to the Ansar: Prove your claim. They said: Do we take the oaths without seeing, Messenger of Allah? The Messenger of Allah ﷺ then imposed the blood-wit on the Jews because he (the slain) was found among them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٨٨، ١٥٦٩١) (شاذ )
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا، تو اس نے اعتراف کیا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے۔
Narrated Anas (RA) : A girl was found with her head crushed between two stones. She was asked: Who has done this to you ? Is it so and so ? Is it so and so, until a Jew was named, and she gave a sign with her head. The Jew was caught ad he admitted. So the Prophet ﷺ gave command that his head should be crushed with stones.
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے انصار کی ایک لونڈی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کردیا، پھر اسے ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کا سر پتھر سے کچل دیا، تو اسے پکڑ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے تو اسے رجم کردیا گیا یہاں تک کہ وہ مرگیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایوب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Anas (RA) : A Jew killed a girl of the Ansar for her ornaments. He then threw her in a well, and crushed her head with stones. He was then arrested and brought to the Prophet ﷺ . He ordered regarding him that he should be stoned to death. He was then stoned till he died. Abu Dawud said: It has been transmitted by Ibn Juraij from Ayyub in a similar way.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الحدود ٣ (١٦٧٢)، سنن النسائی/ المحاربة ٧ (٤٠٤٩)، (تحفة الأشراف: ٩٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٣) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی اپنے زیور پہنے ہوئی تھی اس کے سر کو ایک یہودی نے پتھر سے کچل دیا تو رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے، ابھی اس میں جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ فلاں نے تجھے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پھر پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا؟ فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے پھر سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پھر پوچھا: کیا فلاں نے کیا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا، تو اسے دو پتھروں کے درمیان (کچل کر) مار ڈالا گیا۔
Narrated Anas (RA) : A girl was wearing silver ornaments. A Jew crushed her head with a stone. The Messenger of Allah ﷺ entered upon her when she had some breath. He said to her: Who has killed you ? Had so and so killed you ? She replied: No, making a sign with her head. He again asked: Who has killed you ? Has so and so killed you ? She replied: No, making a sign with her head. He again asked: Has so and so killed you ? She said: Yes, making sign with her head. The Messenger of Allah ﷺ commanded regarding him, and he was killed between two stones.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٥٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٣١) (صحیح )
قیس بن عباد سے کہتے ہیں کہ میں اور اشتر دونوں علی ؓ کے پاس آئے اور ہم نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو کوئی خاص بات بتائی ہے جو عام لوگوں کو نہ بتائی ہو؟ وہ بولے: نہیں، سوائے اس چیز کے جو میری اس کتاب میں ہے۔ مسدد کہتے ہیں: پھر انہوں نے ایک کتاب نکالی، احمد کے الفاظ یوں ہیں اپنی تلوار کے غلاف سے ایک کتاب (نکالی) اس میں یہ لکھا تھا: سب مسلمانوں کا خون برابر ہے اور وہ غیروں کے مقابل (باہمی نصرت و معاونت میں) گویا ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں کا ایک ادنی بھی ان کے امان کا پاس و لحاظ رکھے گا ١ ؎، آگاہ رہو! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمے داری اسی کے اوپر ہوگی، اور جو نئی بات نکالے گا، یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص (بدعتی) کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ مسدد کہتے ہیں: ابن ابی عروبہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک کتاب نکالی۔
Narrated Qays ibn Abbad (RA) : I and Ashtar went to Ali and said to him: Did the Messenger of Allah ﷺ give you any instruction about anything for which he did not give any instruction to the people in general? He said: No, except what is contained in this document of mine. Musaddad said: He then took out a document. Ahmad said: A document from the sheath of his sword. It contained: The lives of all Muslims are equal; they are one hand against others; the lowliest of them can guarantee their protection. Beware, a Muslim must not be killed for an infidel, nor must one who has been given a covenant be killed while his covenant holds. If anyone introduces an innovation, he will be responsible for it. If anyone introduces an innovation or gives shelter to a man who introduces an innovation (in religion), he is cursed by Allah, by His angels, and by all the people. Musaddad said: Ibn Abu Urubahs version has: He took out a document.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کوئی ادنیٰ مسلمان بھی کسی کافر کو پناہ دے دے تو کوئی مسلمان اسے توڑ نہیں سکتا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٥ (٤٧٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٢٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: … پھر راوی نے علی ؓ کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ان کا ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے اور مال غنیمت میں عمدہ جانور اور کمزور جانور والے دونوں برابر ہیں، جو لشکر سے باہر نکلے اور لڑے اور وہ جو لشکر میں بیٹھا رے دونوں برابر ہیں۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah ﷺ said, mentioning the tradition similar to the one transmitted by Ali. This version adds: The most distant of them gives protection as from all, those who are strong among them send back (spoil) to those who are weak among them, and their expeditions sending it back to those who are at home.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وقد مضی بتمامہ ٢٧٥١، (تحفة الأشراف: ٨٨١٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات ٣١ (٢٦٨٥) (حسن صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں سعد نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی (میں تو اسے قتل کر دوں گا) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سنو! جو تمہارے سردار کہہ رہے ہیں (عبدالوہاب کے الفاظ ہیں، (سنو) جو سعد کہہ رہے ہیں) ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : That Saad bin Ubadah said: Messenger of Allah! If a man finds a man with his wife, should he kill him ? The Messenger of Allah ﷺ said: No. Saad (RA) : Why not, by Him who has honoured you with truth ? The Prophet ﷺ said: Listen to what your chief is saying. The narrator Abd al-Wahhab said: (Listen) to what Saad is saying.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٨)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٤ (٢٦٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٩٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ١٩ (١٧)، الحدود ١(٧)، مسند احمد (٢/٤٦٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: بتائیے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : That Saad bin Ubadah said to the Messenger of Allah ﷺ : What do you think if I find with my wife a man ; should I give him some time until I bring four witnesses ? He said: Yes.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، ایک شخص نے اپنی زکاۃ کے سلسلہ میں ان سے جھگڑا کرلیا، ابوجہم نے اسے مارا تو اس کا سر زخمی ہوگیا، تو لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! قصاص دلوائیے، اس پر آپ نے ان سے فرمایا: تم اتنا اور اتنا لے لو لیکن وہ لوگ راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے فرمایا: اچھا اتنا اور اتنا لے لو وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو آپ نے فرمایا: اچھا اتنا اور اتنا لے لو اس پر وہ رضامند ہوگئے پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آج شام کو میں لوگوں کے سامنے خطبہ دوں گا اور انہیں تمہاری رضا مندی کی خبر دوں گا لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا، اور فرمایا: قبیلہ لیث کے یہ لوگ قصاص کے ارادے سے میرے پاس آئے ہیں تو میں نے ان کو اتنا اور اتنا مال پیش کیا اس پر یہ راضی ہوگئے ہیں (پھر آپ نے انہیں مخاطب کر کے پوچھا:) بتاؤ کیا تم لوگ راضی ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو مہاجرین ان پر جھپٹے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ان سے باز رہنے کا حکم دیا، چناچہ وہ رک گئے، پھر آپ نے انہیں بلایا، اور کچھ اضافہ کیا پھر پوچھا: کیا اب تم راضی ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: میں لوگوں کو خطاب کروں گا، اور انہیں تمہاری رضا مندی کے بارے میں بتاؤں گا لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے خطاب کیا، اور پوچھا: کیا تم راضی ہو؟ وہ بولے: ہاں۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ sent Abu Jahm ibn Hudhayfah as a collector of zakat. A man quarrelled with him about his sadaqah (i. e. zakat), and Abu Jahm struck him and wounded his head. His people came to the Prophet ﷺ and said: Revenge, Messenger of Allah! The Prophet ﷺ said: You may have so much and so much. But they did not agree. He again said: You may have so much and so much. But they did not agree. He again said: You may have so much and so much. So they agreed. The Prophet ﷺ said: I am going to address the people in the afternoon and tell them about your consent. They said: Yes. Addressing (the people), the Messenger of Allah ﷺ said: These people of faith came to me asking for revenge. I presented them with so much and so much and they agreed. Do you agree? They said: No. The immigrants (muhajirun) intended (to take revenge) on them. But the Messenger of Allah ﷺ commanded them to refrain and they refrained. He then called them and increased (the amount), and asked: Do you agree? They replied: Yes. He said: I am going to address the people and tell them about your consent. They said: Yes. The Prophet ﷺ addressed and said: Do you agree? They said: Yes.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٢٠ (٤٧٨٢)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٣ (٢٦٣٨)، (تحفة الأشراف: ٦٦٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٣٢) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا، تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، چناچہ اس یہودی کو پکڑا گیا، اس نے اقبال جرم کرلیا تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے۔
Narrated Anas (RA) : A girl was found with her head crushed between two stoned. She was asked: Who did it with you ? Was it so and so ? Was it so and so ? Until the Jew was named. Thereupon she gave a sign with her head. The Jew was arrested and he admitted. So the Prophet ﷺ gave command that his head should be crushed with stones.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٥٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٩١) (صحیح )