دیت کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 36 · 98 hadiths · Page 3 of 6

4536Sunan Abu Dawood

مار پیٹ کے قصاص اور حاکم کی ذات سے قصاص لینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ قَسْمًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَالَ فَاسْتَقِدْ فَقَالَ بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور آپ کے اوپر جھک گیا تو اس کے چہرے پر خراش آگئی تو آپ نے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی اسے چبھو دی، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: آؤ قصاص لے لو ١ ؎ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے معاف کردیا۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ was distributing something, a man came towards him and bent down on him. The Messenger of Allah ﷺ struck him with a bough and his face was wounded. The Messenger of Allah ﷺ said to him: Come and take retaliation. He said: no, I have forgiven, Messenger of Allah!.

Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ! رسول اکرم ﷺ کس قدر عادل تھے کہ جو تکلیف کسی کو غلطی سے پہنچ جاتی اس سے بھی قصاص لینے کو کہتے اور اپنی عظمت کا خیال نہ کرتے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ١٦ (٤٧٧٧)، (تحفة الأشراف: ٤١٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٣/٢٨) (ضعیف )
4537Sunan Abu Dawood

مار پیٹ کے قصاص اور حاکم کی ذات سے قصاص لینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، فَمَنْ فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ أُقِصُّهُ مِنْهُ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَتُقِصُّهُ مِنْهُ ؟ قَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أُقِصُّهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَصَّ مِنْ نَفْسِهِ.

ابوفراس کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا: میں نے اپنے گورنر اس لیے نہیں بھیجے کہ وہ تمہاری کھالوں پہ ماریں، اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے مال لیں، لہٰذا اگر کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو تو وہ اسے مجھ تک پہنچائے، میں اس سے اسے قصاص دلواؤں گا عمرو بن العاص ؓ نے کہا: اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیباً سزا دے تو اس پر بھی آپ اس سے قصاص لیں گے، وہ بولے: ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے قصاص لوں گا میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات سے قصاص دلایا۔

Narrated Abu Firas: Umar bin al-Khattab (ra) addressed us and said: I did not send my collectors (of zakat) so that they strike your bodies and that they take your property. If that is done with someone and he appeals to me, I shall take retaliation on him. Amr ibn al-As said: If any man (i. e. governor) inflicts disciplinary punishment on his subjects, would you take retaliation on him too? He said: Yes, by Him in Whose hand my soul is, I shall take retaliation on him. I saw that the Messenger of Allah ﷺ has given retaliation on himself.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ١٩ (٤٧٨١)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ١/٤١) (ضعیف )
4538Sunan Abu Dawood

عورتوں کا قصاص معاف کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ حِصْنًا، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: عَلَى الْمُقْتَتِلِينَ أَنْ يَنْحَجِزُوا الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ وَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي أَنَّ عَفْوَ النِّسَاءِ فِي الْقَتْلِ جَائِزٌ إِذَا كَانَتْ إِحْدَى الْأَوْلِيَاءِ، وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، فِي قَوْلِهِ: يَنْحَجِزُوا يَكُفُّوا عَنِ الْقَوَدِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑنے والوں پر لازم ہے کہ وہ قصاص لینے سے باز رہیں، پہلے جو سب سے قریبی ہے وہ معاف کرے، پھر اس کے بعد والے خواہ وہ عورت ہی ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ عورتوں کا قتل کے سلسلے میں قصاص معاف کردینا جائز ہے جب وہ مقتول کے اولیاء میں سے ہوں، اور مجھے ابو عبید کے واسطے سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کے قول ينحجزوا کے معنی قصاص سے باز رہنے کے ہیں۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ Said: The disputants should refrain from taking retaliation. The one who is nearer should forgive first and then the one who is next to him, even if (the one who forgives) were a woman. Abu Dawud said: I have been informed that forgiving by women in the case of murder is permissible if a woman were one of the heirs (of the slain). I have been told on the authority of Abu Ubaid about the meaning of the word yanhajizu, that is, they should refrain from retaliation.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٢٥ (٤٧٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٠٦) (ضعیف )
4539Sunan Abu Dawood

ابن صیاد کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: مَنْ قُتِلَ ؟ وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا فِي رَمْيٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحِجَارَةٍ أَوْ بِالسِّيَاطِ أَوْ ضَرْبٍ بِعَصًا فَهُوَ خَطَأٌ وَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَإِ، وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: قَوَدُ يَدٍ ثُمَّ اتَّفَقَا، وَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ أَتَمُّ.

طاؤس کہتے ہیں کہ جو مارا جائے، اور ابن عبید کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی کسی لڑائی یا دنگے میں جو لوگوں میں چھڑ گئی ہو غیر معروف پتھر، کوڑے، یا لاٹھی سے مارا جائے ١ ؎ تو وہ قتل خطا ہے، اور اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہوگی، اور جو قصداً مارا جائے تو اس میں قصاص ہے (البتہ ابن عبید کی روایت میں ہے کہ) اس میں ہاتھ کا قصاص ہے، ٢ ؎ (پھر دونوں کی روایت ایک ہے کہ) جو کوئی اس کے بیچ بچاؤ میں پڑے ٣ ؎ تو اس پر اللہ کی لعنت، اور اس کا غضب ہو، اس کی نہ توبہ قبول ہوگی اور نہ فدیہ، یا اس کے فرض قبول ہوں گے نہ نفل اور سفیان کی حدیث زیادہ کامل ہے۔

Tawus, in his version said: If anyone is killed. Ibn Ubaid in his version said: The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone is killed in error (blindly) when people are throwing stones, or by beating with whips, or striking with a stick, it is accidental and the compensation for accidental death is due. But if anyone is killed deliberately, retaliation is due. Ibn Ubaid in his version: Retaliation of the man is due. The agreed version then goes: If anyone comes in (between the two parties) to prevent it, Allahs curse and anger will rest on him, and neither supererogatory nor obligatory acts will be accepted from him. The version of the tradition of Sufyan is more perfect.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے قاتل کا پتہ نہ چل سکے۔ ٢ ؎: یعنی جان کا قصاص ہے جان کی تعبیر ہاتھ سے کی گئی ہے۔ ٣ ؎: یعنی قصاص نہ لینے دے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٢٦ (٤٧٩٣)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٨ (٢٦٣٥)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (٤٥٩١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٩ ١٨٨٢٨) (صحیح )
4540Sunan Abu Dawood

عورتوں کا قصاص معاف کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، آگے راوی نے سفیان کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as mentioned by Sufyan.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٩، ١٨٨٢٨) (صحیح )
4541Sunan Abu Dawood

دیت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ. ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ: ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ ذَكَرٍ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: جو غلطی سے مارا گیا تو اس کی دیت سو اونٹ ہے تیس بنت مخاض ١ ؎ تیس بنت لبون ٢ ؎ تیس حقے ٣ ؎ اور دس نر اونٹ جو دو برس کے ہوچکے ہوں ۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah ﷺ gave judgment that if anyone is killed accidentally, his blood-wit should be one hundred camels: thirty she-camels which had entered their second year, thirty she-camels which had entered their third year, thirty she-camels which had entered their fourth year, and ten male camels which had entered their third year.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایسی اونٹنی جو ایک برس کی ہوچکی ہو۔ ٢ ؎: ایسی اونٹنی جو دو برس کی ہوچکی ہو۔ ٣ ؎: ایسی اونٹنی جو تین برس کی ہوچکی ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/االدیات ١ (١٣٨٧)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٤ (٢٦٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨٧٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٣، ١٨٤، ١٨٥، ١٨٦، ٢١٧، ٢٢٤) (حسن )
4542Sunan Abu Dawood

دیت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَتْ قِيمَةُ الدِّيَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَدِيَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ يَوْمَئِذٍ النِّصْفُ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ الْإِبِلَ قَدْ غَلَتْ، قَالَ: فَفَرَضَهَا عُمَرُ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ، قَالَ: وَتَرَكَ دِيَةَ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرْفَعْهَا فِيمَا رَفَعَ مِنَ الدِّيَةِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دیت کی قیمت ١ ؎ آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا، یہاں تک کہ عمر ؓ خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: سنو، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے، تو عمر ؓ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار (درہم) دیت ٹھہرائی، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی، اور ذمیوں کی دیت چھوڑ دی، ان کی دیت میں (مسلمانوں کی دیت کی طرح) اضافہ نہیں کیا۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported that the value of the blood-money at the time of the Messenger of Allah ﷺ was eight hundred dinars or eight thousand dirhams, and the blood-money for the people of the Book was half of that for Muslims. He said: This applied till Umar (Allah be pleased with him) became caliph and he made a speech in which he said: Take note! Camels have become dear. So Umar fixed the value for those who possessed gold at one thousand dinars, for those who possessed silver at twelve thousand (dirhams), for those who possessed cattle at two hundred cows, for those who possessed sheep at two thousand sheep, and for those who possessed suits of clothing at two hundred suits. He left the blood-money for dhimmis (protected people) as it was, not raising it in proportion to the increase he made in the blood-wit.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دیت کے اونٹوں کی قیمت۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٨) (حسن )
4543Sunan Abu Dawood(4544)

دیت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الدِّيَةِ عَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْقَمْحِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ مُحَمَّدٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: ذَكَرَعَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ مُوسَى، وَقَالَ: وَعَلَى أَهْلِ الطَّعَامِ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ.

عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دیت کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا کہ اونٹ والوں پر سو اونٹ، گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے کپڑے، اور گیہوں والوں پر بھی کچھ مقرر کیا جو محمد (محمد بن اسحاق) کو یاد نہیں رہا۔

Narrated Ata ibn Abu Rabah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ gave judgment that blood-wit for those who possessed camels should be one hundred camels, and for those who possessed cattle two hundred cows, and for those who possessed sheep one thousand sheep, and for those who possessed suits of clothing two hundred suits, and for those who possessed wheat something which the narrator Muhammad (ibn Ishaq) did not remember. Abu Dawud said: I read out to Saeed bin Yaqub al-Taliqini who said: Abu Tumailah transmitted to us, saying: Muhammad bin Ishaq transmitted to us saying: Ata reported Jabir bin Abdullah as saying: The Messenger of Allah ﷺ fixed; and he mentioned the tradition like that of Musa; he said: And those who possess corn food should pay something which I do not remember.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٤٨٢) (ضعیف ) جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مقرر کیا پھر راوی نے ایسے ہی ذکر کیا جیسے موسیٰ کی روایت میں ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ طعام والوں پر کچھ مقرر کیا جو کہ مجھ کو یاد نہیں رہا۔ تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٤٨٢) (ضعیف )
4545Sunan Abu Dawood

دیت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُرٍ، وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قتل خطا کی دیت میں بیس حقے، بیس جزعے، بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون اور بیس ابن مخاض ہیں اور یہی عبداللہ بن مسعود کا قول ہے۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: The blood-wit for accidental killing should be twenty she-camels which had entered their fourth year, twenty she-camels which had entered their fifth year, twenty she-camels which had entered their second year, twenty she-camels which had entered their third year, and twenty male camels which had entered their second year. It does not beyond Ibn Masud.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ١ (١٣٨٦)، سنن النسائی/القسامة ٢٨ (٤٨٠٦)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٣١)، (تحفة الأشراف: ٩١٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٤، ٤٥٠)، دی/ الدیات ١٣ (٢٤١٢) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة مدلس اور کثیر الخطاء راوی ہیں اور خشف طائی مجہول )
4546Sunan Abu Dawood

دیت کی مقدار کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَدِيٍّ قُتِلَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَتَهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بنی عدی کے ایک شخص کو قتل کردیا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت بارہ ہزار ٹھہرائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man of Banu Adi was killed. The Prophet ﷺ fixed his blood-wit at the rate of twelve thousand (dirhams). Abu Dawud said: Ibn Uyainah transmitted it from Amr, from Ikrimah, from the Prophet ﷺ , and he did not mention Ibn Abbas.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ٢ (١٣٨٨)، سنن النسائی/القسامة ٢٩ (٤٨٠٧)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ٦١٦٥)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الدیات ١١ (٢٤٠٨) (ضعیف) امام ابو داود نے واضح فرما دیا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے )
4547Sunan Abu Dawood(4548)

قتل خطا اور قتل شبہ عمد کی دیت ایک ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، إِلَى هَاهُنَا حَفِظْتُهُ، عَنْ مُسَدَّدٍ، ثُمَّ اتَّفَقَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُذْكَرُ وَتُدْعَى مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِ أَوْلَادِهَا، وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَتَمُّ. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ مَعْنَاهُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (مسدد کی روایت کے مطابق) فتح مکہ کے دن مکہ میں خطبہ دیا، آپ نے تین بار اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا: لا إله إلا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ تنہا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا لشکروں کو شکست دی (یہاں تک کہ حدیث مجھ سے صرف مسدد نے بیان کی ہے صرف انہیں کے واسطہ سے میں نے اسے یاد کیا ہے اور اس کے بعد سے اخیر حدیث تک سلیمان اور مسدد دونوں نے مجھ سے بیان کیا ہے آگے یوں ہے) سنو! وہ تمام فضیلتیں جو جاہلیت میں بیان کی جاتی تھیں اور خون یا مال کے جتنے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے پاؤں تلے ہیں (یعنی لغو اور باطل ہیں) سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی خدمت کے (یہ اب بھی ان کے ہی سپرد رہے گی جن کے سپرد پہلے تھی پھر فرمایا: سنو! قتل خطا یعنی قتل شبہ عمد کوڑے یا لاٹھی سے ہونے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں (اور مسدد والی روایت زیادہ کامل ہے)۔

Narrated Abdullah ibn Amr (RA) : (Musaddads version has): The Messenger of Allah ﷺ made a speech on the day of the conquest of Makkah, and said: Allah is Most Great, three times. He then said: There is no god but Allah alone: He fulfilled His promise, helped His servant, and alone defeated the companies. (The narrator said:) I have remembered from Musaddad up to this. Then the agreed version has: Take note! All the merits mentioned in pre-Islamic times, and the claim made for blood or property are under my feet, except the supply of water to the pilgrims and the custody of the Kabah. He then said: The blood-money for unintentional murder which appears intentional, such as is done with a whip and a stick, is one hundred camels, forty of which are pregnant. Musaddads version is more accurate.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٢٧ (٤٧٩٧)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٥ (٢٦٢٨)، (تحفة الأشراف: ٨٨٨٩) (حسن ) اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٨٨٨٩)
4549Sunan Abu Dawood

قتل خطا اور قتل شبہ عمد کی دیت ایک ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ أَوْ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى دَرَجَةِ الْبَيْتِ أَوْ الْكَعْبَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ أَيْضًا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، مِثْلَ حَدِيثِ خَالِدٍ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَوْلُ زَيْدٍ، وَأَبِي مُوسَى، مِثْلُ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے فتح کے دن یا فتح مکہ کے دن بیت اللہ یا کعبہ کی سیڑھی پر خطبہ دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے بھی اسی طرح علی بن زید سے، علی بن زید نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، اور اسے ایوب سختیانی نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے خالد کی حدیث کے مثل روایت کی ہے۔ نیز اسے حماد بن سلمہ نے علی بن زید سے، علی بن زید نے یعقوب سدوسی سے، سدوسی نے عبداللہ بن عمرو سے، اور عبداللہ بن عمرو نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور زید اور ابوموسیٰ کا قول نبی اکرم ﷺ کی حدیث اور عمر ؓ کی حدیث کے مثل ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Khalid through the same chain of narrators to the same effect.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ الدیات ٥ (٢٦٢٨)، وانظر حدیث رقم: (٤٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ٧٣٧٢) (ضعیف) (علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں )
4550Sunan Abu Dawood

قتل خطا اور قتل شبہ عمد کی دیت ایک ہے

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَضَى عُمَرُ فِي شِبْهِ الْعَمْدِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، مَا بَيْنَ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا.

مجاہد کہتے ہیں عمر نے قتل شبہ عمد میں تیس حقہ، تیس جزعہ، چالیس گابھن اونٹنیوں (جو چھ برس سے نو برس تک کی ہوں) کی دیت کا فیصلہ کیا۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar from the Prophet ﷺ to the same effect. This version has: The Messenger of Allah ﷺ addressed on the day of Conquest, or he said: On the conquest of Makkah on the ladder of the House or of the Kabah. Abu Dawud said: In a similar way of Ibn Uyainah also transmitted it from Ali bin Zaid, from al-Qasim bin Rabiah, from Ibn Umar, from the Prophet ﷺ ; and Ayyub al-Sukhtiyani transmitted it from al-Qasim bin Rabiah from Abdullah bin Amr like the tradition of Khalid. Hammad bin Salamah also transmitted it from Ali bin Zaid, from Yaqub al-Sadusi, on the authority of Abdullah bin Amr from the Prophet ﷺ . The statements of Zaid and of Abu Musa are similar to the tradition of the Prophet ﷺ and to the tradition of Umar (Allah be pleased with him. )

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد )
4551Sunan Abu Dawood

قتل خطا اور قتل شبہ عمد کی دیت ایک ہے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: فِي شِبْهِ الْعَمْدِ أَثْلَاثٌ: ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُون جَذَعَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ ثَنِيَّةً، إِلَى بَازِلِ عَامِهَا وَكُلُّهَا خَلِفَةٌ.

علی ؓ کہتے ہیں شبہ عمد کی دیت میں تین قسم کے اونٹ ہوں گے، تینتیس حقہ، تینتیس جذعہ اور چونتیس ایسی اونٹنیاں جو چھ برس سے لے کر نو برس تک کی ہوں اور سب گابھن ہوں۔

Narrated Mujahid: Umar gave judgement that bloodwit for quasi-intentional murder should be thirty she-camels in their fourth year, thirty she-camels in their fifth year, and forty pregnant she-camels in their sixth year up to the ninth

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد )
4552Sunan Abu Dawood

قتل خطا اور قتل شبہ عمد کی دیت ایک ہے

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فِي شِبْهِ الْعَمْدِ: خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں شبہ عمد کی دیت پچیس حقہ، پچیس جزعہ، پچیس بنت لبون، اور پچیس بنت مخاض ہے۔

Narrated Abdullah (bin Masud): The bloodwit for unintentional murder which resembles intentional is twenty-five she camels which entered their fourth year, twenty five she-camels which had entered their fifth year, twenty five she-camels which had entered their third year, and twenty five camels which had entered their second year.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد )
4553Sunan Abu Dawood

قتل خطا اور قتل شبہ عمد کی دیت ایک ہے

حدثنا هَنَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِفِي شِبْهِ الْعَمْدِ: خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ.

علی ؓ کہتے ہیں قتل خطا کی دیت میں چار قسم کے اونٹ ہوں گے: پچیس حقہ، پچیس جزعہ، پچیس بنت لبون، اور پچیس بنت مخاض۔

Narrated Ali (RA) : The bloodwit for unintentional murder is in four parts: twenty five she-camels in their fourth year, twenty five she-camels in their fifth year, twenty five she-camels in their third year, and twenty twenty five she-camels in their second year.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد )
4552Sunan Abu Dawood

قتل خطا اور قتل شبہ عمد کی دیت ایک ہے

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فِي شِبْهِ الْعَمْدِ: خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں شبہ عمد کی دیت پچیس حقہ، پچیس جزعہ، پچیس بنت لبون، اور پچیس بنت مخاض ہے۔

Narrated Uthman bin Affan and Zaid bin Thabit (RA) : The bloodwit for what resembled intentional murder should be forty pregnant she-camels in their fifth year, thirty she-camels in their fourth year, and thirty she-camels in their third year. The bloodwit for unintentional murder is thirty she-camels in their fourth year, thirty she-camels in their third year, and twenty she-camels in their second year.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد )
4554Sunan Abu Dawood

قتل خطا اور قتل شبہ عمد کی دیت ایک ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍفي الْمُغَلَّظَةِ: أَرْبَعُونَ جَذَعَةً خَلِفَةً، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَفِي الْخَطَإِ: ثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٍ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ.

عثمان بن عفان اور زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں چالیس گابھن جزعہ، تیس حقہ اور تیس بنت لبون ہیں، اور دیت خطا میں تیس حقہ، تیس بنت لبون، بیس ابن لبون، اور بیس بنت مخاض ہیں۔

Narrated Zaid bin Thabit (RA) : About the bloodwit for quasi-intentional murder. . . . . He then mentioned a similar tradition as mentioned above.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (صحیح )
4555Sunan Abu Dawood

قتل خطا اور قتل شبہ عمد کی دیت ایک ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي الدِّيَةِ الْمُغَلَّظَةِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ وَعَنْ غَيْرُ وَاحِدٍ إِذَا دَخَلَتِ النَّاقَةُ فِي السَّنَةِ الرَّابِعَةِ فَهُوَ حِقٌّ وَالْأُنْثَى حِقَّةٌ، لِأَنَّهُ يَسْتَحِقُّ أَنْ يُحْمَلَ عَلَيْهِ وَيُرْكَبَ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَهُوَ جَذَعٌ وَجَذَعَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ فِي السَّادِسَةِ وَأَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ ثَنِيٌّ وَثَنِيَّةٌ، فَإِذَا دَخَلَ فِي السَّابِعَةِ فَهُوَ رَبَاعٌ وَرَبَاعِيَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الثَّامِنَةِ وَأَلْقَى السِّنَّ الَّذِي بَعْدَ الرَّبَاعِيَةِ فَهُوَ سَدِيسٌ وَسَدَسٌ، فَإِذَا دَخَلَ فِي التَّاسِعَةِ وَفَطَرَ نَابُهُ وَطَلَعَ فَهُوَ بَازِلٌ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الْعَاشِرَةِ فَهُوَ مُخْلِفٌ ثُمَّ لَيْسَ لَهُ اسْمٌ، وَلَكِنْ يُقَالُ بَازِلُ عَامٍ وَبَازِلُ عَامَيْنِ وَمُخْلِفُ عَامٍ وَمُخْلِفُ عَامَيْنِ إِلَى مَا زَادَ، وَقَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: ابْنَةُ مَخَاضٍ لِسَنَةٍ، وَبْنِتُ لَبُونٍ لِسَنَتَيْنِ، وَحِقَّةٌ لِثَلَاثٍ، وَجَذَعَةٌ لِأَرْبَعٍ، وَثَنِيٌّ لَخَمْسٍ، وَرَبَاعٌ لِسِتٍّ، وَسَدِيسٌ لِسَبْعٍ، وَبَازِلٌ لِثَمَانٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَبُو حَاتِمٍ، وَالْأَصْمَعِيُّ: وَالْجُذُوعَةُ وَقْتٌ وَلَيْسَ بِسِنٍّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَالَ بَعْضُهُمْ: فَإِذَا أَلْقَى رَبَاعِيَتَهُ فَهُوَ رَبَاعٌ، وَإِذَا أَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ ثَنِيٌّ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: إِذَا لَقِحَتْ فَهِيَ خَلِفَةٌ، فَلَا تَزَالُ خَلِفَةً إِلَى عَشَرَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ عَشَرَةَ أَشْهُرٍ فَهِيَ عُشَرَاءُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: إِذَا أَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ ثَنِيٌّ، وَإِذَا أَلْقَى رَبَاعِيَتَهُ فَهُوَ رَبَاعٌ.

زید بن ثابت سے دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں مروی ہے پھر راوی نے ہو بہو اسی کے مثل ذکر کیا جیسے اوپر گزرا۔

Narrated Abu Dawud (RA) : Abu Dawud and others have said: When a she-camel enters fourth year, the female is called hiqqah, and the male is called hiqq, for it deserves that it should be loaded and ridden. When a camel enters its fifth year, the male is called Jadha and the female is called Jadhaah. When it enters its sixth year, and sheds its front teeth, it is called thani (male) and thaniyyah (female). When it enters its seventh year, it is called raba and rabaiyyah. When it enters its ninth year and cuts its canine teeth, it is called bazil. When it enters its tenth year, it is called mukhlif. Then there is no name for it, but is called bazilam and bazilamain, and mukhlifam and mukhlifamain, upto any year it increases. Nad d. Shumail said: Bint makhad is a she-camel of one year, and bin labun is s she-camel of two years, hiqqah is a she-camel of three years, jadhaah is a she-camel of four years, thani is a camel of five years, raba is a camel of six years, sadis is a camel of seven years, and bazil is a camel of eight years. Abu Dawud said: Abu Hatim and al-Asmai said: Al-Jadhuah is a time when no tooth is growing. Abu Hatim said: Some of them said: When it sheds its teeth between front and canine teeth, it is called raba and when it sheds its front teeth, it is called thani. Abu Ubaid said: When it becomes pregnant, it is called khalifah, and it remains khalifah for ten months; when it reaches ten months, it is called ushara, Abu Hatim said: When it shed its front teeth, it is called thani and when it sheds its teeth between front and canine teeth it is called raba.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (صحیح الإسناد ) ابوداؤد کہتے ہیں ابو عبید اور دوسرے بہت سے لوگوں نے کہا: اونٹ جب چوتھے سال میں داخل ہوجائے تو نر کو حق اور مادہ کو حقة کہتے ہیں، اس لیے کہ اب وہ اس لائق ہوجاتا ہے کہ اس پر بار لادا جائے، اور سواری کی جائے اور جب وہ پانچویں سال میں داخل ہوجائے تو نر کو جذع اور مادہ کو جذعة کہتے ہیں، اور جب چھٹے سال میں داخل ہوجائے، اور سامنے کے دانت نکال دے تو نر کو ثني اور مادہ کو ثنية کہتے ہیں، اور جب ساتویں سال میں داخل ہوجائے تو نر کو رباع اور مادہ کو رباعية کہتے ہیں، اور جب آٹھویں سال میں داخل ہوجائے، اور وہ دانت نکال دے جو رباعية کے بعد ہے تو نر کو سديس اور مادہ کو سدس کہتے ہیں: اور جب نویں سال میں داخل ہوجائے اور اس کی کچلیاں نکل آئیں تو اسے بازل کہتے ہیں، اور جب دسویں سال میں داخل ہوجائے تو وہ مخلف ہے، اس کے بعد اس کا کوئی نام نہیں ہوتا، البتہ یوں کہا جاتا ہے ایک سال کا ب بازل، دو سال کا بازل ایک سال کا مخلف، دو سال کا مخلف اسی طرح جتنا بڑھتا جائے۔ نضر بن شمیل کہتے ہیں: ایک سال کی بنت مخاض ہے، دو سال کی بنت لبون، تین سال کی حقة، چار سال کی جذعة پانچ سال کا ثني چھ سال کا رباع، سات سال کا سديس، آٹھ سال کا بازل ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوحاتم اور اصمعی نے کہا: جذوعة ایک وقت ہے ناکہ کسی مخصوص سن کا نام۔ ابوحاتم کہتے ہیں: جب اونٹ اپنے رباعیہ ڈال دے تو وہ رباع اور جب ثنیہ ڈال دے تو ثني ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں: جب وہ حاملہ ہوجائے تو اسے خلفہ کہتے ہیں اور وہ دس ماہ تک خلفة کہلاتا ہے، جب دس ماہ کا ہوجائے تو اسے عشراء کہتے ہیں۔ ابوحاتم نے کہا: جب وہ ثنیہ ڈال دے تو ثني ہے اور رباعیہ ڈال دے تو رباع ہے۔ تفرد بہ أبو داود (صحیح الإسناد )
4556Sunan Abu Dawood

اعضاء کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْحُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ عَشْرٌ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ.

ابوموسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انگلیاں سب برابر ہیں، ان کی دیت دس دس اونٹ ہیں ۔

Narrated Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said: The fingers are equal: ten camels for each finger.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٣٨ (٤٨٤٧)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٤)، (تحفة الأشراف: ٩٠٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٧، ٣٩٨، ٤٠٤)، دی/ الدیات ١٥ (٢٤١٤) (صحیح )