دیت کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 36 · 98 hadiths · Page 4 of 6

4557Sunan Abu Dawood

اعضاء کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ، قُلْتُ: عَشْرٌ عَشْرٌ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْغَالِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْرُوقَ بْنَ أَوْسٍ،وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي غَالِبٌ التَّمَّارُ، بِإِسْنَادِ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ، عَنْ غَالِبٍ، بِإِسْنَادِ إِسْمَاعِيل.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انگلیاں تمام برابر ہیں میں نے عرض کیا، کیا ہر انگلی کی دیت دس دس اونٹ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔

Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : The Prophet ﷺ said: The fingers are equal. I asked: Ten camels for each? He replied: Yes. Abu Dawud said: Muhammad bin Jafar transmitted it from Shubah, from Ghalib, saying: I heard Masruq bin Aws ; and Ismail transmitted it, saying: Ghalib al-Tammar transmitted it to me through the chain of Abu al-Walid ; and Hanzlah bin Abi Safiyyah transmitted it from Ghalib through the chain of Ismail.

Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٠٣٠) (صحیح )
4558Sunan Abu Dawood

اعضاء کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَهَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ يَعْنِي الْإِبْهَامَ وَالْخِنْصَرَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ اور یہ برابر ہیں یعنی انگوٹھا اور چھنگلی (کانی انگلی) ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: This and that are equal, that is, the thumb and the little finger.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدیات ٢٠ (٦٨٩٥)، سنن الترمذی/الدیات ٤ (١٣٩٢)، سنن النسائی/القسامة ٣٨ (٤٨٥١)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٢)، (تحفة الأشراف: ٦١٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ١/٣٣٩)، سنن الدارمی/الدیات ١٥ (٢٤١٥) (صحیح )
4559Sunan Abu Dawood

اعضاء کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ وَالْأَسْنَانُ سَوَاءٌ الثَّنِيَّةُ وَالضِّرْسُ سَوَاءٌ، هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ،عَنْ شُعْبَةَ، بِمَعْنَى عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَاه الدَّارِمِيُّ، عَنْالنَّضْرِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انگلیاں سب برابر ہیں، دانت سب برابر ہیں، سامنے کے دانت ہوں، یا ڈاڑھ کے سب برابر ہیں، یہ بھی برابر اور وہ بھی برابر ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: The fingers are equal and the teeth are equal. The front tooth and the molar tooth are equal, this and that are equal. Abu Dawud said: Nadr bin Shumail transmitted it from Shubah to the same effect as mentioned by Abd al-Samad. Abu Dawud said: al-Darimi narrated it to me from al-Nadr.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ١٧ (٢٦٥٠)، (تحفة الأشراف: ٦١٩٣) (صحیح )
4560Sunan Abu Dawood

اعضاء کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَسْنَانُ سَوَاءٌ وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دانت سب برابر ہیں اور انگلیاں سب برابر ہیں ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: The teeth are equal, and the fingers are equal.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ٤ (١٣٩١)، (تحفة الأشراف: ٦٢٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٨٩) (صحیح )
4561Sunan Abu Dawood

اعضاء کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءً.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر کی انگلیوں کو برابر قرار دیا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ treated the fingers and toes as equal.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٦٢٤٩) (صحیح )
4562Sunan Abu Dawood

اعضاء کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي خُطْبَتِهِ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ فِي الْأَصَابِعِ: عَشْرٌ عَشْرٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبے میں جبکہ آپ اپنی پیٹھ کعبہ سے ٹیکے ہوئے تھے فرمایا: انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں ۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather said: The Prophet ﷺ said in his address while he was leaning against the Kabah (RA) : (The blood-wit) for each finger is ten camels.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٣٨ (٤٨٥٤)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٣)، مسند احمد (٢/٢٠٧) (حسن صحیح )
4563Sunan Abu Dawood

اعضاء کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِي الْأَسْنَانِ: خَمْسٌ خَمْسٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کرم ﷺ نے فرمایا: دانتوں میں پانچ پانچ (اونٹ) ہیں ۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather said: The Prophet ﷺ said: For each tooth are ten camels.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٣٨ (٤٨٥٤)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٩ (٢٣٥٤)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٥) (حسن صحیح )
4564Sunan Abu Dawood

اعضاء کی دیت کا بیان

قَالَ أَبُو دَاوُد: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ شَيْبَانَ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ صَاحِبٌ لَنَا ثِقَةٌ، قَالَ: حَدَّثَنَاشَيْبَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ دِيَةَ الْخَطَإِ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الْإِبِلِ، فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا، وَإِذَا هَاجَتْ رُخْصًا نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا، وَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ أَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ، وَعَدْلُهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَمَنْ كَانَ دِيَةُ عَقْلِهِ فِي الشَّاءِ فَأَلْفَيْ شَاةٍ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى قَرَابَتِهِمْ فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَةِ، قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَنْفِ إِذَا جُدِعَ الدِّيَةَ كَامِلَةً، وَإِنْ جُدِعَتْ ثَنْدُوَتُهُ فَنِصْفُ الْعَقْلِ خَمْسُونَ مِنَ الْإِبِلِ أَوْ عَدْلُهَا مِنَ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ أَوْ مِائَةُ بَقَرَةٍ أَوْ أَلْفُ شَاةٍ، وَفِي الْيَدِ إِذَا قُطِعَتْ نِصْفُ الْعَقْلِ، وَفِي الرِّجْلِ نِصْفُ الْعَقْلِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الْعَقْلِ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ مِنَ الْإِبِلِ وَثُلُثٌ أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الشَّاءِ وَالْجَائِفَةُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَفِي الْأَصَابِعِ فِي كُلِّ أُصْبُعٍ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَسْنَانِ فِي كُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَقْلَ الْمَرْأَةِ بَيْنَ عَصَبَتِهَا مَنْ كَانُوا لَا يَرِثُونَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا، وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهُمْ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لِلْقَاتِلِ شَيْءٌ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَارِثٌ فَوَارِثُهُ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِ وَلَا يَرِثُ الْقَاتِلُ شَيْئًا، قَالَ مُحَمَّدٌ: هَذَا كُلُّهُ حَدَّثَنِي بِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ هَرَبَ إِلَى الْبَصْرَةِ مِنَ الْقَتْلِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گاؤں والوں پر قتل خطا کی دیت کی قیمت چار سو دینار، یا اس کے برابر چاندی سے لگایا کرتے تھے، اور اس کی قیمت اونٹوں کی قیمتوں پر لگاتے، جب وہ مہنگے ہوجاتے تو آپ اس کی قیمت میں بھی اضافہ کردیتے، اور جب وہ سستے ہوتے تو آپ اس کی قیمت بھی گھٹا دیتے، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں یہ قیمت چار سو دینار سے لے کر آٹھ سو دینار تک پہنچی، اور اسی کے برابر چاندی سے (دیت کی قیمت) آٹھ ہزار درہم پہنچی، اور رسول اللہ ﷺ نے گائے بیل والوں پر (دیت میں) دو سو گایوں کا فیصلہ کیا، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریوں کا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیت کا مال مقتول کے وارثین کے درمیان ان کی قرابت کے مطابق تقسیم ہوگا، اب اگر اس سے کچھ بچ رہے تو وہ عصبہ کا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ناک کے سلسلے میں فیصلہ کیا کہ اگر وہ کاٹ دی جائے تو پوری دیت لازم ہوگی۔ اور اگر اس کا بانسہ (دونوں نتھنوں کے بیچ کی ہڈی) کاٹا گیا ہو تو آدھی دیت لازم ہوگی، یعنی پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا یا چاندی، یا سو گائیں، یا ایک ہزار بکریاں۔ اور ہاتھ جب کاٹا گیا ہو تو اس میں آدھی لازم ہوگی، پیر میں بھی آدھی دیت ہوگی۔ اور مامومہ ١ ؎ میں ایک تہائی دیت ہوگی، تینتیس اونٹ اور ایک اونٹ کا تہائی یا اس کی قیمت کے برابر سونا، چاندی، گائے یا بکری اور جائفہ ٢ ؎ میں بھی یہی دیت ہے۔ اور انگلیوں میں ہر انگلی میں دس اونٹ اور دانتوں میں ہر دانت میں پانچ اونٹ کی دیت ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: عورت کی جنایت کی دیت اس کے عصبات میں تقسیم ہوگی (یعنی عورت اگر کوئی جنایت کرے تو اس کے عصبات کو دینا پڑے گا) یعنی ان لوگوں کو جو ذوی الفروض سے بچا ہوا مال لے لیتے ہیں (جیسے بیٹا، چچا، باپ، بھائی وغیرہ) اور اگر وہ قتل کردی گئی ہو تو اس کی دیت اس کے وارثوں میں تقسیم ہوگی (نہ کہ عصبات میں) اور وہی اپنے قاتل کو قتل کریں گے (اگر قصاص لینا ہو) ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قاتل کے لیے کچھ بھی نہیں، اور اگر اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا وارث سب سے قریبی رشتے دار ہوگا لیکن قاتل کسی چیز کا وارث نہ ہوگا ۔

Narrated Abu Dawud (RA) : I found in my notebook from Shaiban and I did not hear from him ; Abu Bakr, a reliable friend of ours, said: Shaiban - Muhammad bin Rashid - Sulaiman bin Musad - Amr bin Suhaib, On his fathers authority, said that his grandfather said: The Messenger of Allah ﷺ would fix the blood-money for accidental killing at the rate of four hundred dinars or their equivalent in silver for townsmen, and he would fix it according to the price of camels. So when they were dear, he increased the amount to be paid, and when cheap prices prevailed he reduced the amount to be paid. In the time of the Messenger of Allah ﷺ they reached between four hundred and eight hundred dinars, their equivalent in silver being eight thousand dirhams. He said: The Messenger of Allah ﷺ gave judgment that those who possessed cattle should pay two hundred cows, and those who possessed sheep two thousand sheep. He said: The Messenger of Allah ﷺ said: The blood-money is to be treated as something to be inherited by the heirs of the one who has been killed, and the remainder should be divided among the agnates. He said: The Messenger of Allah ﷺ gave judgment that for cutting off a nose completely there was full blood-money, one hundred (camels) were to be paid. If the tip of the nose was cut off, half of the blood-money, i. e. fifty camels were to be paid, or their equivalent in gold or in silver, or a hundred cows, or one thousand sheep. For the hand, when it was cut of, f half of the blood-money was to be paid; for one foot of half, the blood-money was to be paid. For a wound in the head, a third of the blood-money was due, i. e. thirty-three camels and a third of the blood-money, or their equivalent in gold, silver, cows or sheep. For a head thrust which reaches the body, the same blood-money was to be paid. Ten camels were to be paid for every finger, and five camels for every tooth. The Messenger of Allah ﷺ gave judgment that the blood-money for a woman should be divided among her relatives on her fathers side, who did not inherit anything from her except the residence of her heirs. If she was killed, her blood-money should be distributed among her heirs, and they would have the right of taking revenge on the murderer. The Messenger of Allah ﷺ said: There is nothing for the murderer; and if he (the victim) has no heir, his heir will be the one who is nearest to him among the people, but the murderer should not inherit anything. Muhammad said: All this has been transmitted to me by Sulayman ibn Musa on the authority of Amr ibn Shuaib who, on his fathers authority, said that his grandfather heard it from the Prophet ﷺ . Abu Dawud said: Muhammad bin Rashid, an inhabitant of Damascus, fled from Basrah escaping murder.

Notes · وضاحت
١ ؎: مامومہ: سر کے ایسے زخم کو کہتے ہیں جو دماغ تک پہنچ جائے۔ ٢ ؎: جائفہ: وہ زخم ہے جو سر، پیٹ یا پیٹھ کے اندر تک پہنچ جائے اور اگر وہ زخم دوسری طرف بھی پار کر جائے تو اس میں دو تہائی دیت دینی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٢٧ (٤٨٠٥)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٣٠)، (تحفة الأشراف: ٨٧١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٢/١٨٣، ٢١٧، ٢٢٤) (حسن )
4565Sunan Abu Dawood

اعضاء کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ الْعَامِلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، عَنْسُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ، قَالَ: وَزَادَنَا خَلِيلٌ: عَنِ ابْنِ رَاشِدٍ: وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ فَتَكُونُ دِمَاءٌ فِي عِمِّيَّا فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: شبہ عمد کی دیت عمد کی دیت کی طرح سخت ہے، البتہ اس کے قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔ خلیل کی محمد بن راشد سے روایت میں یہ اضافہ ہے یہ (قتل شبہ عمد) لوگوں کے درمیان ایک شیطانی فساد ہے کہ بلا کسی کینے اور بغیر ہتھیار اٹھائے خون ہوجاتا ہے اور قاتل کا پتا نہیں چلتا ۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: Blood-wit for what resembles intentional murder is to be made as severe as that for intentional murder, but the culprit is not to be killed. Khalid gave us some additional information on the authority of Ibn Rashid: That (unintentional murder which resembles intentional murder) means that Satan jumps among the people and then the blood is shed blindly without any malice and weapon.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: ٨٧١٣) (حسن )
4566Sunan Abu Dawood

اعضاء کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الْمَوَاضِحِ: خَمْسٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مواضح ١ ؎ میں دیت پانچ اونٹ ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Blood-wit for every wound which lays bare a bone is five camels.

Notes · وضاحت
١ ؎: مواضح ایسے زخم کو کہتے ہیں جس سے ہڈی دکھائی دینے لگے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٣٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٠، ٨٦٨٣) (حسن صحیح )
4567Sunan Abu Dawood

اعضاء کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا بِثُلُثِ الدِّيَةِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسی آنکھ میں جو اپنی جگہ باقی رہے لیکن بینائی جاتی رہے، تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather said: The Messenger of Allah ﷺ gave judgment that a third of the blood-wit should be paid for an eye fixed in its place.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٣٦ (٤٨٤٤)، (تحفة الأشراف: ٨٧٧٠) (حسن) (یہ سند حسن کے مرتبہ تک پہنچنے کے لائق ہے )
4568Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيَرةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ: كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ ؟ فَقَالَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کردیا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا، اور نہ ہی چلایا، (اس نے یہ بات مقفّٰی عبارت میں کہی) آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفّی و مسجّع عبارت بولتے ہو؟ تو آپ ﷺ نے اس میں ایک غرہ (لونڈی یا غلام) کی دیت کا فیصلہ کیا، اور اسے عورت کے عاقلہ (وارثین) کے ذمہ ٹھہرایا۔

Narrated Al-Mughirah bin Shubah (RA) : A man of Hudhail has two wives. One of them struck her fellow-wife with a tent-pole and killed her and her unborn child. They brought the dispute to the Prophet ﷺ . One of two men said: How can we pay bloodwit for the one who did not make a noise, or ate, nor drank, nor raised his voice ? He (the Prophet) asked: Is it rhymed prose like that of bedouin? He gave judgement that a male or female slave of the best quality should be paid in compensation, and he fixed it to be paid by womans relatives on her fathers side.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/القسامة ١ (١٦٨٢)، سنن الترمذی/الدیات ١٥ (١٤١١)، سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨٢٥)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٧ (٢٦٣٣)، (تحفة الأشراف: ١١٥١٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدیات ٢٥ (٦٩٠٥-٦٩٠٨)، الاعتصام ١٣ (٧٣١٧)، مسند احمد ( ٤ /٢٢٤، ٢٤٥، ٢٤٦، ٢٤٩)، سنن الدارمی/الدیات ٢٠ (٢٤٢٥) (صحیح )
4569Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحَكَمُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ.

اس سند سے منصور سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مقتول عورت کی دیت قاتل عورت کے عصبات پر ٹھہرائی، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ (غلام یا لونڈی) ٹھہرایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح حکم نے مجاہد سے مجاہد نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Mansur through a different chain of narrators and to the same effect. This version adds: The Prophet ﷺ fixed the bloodwit for the slain woman to be paid by the relatives of the woman who had slain her, on the fathers side. Abu Dawud said: In a similar way it has been transmitted by al-Hakam from Mujahid from al-Mughirah.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٥١٠) (صحیح )
4570Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَالَ: ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَأَتَاهُ بِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، زَادَ هَارُونُ: فَشَهِدَ لَهُ يَعْنِي ضَرْبَ الرَّجُلِ بَطْنَ امْرَأَتِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، إِنَّمَا سُمِّيَ إِمْلَاصًا لِأَنَّ الْمَرْأَةَ تُزْلِقُهُ قَبْلَ وَقْتِ الْوِلَادَةِ، وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا زَلَقَ مِنَ الْيَدِ وَغَيْرِهِ فَقَدْ مَلِصَ.

مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے عورت کے املاص کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، تو عمر نے کہا: میرے پاس اپنے ساتھ اس شخص کو لاؤ جو اس کی گواہی دے، تو وہ محمد بن مسلمہ ؓ کو لے کر ان کے پاس آئے۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے تو انہوں نے اس کی گواہی دی یعنی اس بات کی کہ کوئی آدمی عورت کے پیٹ میں مارے جو اسقاط حمل کا سبب بن جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے معلوم ہوا اسقاط حمل کو املاص اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازلاق یعنی پھسلانے کے ہیں گویا عورت ولادت سے قبل ہی مار کی وجہ سے حمل کو پھسلا دیتی ہے اسی طرح ہاتھ یا کسی اور چیز سے جو چیز پھسل کر گرجائے تو اس کی تعبیر مَلِصَ سے کی جاتی ہے یعنی وہ پھسل گیا۔

Narrated Al-Miswar bin Makhramah (RA) : Umar consulted the people about the compensation of abortion of woman. Al-Mughirah bin Shubah said: I was present with the Messenger of Allah ﷺ when he gave judgement that a male or female slave should testify you. So he brought Muhammad bin Maslamah to him. Harun added: He then testified him. Imlas means a man striking the belly of his wife. Abu Dawud said: I have been informed that Abu Ubaid said: It (abortion) is called imlas because the woman causes it to slip before the time of delivery. Similarly, anything which slips from the hand or from some other thing is called malasa (slipped).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ القسامة ٢ (١٦٨٩)، سنن ابن ماجہ/ الدیات ١١ (٢٦٤٠)، (تحفة الأشراف: ١١٢٣٣، ١١٥٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٣) (صحیح) (ہارون کی زیادتی صحیح نہیں ہے )
4571Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُمَرَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ.

عمر ؓ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید اور حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، عروہ نے اپنے باپ زبیر سے روایت کیا ہے کہ عمر نے کہا۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Umar through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said: Hammad bin Zaid and Hammad bin Salamah transmitted it from Hisham bin Arubah on his fathers authority who said that Umar said. . .

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الدیات ٢٥ (٦٩٠٧)، (تحفة الأشراف: ١١٥١١) (صحیح )
4572Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَطَاوُسًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ: أَنَّهُ سَأَلَ عَنْ قَضِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَامَ إِلَيِه حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: الْمِسْطَحُ هُوَ الصَّوْبَجُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْمِسْطَحُ عُودٌ مِنْ أَعْوَادِ الْخِبَاءِ.

عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کے فیصلے کے متعلق پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے، اور بولے: میں دونوں عورتوں کے بیچ میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا تو وہ مرگئی اور اس کا جنین بھی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے جنین کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی کی دیت کا، اور قاتلہ کو قتل کردیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: مسطح چوپ یعنی (روٹی پکانے کی لکڑی) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عبید نے کہا:مسطح خیمہ کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : Umar asked about the decision of the Prophet ﷺ about that (i. e. abortion). Haml bin Malik bin al-Nabhigah got up and said: I was between two women. One of them struck another with a rolling-pin killing both her and what was in her womb. So the Messenger of Allah ﷺ gave judgement that the bloodwit for the unborn child should be a male or a female slave of the best quality and the she should be killed. Abu Dawud said: Al-Nadr bin Shumail said: Mistah means a rolling-pin. Abu Dawud said: Abu Ubaid said: Mistah means a pole from the tent-poles.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٧٢٠)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٤١)، (تحفة الأشراف: ٣٤٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٤، ٤/ ٧٩)، سنن الدارمی/الدیات ٢١ (٢٤٢٧) (صحیح )
4573Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو،عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، لَمْ يَذْكُرْ وَأَنْ تُقْتَلَ، زَادَ: بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ أَسْمَعْ بِهَذَا لَقَضَيْنَا بِغَيْرِ هَذَا.

طاؤس کہتے ہیں کہ عمر ؓ منبر پر کھڑے ہوئے، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی البتہ اس کا ذکر نہیں کیا کہ وہ قتل کی جائے، اور انہوں نے بغرة عبد أو أمة کا اضافہ کیا ہے، راوی کہتے ہیں: اس پر عمر ؓ نے کہا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ حکم نہ سنے ہوتے تو اس کے خلاف فیصلہ دیتے۔

Narrated Tawus (RA) : Umar stood on the pulpit. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as mentioned before. He did not mention that she should be killed. This version adds: a male or a female slave. Umar then said: Allah is Most Great. Had I not heard it, we would have decided about it something else.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٤٤) (ضعیف الإسناد )
4574Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ طَلْحَةَ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ حَمَلِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَأَسْقَطَتْ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ مَيِّتًا وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ، فَقَالَ عَمُّهَا: إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ، فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ: إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُهُ يُطَلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسَجْعَ الْجَاهِلِيَّةِ وَكَهَانَتَهَا ! أَدِّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ اسْمُ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ وَالْأُخْرَى أُمَّ غُطَيْفٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے حمل بن مالک کے قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں تو اس نے بچہ کو جسے بال اگے ہوئے تھے ساقط کردیا، وہ مرا ہوا تھا اور عورت بھی مرگئی، تو آپ نے وارثوں پر دیت کا فیصلہ کیا، اس پر اس کے چچا نے کہا: اللہ کے نبی! اس نے تو ایک ایسا بچہ ساقط کیا ہے جس کے بال اگ آئے تھے، تو قاتل عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم! نہ تو وہ چیخا، نہ پیا، اور نہ کھایا، اس جیسے کا خون تو معاف (رائیگاں) قرار دے دیا جاتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا جاہلیت جیسی مسجع عبارت بولتے ہو جیسے کاہن بولتے ہیں، بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی کی دینی ہوگی ۔ ابن عباس کہتے ہیں: ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : About the story of Haml ibn Malik, Ibn Abbas said: She aborted a child who had grown hair and was dead, and the woman also died. He (the Prophet) gave judgment that the blood-wit was to be paid by the womans relatives on the fathers side. Her uncle said: Messenger of Allah! She has aborted a child who had grown hair. The father of the woman who had slain said: He is a liar: I swear by Allah, he did not raise his voice, or drink or eat. No compensation is to be paid for an offence like this. The Prophet ﷺ said: is it a rhymed prose of pre-Islamic Arabia and its soothsaying? Pay a male or female slave of the best quality in compensation for the child. Ibn Abbas said: The name of one of them was Mulaikah, and the name of the other was Umm Ghutaif.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٥٦٨، (تحفة الأشراف: ٣٤٤٤) (ضعیف )
4575Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَاالشَّعْبِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا زَوْجٌ وَوَلَدٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الْقَاتِلَةِ وَبَرَّأَ زَوْجَهَا وَوَلَدَهَا، قَالَ: فَقَالَ: عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ مِيرَاثُهَا لَنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، مِيرَاثُهَا لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کردیا، ان میں سے ہر ایک کے شوہر بھی تھا، اور اولاد بھی، تو رسول اللہ ﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبات پر ٹھہرائی اور اس کے شوہر اور اولاد سے کوئی مواخذہ نہیں کیا، مقتولہ کے عصبات نے کہا: کیا اس کی میراث ہمیں ملے گی؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں، اس کی میراث تو اس کے شوہر اور اولاد کی ہوگی ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : One of the two women of Hudhayl killed the other, Each of them had husband and sons. The Messenger of Allah ﷺ fixed the blood-wit for the slain woman to be paid by the womans relatives on the fathers side. He declared her husband and the child innocent. The relatives of the woman who killed said: We shall inherit from her. The Messenger of Allah ﷺ said: No, her sons and her husband should inherit from her.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٥ (٢٦٤٨)، (تحفة الأشراف: ٢٣٤٧) (صحیح )
4576Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةَ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ لَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جھگڑا ہوا، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا تو اسے قتل ہی کر ڈالا، تو لوگ مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ کیا: جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے، اور عورت کی دیت کا فیصلہ کیا کہ یہ اس کے عصبہ پر ہوگی اور اس دیت کا وارث مقتولہ کی اولاد کو اور ان کے ساتھ کے لوگوں کو قرار دیا۔ حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی جان کی دیت کیوں ادا کروں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، اور نہ چیخا، ایسے کا خون تو لغو قرار دے دیا جاتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے آپ نے یہ بات اس کی اس سجع تعبیر کی وجہ سے کہی جو اس نے کی تھی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Two women of Hudhail fought together and one of them threw a stone at the other and killed her. They brought their dispute to the Messenger of Allah ﷺ who gave judgement that a male or female slave of the best quality should be given as compensation for her unborn child, and he fixed it to be paid by the womans relatives on the fathers side. He made her sons and those who were with them her heirs. Hamal bin Malik bin al-Nabighah al-Hudhali said: Messenger of Allah! how should I be fined for one who has not drunk, or eaten or spoken, or raised his voice? - adding that compensation is not to be paid for such (an offense). The Messenger of Allah ﷺ said: This man simply belong to the soothsayers on account of his rhymed prose which he has used.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٤٦ (٥٧٥٨)، الفرائض ١١ (٥٧٥٩)، الدیات ٢٥ (٦٩٠٩)، ٢٦ (٦٩١٠)، صحیح مسلم/القسامة ١١(١٦٨١)، سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٢٠، ١٥٣٠٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدیات ١٥ (١٤١٠)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٣٩)، موطا امام مالک/العقول ٧ (٥)، مسند احمد ( ٢/٢٣٦، ٢٧٤، ٤٣٨، ٤٩٨، ٥٣٥، ٥٣٩)، دی/الدیات ٢١ (٢٤٢٧) (صحیح )