دیت کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 36 · 98 hadiths · Page 5 of 6

4577Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا.

ابوہریرہ ؓ سے اس قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں پھر وہ عورت، جس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے لونڈی یا غلام کا فیصلہ کیا تھا، مرگئی، تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی میراث اس کے بیٹوں کی ہے، اور دیت قاتلہ کے عصبہ پر ہوگی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : About this story: Then the woman, against whom he decided that a male or female should be paid for her, died. The Messenger of Allah ﷺ then gave judgement that her sons will inherit from her, and the bloodwit should be paid by her relatives on the fathers side.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الفرائض (٦٧٤٠)، الدیات ٢٥ (٦٩٠٩)، صحیح مسلم/ الحدود ١١ (١٦٨١)، سنن الترمذی/ الدیات ١٥ (١٤١٠)، الفرائض ١٩ (٢١١١)، سنن النسائی/ القسامة ٣٣ (٤٨٢١)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٢٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العقول ٧ (٥) (صحیح )
4578Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ امْرَأَةً خَذَفَتِ امْرَأَةً فَأَسْقَطَتْ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ فِي وَلَدِهَا خَمْسَ مِائَةِ شَاةٍ وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا الْحَدِيثُ خَمْسَ مِائَةِ شَاةٍ وَالصَّوَابُ مِائَةُ شَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا قَالَ عَبَّاسٌ، وَهُوَ وَهْمٌ.

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے دوسری عورت کو پتھر مارا تو اس کا حمل گرگیا، یہ مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے اس بچہ کی دیت پانچ سو بکریاں مقرر فرمائی، اور لوگوں کو پتھر مارنے سے اسی دن سے منع فرما دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت اسی طرح ہے پانچ سو بکریوں کی لیکن صحیح سو بکریاں ہے، اسی طرح عباس نے کہا ہے حالانکہ یہ وہم ہے۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: A woman threw a stone at another woman and she aborted. The dispute was brought to the Messenger of Allah ﷺ . He gave judgment that five hundred sheep should be paid for her (unborn) child, and forbade throwing stones. Abu Dawud said: The version of this tradition goes in this way, i. e. five hundred sheep. What is correct is one hundred sheep. Abu Dawud said: Abbas transmitted this tradition this way, but it is misunderstanding.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨١٧)، (تحفة الأشراف: ٢٠٠٦) (ضعیف) وضاحت: الحکم علی حدیث النسائی: صحیح الإسناد (٤٨١٧ )
4579Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، لَمْ يَذْكُرَا أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پیٹ کے بچے میں ایک غلام یا ایک لونڈی یا ایک گھوڑے یا ایک خچر کی دیت کا فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ اور خالد بن عبداللہ نے محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے البتہ ان دونوں نے أو فرس أو بغل کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ gave judgment that a male or a female slave, or a horse or a mule should be paid for a miscarriage. Abu Dawud said: Hammad bin Salamah and Khalid bin Abdullah transmitted this tradition from Muhammad bin Amr, but they did not mention or a horse or a mule

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٤٥٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٠٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٣٨، ٤٩٨) (شاذ )
4580Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَجَابِرٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: الْغُرَّةُ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ رَبِيعَةُ: الْغُرَّةُ خَمْسُونَ دِينَارًا.

شعبی کہتے ہیں کہ غرہ (غلام یا لونڈی) کی قیمت پانچ سو درہم ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیعہ نے کہا: غرہ (غلام یا لونڈی) پچاس دینار کا ہوتا ہے۔

Narrated Al-Shabi (RA) : The price of a male or a female slave is five hundred dirhams. Abu Dawud said: Rabiah said: The price of a male or a female slave is fifty dinars.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٤٠٣) (ضعیف الإسناد )
4581Sunan Abu Dawood

مکاتب کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْمُكَاتَبِ يُقْتَلُ يُودَى مَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْمَمْلُوكِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکاتب غلام جسے قتل کردیا جائے کی دیت میں فیصلہ فرمایا کہ قتل کے وقت جس قدر وہ بدل کتابت ادا کرچکا ہے اتنے حصہ کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہوگی اور جس قدر ادائیگی باقی ہے اتنے حصے کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہوگی۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ gave judgment about the slave who had made an agreement to purchase his freedom (mukatab) and he had been killed that blood-wit is paid for him at the rate paid for a free man so far as he has paid the purchase money, and at the rate paid for a slave as the remainder is concerned.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٣٢ (٤٨١٢، ٤٨١٣)، (تحفة الأشراف: ٦٢٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ١/٢٢٢، ٢٢٦، ٢٦٠، ٢٩٢، ٣٦٣) (صحیح )
4582Sunan Abu Dawood

مکاتب کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ وَرِثَ مِيرَاثًا يَرِثُ عَلَى قَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُوُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْسَلَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيل، عَنْأَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَعَلَهُ إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ قَوْلَ عِكْرِمَةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مکاتب کوئی حد کا کام کرے یا ترکے کا وارث ہو تو جس قدر آزاد ہوا ہے وہ اسی قدر وارث ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہیب نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے علی ؓ سے اور علی نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور حماد بن زید اور اسماعیل نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور اسماعیل بن علیہ نے اسے عکرمہ کا قول قرار دیا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: When a mukatab (a slave who has made an agreement to purchase his freedom) gifts blood-money or an inheritance, he can inherit in accordance with the extent to which he has been emancipated. Abu Dawud said: Wuhaib transmitted it from Ayyub, from Ikrimah, on the authority of Ali, from the Prophet ﷺ : and Hammad bin Zaid and Ismail have transmitted it in a mursal form (i. e the link of the Companion being missing) from Ayyub, from Ikrimah, from the Prophet ﷺ . Ismail bin Ulayyah has treated it as a statement of Ikrimah.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ البیوع ٣٥ (١٢٥٩)، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٩٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٩) (صحیح )
4583Sunan Abu Dawood

ذمی کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دِيَةُ الْمُعَاهِدِ نِصْفُ دِيَةِ الْحُرِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مِثْلَهُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ذمی معاہد کی دیت آزاد کی دیت کی آدھی ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسامہ بن زید لیثی اور عبدالرحمٰن بن حارث نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah ﷺ said: The blood-wit for a man who makes a covenant is half of the blood-wit for a free man. Abu Dawud said: It has been transmitted by Usamah bin Zaid al-Laithi and Abdur-Rahman bin al-Harith on the authority of Amr bin Suhaib in similar manner.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو کافر دارالاسلام میں معاہدہ کی رو سے رہتا ہے اس کی دیت مسلمان کی دیت کی آدھی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧٨٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدیات ١٧ (١٤١٣)، سنن النسائی/القسامة ٣١ (٤٨١٠)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٣ (٢٦٤٤)، مسند احمد ( ٢/١٨٣، ٢١٧، ٢٢٤) (حسن )
4584Sunan Abu Dawood

ایک شخص اگر دوسرے سے لڑائی میں اپنے دفاع میں کسی کو مار دے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَاتَلَ أَجِيرٌ لِي رَجُلًا فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا، وَقَالَ: أَتُرِيدُ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا كَالْفَحْلِ ؟ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهْدَرَهَا، وَقَالَ: بَعِدَتْ سِنُّهُ.

یعلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میرے ایک مزدور نے ایک شخص سے جھگڑا کیا اور اس کے ہاتھ کو منہ میں کر کے دانت سے دبایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت باہر نکل آیا، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو کردیا، اور فرمایا: کیا چاہتے ہو کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دیدے، اور تم اسے سانڈ کی طرح چبا ڈالو ابن ابی ملیکہ نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر ؓ نے اسے لغو قرار دیا اور کہا: (اللہ کرے) اس کا دانت نہ رہے۔

Narrated Safwan bin Yala (RA) : On this fathers authority, said: A servant of mine fought with a man and bit his hand and he drew away his hand. (One of) his front teeth fell out. So he came to the Prophet ﷺ who imposed no retaliation for his tooth, saying: Do you intend that he leaves his hand in your mouth so that you crunch it like a male camel ? He said: Ibn Abi Mulaikah told me on the authority of his grandfather that Abu Bakr (ra) imposed no retaliation on him for it, saying: May his tooth go away!

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٩ (١٨٤٧)، الإجارة ٥ (٢٢٦٥)، الجھاد ١٢٠ (٢٩٧٣)، المغازي ٧٨ (٤٤١٧)، الدیات ١٨ (٦٨٩٣)، صحیح مسلم/الحدود ٤ (١٦٧٣)، سنن النسائی/القسامة ١٥ (٤٧٧٤، ٤٧٧٥، ٤٧٧٦)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٠ (٢٦٥٦)، (تحفة الأشراف: ١١٨٣٧، ٦٦٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢، ٢٢٣، ٢٢٤) (صحیح )
4585Sunan Abu Dawood

ایک شخص اگر دوسرے سے لڑائی میں اپنے دفاع میں کسی کو مار دے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ بِهَذَا، زَادَ: ثُمّ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَاضِّ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تُمَكِّنَهُ مِنْ يَدِكَ فَيَعَضُّهَا ثُمَّ تَنْزِعُهَا مِنْ فِيهِ وَأَبْطَلَ دِيَةَ أَسْنَانِهِ.

اس سند سے بھی یعلیٰ بن امیہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اتنا اضافہ ہے پھر آپ نے (یعنی نبی اکرم ﷺ نے) دانت کاٹنے والے سے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ ہوسکتا ہے کہ تم بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دو وہ اسے کاٹے پھر تم اسے اس کے منہ سے کھینچ لو اور اس کے دانتوں کی دیت باطل قرار دے دی۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Yala bin Umayyah through a different chain of narrators. This version has: The Prophet ﷺ said to the man bit him: If you wish that you give him control over your hand and he bites it, and then you drive it away from his mouth (you may do it). He imposed no retaliation for his teeth.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١١٨٤٦) (صحیح الإسناد )
4586Sunan Abu Dawood

علم طب نہ جانے والا اپنے آپ کو طبیب ظاہر کر کے کسی کو نقصان پہنچائے تو کیا سزا ہے؟

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَطَبَّبَ وَلَا يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ، قَالَ نَصْرٌ: قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا الْوَلِيدُ، لَا نَدْرِي هُوَ صَحِيحٌ أَمْ لَا ؟.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو طب نہ جانتا ہو اور علاج کرے تو وہ (مریض کا) ضامن ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ولید کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا، ہمیں نہیں معلوم یہ صحیح ہے یا نہیں۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah ﷺ said: Anyone who practises medicine when he is not known as a practitioner will be held responsible. Abu Dawud said: This has been transmitted by al-Walid alone. We do not know whether it is sound or not.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٣٤ (٤٨٣٤)، سنن ابن ماجہ/الطب ١٦ (٣٤٦٦)، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٦) (حسن )
4587Sunan Abu Dawood

علم طب نہ جانے والا اپنے آپ کو طبیب ظاہر کر کے کسی کو نقصان پہنچائے تو کیا سزا ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي بَعْضُ الْوَفْد الَّذِينَ قُدِمُوا عَلَى أَبِي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا طَبِيبٍ تَطَبَّبَ عَلَى قَوْمٍ لَا يُعْرَفُ لَهُ تَطَبُّبٌ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَعْنَتَ فَهُوَ ضَامِنٌ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ بِالنَّعْتِ، إِنَّمَا هُوَ قَطْعُ الْعُرُوقِ وَالْبَطُّ وَالْكَيُّ.

عبدالعزیزبن عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں میرے والد کے پاس آنے والوں میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی قوم میں طبیب بن بیٹھے، حالانکہ اس سے پہلے اس کی طب دانی معروف نہ ہو اور مریض کا مرض بگڑ جائے اور اس کو نقصان لاحق ہوجائے تو وہ اس کا ضامن ہوگا ۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: اعنت نعت سے نہیں (بلکہ عنت سے ہے جس کے معنی) رگ کاٹنے، زخم چیرنے یا داغنے کے ہیں۔

Narrated Abdul Aziz ibn Umar ibn Abdul Aziz: Some people of the deputation which came to my father reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Any physician who practises medicine when he was not known as a practitioner before that and he harms (the patients) he will be held responsible. Abdul Aziz said: Here physician does not refer to a man by qualification. it means opening a vein, incision and cauterisation.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٣١) (حسن )
4588Sunan Abu Dawood(4589)

علم طب نہ جانے والا اپنے آپ کو طبیب ظاہر کر کے کسی کو نقصان پہنچائے تو کیا سزا ہے؟

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُسَدَّدٌ: خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تُذْكَرُ وَتُدْعَى تَحْتَ قَدَمَيَّ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ مَعْنَاهُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا: سنو! جاہلیت کے خون یا مال کی جتنی فضیلتیں بھی تھیں جن کا ذکر کیا جاتا تھا یا جن کے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے قدموں تلے ہیں، سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی دیکھ ریکھ کے پھر فرمایا: سنو! قتل خطا جو کوڑے یا لاٹھی سے ہوا ہو شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے، جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں گے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Musaddads version has: He addressed on the day of Conquest. The agreed version then goes: Beware! Every object of pride of pre-Islamic times, whether it is blood-vengeance or property, mentioned or claimed, has been put under my feet except supply of water to the pilgrims and custody of the House (the Kabah). He then said: Beware! The blood-wit for unintentional murder, such as is done with a whip and stick, is one hundred camels, forty of which are pregnant. The tradition mentioned above has also been transmitted by Khalid with a different chain of narrators to the same effect.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس سے پہلے حدیث نمبر (٤٥٤٧) کے تحت بھی گزر چکا ہے۔ اس سند سے بھی خالد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ٨٨٨٩) (حسن ) انظر حدیث رقم: (٤٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ٨٨٨٩ )
4595Sunan Abu Dawood

علم طب نہ جانے والا اپنے آپ کو طبیب ظاہر کر کے کسی کو نقصان پہنچائے تو کیا سزا ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ أُخْتُ أَنَسِ بْنِ النَّضْرِ ثَنِيَّةَ امْرَأَةٍ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى بِكِتَابِ اللَّهِ الْقِصَاصَ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا الْيَوْمَ، قَالَ: يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ، فَرَضُوا بِأَرْشٍ أَخَذُوهُ، فَعَجِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، قِيلَ لَهُ: كَيْفَ يُقْتَصُّ مِنَ السِّنِّ ؟ قَالَ: تُبْرَدُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ انس بن نضر ؓ کی بہن ربیع نے ایک عورت کا سامنے کا دانت توڑ دیا، تو وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق قصاص کا فیصلہ کیا، تو انس بن نضر نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اس کا دانت تو آج نہیں توڑا جائے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے انس! کتاب اللہ میں قصاص کا حکم ہے پھر وہ لوگ دیت پر راضی ہوگئے جسے انہوں نے لے لیا، اس پر اللہ کے نبی اکرم ﷺ کو تعجب ہوا اور آپ نے فرمایا: اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو وہ ان کی قسم پوری کردیتا ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ان سے پوچھا گیا تھا کہ دانت کا قصاص کیسے لیا جائے؟ تو انہوں نے کہا: وہ ریتی سے رگڑا جائے۔

Narrated Anas bin Malik (RA): Al-Rubayyi, sister of Anas bin al-Nadr, broke (one of) the front teeth of a woman. They came to the Prophet ﷺ . He made a decision in accordance with the Book of Allah that retaliation should be taken. Anas bin al-Nadr said: I swear by Him who has sent you the truth, her front tooth will not be broken today. He replied: Anas! Allahs decree is retaliation. But the people were agreeable to accepting a fine, so the Prophet ﷺ said: Among Allahs servants there are those who, if they adjured Allah, He (Allah) would consent to it. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: He was asked: How retaliation of a tooth is taken ? He said: It is broken with a file.

Notes · وضاحت
١ ؎: انس بن نضر ؓ نے غصے میں اللہ کے بھروسے پر قسم کھالی تھی کہ میری بہن کا دانت نہیں توڑا جائے گا، چناچہ اللہ نے ان کے لئے ایسا ہی سامان قانونی طور پر کردیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٧٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلح ٨ (٢٧٠٣)، تفسیر سورة البقرة ٢٣ (٤٤٩٩)، المائدة ٦ (٤٦١١)، الدیات ١٩ (٦٨٩٤)، صحیح مسلم/القسامة ٥ (١٦٧٥)، سنن النسائی/القسامة ١٢ (٤٧٥٩)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٦ (٢٦٤٩)، مسند احمد ( ٣/١٢٨، ١٦٧، ٢٨٤) (صحیح )
4592Sunan Abu Dawood

جو جانور کسی کو لات مار کر (یا کسی بھی طرح) نقصان پہنچا دے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الرِّجْلُ جُبَارٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الدَّابَّةُ تَضْرِبُ بِرِجْلِهَا وَهُوَ رَاكِبٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جانور کا) پاؤں باطل و رائیگاں ہے اس کی کوئی دیت نہیں ہوگی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جانور پیر سے مار دے جب کہ وہ اس پہ سوار ہو تو اس کی کوئی دیت نہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: No recompense is to be demanded if one is kicked by an animal. Abu Dawud said: An animal kicks someone with its leg while one is riding on it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٠) (ضعیف )
4593Sunan Abu Dawood

جو جانور کسی کو لات مار کر (یا کسی بھی طرح) نقصان پہنچا دے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْعَجْمَاءُ الْمُنْفَلِتَةُ الَّتِي لَا يَكُونُ مَعَهَا أَحَدٌ، وَتَكُونُ بِالنَّهَارِ لَا تَكُونُ بِاللَّيْلِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جانور کسی کو زخمی کر دے تو اس میں ہر جانہ نہیں ہے، کان میں ہلاک ہونے والے کا ہر جانہ نہیں ہے اور کنواں میں ہلاک ہوجانے والے کا ہر جانہ نہیں ہے ١ ؎ اور رکاز میں پانچواں حصہ دینا ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جانور سے مراد وہ جانور ہے جو چھڑا کر بھاگ گیا ہو اور اس کے ساتھ کوئی نہ ہو اور دن ہو، رات نہ ہو۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: No retaliation is payable for a wound caused by a dumb animal, for a mine, and for a well. On the treasure found buried in the land there is a fifth. Abu Dawud said: A dumb animal means an animal which is free and has not tether, and there is no one (as a watchman) with it. It causes harm by day and not by night.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جانور کسی کو زخمی کر دے یا کان اور کنویں میں گر کر کوئی ہلاک ہوجائے تو ان کے مالکوں پر اس کی دیت نہ ہوگی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٠٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٨، ١٥١٤٧) (صحیح )
4594Sunan Abu Dawood

جو آگ بھڑک کر پھیل جائے اس کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ. ح وحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ الصَّنْعَانِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النَّارُ جُبَارٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگ باطل ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: No recompense may be demanded if the fire spreads.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی نے اپنی زمین پر آگ جلائی اور وہ وہاں سے اڑ کر کسی کے گھر یا سامان میں لگ گئی تو جلا نے والے پر کوئی تاوان نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٧٩٦، ١٤٦٩٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٧ (٢٦٧٦) (صحیح )
4590Sunan Abu Dawood

جو آگ بھڑک کر پھیل جائے اس کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ، فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أُنَاسٌ فُقَرَاءُ، فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ فقیر لوگوں کے ایک غلام نے کچھ مالدار لوگوں کے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، تو جس غلام نے کان کاٹا تھا اس کے مالکان نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! ہم فقیر لوگ ہیں، تو آپ نے ان پر کوئی دیت نہیں ٹھہرائی۔

Narrated Imran ibn Husayn: A servant of some poor people cut off the ear of the servant of some rich people. His people came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! we are poor people. So he imposed no compensation on them.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ١٥، ١٦ (٤٧٥٥)، سنن الدارمی/الدیات ٣ (٢٣٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٦٣) (صحیح )
4591Sunan Abu Dawood

جو لوگوں کے درمیان اندھا دھند مارا جائے اس کا حکم

قَالَ أَبُو دَاوُد: حُدِّثْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيًّا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ أَوْ بِسَوْطٍ فَعَقْلُهُ عَقْلُ خَطَإٍ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَقَوَدُ يَدَيْهِ فَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اندھا دھند مارا جائے یا کسی دنگے فساد میں جو ان میں چھڑ گیا ہو، یا کسی پتھر یا کوڑے سے مارا جائے تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہوگی، اور جو جان بوجھ کر عمداً کسی کو قتل کرے تو وہ موجب قصاص ہے، اب اگر کوئی ان دونوں کے بیچ میں پڑ کر (قاتل کو بچانا چاہے) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone is killed blindly or, when people are throwing stones, by a stone or a whip, his blood-wit is the blood-wit for an accidental murder. But if anyone is killed intentionally, retaliation is due. If anyone tries to prevent it, the curse of Allah, of angels, and of all the people will rest on him.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٥٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٨٨٢٨، ٥٧٣٩) (صحیح )
4512Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، زَادَ: فَأَهْدَتْ لَهُ يَهُودِيَّةٌ بِخَيْبَرَ شَاةً مَصْلِيَّةً سَمَّتْهَا، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا وَأَكَلَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّهَا أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ، فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ: مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ ؟ قَالَتْ: إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ الَّذِي صَنَعْتُ وَإِنْ كُنْتَ مَلِكًا أَرَحْتُ النَّاسَ مِنْكَ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَتْ، ثُمَّ قَالَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: مَا زِلْتُ أَجِدُ مِنَ الْأَكْلَةِ الَّتِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ قَطَعَتْ أَبْهَرِي.

رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، نیز اسی سند سے ایک اور مقام پر ابوہریرہ کے ذکر کے بغیر صرف ابوسلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول فرماتے تھے اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ کو خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی جس میں اس نے زہر ملا رکھا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس میں سے کھایا اور لوگوں نے بھی کھایا، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: اپنے ہاتھ روک لو، اس ( گوشت ) نے مجھے بتایا ہے کہ وہ زہر آلود ہے چنانچہ بشر بن براء بن معرور انصاری مر گئے، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا کر فرمایا: ایسا کرنے پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا؟ وہ بولی: اگر آپ نبی ہیں تو جو میں نے کیا ہے وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو میں نے لوگوں کو آپ سے نجات دلا دی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو وہ قتل کر دی گئی، پھر آپ نے اپنی اس تکلیف کے بارے میں فرمایا: جس میں آپ نے وفات پائی کہ میں برابر خیبر کے اس کھانے کے اثر کو محسوس کرتا رہا یہاں تک کہ اب وہ وقت آ گیا کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی۔

Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم would accept a present, but would not accept alms (sadaqah). And Wahb bin Baqiyyah narrated to us, elsewhere, from Khalid, from Muhammad ibn Amr said on the authority of Abu Salamah, and he did not mention the name of Abu Hurairah: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم used to accept presents but not alms (sadaqah). This version adds: So a Jewess presented him at Khaybar with a roasted sheep which she had poisoned. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ate of it and the people also ate. He then said: Take away your hands (from the food), for it has informed me that it is poisoned. Bishr ibn al-Bara ibn Ma'rur al-Ansari died. So he (the Prophet) sent for the Jewess (and said to her): What motivated you to do the work you have done? She said: If you were a prophet, it would not harm you; but if you were a king, I should rid the people of you. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم then ordered regarding her and she was killed. He then said about the pain of which he died: I continued to feel pain from the morsel which I had eaten at Khaybar. This is the time when it has cut off my aorta.

4514Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ مُبَشِّرٍ، قَالَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ: كَذَا قَالَ: عَنْ أُمِّهِ، وَالصَّوَابُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَخْلَدِ بْنِ خَالِدٍ، نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ، قَالَ: فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ ؟، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَتْ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْحِجَامَةَ.

وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں پھر راوی نے مخلد بن خالد کی حدیث کا مفہوم اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی روایت میں ہے، اس میں ہے کہ بشر بن براء بن معرور مر گئے، تو آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور پوچھا: یہ تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ پھر راوی نے وہی باتیں ذکر کیں جو جابر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اور وہ قتل کر دی گئی لیکن انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا۔

Narrated Abdur-Rahman bin Abdullah bin Kab bin Malik: On the authority of his mother than Umm Mubashshir said (Abu Saeed bin al-A'rabi said: So he said it on the authority of his mother ; what is correct is: on the authority of his father, instead of his mother): I entered upon the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He then mentioned the tradition of Makhlad bin Khalid in a way similar to the tradition of Jabir. The narrator said: Then Bishr bin al-Bara bin Ma'rur died. So he (the Prophet) sent for the Jewess and said: What did motivate you for your work you have done ? He (the narrator) then mentioned the rest of the tradition like the tradition of Jabir. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ordered regarding her and she was killed. He (the narrator in this version) did not mention cupping.