Sunan Abu Dawood 4584

دیت کا بیان

4584Sunan Abu Dawood

ایک شخص اگر دوسرے سے لڑائی میں اپنے دفاع میں کسی کو مار دے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَاتَلَ أَجِيرٌ لِي رَجُلًا فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا، وَقَالَ: أَتُرِيدُ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا كَالْفَحْلِ ؟ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهْدَرَهَا، وَقَالَ: بَعِدَتْ سِنُّهُ.

یعلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میرے ایک مزدور نے ایک شخص سے جھگڑا کیا اور اس کے ہاتھ کو منہ میں کر کے دانت سے دبایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت باہر نکل آیا، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو کردیا، اور فرمایا: کیا چاہتے ہو کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دیدے، اور تم اسے سانڈ کی طرح چبا ڈالو ابن ابی ملیکہ نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر ؓ نے اسے لغو قرار دیا اور کہا: (اللہ کرے) اس کا دانت نہ رہے۔

Narrated Safwan bin Yala (RA) : On this fathers authority, said: A servant of mine fought with a man and bit his hand and he drew away his hand. (One of) his front teeth fell out. So he came to the Prophet ﷺ who imposed no retaliation for his tooth, saying: Do you intend that he leaves his hand in your mouth so that you crunch it like a male camel ? He said: Ibn Abi Mulaikah told me on the authority of his grandfather that Abu Bakr (ra) imposed no retaliation on him for it, saying: May his tooth go away!

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٩ (١٨٤٧)، الإجارة ٥ (٢٢٦٥)، الجھاد ١٢٠ (٢٩٧٣)، المغازي ٧٨ (٤٤١٧)، الدیات ١٨ (٦٨٩٣)، صحیح مسلم/الحدود ٤ (١٦٧٣)، سنن النسائی/القسامة ١٥ (٤٧٧٤، ٤٧٧٥، ٤٧٧٦)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٠ (٢٦٥٦)، (تحفة الأشراف: ١١٨٣٧، ٦٦٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢، ٢٢٣، ٢٢٤) (صحیح )