حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، پھر اس مقام پر آپ نے قیامت تک پیش آنے والی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جسے بیان نہ فرما دیا ہو، تو جو اسے یاد رکھ سکا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا، اور وہ آپ کے ان اصحاب کو معلوم ہے، اور جب ان میں سے کوئی چیز ظہور پذیر ہوجاتی ہے تو مجھے یاد آجاتا ہے کہ آپ ﷺ نے ایسے ہی فرمایا تھا، جیسے کوئی کسی کے غائب ہوجانے پر اس کے چہرہ کو یاد رکھتا ہے اور دیکھتے ہی اسے پہچان لیتا ہے۔
Narrated Hudhaifa (RA) : The Messenger of Allah ﷺ stood among us (to give us an address) and he left out nothing that would happen up to the last hour without telling of it. Some remembered it and some forgot, and these Companions of his have known it. When something of it which I have forgotten happens, I remembered it, just as a man remembers anothers face when he is a away and recognizes him when he sees him.
حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں قسم اللہ کی میں نہیں جانتا کہ میرے اصحاب بھول گئے ہیں؟ یا ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ بھول گئے ہیں، قسم اللہ کی ایسا نہیں ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قیامت تک ہونے والے کسی ایسے فتنہ کے سردار کا ذکر چھوڑ دیا ہو جس کے ساتھ تین سویا اس سے زیادہ افراد ہوں، اور اس کا اور اس کے باپ اور اس کے قبیلہ کا نام لے کر آپ ﷺ نے بتا نہ دیا ہو۔
Narrated Hudhayfah ibn al-Yaman (RA) : I swear by Allah, I do not know whether my companions have forgotten or have pretended to forgot. I swear by Allah that the Messenger of Allah ﷺ did not omit a leader of a wrong belief (fitnah)--up to the end of the world--whose followers reach the number of three hundred and upwards but he mentioned to us his name, his fathers name and the name of his tribe.
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس امت میں چار (بڑے بڑے) فتنے ہوں گے ان کا آخری فناء (قیامت) ہوگا ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: four (majestic) trials (fitnahs) will take place among this community, and in their end there will be destruction.
Notes · وضاحت
١ ؎: نعیم بن حماد کی فتن اور طبرانی کی معجم کبیر کی عمران بن حصین ؓ کی ایک حدیث میں ہے کہ پہلے فتنہ میں خون حلال ہوگا، دوسرے میں خون اور مال، تیسرے میں خون (جان) مال اور شرمگاہ، اور چوتھے میں خروج دجال۔
عبداللہ بن عمر ؓ ما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے آپ نے فتنوں کے تذکرہ میں بہت سے فتنوں کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ فتنہ احلاس کا بھی ذکر فرمایا تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ایسی نفرت و عداوت اور قتل و غارت گری ہے کہ انسان ایک دوسرے سے بھاگے گا، اور باہم برسر پیکار رہے گا، پھر اس کے بعد فتنہ سراء ہے جس کا فساد میرے اہل بیت کے ایک شخص کے پیروں کے نیچے سے رونما ہوگا، وہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہ ہوگا، میرے اولیاء تو وہی ہیں جو متقی ہوں، پھر لوگ ایک شخص پر اتفاق کرلیں گے جیسے سرین ایک پسلی پر (یعنی ایسے شخص پر اتفاق ہوگا جس میں استقامت نہ ہوگی جیسے سرین پہلو کی ہڈی پر سیدھی نہیں ہوتی) ، پھر دھیماء (اندھیرے) کا فتنہ ہوگا جو اس امت کے ہر فرد کو پہنچ کر رہے گا، جب کہا جائے گا کہ فساد ختم ہوگیا تو وہ اور بھڑک اٹھے گا جس میں صبح کو آدمی مومن ہوگا، اور شام کو کافر ہوجائے گا، یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں بٹ جائیں گے، ایک خیمہ اہل ایمان کا ہوگا جس میں کوئی منافق نہ ہوگا، اور ایک خیمہ اہل نفاق کا جس میں کوئی ایماندار نہ ہوگا، تو جب ایسا فتنہ رونما ہو تو اسی روز، یا اس کے دو سرے روز سے دجال کا انتظار کرنے لگ جاؤ ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : When we were sitting with the Messenger of Allah ﷺ , he talked about periods of trial (fitnahs), mentioning many of them. When he mentioned the one when people should stay in their houses, some asked him: Messenger of Allah, what is the trial (fitnah) of staying at home? He replied: It will be flight and plunder. Then will come a test which is pleasant. Its murkiness is due to the fact that it is produced by a man from the people of my house, who will assert that he belongs to me, whereas he does not, for my friends are only the God-fearing. Then the people will unite under a man who will be like a hip-bone on a rib. Then there will be the little black trial which will leave none of this community without giving him a slap, and when people say that it is finished, it will be extended. During it a man will be a believer in the morning and an infidel in the evening, so that the people will be in two camps: the camp of faith which will contain no hypocrisy, and the camp of hypocrisy which will contain no faith. When that happens, expect the Antichrist (Dajjal) that day or the next.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٧٣٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٣٣) (صحیح )
سبیع بن خالد کہتے ہیں کہ تستر فتح کئے جانے کے وقت میں کوفہ آیا، وہاں سے میں خچر لا رہا تھا، میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ چند درمیانہ قد و قامت کے لوگ ہیں، اور ایک اور شخص بیٹھا ہے جسے دیکھ کر ہی تم پہچان لیتے کہ یہ اہل حجاز میں کا ہے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو لوگ میرے ساتھ ترش روئی سے پیش آئے، اور کہنے لگے: کیا تم انہیں نہیں جانتے؟ یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی حذیفہ بن یمان ؓ ہیں، پھر حذیفہ نے کہا: لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے، اور میں آپ سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، تو لوگ انہیں غور سے دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: جس پر تمہیں تعجب ہو رہا ہے وہ میں سمجھ رہا ہوں، پھر وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اس خیر کے بعد جسے اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے کیا شر بھی ہوگا جیسے پہلے تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں میں نے عرض کیا: پھر اس سے بچاؤ کی کیا صورت ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تلوار ١ ؎ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ کی طرف سے کوئی خلیفہ (حاکم) زمین پر ہو پھر وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگائے، اور تمہارا مال لوٹ لے جب بھی تم اس کی اطاعت کرو ورنہ تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مرجاؤ ٢ ؎ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر دجال ظاہر ہوگا، اس کے ساتھ نہر بھی ہوگی اور آگ بھی جو اس کی آگ میں داخل ہوگیا تو اس کا اجر ثابت ہوگیا، اور اس کے گناہ معاف ہوگئے، اور جو اس کی (اطاعت کر کے) نہر میں داخل ہوگیا تو اس کا گناہ واجب ہوگیا، اور اس کا اجر ختم ہوگیا میں نے عرض کیا: پھر کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر قیامت قائم ہوگی ۔
Narrated Hudhayfah ibn al-Yaman (RA) : Subay ibn Khalid said: I came to Kufah at the time when Tustar was conquered. I took some mules from it. When I entered the mosque (of Kufah), I found there some people of moderate stature, and among them was a man whom you could recognize when you saw him that he was from the people of Hijaz. I asked: Who is he? The people frowned at me and said: Do you not recognize him? This is Hudhayfah ibn al-Yaman, the companion of the Messenger of Allah ﷺ . Then Hudhayfah said: People used to ask the Messenger of Allah ﷺ about good, and I used to ask him about evil. Then the people stared hard at him. He said: I know the reason why you dislike it. I then asked: Messenger of Allah, will there be evil as there was before, after this good which Allah has bestowed on us? He replied: Yes. I asked: Wherein does the protection from it lie? He replied: In the sword. I asked: Messenger of Allah, what will then happen? He replied: If Allah has on Earth a caliph who flays your back and takes your property, obey him, otherwise die holding onto the stump of a tree. I asked: What will come next? He replied: Then the Antichrist (Dajjal) will come forth accompanied by a river and fire. He who falls into his fire will certainly receive his reward, and have his load taken off him, but he who falls into his river will have his load retained and his reward taken off him. I then asked: What will come next? He said: The Last Hour will come.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسے فتنہ پردازوں کو قتل کردینا ہی اس کا علاج ہوگا۔ ٢ ؎: یعنی ایسے بےدینوں کی صحبت چھوڑ کر جنگل میں رہنا منظور کرلو اور فقر وفاقہ میں زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہوجاؤ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٣٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٠٦)، صحیح مسلم/الإمارة ١٣ (١٨٤٧)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٢٩٨١)، مسند احمد (٥/٣٨٦، ٤٠٣، ٤٠٤، ٤٠٦) (حسن )
خالد بن خالد یشکری سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حذیفہ ؓ نے کہا: میں نے عرض کیا: پھر تلوار کے بعد کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: باقی لوگ رہیں گے مگر دلوں میں ان کے فساد ہوگا، اور ظاہر میں صلح ہوگی پھر آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ راوی کہتے ہیں: قتادہ اسے (تلوار کو) اس فتنہ ارتداد پر محمول کرتے تھے جو ابوبکر ؓ کے زمانہ میں ہوا، اور اقذاء کی تفسیر قذی سے یعنی غبار اور گندگی سے جو آنکھ یا پینے کی چیز میں پڑجاتی ہے، اور ھدنہ کی تفسیر صلح سے دخن کی تفسیر دلوں کے فساد اور کینوں سے کرتے تھے۔
The traditions mentioned above has also been transmitted by Khalid bin Khalid al-Yashkuri through different chain of narrators. This version has: I (Hudhaifah) asked: Will any be spared after the use of the sword ? He replied: There will be remnant with specks in its eye and an illusory truce. He then transmitted the rest of the tradition. Qatadah applied this to the apostasy during the Caliphate of Abu Bakr. The word aqdha (sing. qadhan) means specks, hudnah means truce and dakhan means malice.
نصر بن عاصم لیثی کہتے ہیں کہ ہم بنی لیث کے کچھ لوگوں کے ساتھ یشکری کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: ہم بنی لیث کے لوگ ہیں ہم آپ کے پاس حذیفہ ؓ کی حدیث پوچھنے آئے ہیں؟ تو انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: فتنہ اور شر ہوگا میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شر کے بعد پھر خیر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حذیفہ! اللہ کی کتاب کو پڑھو اور جو کچھ اس میں ہے اس کی پیروی کرو آپ نے یہ تین بار فرمایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: هدنة على الدخن ہوگا اور جماعت ہوگی جس کے دلوں میں کینہ و فساد ہوگا میں نے عرض کیا:هدنة على الدخن کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کے دل اس حالت پر نہیں واپس آئیں گے جس پر پہلے تھے ١ ؎ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک ایسا اندھا اور بہرا فتنہ ہوگا (اور اس کے قائد) جہنم کے دروازوں پر بلانے والے ہوں گے، تو اے حذیفہ! تمہارا جنگل میں درخت کی جڑ چبا چبا کر مرجانا بہتر ہوگا اس بات سے کہ تم ان میں کسی کی پیروی کرو ۔
Narrated Hudhayfah (RA) : The tradition mentioned above (No. 4232) has also been transmitted through a different chain of narrators by Nasr ibn Asim al-Laythi who said: We came to al-Yashkuri with a group of the people of Banu Layth. He asked: Who are these people? We replied: Banu Layth. We have come to you to ask you about the tradition of Hudhayfah. He then mentioned the tradition and said: I asked: Messenger of Allah, will there be evil after this good? He replied: There will be trial (fitnah) and evil. I asked: Messenger of Allah, will there be good after this evil? He replied: Learn the Book of Allah, Hudhayfah, and adhere to its contents. He said it three times. I asked: Messenger of Allah, will there be good after this evil? He replied: An illusory truce and a community with specks in its eye. I asked: Messenger of Allah, what do you mean by an illusory community? He replied: The hearts of the people will not return to their former condition. I asked: Messenger of Allah, will there be evil after this good? He replied: There will be wrong belief which will blind and deafen men to the truth in which there will be summoners at the gates of Hell. If you, Hudhayfah, die adhering to a stump, it will be better for you than following any of them.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی لوگوں کے دل پہلے کی طرح صاف نہیں ہوں گے ان کے دلوں میں بغض و کینہ باقی رہے گا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٣٣٠٧) (حسن )
اس سند سے بھی حذیفہ ؓ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ ان دنوں میں اگر مسلمانوں کا کوئی خلیفہ (حاکم) تمہیں نہ ملے تو بھاگ کر (جنگل میں) چلے جاؤ یہاں تک کہ وہیں مرجاؤ، اگر تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مرجاؤ (تو بہتر ہے ایسے بےدینوں میں رہنے سے) اس روایت کے آخر میں یہ ہے کہ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر کسی کی گھوڑی بچہ جننا چاہتی ہو تو وہ نہ جن سکے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے گی ١ ؎۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Hudhaifah through a different chain of narrators from the Prophet ﷺ . This version says: He said: If you do not find a caliph in those days, then flee away until you die, even of you die holding on (to a stump of a tree). I asked: What will come next ? He replied: If a man wants the mare to bring forth a foal, it will not deliver in till the Last Hour comes.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی امام سے بیعت کی، اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا، اور اس سے عہد و اقرار کیا تو اسے چاہیئے کہ جہاں تک ہو سکے وہ اس کی اطاعت کرے، اور اگر کوئی دوسرا امام بن کر اس سے جھگڑنے آئے تو اس دوسرے کی گردن مار دے ۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے پوچھا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں اسے میرے دونوں کانوں نے سنا ہے، اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، میں نے کہا: یہ آپ کے چچا کے لڑکے معاویہ ؓ ہم سے تاکیداً کہتے ہیں کہ ہم یہ یہ کریں تو انہوں نے کہا: ان کی اطاعت ان چیزوں میں کرو جس میں اللہ کی اطاعت ہو، اور جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اس میں ان کا کہنا نہ مانو۔
Narrated Abdullah bin Amr (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If a man takes an oath of allegiance to a leader, and puts his hand on his hand and does it with the sincerity of his heart, he should obey him as much as possible. If another man comes and contests him, then behead the other one. The narrator Abdur-Rahman said: I asked: Have you heard this from the Messenger of Allah ? He said: My ears heard it and my heart retained it. I said: Your cousin Muawiyah orders us that we should do this and do that. He replied: Obey him in the acts of obedience to Allah, and disobey him in the acts of disobedience to Allah.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الإمارہ ١٠ (١٨٤٤)، سنن النسائی/البیعة ٢٥ (٤١٩٦)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٩ (٣٩٥٦)، (تحفة الأشراف: ٨٨٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦١، ١٩١، ١٩٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خرابی اور بربادی ہے عربوں کے لیے اس شر سے جو قریب آچکا ہے، اس میں وہی شخص فلاح یاب رہے گا جو اپنا ہاتھ روکے رکھے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: Woe to Arabs because of evil which has drawn near! He will escape who restrains his hand. Abu Dawud said: Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The Muslims will soon be besieged up to Madina, so that their most distant frontier outpost will be Salah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٤١٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الفتن ١ (٢٨٨٠)، سنن ابن ماجہ/ الفتن ٩ (٣٩٥٣)، مسند احمد (٢/٣٩٠، ٣٩١، ٤٤١، ٥٣٦، ٥٤١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان مدینہ ہی میں محصور کر دئیے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے ۔
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٨١٨) وأعادہ المؤلف فی الملاحم (٤٢٩٩) (صحیح )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی یا فرمایا: میرے لیے میرے رب نے زمین سمیٹ دی، تو میں نے مشرق و مغرب کی ساری جگہیں دیکھ لیں، یقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی، مجھے سرخ و سفید دونوں خزانے دئیے گئے، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو کسی عام قحط سے ہلاک نہ کرے، ان پر ان کے علاوہ باہر سے کوئی ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو انہیں جڑ سے مٹا دے، اور ان کا نام باقی نہ رہنے پائے، تو میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کرلیتا ہوں تو وہ بدلتا نہیں میں تیری امت کے لوگوں کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط کروں گا جو ان میں سے نہ ہو، اور ان کو جڑ سے مٹا دے گو ساری زمین کے کافر مل کر ان پر حملہ کریں، البتہ ایسا ہوگا کہ تیری امت کے لوگ خود آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے، انہیں قید کریں گے، اور میں اپنی امت پر گمراہ کردینے والے ائمہ سے ڈرتا ہوں، اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی، اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ میری امت کے کچھ لوگ مشرکین سے مل نہ جائیں اور کچھ بتوں کو نہ پوجنے لگ جائیں، اور عنقریب میری امت میں تیس (٣٠) کذاب پیدا ہوں گے، ان میں ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا (ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے) وہ غالب رہے گا، ان کا مخالف ان کو ضرر نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے ۔
Narrated Thawban (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Allah, the Exalted, folded for me the earth, or he said (the narrator is doubtful): My Lord folded for me the earth, so much so that I saw its easts and wests (i. e. the extremities). The kingdom of my community will reach as far as the earth was floded for me. The two treasures, the red and the white, were bestowed on me. I prayed to my Lord that He may not destroy my community by prevailing famine, and not give their control to an enemy who annihilates then en masse except from among themselves. My Lord said to me: Muhammad, If I make a decision, it is not withdrawn ; and I shall not destroy them by prevailing famine, and I shall not give their control to an enemy, except from among themselves, who exterminates them en masse, even if they are stormed from all sides of the earth ; only a section of them will destroy another section, and a section will captive another section. I am afraid about my community of those leaders who will lead astray. When the sword is used among my people, it will not be withdrawn from them till the Day of Resurrection, and the Last Hour will not come before the tribes of my people attach themselves to the polytheists and tribes of my people worship idols. There will be among my people thirty great liars each of them asserting that he is (Allahs) prophet, where as I am the seal of the Prophet s after whom (me) there will be no prophet ; and a section of my people will continue to hold to the truth - (according to the Ibn Isas version: (will continue to dominate) - the agreed version goes: and will not be injured by those who oppose them, till Allahs command comes.
ابو مالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے تمہیں تین آفتوں سے بچا لیا ہے: ایک یہ کہ تمہارا نبی تم پر ایسی بدعا نہیں کرے گا کہ تم سب ہلاک ہوجاؤ، دوسری یہ کہ اہل باطل اہل حق پر غالب نہیں آئیں گے، تیسری یہ کہ تم سب گمراہی پر متفق نہیں ہو گے ۔
Narrated Abu Malik al-Ashari (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah has protected you from three things: that your Prophet should not invoke a curse on you and should all perish, that those who follow what is false should not prevail over those who follow the truth, and that you should not all agree in an error.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١٥٥) (ضعیف) حدیث کا آخری جملہ ( وأن لا تجتمعوا الخ) صحیح ہے
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سال تک گردش میں رہے گی، پھر اگر وہ ہلاک ہوئے تو ان کی راہ وہی ہوگی جو ان لوگوں کی راہ رہی جو ہلاک ہوئے اور اگر ان کا دین قائم رہا تو ستر سال تک قائم رہے گا میں نے عرض کیا: کیا اس زمانہ سے جو باقی ہے یا اس سے جو گزر گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس زمانہ سے جو گزر گیا ۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: The mill of Islam will go round till the year thirty-five, or thirty-six, or thirty-seven; then if they perish, they will have followed the path of those who perished before them, but if their religion is maintained, it will be maintained for seventy years. I asked: Does it mean seventy years which remain or seventy years which are gone by? He replied: It means (seventy years) that are gone by. Abu Dawud said: Those who recorded Khirash, the name of a narrator, are wrong. (The correct name is Hirash)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩١٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٩٠، ٣٩٣، ٣٩٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زمانہ سمٹ جائے گا، علم کم ہوجائے گا، فتنے رونما ہوں گے، لوگوں پر بخیلی ڈال دی جائے گی، اور هرج کثرت سے ہوگا آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: قتل، قتل ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: The time will become short, knowledge will be decreased, civil strife (fitan) will appear, niggardliness will be case into peoples heart, and harj will be prevalent. He was asked: Messenger of Allah! what is it: He replied: Slaughter, slaughter.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٢٤ (٨٥)، والفتنة ٢٥ (٧٠٦١)، صحیح مسلم/الزکاة ١٨ (١٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٨٢)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٥ (٤٠٤٥)، ٢٦ (٤٠٥١)، مسند احمد (٢/٢٣٣، ٤١٧، ٥٢٥) (صحیح )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہوگا کہ اس میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہوگا، بیٹھا کھڑے سے بہتر ہوگا، کھڑا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت کے لیے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس اونٹ ہو وہ اپنے اونٹ سے جا ملے، جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے جا ملے، اور جس کے پاس زمین ہو تو وہ اپنی زمین ہی میں جا بیٹھے عرض کیا: جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو وہ کیا کرے؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار ایک پتھر سے مار کر کند کر دے (اسے لڑنے کے لائق نہ رہنے دے) پھر چاہیئے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے وہ (فتنوں سے) گلو خلاصی حاصل کرے ۔
Narrated Abu Bakrah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: There will be a period of commotion in which the one who lies down will be better than the one who sits, and the one who sits is better than the one who stands, and the one who stands is better than the one who walks, and the one who walks is better than the one who runs (to it). He asked: What do you command me to do, Messenger of Allah? He replied: He who has camels should remain with his camels, he who has sheep should remain with his sheep, and he who has land should remain with his land. He asked: If anyone has more of these, (what should he do)? He replied: He should take his sword, strike its edge on a stone, and then escape if he can.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ٣ (٢٨٨٧)، (تحفة الأشراف: ١١٧٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٩، ٤٨) (صحیح )
سعد بن ابی وقاص ؓ اس حدیث میں کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (اس فتنہ و فساد کے زمانہ میں) اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے، اور اپنا ہاتھ مجھے قتل کرنے کے لیے بڑھائے تو میں کیا کروں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم آدم کے نیک بیٹے (ہابیل) کی طرح ہوجاؤ ، پھر یزید نے یہ آیت پڑھی لئن بسطت إلى يدك ١ ؎۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : I asked: Messenger of Allah! tell me if someone enters my house and extends his hands to kill me (what should I do?) The Messenger of Allah ﷺ replied: Be like the two sons of Adam. The narrator Yazid (ibn Khalid) then recited the verse: If thou dost stretch they hand against me to slay me. [5: 28]
Notes · وضاحت
١ ؎: ” اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھائے “ ( سورة المائدۃ: ٢٨ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٨٤٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفتن ٢٩ (٢١٩٤) (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی حسین لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا پھر انہوں نے ابی بکرہ ؓ کی روایت کی بعض باتیں ذکر کیں اس میں یہ اضافہ ہے: اس فتنہ میں جو لوگ قتل کئے جائیں گے وہ جہنم میں جائیں گے اور اس میں مزید یہ ہے کہ میں نے پوچھا: ابن مسعود! یہ فتنہ کب ہوگا؟ کہا: یہ وہ زمانہ ہوگا جب قتل شروع ہوچکا ہوگا، اس طرح سے کہ آدمی اپنے ساتھی سے بھی مامون نہ رہے گا، میں نے عرض کیا: اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم اپنی زبان اور ہاتھ روکے رکھنا، اور اپنے گھر کے کمبلوں میں کا ایک کمبل بن جانا ١ ؎، پھر جب عثمان ؓ قتل کئے گئے تو میرے دل میں یکایک خیال گزرا کہ شاید یہ وہی فتنہ ہو جس کا ذکر ابن مسعود نے کیا تھا، چناچہ میں سواری پر بیٹھا اور دمشق آگیا، وہاں خریم بن فاتک سے ملا اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ اسے انہوں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سنا ہے جیسے ابن مسعود نے اسے مجھ سے بیان کیا تھا۔
Narrated Abdullah ibn Masud ; Khuraym ibn Fatik: The tradition mentioned above (No. 4243) has also been transmitted by Ibn Masud through a different chain of narrators. Ibn Masud said: I heard the Prophet ﷺ say: He then mentioned a portion of the tradition narrated by Abu Bakrah (No. 4243). This version adds: He (the Prophet) said: All their slain will go to Hell. I (Wabisah) asked: When will this happen Ibn Masud? He replied: This is the period of turmoil (harj) when a man will not be safe from his associates. I asked: What do you command me (to do) if I happen to live during that period? He replied: You should restrain your tongue and hand and stay at home. When Uthman was slain, I recollected this tradition. I then rode (on a camel) and came to Damascus. There I met Khuraym ibn Fatik and mentioned this tradition to him. He swore by Allah, there was no god but He, he had heard it from the Messenger of Allah ﷺ , as Ibn Masud transmitted it to me (Wabisah).
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنے گھر میں پڑے رہنا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٥٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٤٨، ٤٤٩) (ضعف الإسناد )
ابوموسی اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت سے پہلے کچھ فتنے ہیں جیسے تاریک رات کی گھڑیاں (کہ ہر گھڑی پہلی سے زیادہ تاریک ہوتی ہے) ان فتنوں میں صبح کو آدمی مومن رہے گا، اور شام کو کافر ہوجائے گا، اور شام کو مومن رہے گا، اور صبح کو کافر ہوجائے گا، اس میں بیٹھا شخص کھڑے شخص سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، تو تم ایسے فتنے کے وقت میں اپنی کمانیں توڑ دینا، ان کے تانت کاٹ ڈالنا، اور اپنی تلواروں کی دھار کو پتھروں سے مار کر ختم کردینا ١ ؎، پھر اگر اس پر بھی کوئی تم میں سے کسی پر چڑھ آئے، تو اسے چاہیئے کہ وہ آدم کے نیک بیٹے (ہابیل) کے مانند ہوجائے ۔
Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Before the Last Hour there will be commotions like pieces of a dark night in which a man will be a believer in the morning and an infidel in the evening, or a believer in the evening and infidel in the morning. He who sits during them will be better than he who gets up and he who walks during them is better than he who runs. So break your bows, cut your bowstrings and strike your swords on stones. If people then come in to one of you, let him be like the better of Adams two sons.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان فتنوں سے بالکل کنارہ کش رہنا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٣٣ (٢٢٠٤)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٠ (٣٩٦١)، (تحفة الأشراف: ٩٠٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠٨، ٤١٦) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ابن عمر ؓ کا ہاتھ پکڑے چل رہا تھا کہ وہ اچانک ایک لٹکے ہوئے سر کے پاس آئے اور کہنے لگے: بدبخت ہے جس نے اسے قتل کیا، پھر جب کچھ اور آگے بڑھے تو کہا: میں تو اسے بدبخت ہی سمجھ رہا ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص میری امت میں سے کسی شخص کی طرف چلا تاکہ وہ اسے (ناحق) قتل کرے، پھر وہ اسے قتل کر دے تو قتل کرنے والا جہنم میں ہوگا، اور جسے قتل کیا گیا ہے وہ جنت میں ہوگا ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Abdur Rahman ibn Samurah said: I was holding the hand of Ibn Umar on one of the ways of Madina. He suddenly came to a hanging head. He said: Unhappy is the one who killed him. When he proceeded, he said: I do not consider him but unfortunate. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone goes to a man of my community in order to kill him, he should say in this way, the one who kills will go to Hell and the one who is killed will go to Paradise. Abu Dawud said: Al-Thawri has transmitted it from Awn from Abdur-Rahman bin Sumair or Sumairah ; and Laith bin Abu Sulaim transmitted it from Awn from Abdur-Rahman bin Sumairah. Abu Dawud said: Al-Hasan bin Ali said to me: Abu al-Walid transmitted this tradition to us from Abu Awanah, and said: It (the name Ibn Samurah) is in my notebook Ibn Sabrah. The people also transmitted it as Samurah and Sumairah. These are wordings of Abu al-Walid.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٧٢٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٦، ١٠٠) (ضعیف )