ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوذر! میں نے عرض کیا: تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر انہوں نے حدیث ذکر کی اس میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: ابوذر! اس دن تمہارا کیا حال ہوگا؟ جب مدینہ میں اتنی موتیں ہوں گی کہ گھر یعنی قبر ایک غلام کے بدلہ میں ملے گا؟ ١ ؎ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، یا کہا: اللہ اور اس کے رسول میرے لیے ایسے موقع پر کیا پسند فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: صبر کو لازم پکڑنا یا فرمایا: صبر کرنا ، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ارشاد فرمائیں تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہوگا جب تم احجار الزیت ٢ ؎ کو خون میں ڈوبا ہوا دیکھو گے میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کے رسول میرے لیے پسند فرمائیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس جگہ کو لازم پکڑنا جہاں کے تم ہو ٣ ؎، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر اسے اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تب تو تم ان کے شریک بن جاؤ گے میں نے عرض کیا: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے گھر کو لازم پکڑنا میں نے عرض کیا: اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلواروں کی چمک تمہاری نگاہیں خیرہ کر دے گی تو تم اپنا کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لینا (اور قتل ہوجانا) وہ تمہارا اور اپنا دونوں کا گناہ سمیٹ لے گا ۔
Narrated Abu Dharr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: O Abu Dharr. I replied: At thy service and at thy pleasure, Messenger of Allah. He then mentioned the tradition in which he said: What will you do when there the death of the people (in Madina) and a house will reach the value of a slave (that is, a grave will be sold for a slave). I replied: Allah and His Messenger know best. Or he said: What Allah and His Messenger choose for me. He said: You must show endurance. Or he said; you may endure. He then said to me: What will you do, Abu Dharr, when you see the Ahjar az-Zayt covered with blood? I replied: What Allah and His Messenger choose for me. He said: You must go to those who are like-minded. I asked: Should I not take my sword and put it on my shoulder? He replied: you would then associate yourself with the people. I then asked: What do you order me to do? You must stay at home. I asked: (What should I do) if people enter my house and find me? He replied: If you are afraid the gleam of the sword may dazzle you, put the end of your garment over your face in order that (the one who kills you) may bear the punishment of your sins and his. Abu Dawud said: No one mentioned al-Mushath in the chain of this tradition except Hammad bin Zaid.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک قبر کی جگہ کے لئے ایک غلام دینا پڑے گا یا ایک قبر کھودنے کے لئے ایک غلام کی قیمت ادا کرنی پڑے گی یا گھر اتنے خالی ہوجائیں گے کہ ہر ہر غلام کو ایک ایک گھر مل جائے گا۔ ٢ ؎: مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔ ٣ ؎: یعنی اپنے گھر میں بیٹھے رہنا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٠ (٣٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ١١٩٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٩، ١٦٣)، وأعادہ المؤلف فی الحدود (٤٤٠٩) (صحیح )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے سامنے فتنے ہوں گے اندھیری رات کی گھڑیوں کی طرح ١ ؎ ان میں صبح کو آدمی مومن رہے گا اور شام کو کافر، اور شام کو مومن رہے گا اور صبح کو کافر، اس میں بیٹھا ہوا کھڑے شخص سے بہتر ہوگا، اور کھڑا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ، لوگوں نے عرض کیا: تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے گھر کا ٹاٹ بن جانا ٢ ؎۔
Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : The Prophet ﷺ said: Before you there will be commotions like pieces of a dark night in which a man will be a believer in the morning and an infidel in the evening. He who sits during them will be better than he who gets up, and he who gets up during them is better than he who walks, and he who walks during them is better than he who runs. They (the people) said: What do you order us to do? He replied: Keep to your houses.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر فتنہ پہلے فتنہ سے زیادہ بڑا ہوگا جیسے اندھیری رات کی ہر گھڑی پہلی سے زیادہ تاریک ہوتی ہے۔ ٢ ؎: یعنی گھر میں پڑے رہنا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظرحدیث رقم: (٤٢٥٩)، (تحفة الأشراف: ٩١٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠٨) (صحیح )
مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا، نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا، اور جو اس میں پھنس گیا پھر اس نے صبر کیا تو پھر اس کا کیا کہنا ۔
Narrated Al-Miqdad ibn al-Aswad (RA) : I swear by Allah, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The happy man is he who avoids dissensions: happy is the man who avoids dissensions; happy is the man who avoids dissensions: but how fine is the man who is afflicted and shows endurance.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب ایک بہرا گونگا اور اندھا فتنہ ہوگا ١ ؎ جو اس میں جھانکے گا اسے وہ اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اور زبان چلانا اس میں ایسے ہوگا جیسے تلوار چلانا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: There will be civil strife (fitnah) which will render people deaf, dumb and blind regarding what is right. Those who contemplate it will be drawn by it, and giving rein to the tongue during it will be like smiting with the sword.
Notes · وضاحت
١ ؎: فتنہ کے بہرے ہونے سے مراد یہ ہے کہ آدمی حق بات سننے والا نہیں ہوگا، اور اس کے گونگے ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس میں حق بات بولنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ ہوگا جو پورے عرب کو گھیر لے گا جو اس میں مارے جائیں گے جہنم میں جائیں گے، اس میں زبان کا چلانا تلوار چلانے سے بھی زیادہ سخت ہوگا ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: There will be civil strife which wipe out the Arabs, and their slain will go to Hell. During it the tongue will be more severe than blows of the sword. Abu Dawud said: Al-Thawri transmitted it from Laith, from Tawus on the authority of Al-Ajam.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ١٦ (٢١٧٨)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢١ (٣٩٦٧)، (تحفة الأشراف: ٨٦٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢١١، ٢١٢) (ضعیف )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان کا بہتر مال بکریاں ہوں، جنہیں لے کر وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر پھرتا اور اپنا دین لے کر وہ فساد اور فتنوں سے بھاگتا ہو ۔
Narrated Abu Saeed Al Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: A Muslims best property will soon be sheep which he will take to the tops of the mountains and the places where the rain falls, fleeing with his religion from the civil strife (fitan).
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١٢ (١٩)، بدء الخلق ١٥ (٣٣٠٠)، المناقب ٢٥ (٣٦٠٠)، الرقاق ٣٤ (٦٤٩٥)، سنن النسائی/الإیمان ٣٠ (٥٠٣٩)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٣٩٨٠)، (تحفة الأشراف: ٤١٠٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ٦ (١٦)، مسند احمد (٣/٦، ٣٠، ٤٣، ٥٧) (صحیح )
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں لڑائی کے ارادہ سے نکلا (تاکہ علی ؓ کے ساتھ معاویہ ؓ کے خلاف لڑوں) تو مجھے (راستہ میں) ابوبکرہ ؓ مل گئے، انہوں نے کہا: تم لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جب دو مسلمان اپنی تلوار لے کر ایک دوسرے کو مارنے اٹھیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قاتل (کا جہنم میں جانا) تو سمجھ میں آتا ہے لیکن کا حال ایسا کیوں ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہا تھا ۔
Ahnaf bin Qais said: I came out with the intention of (participating in) fighting. Abu Bakrah met me and said: Go back, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When two Muslims face each other with their swords, the killer and the slain will go to Hell. He asked: Messenger of Allah, this is the killer (so naturally he should go to Hell), but what is the matter with the slain ? He replied: He intended to kill his companion.
خالد بن دہقان کہتے ہیں کہ جنگ قسطنطنیہ میں ہم ذلقیہ ١ ؎ میں تھے، اتنے میں فلسطین کے اشراف و عمائدین میں سے ایک شخص آیا، اس کی اس حیثیت کو لوگ جانتے تھے، اسے ہانی بن کلثوم بن شریک کنانی کہا جاتا تھا، اس نے آ کر عبداللہ بن ابی زکریا کو سلام کیا، وہ ان کے مقام و مرتبہ سے واقف تھا، ہم سے خالد نے کہا: تو ہم سے عبداللہ بن زکریا نے حدیث بیان کی عبداللہ بن زکریا نے کہا میں نے ام الدرداء ؓ سے سنا ہے وہ کہہ رہی تھیں کہ میں نے ابوالدرداء ؓ سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ہر گناہ کو اللہ بخش سکتا ہے سوائے اس کے جو مشرک ہو کر مرے یا مومن ہو کر کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے ، تو ہانی بن کلثوم نے کہا: میں نے محمود بن ربیع کو بیان کرتے سنا وہ عبادہ بن صامت ؓ سے، اور عبادہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: جو کسی مومن کو ناحق قتل کرے، پھر اس پر خوش بھی ہو، تو اللہ اس کا کوئی عمل قبول نہ فرمائے گا نہ نفل اور نہ فرض ۔ خالد نے ہم سے کہا: پھر ابن ابی زکریا نے مجھ سے بیان کیا وہ ام الدرداء سے روایت کر رہے تھے، اور وہ ابوالدرداء سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: برابر مومن ہلکا پھلکا اور صالح رہتا ہے، جب تک وہ ناحق خون نہ کرے، اور جب وہ ناحق کسی کو قتل کردیتا ہے تو تھک جاتا اور عاجز ہوجاتا ہے ۔ ہانی بن کلثوم نے بیان کیا، وہ محمود بن ربیع سے، محمود عبادہ بن صامت سے، عبادہ نبی اکرم ﷺ سے، اسی کے ہم مثل روایت کر رہے تھے۔
Narrated Abud Darda and Ubadah ibn as-Samit: Khalid ibn Dihqan said: When we were engaged in the battle of Constantinople at Dhuluqiyyah, a man of the people of Palestine, who was one of their nobility and elite and whose rank was known to them, came forward. He was called Hani ibn Kulthum ibn Sharik al-Kinani. He greeted Abdullah ibn Zakariyya who knew his rank. Khalid said to us: Abdullah ibn Abu Zakariyya told us: I heard Umm ad-Darda say: I heard Abud Darda say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: It is hoped that Allah may forgive every sin, except in the case of one who dies a polytheist, or one who purposely kills a believer. Hani ibn Kulthum ar-Rabi then said: I heard Mahmud ibn ar-Rabi transmitting a tradition from Ubadah ibn as-Samit who transmitted from the Messenger of Allah ﷺ who said: If a man kills a believer unjustly, Allah will not accept any action or duty of his, obligatory or supererogatory. Khalid then said to us: Ibn Abu Zakariyya transmitted a tradition to us from Umm ad-Darda on the authority of Abud Darda from the Messenger of Allah ﷺ who said: A believer will continue to go on quickly and well so long as he does not shed unlawful blood; when he sheds unlawful blood, he becomes slow and heavy-footed. A similar tradition has been transmitted by Hani ibn Kulthum from Mahmud ibn ar-Rabi on the authority of Ubadah ibn as-Samit from the Messenger of Allah ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: ذُلُقْیَ ۃ َ: ذال اور لام کے ضمہ، قاف کے سکون اور یاء کے فتحہ کے ساتھ روم کے ایک شہر کا نام ہے۔
خالد بن دہقان کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن یحییٰ غسانی سے قول نبوی اعتبط بقتلہ کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے کہا: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو فتنے میں یہ سمجھ کر قتل کرتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں، پھر وہ اللہ سے توبہ و استغفار نہیں کرتے یعنی اس (قتل) سے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اعتبط اعتبط کے معنی (ناحق) خون بہانے کے ہیں۔
Khalid bin Dihqan said: I asked Yahya bin Yahya al-Ghassani about the word itabata bi qatlihi spoken by him (as mentioned in the previous tradition). He said: It means those people who fight during the period of commotion (fitnah), and one of them kills (the other people) presuming that he is in the right, so he does not beg pardon of Allah of that (sin). Abu Dawud said: And he said: The word fatabata means he shed blood profusely
خارجہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے زید بن ثابت ؓ سے اسی جگہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آیت کریمہ ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قصداً قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا (النساء: ٩٣) (سورۃ الفرقان کی آیت) والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ نے حرام کردیا ہے بجز حق کے قتل نہیں کرتے (الفرقان: ٦٨) کے چھ مہینے کے بعد نازل ہوئی ہے۔
Narrated Zayd ibn Thabit (RA) : The verse If a man kills a believer intentionally, his recompense is Hell to abide therein for ever was revealed six months after the verse And those who invoke not with Allah any other god, nor slay such life as Allah has made sacred, except for just cause in Surat al-Furqan.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تو آپ نے کہا: جب سورة الفرقان کی آیت والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق نازل ہوئی تو اہل مکہ کے مشرک کہنے لگے: ہم نے بہت سی ایسی جانیں قتل کی ہیں جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے اور ہم نے اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو پکارا ہے، اور برے کام کئے ہیں تو اللہ نے إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا فأولئك يبدل الله سيئاتهم حسنات سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے (الفرقان: ٧٠) نازل فرمائی تو یہ ان لوگوں کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا: اور سورة نساء کی آیت ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم الآیۃ، ایسے وقت کے لیے ہے جب آدمی مسلمان ہوجائے اور شرعی احکام کو جان لے پھر جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کر دے تو ایسے شخص کی سزا جہنم ہوگی، اور اس کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عباس کے اس قول کو مجاہد سے بیان کیا تو انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا سوائے اس شخص کے جو شرمندہ ہو (یعنی دل سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہوگی) ۔
Saeed bin Jubair said: I asked Ibn Abbas (about the verse relating to intentional homicide in Surat An-Nisa) He said: When the verse Those who invoke not with Allah any other god, nor slay such life as Allah had made sacred, except for just cause was revealed, the polytheists of Makkah said: We have killed the soul prohibited by Allah, invoked another god along with Allah for worship, and committed shameful deeds. So Allah revealed the verse unless he repents, believes, and works righteous deeds, for Allah will change the evil of such persons into good. This is meant for them. As regards the verse if a man kills a believer intentionally, his recompense is Hell He said: If a man knows the command of Islam and intentionally kills a believer, his repentance wil not be accepted. I then mentioned it to Mujahid. He said: Except the one who is ashamed (of his sin).
عبداللہ بن عباس ؓ سے اسی قصہ میں مروی ہے کہ والذين لا يدعون مع الله إلها آخر سے مراد اہل شرک ہیں اور آیت کریمہ يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہوجاؤ (الزمر: ٥٣) نازل ہوئی۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Saeed bin Jubair from Ibn Abbas through a different chain of narrators. Ibn Abbas said: The verse: Those who invoke not with Allah applied to polytheists. He said: About them another verse, Say: O my servants who have transgressed against their souls was also revealed.
ابومجلز سے اللہ تعالیٰ کے قول ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم کے متعلق مروی ہے کہ ایسے شخص کا بدلہ تو یہی ہے لیکن اگر اللہ اسے معاف کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔
About the verse If a man kills a believer intentionally Abu Mijlaz said: This is his recompense. If Allah wishes to disregard him, He may do do.
سعید بن زید ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے آپ نے ایک فتنہ اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا تو ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر اس فتنہ نے ہم کو پا لیا تو ہم کو تو تباہ کر ڈالے گا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہرگز نہیں، بس تمہارا قتل ہوجانا ہی کافی ہوگا ۔ سعید کہتے ہیں: میں نے اپنے بھائیوں کو (جمل و صفین میں) قتل ہوتے دیکھ لیا۔
Narrated Saeed ibn Zayd: We were with the Prophet ﷺ . He mentioned civil strife (fitnah) and expressed its gravity. We or the people said: Messenger of Allah, if this happens to us it will destroy us. The Messenger of Allah ﷺ said; No. It is enough for you that you would be killed. Saeed said: I saw that my brethren were killed.
ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اس امت پر اللہ کی رحمت ہے آخرت میں اسے عذاب (دائمی) نہیں ہوگا اور دنیا میں اس کا عذاب: فتنوں، زلزلوں اور قتل کی شکل میں ہوگا ۔
Narrated Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said: This people of mine is one to which mercy is shown. It will have no punishment in the next world, but its punishment in this world will be trials, earthquakes and being killed.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٠٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤١٠، ٤١٨) (صحیح )
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خرابی اور بربادی ہے عربوں کے لیے اس شر سے جو قریب آ چکا ہے، اس میں وہی شخص فلاح یاب رہے گا جو اپنا ہاتھ روکے رکھے۔
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Woe to Arabs because of evil which has drawn near! He will escape who restrains his hand.