ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو قمیص یا عمامہ (کہہ کر) اس کپڑے کا نام لیتے پھر فرماتے: اللهم لک الحمد أنت کسوتنيه أسألک من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بک من شره وشر ما صنع له اے اللہ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو نے ہی مجھے پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس کے لیے یہ کپڑا بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کی برائی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ابونضرہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اس سے کہا جاتا: تو اسے پرانا کرے اور اللہ تجھے اس کی جگہ دوسرا کپڑا عطا کرے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ put on a new garment he mentioned it by name, turban or shirt, and would then say: O Allah, praise be to Thee! as Thou hast clothed me with it, I ask Thee for its good and the good of that for which it was made, and I seek refuge in Thee from its evil and the evil of that for which it was made. Abu Nadrah said: When any of the Companions of the Prophet ﷺ put on a new garment, he was told: May you wear it out and may Allah give you another in its place.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٢٩ (١٧٦٧)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٣١٠)، (تحفة الأشراف: ٤٣٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠، ٥٠) (صحیح )
اس سند سے بھی جریری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی نے اس میں ابوسعید کا ذکر نہیں کیا ہے اور حماد بنطسلمہ نے جریری سے جریری نے ابوالعلاء سے ابوالعلاء نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن سلمہ اور ثقفی دونوں کا سماع ایک ہی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Jariri to the same effect though a different chain of narrators. Abu Dawud said: Abd al-Wahhab al-Thaqafi did not mention the name of Abu Saeed. Hammad bin Salamah said: From al-Jariri, from Abu al-Ala, from the Prophet ﷺ . Abu Dawud said: The hearing of this tradition by Hammad bin Salamah and Thaqafi is of the same nature.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٠٢٠)، (تحفة الأشراف: ٤٣٢٦) (صحیح )
معاذ بن انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔ نیز فرمایا: اور جس نے (نیا کپڑا) پہنا پھر یہ دعا پڑھی: الحمد لله الذي کساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عنایت فرمایا تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
Narrated Muadh ibn Anas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone eats food and then says: Praise be to Allah Who has fed me with this food and provided me with it through no might and power on my part, he will be forgiven his former and later sins. If anyone puts on a garment and says: Praise be to Allah Who has clothed me with this and provided me with it through no might and power on my part, he will be forgiven his former and later sins.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٥٦ (٣٤٥٨)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٦ (٣٢٨٥)، (تحفة الأشراف: ١١٢٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٩)، سنن الدارمی/الاستئذان ٥٥ (٢٧٣٢) (حسن) دون زیادة: ” وما تأخر “ في الموضعین
ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک چھوٹی سی دھاری دار چادر تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ کس کو اس کا زیادہ حقدار سمجھتے ہو؟ تو لوگ خاموش رہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس لاؤ چناچہ وہ لائی گئیں، آپ نے انہیں اسے پہنا دیا پھر دو بار فرمایا: پہن پہن کر اسے پرانا اور بوسیدہ کرو آپ چادر کی دھاریوں کو جو سرخ یا زرد رنگ کی تھیں دیکھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: اے ام خالد! سناه سناه اچھا ہے اچھا ہے ١ ؎۔
Narrated Umm Khalid, daughter of Saad bin al-As: Once the Messenger of Allah ﷺ was brought some garments among which was a small cloak with a border and black stripes. He said: Whom do you think to be more deserving for it ? The people kept silence. He said: Bring Umm Khalid. The she was carried to him and he put it on her, saying: Wear it out and make it ragged twice. Then he went on looking at red or yellow marks on it, and said: This is sanah, sanah, Umm Khalid. It means beautiful in the language of the Abyssinians.
Notes · وضاحت
١ ؎: سناہ حبشی زبان میں اچھا کے معنی میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٨٨ (٣٠٧١)، المناقب ٣٧ (٣٨٧٤)، اللباس ٢٢ (٥٨٢٣)، الأدب ١٧ (٥٩٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٥) (صحیح )
مسور بن مخرمہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے کچھ ق بائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ ؓ نے کہا: بیٹے! مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلو چناچہ میں ان کے ساتھ چلا (جب وہاں پہنچے) تو انہوں نے مجھ سے کہا: اندر جاؤ اور رسول اللہ ﷺ کو میرے لیے بلا لاؤ، تو میں نے آپ کو بلایا، آپ باہر نکلے، آپ انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے (مخرمہ ؓ سے) فرمایا: میں نے اسے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لیا تھا تو مخرمہ ؓ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا آپ نے فرمایا: مخرمہ خوش ہوگیا ۔
Narrated Al-Miswar bin Makhramah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ distributed outer garments with full-length sleeves but did not give Makhramah anything. Makhramah said: Go with us to the Messenger of Allah ﷺ . So I went with him and he said: Enter and call him for me. I then called him. He came out to him and he had an outer garment with full-length sleeves over him from those garments. He said: I kept it for you. He looked at it, meaning Makhramah according to the addition of Ibn Mawhab. The agreed version then says: He said: Makhramah was pleased. Ibn Qutaibah said: From Ibn Abi Mulaikah, but he did not name it.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جس نے شہرت اور ناموری کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اسی طرح کا لباس پہنائے گا۔ شریک کی روایت میں ہے ابن عمر ؓ اسے مرفوع کرتے ہیں یعنی اپنے قول کے بجائے نبی اکرم ﷺ کا قول قرار دیتے ہیں نیز ابوعوانہ سے یہ اضافہ مروی ہے کہ پھر اس کپڑے میں آگ لگا دی جائے گی ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone wears a garment for gaining fame, Allah will clothe him in a similar garment on the Day of Resurrection.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٤ (٣٦٠٦)، (تحفة الأشراف: ٧٤٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٢، ١٣٩) (حسن )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے، آپ پر ایک سیاہ بالوں کی چادر تھی جس میں (کجاوہ) کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ عتبہ بن عبد سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پہننے کے لیے کپڑا مانگا، آپ نے مجھے کتان کے دو کپڑے پہنائے تو میں اپنے کو دیکھتا تو اپنے آپ کو اپنے اور ساتھیوں کے بالمقابل اچھے لباس والا محسوس کرتا۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ went out one morning wearing a variegated garment of black goat hair. Narrated Utbah ibn AbdusSulami: I asked the Messenger of Allah ﷺ to clothe me. He clothed me with two coarse clothes of linen.
ابوبردہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے کہا: بیٹے! اگر تم ہمیں دیکھتے اور ہم اپنے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوتے اور بارش ہوئی ہوتی تو تم ہم میں بھیڑوں کی بو محسوس کرتے ١ ؎۔
Narrated Abu Burdah (RA) : My father said to me: My son, if you had seen us while we were with the Messenger of Allah ﷺ and the rain had fallen on us, you would have thought that our smell was the smell of the sheep.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ہمارے کپڑے کھالوں اور بالوں کے ہوتے تھے بھیگنے کی وجہ سے ان سے بھیڑ بکریوں کی بو آتی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة القیامة ٣٨ (٢٤٧٩)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤ (٣٥٦٢)، (تحفة الأشراف: ٩١٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠٧، ٤١٩) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ شاہ ذی یزن ١ ؎ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا جسے اس نے (٣٣) اونٹ یا اونٹنیاں دے کرلیا تھا تو آپ نے اسے قبول فرمایا۔
Narrated Anas ibn Malik: The King Dhu Yazan presented to the Messenger of Allah ﷺ a suit of clothes which he had purchased for thirty-three camels or thirty-three she-camels. He accepted it.
Notes · وضاحت
١ ؎: ذی یزن حمیری بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کا نام تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٢١)، سنن الدارمی/السیر ٥٣ (٢٥٣٦) (ضعیف )
اسحاق بن عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جوڑا بیس سے کچھ زائد اونٹنیاں دے کر خریدا پھر آپ نے اسے بادشاہ ذی یزن کو ہدیے میں بھیجا۔
Narrated Ishaq ibn Abdullah ibn al-Harith (RA) : The Messenger of Allah ﷺ purchased a suit of clothes for twenty she-camels and some more and he presented it to Dhu Yazan.
ابوبردہ ؓ کہتے ہیں میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا تو انہوں نے یمن کا بنا ہوا ایک موٹا تہبند اور ایک کمبل جسے ملبدة کہا جاتا تھا نکال کر دکھایا پھر وہ قسم کھا کر کہنے لگیں کہ انہیں دونوں کپڑوں میں رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی۔
Narrated Abu Burdah (RA) : I entered upon Aisha (RA) , and she brought a coarse lower garment that was manufactured in the Yemen and a patched garment called mulabbadah. She swore by Allah that the spirit of the Messenger of Allah ﷺ was taken in these two clothes.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب خوارج نکلے تو میں علی ؓ کے پاس آیا تو آپ نے کہا: تم ان لوگوں کے پاس جاؤ تو میں یمن کا سب سے عمدہ جوڑا پہن کر ان کے پاس گیا۔ ابوزمیل کہتے ہیں: ابن عباس ؓ ایک خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: تو میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! اور پوچھا: یہ کیا پہنے ہو؟ ابن عباس نے کہا: تم مجھ میں کیا عیب نکالتے ہو میں نے رسول اللہ ﷺ کو اچھے سے اچھا جوڑا پہنے دیکھا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : When the Haruriyyah made a revolt, I came to Ali (may Allah be pleased with him). He said: Go to these people. I then put on the best suit of the Yemen. Abu Zumayl (a transmitter) said: Ibn Abbas was handsome and of imposing countenance. Ibn Abbas said: I then came to them and they said: Welcome to you, Ibn Abbas! what is this suit of clothes? I said: Why are you objecting to me? I saw over the Messenger of Allah ﷺ the best suit of clothes. Abu Dawud said: The name of Abu Zumail is Sammak bin al-Walid al-Hanafi.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٦٧٦) (حسن الإسناد )
سعد بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو بخارا میں ایک سفید خچر پر سوار دیکھا وہ سیاہ خز ١ ؎ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے اس نے کہا: یہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے پہنایا ہے۔
Narrated Saad (RA) : I saw a man riding on a white mule and he had a black turban of silk and wool. He said: The Messenger of Allah ﷺ put it on me. This is the version of Uthman, and there is the word akhbara in his tradition.
Notes · وضاحت
١ ؎: خز: ایک قسم کا ریشمی اونی کپڑا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة الحاقة ٦٧ (٣٣٢١)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٧٨) (ضعیف الإسناد )