عبدالرحمٰن بن غنم اشعری کہتے ہیں مجھ سے ابوعامر یا ابو مالک نے بیان کیا اور اللہ کی قسم انہوں نے جھوٹ نہیں کہا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو خز اور حریر (ریشم) کو حلال کرلیں گے پھر کچھ اور ذکر کیا، فرمایا: ان میں سے کچھ قیامت تک کے لیے بندر بنا دیئے جائیں گے اور کچھ سور ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے بیس یا اس سے زیادہ لوگوں نے خز پہنا ہے ان میں سے انس اور براء بن عازب ؓ بھی ہیں۔
Narrated Abdur Rahman ibn Ghanam al-Ashari (RA) : Abu Amir or Abu Malik told me--I swear by Allah another oath that he did not believe me that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: There will be among my community people who will make lawful (the use of) khazz and silk. Some of them will be transformed into apes and swine. Abu Dawud said: Twenty Companions of the Messenger of Allah ﷺ or more put on khazz. Anas and al-Bara bin Azib were among them.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک دھاری دار ریشمی جوڑا بکتا ہوا دیکھا تو عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور وفود سے ملاقات کے وقت اسے زیب تن فرماتے (تو اچھا ہوتا) ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر انہیں میں سے کچھ جوڑے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے آپ نے اس میں سے ایک جوڑا عمر بن خطاب کو دیا، تو عمر کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ آپ مجھے پہنا رہے ہیں حالانکہ آپ عطارد کے جوڑوں کے سلسلہ میں ایسا ایسا فرما چکے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم (خود) پہنو تو عمر بن خطاب ؓ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی (عثمان بن حکیم) کو دے دیا۔
Narrated Abd Allaah bin Umar (RA) : Umar bin al-Khattab saw that a striped robe containing silk was being sold at the the gate of the mosque. He said: Messenger of Allah, would that you purchased it and wore it on Friday and when a delegation came to you. The Messenger of Allah ﷺ said: Only he who has no portion in the next world wears this (silk). Then the Messenger of Allah ﷺ came in possession of some robes made of silk and gave one of them to Umar bin al-Khattab. Umar sai: Messenger of Allah, you are clothing me with it, but you said about the robe of Utarid what you said. The Messenger of Allah ﷺ said: I did not give it to you so that you may wear it. So Umar al-Khattab gave it to his brother who was a polytheist in Makkah to wear it.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٠٧٦)، (تحفة الأشراف: ٨٣٣٥) (صحیح )
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر ؓ سے یہی واقعہ مروی ہے لیکن اس میں دھاری دار ریشمی جوڑے کے بجائے موٹے ریشم کا جوڑا ہے نیز اس میں ہے: پھر آپ نے انہیں دیباج ایک جوڑا بھیجا، اور فرمایا: اسے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرو ۔
The tradition mentioned above has also been narrated by Abdullah bin Umar (RA) through a different chain of narrators. This version has: He said: A robe of silk brocade. He then sent him a Jubbah of brocade and said: You may sell it and fulfill your need.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٠٧٧)، (تحفة الأشراف: ٦٨٩٥) (صحیح )
ابوعثمان نہدی کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے عتبہ بن فرقد کو لکھا کہ نبی اکرم ﷺ نے ریشم سے منع فرمایا مگر جو اتنا اور اتنا ہو یعنی دو، تین اور چار انگلی کے بقدر ہو۔
Narrated Abu Uthman al-Nahdi: Umar wrote to Utbah bin Farqad that the Prophet ﷺ forbade (wearing) silk except so-and-so, and so-and-so, to the extent of two, three, or four fingers.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٢٥ (٥٨٢٨)، صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٩)، سنن النسائی/الزینة ٣٨ (٥٣١٤)، سنن ابن ماجہ/ الجہاد ٢١ (٣٥٩٣) (تحفة الأشراف: ١٠٥٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٥، ٣٦، ٤٣) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک ریشمی دھاری دار جوڑا ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر آپ ﷺ کی خدمت میں آیا، تو میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی آپ نے فرمایا: میں نے اسے اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے (خود) پہنو آپ نے مجھے حکم دیا، تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا۔
Ali said: A robe containing silk was presented to the Messenger of Allah ﷺ . He then sent it to me. I wore it and came to him. I saw him looking angry in his face. He then said: I did not send it to you to wear. He ordered me and I divided it among my women.
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قسی (ایک ریشمی کپڑا) اور معصفر (کسم میں رنگا ہوا کپڑا) اور سونے کی انگوٹھی کے پہننے سے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Ali bin Abi Talib: The Messenger of Allah ﷺ forbade us to wear a Qassi garment, a garment dyed with safflower, gold rings, and reading the Quran while bowing.
اس سند سے بھی بواسطہ علی بن ابی طالب ؓ نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں رکوع اور سجدے دونوں میں قرآت کی ممانعت کی بات ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ali bin Abi Talib from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. This version has: (He forbade) reading the Quran while bowing and prostrating.
اس سند سے بھی ابراہیم بن عبداللہ سے یہی روایت مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع فرمایا ہے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibrahim bin Abdullah through a different chain of narrators. This version added: I do not say that he had forbidden you.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٠٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٠١٧٩) (حسن صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ روم کے بادشاہ نے نبی اکرم ﷺ کو سندس (ایک باریک ریشمی کپڑا) کا ایک چوغہ ہدیہ میں بھیجا تو آپ ﷺ نے اسے زیب تن فرمایا۔ گویا میں آپ ﷺ کے ہاتھوں کو اس وقت دیکھ رہا ہوں آپ اسے مل رہے ہیں، پھر آپ نے اسے جعفر ؓ کو بھیج دیا تو اسے پہن کر وہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو انہوں نے کہا: پھر میں اسے کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے بھائی نجاشی کو بھیج دو ۔
Narrated Anas ibn Malik: The king of Rome presented a fur of silk brocade to the Prophet ﷺ and he wore it. The scene that his hands were moving (while wearing the robe) is before my eyes. He then sent it to Jafar who wore it and came to him. The Prophet ﷺ said: I did not send it to you to wear. He asked: What should I do with it? He replied: Send it to your brother Negus.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١١، ٢٢٩، ٢٥١) (ضعیف الإسناد )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں سرخ گدوں (زین پوشوں) پر سوار نہیں ہوتا اور نہ کسم کے رنگے کپڑے پہنتا ہوں، اور نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں جس پر ریشمی بیل بوٹے بنے ہوں ۔ راوی کہتے ہیں: حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا وہ کہتے ہیں۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: سنو! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں بو ہو رنگ نہ ہو، سنو! اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو بو نہ ہو ۔ سعید کہتے ہیں: میرا خیال ہے قتادہ نے کہا: علماء نے عورتوں کے سلسلہ میں آپ کے اس قول کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب وہ باہر نکلیں لیکن جب وہ اپنے خاوند کے پاس ہوں تو وہ جیسی بھی خوشبو چاہیں لگائیں۔
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ said: I do not ride on purple, or wear a garment dyed with saffron, or wear shirt hemmed with silk. Pointing to the collar of his shirt al-Hasan (al-Basri) said: The perfume used by men should have an odour but no colour, and the perfume used by women should have a colour but no odour. Saeed said: I think he said: They interpreted his tradition about perfume used by women as applying when she comes out. But when she is with her husband, she may use any perfume she wishes.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٨٠٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب ٣٦ (٢٧٨٩)، مسند احمد (٤/٤٤٢) (صحیح )
ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر کے تھے دونوں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ و خطیب قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک صحابی تھے۔ میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا؟ میں نے کہا: نہیں، وہ بولے: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، بال اکھیڑنے سے، اور دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے، اور دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے، اور مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے، اور دوسروں کے مال لوٹنے سے اور درندوں کی کھالوں پر سوار ہونے سے، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ کے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں انگوٹھی کا ذکر منفرد ہے۔
Narrated Abul Husayn, that is al-Haytham ibn Shafi I and a companion of mine called Abu Amir, a man from al-Maafir went to perform prayer in Bayt al-Maqdis (Jerusalem). Their preacher was a man of Azd called Abu Rayhanah, who was a companion of the Prophet ﷺ . Abul Husayn said: my companion went to the mosque before me. I went there after him and sat beside him. He asked me: Did you hear the preaching of Abu Rayhanah? I said: No. He said: I heard him say: The Messenger of Allah ﷺ forbade ten things: Sharpening the ends of the teeth, tattooing, plucking hair, men sleeping together without an under garment, women sleeping together without an under-garment, men putting silk at the hem of their garments like the Persians, or putting silk on their shoulders like the Persians, plundering, riding on panther skins, wearing signet rings, except in the case of one in authority. Abu Dawud said: The solitary point in this tradition (not supported by other traditions) is the report about the signet-ring.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٢٠ (٥٠٩٤)، ٢٧ (٥١١٣، ٥١١٤، ٥١١٥)، سنن ابن ماجہ/ اللباس ٤٧ (٣٦٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٤، ١٣٥)، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٠ (٢٦٩٠) (ضعیف )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی تو آپ کی نظر اس کی دھاریوں پر پڑی جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا: میری یہ چادر ابوجہم کو لے جا کر دے آؤ کیونکہ اس نے ابھی مجھے نماز سے غافل کردیا (یعنی میرا خیال اس کے بیل بوٹوں میں بٹ گیا) اور اس کی جگہ مجھے ایک سادہ چادر لا کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجہم بن حذیفہ بنو عدی بن کعب بن غانم میں سے ہیں۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ once prayed wearing a garment having marks. He looked at its marks. When he saluted, he said: Take this garment of mine to Abu Jahm, for it turned my attention just now in my prayer, and bring a simple garment without marks. Abu Dawud said: The name of Abu Jahm bin Hudhaifah from Banu Adi bin Kab bin Ghanam A similar tradition has also been transmitted by Aisha (RA) through a different chain of narrators. But the former is more perfect.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٩١٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٠٣) (صحیح )
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔
انظر حدیث رقم: (٩١٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٣٤) (صحیح )
عبداللہ ابوعمر مولی اسماء بنت ابی بکر کا بیان ہے میں نے ابن عمر ؓ کو بازار میں ایک شامی کپڑا خریدتے دیکھا انہوں نے اس میں ایک سرخ دھاگہ دیکھا تو اسے واپس کردیا تو میں اسماء ؓ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو وہ (اپنی خادمہ سے) بولیں بیٹی! رسول اللہ ﷺ کا جبہ مجھے لا دے، تو وہ نکال کر لائیں وہ ایک طیالسی ١ ؎ جبہ تھا جس کے گریبان اور دونوں آستینوں اور آگے اور پیچھے ریشم ٹکا ہوا تھا۔
Narrated Asma (RA) : Abdullah Abu Umar, client of Asma, daughter of Abu Bakr, said: I saw Ibn Umar buying a Syrian garment in the market. When he saw that it had red warp, he returned it. I then came to Asma and mentioned it to her. She said: Bring me, slave-girl, the mantle of the Messenger of Allah ﷺ . She brought out a mantle of a course ornamented cloth, with its collar, sleeves, front, and back were hemmed with brocade.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک اونی منقش کپڑا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٢١)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس ١٨ (٣٥٩٤)، مسند احمد (٦/٣٤٨، ٣٥٣، ٣٥٤، ٣٥٥) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے کپڑے سے جو خالص ریشمی ہو منع فرمایا ہے، رہا ریشمی بوٹا اور ریشمی کپڑے کا تانا تو کوئی مضائقہ نہیں۔
Ibn Abbas said: It is only a garment wholly made of silk which the Messenger of Allah ﷺ forbade, but there is no harm in the ornamented border and the wrap.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٠٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٣، ٣٢١) (صحیح) دون قولہ: فأما العلم …
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام ؓ کو کجھلی کی وجہ سے جو انہیں ہوئی تھی سفر میں ریشمی قمیص پہننے کی رخصت دی۔
Narrated Anas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ gave license to Abdur-Rahman bin Awf and al-Zubair bin al-Awwam to wear silk shirts during a journey because of an itch which they had.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٩١ (٢٩١٩)، واللباس ٢٩ (٥٨٣٩)، صحیح مسلم/اللباس ٣ (٢٠٧٦)، سنن النسائی/الزینة من المجتمع ٣٨ (٥٣١٢)، سنن ابن ماجہ/اللباس ١٧ (٣٥٩٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ٢ (١٧٢٢)، مسند احمد (٣/١٢٧، ١٨٠، ٢١٥، ٢٥٥، ٢٧٣) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ریشم لے کر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet of Allah ﷺ took silk and held it in his right hand, and took gold and held it in his left hand and said: both of these are prohibited to the males of my community.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٤٠ (٥١٤٧)، سنن ابن ماجہ/اللباس ١٩ (٣٥٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٦، ١١٥) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ام کلثوم ؓ کو ریشمی دھاری دار چادر پہنے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: سیراء کے معنی ریشمی دھاری دار کپڑے کے ہیں۔
Anas bin Malik (RA) said that he saw a striped garment over Umm Kulthum, daughter of the Messenger of Allah ﷺ . He said: The word siyara means striped with silk.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٣٠ (٥٨٤٢ تعلیقًا)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٣٠ (٥٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس ١٩(٣٥٩٨) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم ریشمی کپڑوں کو لڑکوں سے چھین لیتے تھے اور لڑکیوں کو (اسے پہنے دیکھتے تو انہیں) چھوڑ دیتے تھے۔ مسعر کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ١ ؎۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : We used to take it away (i. e. silk) from boys, and leave it for girls. Misar said: I asked Amr ibn Dinar about it, but he did not know it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مسعر نے جب یہ حدیث عبدالملک بن میسرہ زراد کوفی سے عمرو بن دینار کے واسطہ سے روایت کرتے سنی تو انہوں نے براہ راست عمرو بن دینار سے اس کے بارے میں پوچھا تو عمرو نے لاعلمی کا اظہار کیا ممکن ہے انہیں یہ حدیث یاد نہ رہی ہو وہ بھول گئے ہوں، واللہ اعلم۔