قتادہ کہتے ہیں ہم نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کو کون سا لباس زیادہ محبوب یا زیادہ پسند تھا؟ تو انہوں نے کہا: دھاری دار یمنی چادر ١ ؎۔
Narrated Qatadah (RA) : We asked Anas bin Malik (RA): Which cloth was dearer to the Messenger of Allah ﷺ ? or Which cloth did the Messenger of Allah ﷺ like best to wear ? He replied: The striped cloaks (hibrah).
Notes · وضاحت
١ ؎: حبرہ: یمن کے اچھے کپڑوں کو کہتے تھے، اور یہاں اس سے یمن کی لال رنگ کی خط دار چادر جو سوت یا کتان کی ہوتی تھی مراد ہے، اور اس کا شمار عرب کے بہترین کپڑوں میں تھا۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے بہتر کپڑوں میں سے ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفناؤ اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ اثمد ہے کیونکہ وہ نگاہ کو تیز کرتا اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: Wear your white garments, for they are among your best garments, and shroud your dead in them. Among the best types of collyrium you use is antimony (ithmid) for it clears the vision and makes the hair sprout.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٣٨٧٨)، (تحفة الأشراف: ٥٥٣٤) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک پراگندہ سر شخص کو جس کے بال بکھرے ہوئے تھے دیکھا تو فرمایا: کیا اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنا بال ٹھیک کرلے؟ اور ایک دوسرے شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو فرمایا: کیا اسے پانی نہیں ملتا جس سے اپنے کپڑے دھو لے؟ ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ paid visit to us, and saw a dishevelled man whose hair was disordered. He said: Could this man not find something to make his hair lie down? He saw another man wearing dirty clothes and said: Could this man not find something to wash his garments with.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٦ (٥٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ٣٠١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٧) (صحیح )
مالک بن نضلۃ الجشمی ؓ کہتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک معمولی کپڑے میں آیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم مالدار ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں مالدار ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کس قسم کا مال ہے؟ تو انہوں نے کہا: اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام (ہر طرح کے مال سے) اللہ نے مجھے نوازا ہے، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ کی نعمت اور اس کے اعزاز کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چاہیئے ۔
Abu al-Ahwas quoted his father saying: I came to the Prophet ﷺ wearing a poor garment and he said (to me): Have you any property? He replied: Yes. He asked: What kind is it? He said: Allah has given me camels. Sheep, horses and slaves. He then said: When Allah gives you property, let the mark of Allahs favour and honour to you be seen.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٥٢ (٥٢٢٥)، الزینة من المجتبی ٢٨ (٥٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ١١٢٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ٤٧٣، ٤/١٣٧) (صحیح الإسناد )
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ اپنی داڑھی زرد (زعفرانی) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے۔
Narrated Zayd ibn Aslam (RA) : Ibn Umar used to dye his beard with yellow colour so much so that his clothes were filled (dyed) with yellowness. He was asked: Why do you dye with yellow colour? He replied: I saw the Messenger of Allah ﷺ dyeing with yellow colour, and nothing was dearer to him than it. He would dye all his clothes with it, even his turban.
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک گھاٹی سے اترے، آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے، اس وقت میں کسم میں رنگی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے تھا آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تم نے کیسی اوڑھ رکھی ہے؟ میں سمجھ گیا کہ یہ آپ کو ناپسند لگی ہے، تو میں اپنے اہل خانہ کے پاس آیا وہ اپنا ایک تنور سلگا رہے تھے تو میں نے اسے اس میں ڈال دیا پھر میں دوسرے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: عبداللہ! وہ چادر کیا ہوئی؟ تو میں نے آپ کو بتایا (کہ میں نے اسے تنور میں ڈال دیا) تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اسے اپنے گھر کی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا کیونکہ عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather said: We came down with the Messenger of Allah ﷺ from a turning of a valley. He turned his attention to me and I was wearing a garment dyed with a reddish yellow dye. He asked: What is this garment over you? I recognised what he disliked. I then came to my family who were burning their oven. I threw it (the garment) in it and came to him the next day. He asked: Abdullah, what have you done with the garment? I informed him about it. He said: Why did you not give it to one of your family to wear, for there is no harm in it for women.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ٢١ (٣٦٠٣)، (تحفة الأشراف: ٨٨١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٤، ١٩٦) (حسن )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے (ناگواری کے انداز میں) فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو میں نے جا کر اسے جلا دیا پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے پوچھا: تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا؟ تو میں نے عرض کیا: میں نے اسے جلا دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثور نے خالد سے مورد (گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا) اور طاؤس نے معصفر (کسم میں رنگا ہوا کپڑا) روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ saw me. The version of Abu Ali al-Lula has: I think I wore a garment dyed with a reddish yellow colour. He asked: What is this? So I went and burnt it. The Prophet ﷺ said: What have you done with your garment? I replied: I burnt it. He said: Why did you not give it to one of your women to wear? Abu Dawud said: Thawr transmitted it from Khalid and said: Pink (muwarrad) while Tawus said: Reddish yellow colour (muasfar).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٤٠٦٦)، (تحفة الأشراف: ٨٨٢٤) (ضعیف )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے جسم پر دو سرخ کپڑے تھے، اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اسے جواب نہیں دیا۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: A man wearing two red garments passed the Prophet ﷺ and gave him a greeting, but he did not respond to his greeting.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٤٥ (٢٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٨٩١٨) (ضعیف) (سند میں ابویحیی القتات لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمارے کجاؤں (پالانوں) پر اور اونٹوں پر ایسے زین پوش دیکھے جس میں سرخ اون کی دھاریاں تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نہیں دیکھ رہا ہوں کہ یہ سرخی تم پر غالب ہونے لگی ہے (ابھی تو زین پوش سرخ کئے ہو آہستہ آہستہ اور لباس بھی سرخ پہننے لگو گے) تو رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سن کر ہم اتنی تیزی سے اٹھے کہ ہمارے کچھ اونٹ بدک کر بھاگے اور ہم نے ان زین پوشوں کو کھینچ کر ان سے اتار دیا۔
Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : We went out with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and we had on our saddles and camels garments consisting of red warp of wool. The Messenger of Allah ﷺ said: Do I not see that red colour has dominated you. We then got up quickly on account of this saying of the Messenger of Allah ﷺ and some of our camels ran away. We then took the garments and withdrew them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٣) (ضعیف الإسناد )
حریث بن ابح سلیحی کہتے ہیں کہ بنی اسد کی ایک عورت کہتی ہے: میں ایک دن ام المؤمنین زینب ؓ کے پاس تھی اور ہم آپ کے کپڑے گیروے میں رنگ رہے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، جب آپ کی نظر گیروے رنگ پر پڑی تو واپس لوٹ گئے، جب زینب ؓ نے یہ دیکھا تو وہ سمجھ گئیں کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ ناگوار لگا ہے، چناچہ انہوں نے ان کپڑوں کو دھو دیا اور ساری سرخی چھپا دی پھر رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لائے اور دیکھا جب کوئی چیز نظر نہیں آئی تو اندر تشریف لے گئے۔
Narrated Hurayth ibn al-Abajj as-Sulayhi (RA) : That a woman of Banu Asad: One day I was with Zaynab, the wife of the Messenger of Allah ﷺ , and we were dyeing her clothes with red ochre. In the meantime the Messenger of Allah ﷺ peeped us. When he saw the red ochre, he returned. When Zaynab saw this, she realised that the Messenger of Allah ﷺ disapproved of what she had done. She then took and washed her clothes and concealed all redness. The Messenger of Allah ﷺ then returned and peeped, and when he did not see anything, he entered.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٩) (ضعیف الإسناد )
براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے، میں نے آپ کو ایک سرخ جوڑے میں دیکھا اس سے زیادہ خوبصورت میں نے کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی۔
Narrated Al-Bara bin Azib: The Messenger of Allah ﷺ had hair which reached the lobes of his ears, and I saw him wearing red robe. I did not see anything more beautiful than it.
عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں ایک خچر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ پر لال چادر تھی اور علی ؓ آپ کے آگے آپ کی آواز دوسروں تک پہنچا رہے تھے ١ ؎۔
Narrated Amir: I saw the Messenger of Allah ﷺ at Mina giving sermon on a mule and wearing a red garment, while Ali was announcing.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ جو کہتے ہیں اسے بلند آواز سے پکار کر کہہ دیتے تاکہ آپ کی باتیں لوگوں کو پہنچ جائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٠٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک سیاہ چادر رنگی تو آپ نے اس کو پہنا پھر جب اس میں پسینہ لگا اور اون کی بو محسوس کی تو اس کو اتار دیا، آپ کو خوشبو پسند تھی۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I made a black cloak for the Prophet ﷺ and he put it on; but when he sweated in it and noticed the odour of the wool, he threw it away. The narrator said: I think he said: He liked good smell.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٦٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٢، ١٤٤، ٢١٩، ٢٤٩) (صحیح )
جابر بن سلیم ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : When I came to the Prophet ﷺ , he was sitting with his hands round his knees wearing the cloak the fringe of which was over his feet.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢١٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٦٣) (ضعیف )
حریث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر دیکھا، آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے جس کا کنارہ آپ نے اپنے کندھوں پر لٹکا رکھا تھا۔
Amr bin Huraith quoting his father said: I saw the Prophet ﷺ on the pulpit and he wore a black turban, and he let both the ends hang between his shoulders.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٩)، سنن الترمذی/الشمائل ١٦ (١٠٨)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٥٦ (٥٣٤٨)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٢ (٢٨٢١)، اللباس ١٥ (٣٥٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٧١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٧)، سنن الدارمی/المناسک ٨٨ (١٩٨٢) (صحیح )
محمد بن علی بن رکانہ روایت کرتے ہیں کہ رکانہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے کشتی لڑی تو آپ نے رکانہ کو پچھاڑ دیا۔ رکانہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر پگڑی باندھنے کا ہے ۔
Narrated Ali ibn Rukanah (RA) : Ali quoting his father said: Rukanah wrestled with the Prophet ﷺ and the Prophet ﷺ threw him on the ground. Rukanah said: I heard the Prophet ﷺ say: The difference between us and the polytheists is that we wear turbans over caps.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٤٢ (١٧٨٤)، (تحفة الأشراف: ٣٦١٤) (ضعیف) (سند میں ابوجعفر مجہول راوی ہیں، اور محمد علی اور ان کے دادا یعنی رکانہ کے درمیان انقطاع ہے )
اہل مدینہ کے ایک شیخ کہتے ہیں میں نے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے عمامہ باندھا تو اس کا شملہ میرے آگے اور پیچھے دونوں جانب لٹکایا۔
Narrated Abdur Rahman ibn Awf (RA) : The Messenger of Allah ﷺ put a turban on me and let the ends hang in front of him and behind me.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٧٣١) (ضعیف) (شیخ مدینہ مبہم ہے )