علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ منیٰ میں چل رہا تھا کہ اچانک ان کی ملاقات عثمان ؓ سے ہوگئی تو وہ ان کو لے کر خلوت میں گئے، جب عبداللہ بن مسعود ؓ نے محسوس کیا کہ انہیں (شادی کی) ضرورت نہیں ہے تو مجھ سے کہا: علقمہ! آجاؤ ١ ؎ تو میں گیا تو عثمان ؓ عنہ ٢ ؎ نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم آپ کی شادی ایک کنواری لڑکی سے نہ کرا دیں، شاید آپ کی دیرینہ طاقت و نشاط واپس آجائے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: اگر آپ ایسی بات کہہ رہے ہیں تو میں تو اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سن چکا ہوں کہ تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کرلینا چاہیئے کیونکہ یہ نگاہ کو خوب پست رکھنے والی اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والی چیز ہے اور جو تم میں سے اس کے اخراجات کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس پر روزہ ہے، یہ اس کی شہوت کے لیے توڑ ہوگا ٣ ؎۔
Alqamah said “I was going with Abd Allaah bin Masud at Mina where Uthman met him and desired to have a talk with him in privacy”. When Abd Allaah (bin Masud) thought there was no need of privacy, he said to me “Come, Alqamah So I came (to him)”. Then Uthman said to him “Should we not marry you, Abu Abd Al Rahman to a virgin girl, so that the power you have lost may return to you?” Abd Allaah (bin Masud) said “If you say that, I heard the Messenger of Allah ﷺ say “ Those of you who can support a wife, should marry, for it keeps you from looking at strange women and preserve from unlawful intercourse, but those who cannot should devote themselves to fasting, for it is a means of suppressing sexual desire.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اب خلوت کی ضرورت نہیں رہ گئی۔ ٢ ؎: ہوسکتا ہے کہ ابن مسعود ؓ نے علقمہ سے وہ گفتگو بیان کی ہو جو عثمان نے خلوت میں ان سے کی تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ عثمان ؓ نے علقمہ ؓ کے آنے کے بعد اپنی بات پوری کرتے ہوئے علقمہ کی موجودگی میں اسے عبداللہ بن مسعود ؓ سے کہا ہو۔ ٣ ؎: آدمی جب نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو اس کے لئے نکاح کرنا مسنون ہے، اور بعض کے نزدیک اگر گناہ میں پڑجانے کا خطرہ ہو تو واجب یا فرض ہے، اس کے فوائد یہ ہیں کہ اس سے افزائش نسل کے علاوہ شہوانی جذبات کو تسکین ملتی ہے، اور زنا فسق و فجور سے آدمی کی حفاظت ہوتی ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عورتوں سے نکاح چار چیزوں کی بنا پر کیا جاتا ہے: ان کے مال کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کی خوبصورتی کی بنا پر، اور ان کی دین داری کے سبب، تم دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیاب بن جاؤ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying “Women may be married for four reasons: for her property, her ranks, her beauty and her religiosity. So get the one who is religious and prosper (lit. may your hands cleave to the dust). ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عام طور پر عورت سے نکاح انہیں چار چیزوں کے سبب کیا جاتا ہے، ایک دیندار مسلمان کو چاہیے کہ ان سب اسباب میں دین کو ترجیح دے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا تم نے شادی کرلی؟ میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: کنواری سے یا غیر کنواری سے؟ میں نے کہا غیر کنواری سے، آپ ﷺ نے فرمایا: کنواری سے کیوں نہیں کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ۔
Jabir bin Abdullah said “The Messenger of Allah ﷺ said to me “Did you marry?” I said “Yes”. He again said “Virgin or Non Virgin (woman previously married)?” I said “Non Virgin”. He said “Why (did you) not (marry) a virgin with whom you could sport and she could sport with you.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میری عورت کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے سے جدا کر دو ، اس شخص نے کہا: مجھے ڈر ہے میرا دل اس میں لگا رہے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man came to the Prophet ﷺ , and said: My wife does not prevent the hand of a man who touches her. He said: Divorce her. He then said: I am afraid my inner self may covet her. He said: Then enjoy her.
معقل بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: مجھے ایک عورت ملی ہے جو اچھے خاندان والی ہے، خوبصورت ہے لیکن اس سے اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس سے شادی کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، پھر وہ آپ کے پاس دوسری بار آیا تو بھی آپ ﷺ نے اس کو منع فرمایا، پھر تیسری بار آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: خوب محبت کرنے والی اور خوب جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ (بروز قیامت) میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا ۔
Narrated Maqil ibn Yasar (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and said: I have found a woman of rank and beauty, but she does not give birth to children. Should I marry her? He said: No. He came again to him, but he prohibited him. He came to him third time, and he (the Prophet) said: Marry women who are loving and very prolific, for I shall outnumber the peoples by you.
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ روایت کرتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی ؓ قیدیوں کو مکہ سے اٹھا لایا کرتے تھے، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی، مرثد ؓ کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے شادی کرلوں؟ آپ ﷺ خاموش رہے تو آیت کریمہ والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرک نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور اسے پڑھ کر سنایا اور فرمایا: تم اس سے شادی نہ کرنا ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: Marthad ibn Abu Marthad al-Ghanawi used to take prisoners (of war) from Makkah (to Madina). At Makkah there was a prostitute called Inaq who had illicit relations with him. (Marthad said:) I came to the Prophet ﷺ and said to him: May I marry Inaq, Messenger of Allah? The narrator said: He kept silence towards me. Then the verse was revealed: . . . . and the adulteress none shall marry save and adulterer or an idolater. He called me and recited this (verse) to me, and said: Do not marry her.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنی جیسی عورت ہی سے شادی کرے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The adulterer who has been flogged shall not marry save the one like him. Abu Mamar said: Habib al-Muallim narrated (this tradition) to us on the authority of Amr ibn Shuayb.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٣٠٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢٤) (صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن (عزہ) میں رغبت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تو میں کیا کروں ، انہوں نے کہا: آپ ان سے نکاح کرلیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری بہن سے؟ انہوں نے کہا، ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم یہ (سوکن) پسند کرو گی؟ انہوں نے کہا: میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں جتنی عورتیں میرے ساتھ خیر میں شریک ہیں ان سب میں اپنی بہن کا ہونا مجھے زیادہ پسند ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے کہا: اللہ کی قسم مجھے تو بتایا گیا ہے کہ آپ درہ یا ذرہ بنت ابی سلمہ (یہ شک زہیر کو ہوا ہے) کو پیغام دے رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ام سلمہ کی بیٹی کو؟ کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم (وہ تو میری ربیبہ ہے) اگر ربیبہ نہ بھی ہوتی تو وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی کیونکہ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور اس کے باپ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے لہٰذا تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ پر (نکاح کے لیے) پیش نہ کیا کرو ۔
Umm Salamah reported Umm Habibah said “Are you interested in my sister, Messenger of Allah ﷺ ?” He said “What should I do?” She said “You marry her” He said “Your sister?” She said “Yes”. He said “Do you like that?” she said “I am not alone with you of those who share me in this good, my sister is most to my liking. He said “She is not lawful for me. ” She said “By Allaah, I was told that you were going to betroth with you Darrah to Durrah, the narrator Zuhair doubted the daughter of Abu Salamah. He said “The daughter of Umm Salamah? She said “Yes”. He said “ (She is my step daughter). Even if she had not been my step daughter under my protection, she would not have been lawful for me. She is my foster niece (daughter of my brother by fosterage). Thuwaibah suckled me as well as his father (Abu Salamah). So do not present to me your daughters and your sisters.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس افلح بن ابوقعیس آئے تو میں نے پردہ کرلیا، انہوں نے کہا: مجھ سے پردہ کر رہی ہو، میں تو تمہارا چچا ہوں؟ میں نے کہا: چچا کس طرح سے؟ انہوں نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے نہ کہ مرد نے، پھر میرے یہاں جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے سارا واقعہ آپ سے بیان کردیا، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں، وہ تمہارے پاس آسکتے ہیں ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Aflah ibn AbulQuays entered upon me. I hid myself from him. He said: You are hiding yourself from me while I am your paternal uncle. She said: I said: From where? He said: The wife of my brother suckled you. She said: The woman suckled me and not the man. Thereafter the Messenger of Allah ﷺ entered upon me and I told him this matter. He said: He is your paternal uncle; he may enter upon you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٦٣٧٣، ١٦٩١٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٤)، صحیح مسلم/الرضاع ٢ (١٤٤٥)، سنن النسائی/النکاح ٤٩ (٣٣٠٣)، موطا امام مالک/ الرضاع ١(٣)، مسند احمد (٦/١٩٤، ٢٧١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، ان کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا، (حفص کی روایت میں ہے) آپ ﷺ کو یہ بات ناگوار گزری، آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا (پھر حفص اور شعبہ دونوں کی روایتیں متفق ہیں) عائشہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول یہ تو میرا رضاعی بھائی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھی طرح دیکھ لو کون تمہارے بھائی ہیں؟ کیونکہ رضاعت تو غذا سے ثابت ہوتی ہے ١ ؎۔
Aishah said the Messenger of Allah ﷺ visited her when a man was with her. The narrator Hafs said “this grieved him and he frowned”. The agreed version then goes, She said “He is my foster brother Messenger of Allah ﷺ ”. He said “Consider, who are you brethren, for fosterage is consequent on hunger. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حرمت اس رضاعت سے ثابت ہوتی ہے جو بچپن کی ہو اور دودھ ہی اس کی غذا ہو۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا رضاعت وہی ہے جو ہڈی کو مضبوط کرے اور گوشت بڑھائے، تو ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہا: اس عالم کی موجودگی میں تم لوگ ہم سے مسئلہ نہ پوچھا کرو۔
Abd Allaah bin Masud said “Fosterage is not valid except by what strengthens love and grows flesh. ” Abu Musa said “Do not ask us so long as this learned man is among us”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٦٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٣٢) (ضعیف) (اس کے رواة: ابوموسی ہلالی، ان کے والد مجہول اور ابن مسعود ؓ کے بیٹے مبہم ہیں )
اس سند سے بھی ابن مسعود ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے لیکن اس میں: شد العظم کے بجائے أنشز العظم کا لفظ ہے۔
The aforesaid tradition has also been narrated by Ibn Masud through a different chain of narrators and to the same effect from the Prophet ﷺ . This version has the words anshaz al-‘azma meaning which nourishes bones and makes them sturdy and vigorous.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٩٦٣٨) (ضعیف) (پچھلی روایت دیکھئے )
ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس نے سالم کو (جو کہ ایک انصاری عورت کے غلام تھے) منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، جس طرح کہ نبی اکرم ﷺ نے زید ؓ کو بنایا تھا، اور اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے ان کا نکاح کرا دیا، زمانہ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کو لوگ اپنی طرف منسوب کرتے تھے اور اسے ان کی میراث بھی دی جاتی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں آیت: ادعوهم لآبائهم سے فإخوانکم في الدين ومواليكم ١ ؎ تک نازل فرمائی تو وہ اپنے اصل باپ کی طرف منسوب ہونے لگے، اور جس کے باپ کا علم نہ ہوتا اسے مولیٰ اور دینی بھائی سمجھتے۔ پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو قرشی ثم عامری جو کہ ابوحذیفہ کی بیوی تھیں آئیں اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے تھے، اور مجھے گھر کے کپڑوں میں کھلا دیکھتے تھے اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے بارے میں جو حکم نازل فرما دیا ہے وہ آپ کو معلوم ہی ہے لہٰذا اب اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: انہیں دودھ پلا دو ، چناچہ انہوں نے انہیں پانچ گھونٹ دودھ پلا دیا، اور وہ ان کے رضاعی بیٹے ہوگئے، اسی کے پیش نظر ام المؤمنین عائشہ ؓ اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ اس شخص کو پانچ گھونٹ دودھ پلا دیں جسے دیکھنا یا اس کے سامنے آنا چاہتی ہوں گرچہ وہ بڑی عمر کا آدمی ہی کیوں نہ ہو پھر وہ ان کے پاس آتا جاتا، لیکن ام المؤمنین ام سلمہ ؓ اور دیگر ازواج مطہرات نے اس قسم کی رضاعت کا انکار کیا جب تک کہ دودھ پلانا بچپن میں نہ ہو اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: اللہ کی قسم ہمیں یہ معلوم نہیں شاید یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے صرف سالم کے لیے رخصت رہی ہو نہ کہ دیگر لوگوں کے لیے ٢ ؎۔
Aishah wife of the Prophet ﷺ and Umm Salamah said “Abu Hudaifah bin ‘Utbah bin Rabiah bin Abd Shams adopted Salim as his son and married him to his niece Hind, daughter of Al Walid bin ‘Utbah bin Rabiah. He (Salim) was the freed slave of a woman from the Ansar (the Helpers) as the Messenger of Allah ﷺ adopted Zaid as his son. In pre Islamic days when anyone adopted a man as his son, the people called him by his name and he was given a share from his inheritance. Allaah, the Exalted, revealed about this matter “Call them by (the name of) their fathers, that is juster in the sight of Allaah. And if ye know not their fathers, then (they are) your brethren in the faith and your clients. They were then called by their names of their fathers. A man, whose father was not known, remained under the protection of someone and considered brother in faith. Sahlah daughter of Suhail bin Amr Al Quraishi then came and said Messenger of Allah ﷺ , we used to consider Salim (our) son. He dwelled with me and Abu Hudhaifah in the same house, and he saw me in the short clothes, but Allaah the Exalted, has revealed about them what you know, then what is your opinion about him? The Prophet ﷺ said give him your breast feed. She gave him five breast feeds. He then became like her foster son. Hence, Aisha (RA) (may Allaah be pleased with her) used to ask the daughters of her sisters and the daughters of her brethren to give him breast feed five times, whom Aisha (RA) wanted to see and who wanted to visit her. Though he might be of age; he then visited her. But Umm Salamah and all other wives of the Prophet ﷺ refused to allow anyone to visit them on the basis of such breast feeding unless one was given breast feed during infancy. They told Aisha (RA) by Allaah we do not know whether that was a special concession granted by the Prophet ﷺ to Salim exclusive of the people.
Notes · وضاحت
١ ؎: سورة الأحزاب: ( ٥) ٢ ؎: جمہور کی رائے یہی ہے کہ یہ سالم کے ساتھ خاص ہے، کچھ علماء یہ کہتے ہیں کہ خصوصیت کی کوئی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے اس حکم کو برقرار مانا جائے اگر واقعی سالم جیسا معاملہ پیش آجائے اور رضاعی ماں بننے کے لئے دودھ پلایا جائے تو رضاعت ثابت ہوجائے گی۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں نازل کی ہیں ان میں عشر رضعات يحرمن والی آیت بھی تھی پھر یہ آیت خمس معلومات يحرمن والی آیت سے منسوخ ہوگئی، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوگئی اور یہ آیتیں پڑھی جا رہی تھیں (یعنی بعض لوگ پڑھتے تھے پھر وہ بھی متروک ہوگئیں) ۔
Aishah said “In what was sent down in the Quran ten suckling’s made marriage unlawful, but they were abrogated by five known ones and when the Prophet ﷺ dies, these words were among what was recited in the Quran. ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ٦ (١٤٥٢)، سنن الترمذی/الرضاع ٣ (١١٥٠)، سنن النسائی/النکاح ٥١ (٣٣٠٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٥ (١٩٤٤، ١٩٤٢)، ( تحفة الأشراف: ١٧٨٩٧، ١٧٩١١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الرضاع ٣ (١٧)، مسند احمد (٦/٢٦٩)، سنن الدارمی/النکاح ٤٩ (٢٢٩٩) (صحیح )
حجاج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دودھ پلانے کا حق مجھ سے کس طرح ادا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: لونڈی یا غلام (دودھ پلانے والی کو خدمت کے لیے دے دینے) سے ۔
Narrated Hajjaj ibn Malik al-Aslami (RA) : I asked: Messenger of Allah, what will remove from me the obligation due for fostering a child? He said: A slave or a slave-woman.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الرضاع ٦ (١١٥٣)، سنن النسائی/النکاح ٥٦ (٣٣٣١)، (تحفة الأشراف: ٣٢٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٠)، سنن الدارمی/النکاح ٥٠ (٢٣٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی حجاج بن حجاج بن مالک لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھوپھی کے نکاح میں رہتے ہوئے بھتیجی سے نکاح نہیں کیا جاسکتا، اور نہ بھتیجی کے نکاح میں رہتے ہوئے پھوپھی سے نکاح درست ہے، اسی طرح خالہ کے نکاح میں رہتے ہوئے بھانجی سے نکاح نہیں کیا جاسکتا ہے، اور نہ ہی بھانجی کے نکاح میں رہتے ہوئے خالہ سے نکاح درست ہے، غرض یہ کہ چھوٹی کے رہتے ہوئے بڑی سے اور بڑی کے رہتے ہوئے چھوٹی سے نکاح جائز نہیں ہے ١ ؎۔
Abu Hurairah reported The Messenger of Allah ﷺ as saying “ A woman should not be married to one who had married her paternal aunt or a paternal aunt to one who had married her brother’s daughter or a woman to one who had married her maternal aunt or maternal aunt to one who had married her sister’s daughter. A woman who is elder (in relation) must not be married to one who had married a woman who is younger (in relation) to her nor a woman who is younger (in relation) must be married to one who has married a woman who is elder (in relation) to her. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: ہاں اگر ایک مرجائے یا اس کو طلاق دیدے تو دوسری سے شادی کرسکتا ہے۔