Sunan Abu Dawood 2047

نکاح کا بیان

2047Sunan Abu Dawood

دیندار عورت سے نکاح کرنا مقدم ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عورتوں سے نکاح چار چیزوں کی بنا پر کیا جاتا ہے: ان کے مال کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کی خوبصورتی کی بنا پر، اور ان کی دین داری کے سبب، تم دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیاب بن جاؤ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ١ ؎۔

Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying “Women may be married for four reasons: for her property, her ranks, her beauty and her religiosity. So get the one who is religious and prosper (lit. may your hands cleave to the dust). ”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عام طور پر عورت سے نکاح انہیں چار چیزوں کے سبب کیا جاتا ہے، ایک دیندار مسلمان کو چاہیے کہ ان سب اسباب میں دین کو ترجیح دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١٥ (٥٠٩٠)، صحیح مسلم/الرضاع ١٥ (١٤٦٦)، سنن النسائی/النکاح ١٣ (٣٢٣٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦ (١٨٥٨)، مسند احمد (٢/٤٢٨)، سنن الدارمی/النکاح ٤ (٢٢١٦)، ( تحفة الأشراف: ١٤٣٠٥) (صحیح )