Sunan Abu Dawood 2058

نکاح کا بیان

2058Sunan Abu Dawood

بڑے ہو کر دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، قَالَ حَفْصٌ: فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَ: انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، ان کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا، (حفص کی روایت میں ہے) آپ ﷺ کو یہ بات ناگوار گزری، آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا (پھر حفص اور شعبہ دونوں کی روایتیں متفق ہیں) عائشہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول یہ تو میرا رضاعی بھائی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھی طرح دیکھ لو کون تمہارے بھائی ہیں؟ کیونکہ رضاعت تو غذا سے ثابت ہوتی ہے ١ ؎۔

Aishah said the Messenger of Allah ﷺ visited her when a man was with her. The narrator Hafs said “this grieved him and he frowned”. The agreed version then goes, She said “He is my foster brother Messenger of Allah ﷺ ”. He said “Consider, who are you brethren, for fosterage is consequent on hunger. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حرمت اس رضاعت سے ثابت ہوتی ہے جو بچپن کی ہو اور دودھ ہی اس کی غذا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٧)، والنکاح ٢٢ (٥١٠٢)، صحیح مسلم/الرضاع ٨ (١٤٥٥)، سنن النسائی/النکاح ٥١ (٣٣١٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٧ (١٩٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٩٤، ١٣٨، ١٧٤، ٢٤١)، سنن الدارمی/النکاح ٥٢ (٢٣٠٢) (صحیح )