عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے پھوپھی اور خالہ کو (نکاح میں) جمع کرنے، اسی طرح دو خالاؤں اور دو پھوپھیوں کو (نکاح میں) جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ abominated the combination of paternal and maternal aunts and the combination of two maternal aunts and two paternal aunts in marriage.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٠٧٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح ٣٠ (١١٢٥)، مسند احمد (١/٢١٧) (ضعیف) (اس کے راوی خصیف حافظہ کے ضعیف ہیں )
عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانکحواء ما طاب لکم من النساء سورة النساء ١ ؎ کے بارے میں دریافت کیا تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے، جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ شریک ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کئے نکاح کرنا چاہتا ہو (یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو) چناچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا، اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کرسکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلیں۔ عروہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے نزول کے بعد یتیم لڑکیوں کے بارے میں حکم دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: ويستفتونک في النساء قل الله يفتيكم فيهن وما يتلى عليكم في الکتاب في يتامى النساء اللاتي لا تؤتونهن ما کتب لهن وترغبون أن تنکحوهن ٢ ؎ ام المؤمنین عائشہ نے کہا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ ان پر کتاب میں پڑھی جاتی ہیں اس سے مراد پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانکحواء ما طاب لکم من النساء اور اس دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے قول: وترغبون أن تنکحوهن سے یہی غرض ہے کہ تم میں سے کسی کی پرورش میں کم مال والی کم حسن والی یتیم لڑکی ہو تو وہ اس کے ساتھ نکاح سے بےرغبتی نہ کرے چناچہ انہیں منع کیا گیا کہ مال اور حسن کی بنا پر یتیم لڑکیوں سے نکاح کی رغبت کریں، ہاں انصاف کی شرط کے ساتھ درست ہے۔ یونس نے کہا کہ ربیعہ نے اللہ کے فرمان: وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اگر تمہیں یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر پانے کا ڈر ہو تو انہیں چھوڑ دو (کسی اور عورت سے نکاح کرلو) میں نے تمہارے لیے چار عورتوں سے نکاح جائز کردیا ہے۔
Ibn Shihab said “Urwah bin Al Zubair asked Aisha (RA) , wife of the Prophet ﷺ about the Quranic verse “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you. ” She said “O my nephew, this means the female orphan who is under the protection of her guardian and she holds a share in his property and her property and beauty attracts him; so her guardian intends to marry her without doing justice to her in respect of her dower and he gives her the same amount of dower as others give her. They (i. e., the guardians) were prohibited to marry them except that they do justice to them and pay them their maximum customary dower and they were asked to marry women other than them (i. e., the orphans) who seem good to them. Urwah reported that Aisha (RA) said “The people then consulted the Messenger of Allah ﷺ about women after revelation of this verse. Thereupon Allaah the Exalted sent down the verse “They consult thee concerning women. Say Allaah giveth you decree concerning them and the scripture which hath been recited unto you (giveth decree) concerning female orphans unto whom you give not that which is ordained for them though you desire to marry them. “ She said “The mention made by Allaah about the Scripture recited to them refers to the former verse in which Allaah has said “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you. ” Aisha (RA) said “The pronouncement of Allaah, the Exalted in the latter verse “though you desire to marry them” means the disinterest of one of you in marrying a female orphan who was under his protection, but she said little property and beauty. So they were prohibited to marry them for their interest in the property and beauty of the female orphans due to their disinterest in themselves except that they do justice )to them). The narrator Yunus said “Rabiah said explain the Quranic verse “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans” means “Leave them if you fear (that you will not do justice to them), for I have made four women lawful for you. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر تمہیں یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر پانے کا ڈر ہو تو تم ان عورتوں سے نکاح کرلو جو تمہیں اچھی لگیں (سورۃ النساء: ٣) ٢ ؎: لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے، اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں، جنہیں تم ان کا مقرر حق نہیں دیتے اور انہیں اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو (سورۃ النساء: ١٢٦ )
علی بن حسین کا بیان ہے وہ لوگ حسین بن علی ؓ کی شہادت کے زمانے میں یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ آئے تو ان سے مسور بن مخرمہ ؓ ملے اور کہا: اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے تو میں نے ان سے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی تلوار دے سکتے ہیں؟ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ آپ سے اسے چھین لیں گے، اللہ کی قسم! اگر آپ اسے مجھے دیدیں گے تو اس تک کوئی ہرگز نہیں پہنچ سکے گا جب تک کہ وہ میرے نفس تک نہ پہنچ جائے ١ ؎۔ علی بن ابوطالب ؓ نے فاطمہ ؓ کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی ٢ ؎ کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو اپنے اسی منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، اس وقت میں جوان تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: فاطمہ میرا ٹکڑا ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ دین کے معاملہ میں کسی آزمائش سے دو چار نہ ہوجائے ، پھر آپ ﷺ نے بنی عبد شمس میں سے اپنے ایک داماد کا ذکر فرمایا، اور اس رشتہ دامادی کی خوب تعریف کی، اور فرمایا: جو بات بھی اس نے مجھ سے کی سچ کر دکھائی، اور جو بھی وعدہ کیا پورا کیا، میں کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال قطعاً نہیں کر رہا ہوں لیکن اللہ کی قسم، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ہرگز ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی ۔
Ali bin al-Hussain said that when they returned to Madeenah from Yazid bin Muawiyah the place of massacre of Al Hussain bin Ali (may Allaah be pleased with him) Al Miswar bin Makhramah met them and said “tell me if you have any need for me. I said to him “No”. He then said Will you not give me the sword of the Messenger of Allah ﷺ ? I fear the people may not take it from you by force. (He said) By Allaah if you give it to me no one can take it from me so long as I am alive. Ali bin Abi Talib (may Allaah be pleased with him) asked for the hand of Abu Jahl’s daughter in marriage after the marriage with Fathima. I heard the Messenger of Allah ﷺ say while he was addressing the people about this matter on the pulpit and I was mature in those days. Fathima is from me and I am not afraid that she will be tried in respect of her religion. He then mentioned his other son-in-law who belonged to Banu Abd Shams. He admired him immensely for his relationship with him and extolled him well. He said “He talked to me and talked truly and he made promise with me and fulfilled it. I do not make lawful what Is unlawful and unlawful what is lawful. But, by Allaah the daughter of the Messenger of Allah ﷺ and the daughter of the enemy of Allaah can never be combined together.
Notes · وضاحت
١ ؎: جب تک میری جان میں جان رہے گی اسے کوئی مجھ سے نہیں لے سکتا۔ ٢ ؎: امام ابن قیم کہتے ہیں کہ اس حدیث میں ہر طرح سے رسول اکرم ﷺ کو ایذاء پہنچانے کی حرمت ہے چاہے وہ کسی مباح کام کرنے سے ہو، اگر اس کام سے رسول اکرم ﷺ کو ایذاء پہنچے تو ناجائز ہوگا، ارشاد باری ہے: وما کان لکم أن تؤذوا رسول الله۔
ابن ابی ملیکہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو علی ؓ نے اس نکاح سے خاموشی اختیار کرلی۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Ibn Abi Mulaikah. He said “Ali (Allaah be pleased with him) then kept silence about the marriage (i. e., marrying Abi Jahl’s daughter)
مسور بن مخرمہ ؓ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے ١ ؎ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرانے کی اجازت مجھ سے مانگی ہے تو میں اجازت نہیں دیتا، میں اجازت نہیں دیتا، میں اجازت نہیں دیتا، ہاں اگر علی ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں، کیونکہ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جو اسے برا لگتا ہے وہ مجھے بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف ہوتی ہے مجھے بھی ہوتی ہے ۔
Al Miswar bin Makramah said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say on the pulpit Banu Hashim bin Al Mughirah sought permission from me to marry their daughter to Ali bin Abi Talib. But I do not permit, again, I do not permit, again, I do not permit except that Ibn Abi Talib divorces my daughter and marries their daughter. My daughter is my part, what makes her uneasy makes me uneasy and what troubles her troubles me. The full information rests with the tradition narrated by Ahmad.
Notes · وضاحت
١ ؎: ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں سے مراد ابوالحکم عمرو بن ہشام جسے ابوجہل کہتے ہیں کے بھائی حارث بن ہشام اور سلمہ بن ہشام ہیں جو فتح مکہ کے سال اسلام لے آئے تھے اور اس میں ابوجہل کے بیٹے عکرمہ بھی داخل ہیں جو سچے مسلمان تھے۔
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ہم عمر بن عبدالعزیز کے پاس تھے تو عورتوں سے نکاح متعہ ١ ؎ کا ذکر ہم میں چل پڑا، تو ان میں سے ایک آدمی نے جس کا نام ربیعہ بن سبرہ تھا کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر متعہ سے منع کردیا ہے ٢ ؎۔
Al Zuhri said “we were with Umar bin Abd Al Aziz, there we discussed temporary marriage. A man called Rabi bin Saburah said “I bear witness that my father told me that the Messenger of Allah ﷺ had prohibited it at the Farewell Pilgrimage. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: متعین مدت کے لئے نکاح کرنے کو نکاح متعہ کہتے ہیں۔ ٢ ؎: یہ نکاح کئی بار حلال ہوا پھر آخر میں حرام ہوگیا، اور اب اس کی حرمت قیامت تک کے لئے ہے، ائمہ اسلام اور علماء سنت کا یہی مذہب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٣ (١٤٠٦)، سنن النسائی/النکاح ٧١ (٣٣٧٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٤ (١٩٦٢)، ( تحفة الأشراف: ٣٨٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٤، ٤٠٥)، سنن الدارمی/النکاح ١٦ (٢٢٤٢) (حجة الوداع کا لفظ شاذ ہے صحیح مسلم میں فتح مکہ ہے، اور یہی صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ مسدد نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے: میں نے نافع سے پوچھا: شغار ١ ؎ کیا ہے؟ انہوں نے کہا آدمی کسی کی بیٹی سے نکاح (بغیر مہر کے) کرے، اور اپنی بیٹی کا نکاح اس سے بغیر مہر کے کر دے اسی طرح کسی کی بہن سے (بغیر مہر کے) نکاح کرے اور اپنی بہن کا نکاح اس سے بغیر مہر کے کر دے ٢ ؎۔
Ibn Umar said “The Messenger of Allah ﷺ prohibited shighar marriage. Musaddad added in his version “I said to Nafi “What is shighar?” (It means that) a man marries the daughter of another man and gives his own daughter to him in marriage without fixing dower; and a man marries the sister of another man and gives him his sister in marriage without fixing dower.
Notes · وضاحت
١ ؎: نکاح شغار ایک قسم کا نکاح تھا، جو جاہلیت میں رائج تھا، جس میں آدمی اپنی بیٹی یا بہن کی اس شرط پر دوسرے سے شادی کردیتا کہ وہ بھی اپنی بیٹی یا بہن کی اس سے شادی کر دے، گویا اس کو مہر سمجھتے تھے، اسلام نے اس طرح کے نکاح سے منع کردیا، ہاں اگر شرط نہ ہو، اور الگ الگ مہر ہو تو جائز ہے۔ وضاحت ٢ ؎: یعنی ہر ایک اپنی بیٹی یا بہن ہی کو اپنی بیوی کا مہر قرار دے۔
ابن اسحاق سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن ہرمزاعرج نے مجھ سے بیان کیا کہ عباس بن عبداللہ بن عباس نے اپنی بیٹی کا نکاح عبدالرحمٰن بن حکم سے کردیا اور عبدالرحمٰن نے اپنی بیٹی کا نکاح عباس سے کردیا اور ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے سے اپنی بیٹی کے شادی کرنے کو اپنی بیوی کا مہر قرار دیا تو معاویہ نے مروان کو ان کے درمیان جدائی کا حکم لکھ کر بھیجا اور اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ یہی وہ نکاح شغار ہے جس سے اللہ کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
Abdur Rahman ibn Hurmuz al-Araj said: Al-Abbas ibn Abdullah ibn al-Abbas married his daughter to Abdur Rahman ibn al-Hakam, and Abdur Rahman married his daughter to him. And they made this (exchange) their dower. Muawiyah wrote to Marwan commanding him to separate them. He wrote in his letter: This is the shighar which the Messenger of Allah ﷺ has forbidden.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، مسند احمد (٤/٩٤)، ( تحفة الأشراف: ١١٤٢٩) (حسن )
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر اللہ نے لعنت کی ہے ١ ؎۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: (The narrator Ismail said: I think ash-Shabi attributed this tradition to the Prophet) The Prophet ﷺ said: Curse be upon the one who marries a divorced woman with the intention of making her lawful for her former husband and upon the one for whom she is made lawful.
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح بہ نیت حلالہ باطل ہے اور ایسا کرنے والا اللہ کے غضب کا مستحق ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٢٧ (١١١٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٣ (١٩٣٥)، ( تحفة الأشراف: ١٠٠٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٧، ١٠٧، ١٢١، ١٥٠، ١٥٨) (صحیح )
حارث الاعور ؓ ایک صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ وہ علی ؓ ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Ali through a different chain of narrators from the Prophet ﷺ to the same effect.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ١٠٠٣٤) (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف، اور موقوف ہے، یہ ابن عمر ؓ کا قول ہے۔
Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as saying “If a slave marries without the permission of his master, his marriage is null and void. Abu Dawud said “This tradition is weak. This is mauquf (does not go back to the Prophet). This is the statement of the Ibn Umar himself.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٧٧٢٨) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن عمر عمری ضعیف ہیں، انہوں نے موقوف کو مرفوع بنا ڈالا ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “ A man should not seek the hand of a woman in marriage when his brother has already sought her hand. ”
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ تو اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر پیغام دے اور نہ اس کے سودے پر سودا کرے البتہ اس کی اجازت سے درست ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: One of you must not ask a woman in marriage when his brother has done so already, and one of you must not sell (his own goods) when his brother has already sold (his goods) except with his permission.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب ایک مسلمان کی کسی جگہ شادی طے ہو، تو دوسرے کے لئے وہاں پیغام دینا جائز نہیں، کیونکہ اس میں دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہے، اور اگر ابھی نسبت طے نہیں ہے، تو پیغام دینے میں کوئی مضائقہ و حرج نہیں۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت کو پیغام نکاح دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز کو دیکھ لے جو اسے اس سے نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے ١ ؎۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک لڑکی کو پیغام دیا تو میں اسے چھپ چھپ کر دیکھتا تھا یہاں تک کہ میں نے وہ بات دیکھ ہی لی جس نے مجھے اس کے نکاح کی طرف راغب کیا تھا، میں نے اس سے شادی کرلی۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you asked a woman in marriage, if he is able to look at what will induce him to marry her, he should do so. He (Jabir) said: I asked a girl in marriage, I used to look at her secretly, until I looked at what induced me to marry her. I, therefore, married her.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس عورت سے آدمی نکاح کرنا چاہے وہ اسے دیکھ سکتا ہے، یہ مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣١٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٤) (حسن )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے ، آپ ﷺ نے اسے تین بار فرمایا، (پھر فرمایا) اگر اس مرد نے ایسی عورت سے جماع کرلیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے اور اگر ولی اختلاف کریں ١ ؎ تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو ٢ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: The marriage of a woman who marries without the consent of her guardians is void. (He said these words) three times. If there is cohabitation, she gets her dower for the intercourse her husband has had. If there is a dispute, the sultan (man in authority) is the guardian of one who has none.
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً ایک عورت کے دو بھائی ہوں ایک کسی کے ساتھ اس کا نکاح کرنا چاہے دوسرا کسی دوسرے کے ساتھ اور عورت نابالغ ہو اور یہ اختلاف نکاح ہونے میں آڑے آئے اور نکاح نہ ہونے دے تو ایسی صورت میں یہ فرض کر کے کہ گویا اس کا کوئی ولی ہی نہیں ہے سلطان اس کا ولی ہوگا ورنہ ولی کی موجودگی میں سلطان کو ولایت کا حق حاصل نہیں۔ ٢ ؎: اس حدیث سے صاف معلوم ہوا کہ نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے، خواہ عورت بالغ ہو یا نابالغ، یہی ائمہ حدیث کا مذہب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ١٤ (١١٠٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٥ (١٨٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٦٢)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ النکاح (٥٣٩٤)، مسند احمد (٦/٦٦، ١٦٦، ٢٦٠)، سنن الدارمی/النکاح ١١ (٢٢٣٠) (صحیح )
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
This tradition has also been transmitted by Aisha (RA) through a different chain of narrators from the Prophet ﷺ to the same effect. Abu Dawud said “Jafar did not hear any tradition from Al Zuhri. Al Zuhri gave him his writing. ”
ابوموسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے ۔
Narrated Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said: There is no marriage without the permission of a guardian. Abu Dawud said: The narrator Yunus also transmitted on the authority of Abu Burdah, and Israil narrated from Abu Ishaq on the authority of Abu Burdah.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ١٤ (١١٠١)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٥ (١٨٨١)، ( تحفة الأشراف: ٩١١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٤، ٤١٣، ٤١٨)، سنن الدارمی/النکاح ١١ (٢٢٢٩) (صحیح )