Sunan Abu Dawood 2081

نکاح کا بیان

2081Sunan Abu Dawood

رشتہ پر رشتہ بھیجنا جائز نہیں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ /agt;، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَبِيعْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، إِلَّا بِإِذْنِهِ. قالَ سُفْيَانُ: لا يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ صَاحِبِهِ يَقُولُ عِنْدِي خَيْرٌ مِنْهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ تو اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر پیغام دے اور نہ اس کے سودے پر سودا کرے البتہ اس کی اجازت سے درست ہے ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: One of you must not ask a woman in marriage when his brother has done so already, and one of you must not sell (his own goods) when his brother has already sold (his goods) except with his permission.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب ایک مسلمان کی کسی جگہ شادی طے ہو، تو دوسرے کے لئے وہاں پیغام دینا جائز نہیں، کیونکہ اس میں دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہے، اور اگر ابھی نسبت طے نہیں ہے، تو پیغام دینے میں کوئی مضائقہ و حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٨٠٠٩، ٨١٨٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٤٠)، النکاح ٤٥ (٥١٤٢)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٢)، البیوع ٨ (١٤١٢)، سنن الترمذی/البیوع ٥٧ (١١٣٤)، سنن النسائی/النکاح ٢٠ (٣٢٤٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٠ (١٨٦٨)، موطا امام مالک/النکاح ١(٢)، والبیوع ٤٥(٩٥)، مسند احمد (٢/١٢٢، ١٢٤، ١٢٦، ١٣٠، ١٤٢، ١٥٣)، سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢٢)، البیوع ٣٣ (٢٦٠٩) (صحیح )