قیس بن ابی غرزہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سماسرہ ١ ؎ کہا جاتا تھا، پھر رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزرے تو ہمیں ایک اچھے نام سے نوازا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے سوداگروں کی جماعت! بیع میں لایعنی باتیں اور (جھوٹی) قسمیں ہوجاتی ہیں تو تم اسے صدقہ سے ملا دیا کرو ٢ ؎۔
Narrated Qays ibn Abu Gharazah (RA) : In the time of the Messenger of Allah ﷺ we used to be called brokers, but the Prophet ﷺ came upon us one day, and called us by a better name than that, saying: O company of merchants, unprofitable speech and swearing takes place in business dealings, so mix it with sadaqah (alms).
Notes · وضاحت
١ ؎: سماسرہ: سمسار کی جمع ہے، عجمی لفظ ہے چونکہ عرب میں اس وقت زیادہ تر عجمی لوگ خریدو فروخت کیا کرتے تھے، اس لئے ان کے لئے یہی لفظ رائج تھا، آپ ﷺ نے ان کے لئے تجار کا لفظ پسند کیا جو عربی ہے، سمسار اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بائع اور مشتری کے درمیان دلالی کرتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی صدقہ کر کے اس کی تلافی کرلیا کرو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤ (١٢٠٨)، سنن النسائی/الأیمان ٢١ (٣٨٢٨)، البیوع ٧ (٤٤٦٨)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣ (٢١٤٥)، (تحفة الأشراف: ١١١٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٦، ٢٨٠) ( حسن صحیح )
اس سند سے بھی قیس بن ابی غرزہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں يحضره اللغو والحلف کے بجائے: يحضره الکذب والحلف ہے عبداللہ الزہری کی روایت میں: اللغو والکذب ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Qais bin Abi Gharazah through a different chain of narrators to the same effect. This version has: Lying and swearing have a place on i. Abdullah al-Zuhri said: Unprofitable speech and lying.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے قرض دار کے ساتھ لگا رہا جس کے ذمہ اس کے دس دینار تھے اس نے کہا: میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ تو قرض نہ ادا کر دے، یا ضامن نہ لے آ، یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے قرض دار کی ضمانت لے لی، پھر وہ اپنے وعدے کے مطابق لے کر آیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا: یہ سونا تجھے کہاں سے ملا؟ اس نے کہا: میں نے کان سے نکالا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے (لے جاؤ) اس میں بھلائی نہیں ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف سے (قرض کو) خود ادا کردیا۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man seized his debtor who owed ten dinars to him. He said to him: I swear by Allah, I shall not leave you until you pay off (my debt) to me or bring a surety. The Prophet ﷺ stood as a surety for him. He then brought as much (money) as he promised. The Prophet ﷺ asked: From where did you acquire this gold? He replied: From a mine. He said: We have no need of it; there is no good in it. Then the Messenger of Allah ﷺ paid (the debt) on his behalf.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٩ (٢٤٠٦)، (تحفة الأشراف: ٦١٧٨) (صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: حلال واضح ہے، اور حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں (جن کی حلت و حرمت میں شک ہے) اور کبھی یہ کہا کہ ان کے درمیان مشتبہ چیز ہے اور میں تمہیں یہ بات ایک مثال سے سمجھاتا ہوں، اللہ نے (اپنے لیے) محفوظ جگہ (چراگاہ) بنائی ہے، اور اللہ کی محفوظ جگہ اس کے محارم ہیں (یعنی ایسے امور جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے) اور جو شخص محفوظ چراگاہ کے گرد اپنے جانور چرائے گا، تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر داخل ہوجائے اور جو شخص مشتبہ چیزوں کے قریب جائے گا تو عین ممکن ہے کہ اسے حلال کر بیٹھنے کی جسارت کر ڈالے ۔
Narrated Al-Numan bin Bashir: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: What is lawful is clear and what is unlawful is clear, but between them are certain doubtful things. I give you an example for this. Allah has a preserve, and Allahs preserve is the things He has declared unlawful. He who pastures (his animals) round the preserve will soon fall into it. He who falls into doubtful things will soon be courageous. Narrated Al-Numan bin Bashir: I heard Messenger of Allah ﷺ say: But between them are certain doubtful things which many people do not recognize. He who guards against doubtful things keeps his religion and his honor blameless, but he who falls into doubtful things falls into what is unlawful.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٩ (٥٢)، والبیوع ٢ (٢٠٥١)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٠ (١٥٩٩)، سنن الترمذی/البیوع ١ (١٢٠٥)، سنن النسائی/البیوع ٢ (٤٤٥٨)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٤ (٣٩٨٤)، (تحفة الأشراف: ١١٦٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٧، ٢٦٩، ٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٥)، سنن الدارمی/البیوع ١ (٢٥٧٣) (صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ان دونوں کے درمیان کچھ شبہ کی چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، جو شبہوں سے بچا وہ اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لے گیا، اور جو شبہوں میں پڑا وہ حرام میں پھنس گیا ۔
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٢٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی بھاپ کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ١ ؎۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں أصابه من بخاره کی جگہ أصابه من غباره ہے، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: A time is certainly coming to mankind when only the receiver of usury will remain, and if he does not receive it, some of its vapour will reach him. Ibn Isa said: Some of its dust will reach him.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا کچھ نہ کچھ اثر اس پر ظاہر ہو کر رہے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٢ (٤٤٦٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٨ (٢٢٧٨)، مسند احمد (٢/٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٩٢٠٣، ١٢٢٤١) (ضعیف) (اس کے راوی سعید لین الحدیث ہیں، نیز حسن بصری کا ابوہریرہ ؓ سے سماع ثابت نہیں )
ایک انصاری کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ﷺ قبر پر تھے قبر کھودنے والے کو بتا رہے تھے: پیروں کی جانب سے (قبر) کشادہ کرو اور سر کی جانب سے چوڑی کرو پھر جب آپ ﷺ (وہاں سے فراغت پا کر) لوٹے تو ایک عورت کی جانب سے کھانے کی دعوت دینے والا آپ کے سامنے آیا تو آپ ﷺ (اس کے یہاں) آئے اور کھانا لایا گیا، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ رکھا (کھانا شروع کیا) پھر دوسرے لوگوں نے رکھا اور سب نے کھانا شروع کردیا تو ہمارے بزرگوں نے رسول ﷺ کو دیکھا، آپ ایک ہی لقمہ منہ میں لیے گھما پھرا رہے ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے لگتا ہے یہ ایسی بکری کا گوشت ہے جسے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کر کے پکا لیا گیا ہے پھر عورت نے کہلا بھیجا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک آدمی بقیع کی طرف بکری خرید کر لانے کے لیے بھیجا تو اسے بکری نہیں ملی پھر میں نے اپنے ہمسایہ کو، جس نے ایک بکری خرید رکھی تھی کہلا بھیجا کہ تم نے جس قیمت میں بکری خرید رکھی ہے اسی قیمت میں مجھے دے دو (اتفاق سے) وہ ہمسایہ (گھر پر) نہ ملا تو میں نے اس کی بیوی سے کہلا بھیجا تو اس نے بکری میرے پاس بھیج دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ گوشت قیدیوں کو کھلا دو ١ ؎۔
Asim ibn Kulayb quoted his fathers authority for the following statement by one of the Ansar: We went out with the Messenger of Allah ﷺ to a funeral, and I saw the Messenger of Allah ﷺ at the grave giving this instruction to the grave-digger: Make it wide on the side of his feet, and make it wide on the side of his head. When he came back, he was received by a man who conveyed an invitation from a woman. So he came (to her), to it food was brought, and he put his hand (i. e. took a morsel in his hand); the people did the same and they ate. Our fathers noticed that the Messenger of Allah ﷺ was moving a morsel around his mouth. He then said: I find the flesh of a sheep which has been taken without its owners permission. The woman sent a message to say: Messenger of Allah, I sent (someone) to an-Naqi to have a sheep bought for me, but there was none; so I sent (a message) to my neighbour who had bought a sheep, asking him to send it to me for the price (he had paid), but he could not be found. I, therefore, sent (a message) to his wife and she sent it to me. The Messenger of Allah ﷺ said: Give this food to the prisoners.
Notes · وضاحت
وضاحت ١ ؎: چونکہ بکری، صاحب بکری کی اجازت کے بغیر ذبح کر ڈالی گئی اس لئے یہ مشتبہ گوشت ٹھہرا اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے اپنے آپ کو اس مشتبہ چیز کے کھانے سے بچایا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٩٣، ٤٠٨) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود کے لیے گواہ بننے والے اور اس کے کاتب (لکھنے والے) پر لعنت فرمائی ہے۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ cursed the one who accepted usury, the one who paid it, the witness to it, and the one who recorded it.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقات ١٩ (١٥٩٧)، سنن الترمذی/البیوع ٢ (١٢٠٦)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٨ (٢٢٧٧)، (تحفة الأشراف: ٩٣٥٦)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطلاق ١٣ (٣٤٤٥)، مسند احمد (١/٣٩٢، ٣٩٤، ٤٠٢، ٤٥٣) (صحیح )
عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حجۃ الوداع میں سنا: آپ فرما رہے تھے: سنو! زمانہ جاہلیت کے سارے سود کالعدم قرار دے دیئے گئے ہیں تمہارے لیے بس تمہارا اصل مال ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تم پر ظلم کرے (نہ تم کسی سے سود لو نہ تم سے کوئی سود لے) سن لو! زمانہ جاہلیت کے خون کالعدم کر دئیے گئے ہیں، اور زمانہ جاہلیت کے سارے خونوں میں سے میں سب سے پہلے جسے معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب ١ ؎ کا خون ہے وہ ایک شیر خوار بچہ تھے جو بنی لیث میں پرورش پا رہے تھے کہ ان کو ہذیل کے لوگوں نے مار ڈالا تھا۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ لوگوں نے تین بار کہا: ہاں (آپ نے پہنچا دیا) آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ ۔
Narrated Sulaiman bin Amr (RA) : On the authority of his father: I heard the Messenger of Allah ﷺ say in the Farewell Pilgrimage: Lo, all claims to usury of the pre-Islamic period have been abolished. You shall have your capital sums, deal not unjustly and you shall not be dealt with unjustly. Lo, all claims for blood-vengeance belonging to the pre-Islamic period have been abolished. The first of those murdered among us whose blood-vengeance I remit is al-Harith ibn Abdul Muttalib, who suckled among Banu Layth and killed by Hudhayl. He then said: O Allah, have I conveyed the message? They said: Yes, saying it three times. He then said: O Allah, be witness, saying it three times.
Notes · وضاحت
١ ؎: حارث بن عبدالمطلب ؓ نبی اکرم ﷺ کے چچا تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ١ (١٢٥٩)، تفسیرالقرآن ١٠ (٣٠٨٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٦ (٣٠٥٥)، (تحفة الأشراف: ١١٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٦، ٤٩٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: (جھوٹی) قسم (قسم کھانے والے کے خیال میں) سامان کو رائج کردیتی ہے، لیکن برکت کو ختم کردیتی ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : I heard Messenger of Allah ﷺ say: Swearing produces a ready sale for a commodity but blots out the blessing. The narrator Ibn al-Sarh said: for earning. He also narrated this tradition from Saeed bin al-Musayyab on the authority of Abu Hurairah from the Prophet ﷺ .
سوید بن قیس کہتے ہیں میں نے اور مخرمہ عبدی نے ہجر ١ ؎ سے کپڑا لیا اور اسے (بیچنے کے لیے) مکہ لے کر آئے تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس پیدل آئے، اور ہم سے پائجامہ کے کپڑے کے لیے بھاؤ تاؤ کیا تو ہم نے اسے بیچ دیا اور وہاں ایک شخص تھا جو معاوضہ لے کر وزن کیا کرتا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: تولو اور جھکا ہوا تولو ۔
Narrated Suwayd ibn Qays: I and Makhrafah al-Abdi imported some garments from Hajar, and brought them to Makkah. The Messenger of Allah ﷺ came to us walking, and after he had bargained with us for some trousers, we sold them to him. There was a man who was weighing for payment. The Messenger of Allah ﷺ said to him: Weigh out and give overweight.
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٦٦ (١٣٠٥)، سنن النسائی/البیوع ٥٢ (٤٥٩٦)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٤ (٢٢٢٠)، اللباس ١٢ (٣٥٧٩)، (تحفة الأشراف: ٤٨١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٢)، سنن الدارمی/البیوع ٤٧ (٢٦٢٧) (صحیح )
ابوصفوان بن عمیرۃ (یعنی سوید) ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ آیا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی لیکن اجرت لے کر وزن کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے قیس نے بھی سفیان کی طرح بیان کیا ہے اور لائق اعتماد بات تو سفیان کی بات ہے۔
The tradition mentioned above (No. 3330) has also been transmitted by Abu Safwan ibn Umayrah through a different chain of narrators. This version has: Abu Safwan said: I came to the Messenger of Allah ﷺ at Makkah before his immigration. He then narrated the rest of the tradition, but he did not mention the words who was weighing for payment. Abu Dawud sad: Qais also transmitted it as Sufyan said: The version of Sufyan is authoritative.
ابورزمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شعبہ سے کہا: سفیان نے روایت میں آپ کی مخالفت کی ہے، آپ نے کہا: تم نے تو میرا دماغ چاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن معین کی یہ بات پہنچی ہے کہ جس شخص نے بھی سفیان کی مخالفت کی تو لائق اعتماد بات سفیان کی بات ہوگی ١ ؎۔
Narrated Ibn Abi Rizmah (RA) : I heard my father say: A man said to Shubah: Sufyan opposed you (i. e. narrated a tradition which differs from your version). He replied: You racked my mind. I have been told that Yahya bin Main said: If anyone opposes Sufyan, the version of Sufyan will be acceptable.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صحابی کا نام سوید بن قیس (جیسا کہ سفیان نے کہا ہے) زیادہ قابل اعتماد ہے بنسبت ابو صفوان بن عمیرۃ کے، لیکن اصحاب التراجم کا فیصلہ ہے کہ دونوں نام ایک ہی آدمی کے ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تول میں مکے والوں کی تول معتبر ہے اور ناپ میں مدینہ والوں کی ناپ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فریابی اور ابواحمد نے سفیان سے اسی طرح روایت کی ہے اور انہوں نے متن میں ان دونوں کی موافقت کی ہے اور ابواحمد نے ابن عمر ؓ کی جگہ عن ابن عباس کہا ہے اور اسے ولید بن مسلم نے حنظلہ سے روایت کیا ہے کہ وزن (باٹ) مدینہ کا اور پیمانہ مکہ کا معتبر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک بن دینار کی حدیث جسے انہوں نے عطاء سے عطاء نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ متن میں اختلاف واقع ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: (The standard) weight is the weight of the people of Makkah, and the (standard) measure is the measure of the people of Madina. Abu Dawud said: Al-Firyabi and Abu Ahmad have also transmitted from Sufyan in a similar way, and he (Ibn Dukain) agreed with them on the text. The version of Abu Ahmad has: from Ibn Abbas instead of Ibn Umar. It has also been transmitted by al-Walid bin Muslim from Hanzalah. This version has: the weight of Madina and the measure of Makkah. Abu Dawud said: There is a variation in the text of the version of this tradition narrated by Malik bin Dinar from Ata from the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٤٤ (٢٥٢١)، البیوع ٥٤ (٤٥٩٨)، (تحفة الأشراف: ٧١٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٤٥) (صحیح )
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبے میں فرمایا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ ﷺ نے پھر پوچھا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: پہلے دو بار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے ١ ؎۔ سمرہ ؓ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا کہ اس شخص نے اس کا قرض ادا کردیا یہاں تک کہ کوئی اس سے اپنا قرضہ مانگنے والا نہ بچا۔
Narrated Samurah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ addressed us and said: Is here any one of such and such tribe present? But no one replied. He again asked: Is here any one of such and such tribe present? But no one replied. He again asked: Is here any one of such and such tribe? Then a man stood and said: I am (here), Messenger of Allah. He said: What prevented you from replying the first two times? I wish to tell you something good. Your companion has been detained (from entering Paradise) on account of his debt. Then I saw him that he paid off all his debt on his behalf and there remained no one to demand from him anything. Abu Dawud said: The name of the narrator Saman is Saman bin Mushannaj.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قرض کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ جنت میں جا نہیں سکتا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٩٦ (٤٦٨٩)، (تحفة الأشراف: ٤٦٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١١، ١٣، ٢٠) (حسن )
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک ان کبائر کے بعد جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی مرے اور اس پر قرض ہو اور وہ کوئی ایسی چیز نہ چھوڑے جس سے اس کا قرض ادا ہو ۔
Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : The Prophet ﷺ said: After the grave sins which Allah has prohibited the greatest sin is that a man dies while he has debt due from him and does not leave anything to pay it off, and meets Him with it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩١٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٢) (ضعیف) (اس کے راوی ابوعبد اللہ قرشی لین الحدیث ہیں )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے جو اس حال میں مرتا کہ اس پر قرض ہوتا، چناچہ آپ ﷺ کے پاس ایک جنازہ (میت) لایا گیا، آپ نے پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، اس کے ذمہ دو دینار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو ١ ؎، تو ابوقتادہ انصاری ؓ نے کہا: میں ان کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتا ہوں اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو فتوحات اور اموال غنیمت سے نوازا تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں ہر مومن سے اس کی جان سے زیادہ قریب تر ہوں پس جو کوئی قرض دار مرجائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہوگی اور جو کوئی مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے ورثاء کا ہوگا ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ would not say funeral prayer over a person who died while the debt was due from him. A dead Muslim was brought to him and he asked: Is there any debt due from him? They (the people) said: Yes, two dirhams. He said: Pray yourselves over your companion. Then Abu Qatadah al-Ansari said: I shall pay them, Messenger of Allah. The Messenger of Allah ﷺ then prayed over him. When Allah granted conquests to the Messenger of Allah ﷺ , he said: I am nearer to every believer than himself, so if anyone (dies and) leaves a debt, I shall be responsible for paying it; and if anyone leaves property, it goes to his heirs.
Notes · وضاحت
١ ؎: اتنا سخت رویہ آپ ﷺ نے اس لئے اپنایا تاکہ لوگوں کے حقوق ضائع نہ ہونے پائیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٦٧ (١٩٦٤)، (تحفة الأشراف: ٣١٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٦) (صحیح )
عکرمہ سے روایت ہے انہوں نے اسے مرفوع کیا ہے اور عثمان کی سند یوں ہے: حدثنا وكيع، عن شريك، عن سماک، عن عکرمة، ۔ عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم اور متن اسی کے ہم مثل ہے اس میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے ایک قافلہ سے ایک تبیع ١ ؎ خریدا، اور آپ ﷺ کے پاس اس کی قیمت نہیں تھی، تو آپ کو اس میں نفع دیا گیا، آپ ﷺ نے اسے بیچ دیا اور جو نفع ہوا اسے بنو عبدالمطلب کی بیواؤں کو صدقہ کردیا اور فرمایا: آئندہ جب تک چیز کی قیمت اپنے پاس نہ ہوگی کوئی چیز نہ خریدوں گا ۔
A similar tradition has also been transmitted by Ibn Abbas though a different chain of narrators. This version says: He (the Prophet) purchased a calf from a caravan, but he had no money with him. He then sold it with some profit and gave the profit in charity to the poor and widows of Banu Abd al-Muttalib. He then said: I shall not buy anything after this but only when I have money with me.
Notes · وضاحت
١ ؎: تبیع خادم کو کہتے ہیں اور گائے کے اس بچے کو بھی جو پہلے سال میں ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦١١٣، ١٩١١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٥، ٣٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور ہیں، نیز عکرمہ سے سماک کی روایت میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے (چاہے وہ قرض ہو یا کسی کا کوئی حق) اور اگر تم میں سے کوئی مالدار شخص کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Delay in payment (of debt) by a rich man is injunctive, but when one of you is referred to a wealthy man, he should accept the reference.
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کردینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زید عمرو کا مقروض ہے پھر زید عمرو کا مقابلہ بکر سے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکر کے سر ہے اور بکر اسے تسلیم بھی کرلے تو عمرو کو یہ حوالگی قبول کرنا چاہیے۔
ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چھوٹا اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ ویسا ہی اونٹ آدمی کو لوٹا دوں، میں نے (آ کر) عرض کیا: مجھے کوئی ایسا اونٹ نہیں ملا سبھی اچھے، بڑے اور چھ برس کے ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے اسی کو دے دو، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں ۔
Narrated Abu Rafi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ borrowed a young camel, and when the camels of the sadaqah (alms) came to him, he ordered me to pay the man his young camel. I said: I find only an excellent camel in its seventh year. So the Prophet ﷺ said: Give it to him, for the best person is he who discharges his debt in the best manner.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٤٣ (١٦٠٠)، سنن الترمذی/البیوع ٧٥ (١٣١٨)، سنن النسائی/البیوع ٦٢ (٤٦٢١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٢ (٢٢٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٤٣ (٨٩)، مسند احمد (٦/٣٩٠)، سنن الدارمی/البیوع ٣١ (٢٦٠٧) (صحیح )