عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال (فرض) ہے یا ایک بار؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (ہر سال نہیں) بلکہ ایک بار ہے اور جو ایک سے زائد بار کرے تو وہ نفل ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسنان سے مراد ابوسنان دؤلی ہیں، اسی طرح عبدالجلیل بن حمید اور سلیمان بن کثیر نے زہری سے نقل کیا ہے، اور عقیل سے ابوسنان کے بجائے صرف سنان منقول ہے۔
Narrated Aqra ibn Habib: Ibn Abbas said: Aqra ibn Habis asked the Prophet ﷺ saying: Messenger of Allah hajj is to be performed annually or only once? He replied: Only once, and if anyone performs it more often, he performs a supererogatory act. Abu Dawud said: The narrator Abu Sinan is Abu Sinan al-Duwail. The same has been reported by both Abd al-Jalil bin Humaid and Sulaiman bin Kathir from al-Zuhri. The narrator Uqail reported the name Sinan.
Notes · وضاحت
١ ؎: حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے، جس کی فرضیت ٥ یا ٦ ہجری میں ہوئی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المناسک ١ (٢٦٢١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢ (٢٨٨٦)، ( تحفة الأشراف: ٦٥٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٥، ٢٩٠، ٣٠١، ٣٠٣، ٣٢٣، ٣٢٥، ٣٥٢، ٣٧٠، ٣٧١)، سنن الدارمی/الحج ٤ (١٨٢٩) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کی سند میں واقع سفیان بن حسین کی زھری سے روایت میں ضعف ہے )
ابو واقد لیثی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع میں اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے سنا: یہی حج ہے پھر چٹائیوں کے پشت ہیں ١ ؎۔
Narrated Abu Waqid al-Laythi (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ saying to his wives during the Farewell Pilgrimage: This (is the pilgrimage for you); afterwards stick to the surface of the mats (i. e. should stay at home).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے بعد تمہیں گھروں میں ہی رہنا ہے تم پر کوئی اور حج واجب نہیں، مؤلف نے اس حدیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ حج زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٥٥١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١٨، ٢١٩، ٦/٣٢٤) (صحیح) (ابو واقد ؓ کے لڑکے کا نام واقد ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو ١ ؎۔
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ﷺ as saying: A muslim woman must not make a journey of a night unless she is accompanied by a man who is within the prohibited degrees.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں ایک رات کی قید اتفاقی ہے، مقصد یہ نہیں کہ اس سے کم کا سفر غیر محرم کے ساتھ جائز ہے، محرم شوہر ہے یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہو، مثلاً باپ، دادا، نانا، بیٹا، بھائی، چچا، ماموں، بھتیجا، بھانجا، داماد وغیرہ وغیرہ، یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٤ (١٣٣٩)، ( تحفة الأشراف: ١٣٠٣٥، ١٤٣١٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ٤ (١٠٨٨)، سنن الترمذی/الرضاع ١٥ (١٦٦٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧ (٢٨٩٩)، موطا امام مالک/الاستئذان ١٤(٣٧)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٣٤٠، ٣٤٧، ٤٢٣، ٤٣٧، ٤٤٥، ٤٩٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر کرے ۔ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر گزری۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: A woman who believes in Allah and the last Day must not make a journey of a day and a night. He then narrated the rest of the tradition to the same effect (as above). The narrator al-Nufaili said: Malik narrated us. Abu Dawud said: The narrators al-Nufail and al_Qanabi did not mention the words “from his father”. Ibn Wahb and Uthman bin Umr narrated from Malik the same words as narrated by al-Qanabi (i. e. omitted the words “from his father”).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٢٩٦٠، ١٣٠١٠، ١٤٣١٧)، انظر حدیث رقم (١٧٢٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پھر انہوں نے اسی جیسی روایت ذکر کی البتہ اس میں (دن رات کی مسافت کے بجائے) بريدا کہا ہے ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: He then reported the same tradition as mentioned above but he mentioned (in this version) the word “mail post”.
Notes · وضاحت
١ ؎: برید: چار فرسخ کا ہوتا ہے، اور ایک فرسخ تین میل کا، اس طرح برید بارہ میل کا ہوا۔
Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم: (١٧٢٣)، ( تحفة الأشراف: ١٢٩٦٠) (شاذ) (جریر نے یوم یا لیلة کی جگہ برید کی روایت کی ہے جو جماعت کی روایت کے مخالف ہے )
ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ تین یا اس سے زیادہ دنوں کی مسافت کا سفر کرے سوائے اس صورت کے کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم ١ ؎۔
Abu Saeed reported The Apostel of Allah ﷺ as saying: A woman who believes in Allah and the Last Day must not make a journey of more than three days unless she is accompanied by her father or her brother, or her husband or her son or her relative who is within the prohibited degree.
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے: نانا، دادا، چچا، ماموں، بھتیجا، اور بھانجا وغیرہ جو سب کے سب سگے ہوں، یا رضاعی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٤ (١٣٤٠)، سنن الترمذی/الرضاع ١٥ (١١٦٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧ (٢٨٩٨)، ( تحفة الأشراف: ٤٠٠٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضل الصلاة في مسجد مکة والمدینة ٦ (١١٩٧)، وجزاء الصید ٢٦ (١٨٦٤)، والصوم ٦٧ (١٩٩٥)، مسند احمد (٣/٥٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٦ (٢٧٢٠) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو ۔
Ibn Umr reported the Prophet ﷺ as saying: A woman must not make a journey of three days unless she is accompanied by a man who is within the prohibited degree.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لے جاتے۔ ابومسعود ؓ کہتے ہیں: اہل یمن یا اہل یمن میں سے کچھ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لیتے اور کہتے: ہم متوکل (اللہ پر بھروسہ کرنے والے) ہیں تو اللہ نے آیت کریمہ وتزودوا فإن خير الزاد التقوى ١ ؎ (زاد راہ ساتھ لے لو اس لیے کہ بہترین زاد راہ یہ ہے کہ آدمی سوال سے بچے) نازل فرمائی۔
Ibn Abbas said: People used to perform Hajj and not bring provisions with them. Abu Masud said the inhabitants of Yemen or people of Yemen used to perform Hajj and not bring provisions with them. They would declare we put our trust in Allah. So Allah most high sent down “ and bring provisions, but the best provision is piety”.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہوئے راوی کہتے ہیں انہوں نے یہ آیت ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربکم ١ ؎ تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو پڑھی اور بتایا کہ عرب کے لوگ منیٰ میں تجارت نہیں کرتے تھے تو انہیں عرفات سے واپسی پر منیٰ میں تجارت کا حکم دیا گیا۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ibn Abbas recited this verse: It is no sin for you that you seek the bounty of your Lord, and said: The people would not trade in Mina (during the hajj), so they were commanded to trade when they proceeded from Arafat.
Notes · وضاحت
١ ؎: سورة البقرة: (١٩٨ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٤٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ١٥٠ (١٧٧٠) والبیوع ١ (٢٠٥٠) و تفسیر القرآن ٣٤ (٢٠٩٨) (صحیح )
ابوامامہ تیمی کہتے ہیں کہ میں لوگوں کو سفر حج میں کرائے پر جانور دیتا تھا، لوگ کہتے تھے کہ تمہارا حج نہیں ہوتا، تو میں ابن عمر ؓ سے ملا اور ان سے عرض کیا: ابوعبدالرحمٰن! میں حج میں لوگوں کو جانور کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ مجھ سے کہتے ہیں تمہارا حج نہیں ہوتا، تو ابن عمر ؓ نے کہا: کیا تم احرام نہیں باندھتے؟ تلبیہ نہیں کہتے؟ بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے؟ عرفات جا کر نہیں لوٹتے؟ رمی جمار نہیں کرتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، تو انہوں نے کہا: تمہارا حج درست ہے، ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ سے اسی طرح کا سوال کیا جو تم نے مجھ سے کیا تو آپ ﷺ نے سکوت فرمایا اور اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آیت کریمہ ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربکم تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں کہ تم اپنے رب کا فضل ڈھونڈو نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا: تمہارا حج درست ہے ۔
Abu Umamah at-Taymi said: I was a man who used to give (riding-beasts) on hire for this purpose (for travelling during the pilgrimage) and the people would tell (me): Your hajj is not valid. So I met Ibn Umar and told him: Abu Abdur Rahman, I am a man who gives (riding-beast) on hire for this purpose (i. e. for hajj), and the people tell me: Your hajj is not valid. Ibn Umar replied: Do you not put on ihram (the pilgrim dress), call the talbiyah (labbayk), circumambulate the Kabah, return from Arafat and lapidate jamrahs? I said: Why not? Then he said: Your hajj is valid. a man came to the Prophet ﷺ and asked him the same question you have asked me. The Messenger of Allah ﷺ kept silence and did not answer him till this verse came down: It is no sin for you that you seek the bounty of your Lord. The Messenger of Allah ﷺ sent for him and recited this verse to him and said: Your hajj is valid.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٨٥٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥٥) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ لوگ شروع شروع میں منیٰ، عرفہ اور ذوالمجاز کے بازاروں اور حج کے موسم میں خریدو فروخت کیا کرتے تھے پھر انہیں حالت احرام میں خریدو فروخت کرنے میں تامل ہوا، تو اللہ نے ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربکم تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو نازل کیا یعنی حج کے موسم میں۔ عطا کہتے ہیں: مجھ سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ وہ (ابن عباس) اسے في مواسم الحج اپنے مصحف میں پڑھا کرتے تھے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The people used to trade, in the beginning, at Mina, Arafat, the market place of Dhul-Majaz, and during the season of hajj. But (later on) they became afraid of trading while they were putting on ihram. So Allah, glory be to Him, sent down this verse: It is no sin for you that you seek the bounty of your Lord during the seasons of hajj. Ubayd ibn Umayr told me that he (Ibn Abbas) used to recite this verse in his codex.
Notes · وضاحت
١ ؎: في مواسم الحج کا لفظ اس روایت کے مطابق ابن عباس ؓ کے مصحف میں اس آیت کا ٹکڑا تھا، مگر یہ قرات شاذ ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ لوگ حج کے ابتدائی زمانے میں خریدو فروخت کرتے تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی روایت ان کے قول مواسم الحج تک ذکر کیا۔
Abdullah bin Abbas said: In the beginning when Hajj was prescribed, people used to trade during Hajj. The narrator then narrated the rest of the tradition upto the words, `season of Hajj’.
Takhrij · تخریج
انظرما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٥٨٧٢) (صحیح) (اس سند میں واقع عبید مولی ابن عباس مجہول ہیں جبکہ پہلی سند میں واقع عبید لیثی ہیں اور ثقہ ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مقام روحاء میں تھے کہ آپ کو کچھ سوار ملے، آپ ﷺ نے انہیں سلام کیا اور پوچھا: کون لوگ ہو؟ ، انہوں نے جواب دیا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہو؟ لوگوں نے انہیں بتایا کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں تو ایک عورت گھبرا گئی پھر اس نے اپنے بچے کا بازو پکڑا اور اسے اپنے محفے ١ ؎ سے نکالا اور بولی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہوجائے گا ٢ ؎؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اور اجر تمہارے لیے ہے ۔
Ibn Abbas said the Messenger of Allah ﷺ was at al-Rawha. There he met some riders. He saluted them and asked who they were. They replied that they were Muslims. They asked who are you. They (the companions) replied he is the Messenger of Allah ﷺ . A woman became upset: she took her child by his arm and lifted him from her litter at the camel. She said Messenger of Allah ﷺ can this (child) be credited with having performed Hajj. He replied Yes, and you will have a reward.
Notes · وضاحت
١ ؎: ہودج کی طرح عورتوں کی سواری پر ایک سیٹ ہوتی ہے جسے محفّہ کہتے ہیں۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ کا حج صحیح ہے چونکہ اس کا ولی اس کی جانب سے کم سنی کی وجہ سے اعمال حج ادا کرتا ہے، اس لئے وہ ثواب کا مستحق ہوگا، واضح رہے اس سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوگی، بلکہ بلوغت کے بعد استطاعت کی صورت میں اس پر حج فرض ہے، اور بچپن کا حج اس کے لئے نفل ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٢ (١٣٣٦)، سنن النسائی/المناسک ١٥ (٢٦٤٨)، ( تحفة الأشراف: ٦٣٣٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٨١ (٢٤٤)، مسند احمد (١/٢٤٤، ٢٨٨، ٣٤٣، ٣٤٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن کو میقات ١ ؎ مقرر کیا، اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ﷺ نے اہل یمن کے لیے یلملم ٢ ؎ کو میقات مقرر کیا۔
Ibn Umar said: The Messenger of Allah ﷺ appointed the following places for putting on Ihram: Dhul al-Hulaifah for the people of Madina, al-Juhfah for the people of Syria and al-Qarn for the people of Najd and have been told that appointed Yalamlam for the people of Yemen.
Notes · وضاحت
١ ؎: میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج یا عمرہ کی نیت کرتا ہے۔ ٢ ؎: یلملم ایک پہاڑ ہے جو مکہ سے دو دن کے فاصلہ پر واقع ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میقات مقرر کیا پھر ان دونوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، ان دونوں (راویوں میں سے) میں سے ایک نے کہا: اہل یمن کے لیے یلملم ، اور دوسرے نے کہا: ألملم ، اس روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ان لوگوں کی میقاتیں ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کی بھی جو ان جگہوں سے گزر کر آئیں اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں، اور جو لوگ ان کے اندر رہتے ہوں ۔ ابن طاؤس (اپنی روایت میں) کہتے ہیں: ان کی میقات وہ ہے جہاں سے وہ سفر شروع کریں یہاں تک کہ اہل مکہ مکہ ہی ١ ؎ سے احرام باندھیں گے۔
Ibn Abbas and Tawus reported: The Messenger of Allah ﷺ appointed places for putting on Ihram and narrated the rest of the tradition to the same effect (as mentioned above). One of them said and Yalamlam for the people of Yemen. The other narrator said Alamlam. These (places for Ihram) are appointed for these regions and for people of other regions who come to them intending to perform Hajj and Umrah. The place where those who live nearer to Makkah should put on Ihram from where they start and so on up to the inhabitants of Makkah itself who put on Ihram in it. This is the version of Ibn Tawus.
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ حاجی یا معتمر اگر مکہ یا مذکورہ مواقیت کے اندر رہتا ہو تو اس کا حکم عام لوگوں سے مختلف ہے اس کے لئے میقات پر جانا ضروری نہیں بلکہ اپنے گھر سے نکلتے وقت ہی احرام باندھ لینا اس کے لئے کافی ہوگا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل عراق کے لیے ذات عرق ١ ؎ کو میقات مقرر کیا۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ appointed Dhat Irq as the place for putting on ihram for the people of Iraq.
Notes · وضاحت
١ ؎: سنن ترمذی کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اہل عراق کے لئے ذات عرق کو میقات عمر ؓ نے متعین کیا تھا، لیکن یہ روایت ضعیف ہے، علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عمر ؓ کو یہ حدیث نہیں معلوم تھی، آپ نے اپنے اجتہاد سے یہ میقات مقرر کی جو نبی کریم ﷺ کی بتائی ہوئی میقات کے عین مطابق ہوگئی۔