ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو مسجد الاقصیٰ سے مسجد الحرام تک حج اور عمرہ کا احرام باندھے تو اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے، یا اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی ، راوی عبداللہ کو شک ہے کہ انہوں نے دونوں میں سے کیا کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اللہ وکیع پر رحم فرمائے کہ انہوں نے بیت المقدس سے مکہ تک کے لیے احرام باندھا۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : She heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone puts on ihram for hajj or Umrah from the Aqsa mosque to the sacred mosque, his former and latter sins will be forgiven, or he will be guaranteed Paradise. The narrator Abdullah doubted which of these words he said. Abu Dawud said: May Allah have mercy on Waki. He put on ihram from Jerusalem (Aqsa mosque), that is, to Makkah.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٩ (٣٠٠١، ٣٠٠٢)، ( تحفة الأشراف: ١٨٢٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٩) (ضعیف) (اس کی راویہ حکیمہ لین الحدیث ہیں، نی زیہ حدیث تمام صحیح روایات کے مخالف ہے )
حارث بن عمرو سہمی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ منیٰ میں تھے یا عرفات میں، اور لوگوں نے آپ ﷺ کو گھیر رکھا تھا، تو اعراب (دیہاتی) آتے اور جب آپ کا چہرہ دیکھتے تو کہتے یہ برکت والا چہرہ ہے، آپ ﷺ نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کیا۔
Narrated Al-Harith ibn Amr as-Sahmi (RA) : I came to the Messenger of Allah ﷺ when he was at Mina, or at Arafat. He was surrounded by the people. When the bedouins came and saw his face, they would say: This is a blessed face. He said: He (the Prophet) appointed Dhat Irq as the place of putting on ihram for the people of Iraq.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٢٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٨٥) (حسن )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اسماء بنت عمیس ؓ (ابوبکر ؓ کی بیوی) کو مقام شجرہ میں محمد بن ابی بکر ؓ کی (ولادت کی) وجہ سے نفاس آیا تو رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ (اسماء سے کہو کہ) وہ غسل کرلے پھر تلبیہ پکارے۔
Aishah said: Asma daughther of Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr at Shajarah. The Messenger of Allah ﷺ commanded Abu Bakr to ask her to take a bath and wear ihram.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حائضہ اور نفاس والی عورتیں جب میقات پر آجائیں تو غسل کریں، احرام باندھیں اور حج کے تمام مناسک ادا کریں سوائے بیت اللہ کے طواف کے ١ ؎۔ ابومعمر نے اپنی حدیث میں حتى تطهر یہاں تک کہ پاک ہوجائیں کا اضافہ کیا۔ ابن عیسیٰ نے عکرمہ اور مجاہد کا ذکر نہیں کیا، بلکہ یوں کہا: عن عطاء عن ابن عباس اور ابن عیسیٰ نے كلها کا لفظ بھی نقل نہیں کیا بلکہ صرف المناسک إلا الطواف بالبيت مناسک پورے کریں بجز خانہ کعبہ کے طواف کے کہا۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: A menstruating woman and the one who delivered a child should take a bath, put on ihram and perform all the rites of hajj except circumambulation of the House (Kabah) when they came to the place of wearing ihram. Abu Mamar said in his version: till she is purified. The narrator Ibn Isa did not mention the names of Ikrimah and Mujahid, but he said: from Ata on the authority of Ibn Abbas. Ibn Isa also did not mention the word all (rites of hajj). He said in his version: All the rites of hajj except circumambulation of the House (the Kabah).
Notes · وضاحت
١ ؎: حیض اور نفاس والی عورت حیض یا نفاس سے پاک ہونے کے بعد طواف قدوم اور طواف عمرہ کرے گی، طواف میں جو تاخیر ہوگی اس سے اس کے حج میں کوئی نقض واقع نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٠٠ (٩٤٥)، (تحفة الأشراف: ٥٨٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو جب آپ احرام باندھتے تو احرام باندھنے سے پہلے اور احرام کھولنے کے بعد اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگایا کرتی تھی ١ ؎۔
Aishah said ; I used to perfume the Messenger of Allah ﷺ preparatory to his entering the sacred state before he put on Ihram, and preparatory to putting off Ihram before he made the circuits round the House (the Kaabah).
Notes · وضاحت
١ ؎: حالت احرام میں کسی قسم کی خوشبو کا استعمال درست نہیں، لیکن اگر یہی خوشبو احرام باندھتے وقت لگائی جائے تو مستحب ہے، چاہے یہ خوشبو بدن یا کپڑے میں احرام کے بعد بھی باقی رہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ گویا میں رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرام باندھے ہوئے ہیں۔
Aishah (may Allah be pleased with her) said: I still seem to see the glistening of the perfume where the hair was parted on the head of the Messenger of Allah ﷺ while he was wearing Ihram.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال ہدی ١ ؎ کے لیے جو اونٹ بھیجا ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا ٢ ؎ تھا، اس کے سر میں چاندی کا چھلا پڑا تھا، ابن منہال کی روایت میں ہے کہ سونے کا چھلا تھا ، نفیلی کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس سے آپ ﷺ مشرکین کو غصہ دلا رہے تھے ٣ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : In the year of al-Hudaybiyyah, the Messenger of Allah ﷺ included among his sacrificial animals a camel with a silver nose-ring (Ibn Minhals version has gold) which had belonged to Abu Jahl (the version of an-Nufayli added) thereby enraging the polytheists.
Notes · وضاحت
١ ؎: ” ہدی “: حج میں ذبح کے لئے لے جانے والے جانور کو کہتے ہیں۔ ٢ ؎: یہ اونٹ رسول اللہ ﷺ کو جنگ میں بطور غنیمت ملا تھا۔ ٣ ؎: تاکہ یہ تأثر دیا جائے کہ مشرکین کے سردار کا اونٹ مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٤٠٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٨ (٣١٠٠) مسند احمد (١/٢٦١، ٢٧٣) (حسن) بلفظ: ” فضة “
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے آل ١ ؎ کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی ٢ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sacrificed a cow for his wives at the Farewell Pilgrimage.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں آل سے مراد ازواج مطہرات ؓن ہیں۔ ٢ ؎: ایک گائے یا اونٹ میں سات آدمی کی شرکت ہوسکتی ہے، اس حج میں آپ ﷺ کے ساتھ سات ہی ازواج مطہرات ہوں گی، یا بخاری ومسلم کے لفظ ضحى (قربانی کی) سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ نے بطور ہدی نہیں بلکہ بطور قربانی ذبح کیا، تو پورے گھر والوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٥ (٣١٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٢٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ١١٥ (١٧٠٩)، والأضاحي ٣ (٥٥٤٨)، صحیح مسلم/الحج ٦٢ (١٣١٩)، موطا امام مالک/الحج ٥٨(١٧٩)، مسند احمد (٦/٢٤٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذی الحلیفہ میں ظہر پڑھی پھر آپ نے ہدی کا اونٹ منگایا اور اس کے کوہان کے داہنی جانب اشعار ١ ؎ کیا، پھر اس سے خون صاف کیا اور اس کی گردن میں دو جوتیاں پہنا دیں، پھر آپ ﷺ کی سواری لائی گئی جب آپ اس پر بیٹھ گئے اور وہ مقام بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے حج کا تلبیہ پڑھا۔
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ offered the noon prayer at Dhu al-Hulaifah. He then sent for a camel and made incision in the right side of its hump ; he then took out the blood by pressing it and tied two shoes in its neck. He then rode on his mount (camel) and reached al-Baida, he raised his voice for the talbiyah for performing Hajj.
Notes · وضاحت
١ ؎: ہدی کے اونٹ کی کوہان پر داہنے جانب چیر کر خون نکالنے اور اسے اس کے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے، یہ بھی ہدی کے جانوروں کی علامت اور پہچان ہے۔ ٢ ؎: اشعار مسنون ہے، اس کا انکار صرف امام ابوحنیفہ نے کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ” یہ مثلہ ہے جو درست نہیں “، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ مثلہ نہیں ہے، مثلہ ناک کان وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں، اشعار فصد یا حجامت کی طرح ہے، جو صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث ابوالولید کے روایت کے مفہوم کی طرح مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: ثم سلت الدم بيده آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے خون صاف کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہمام کی روایت میں سلت الدم عنها بإصبعه کے الفاظ ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف اہل بصرہ کی سنن میں سے ہے جو اس میں منفرد ہیں۔
This tradition has also been transmitted by Shubah through a different chain of narrators similar to that reported by Abu al-Walid. This version adds he then took out the blood by pressing it with his hand. Abu Dawud said: Hammam’s version has the words “He took out the blood by pressing with his fingers”. Abu Dawud said this tradition has been narrated by the people of Basrah who alone are its transmitters.
مسور بن مخرمہ ؓ اور مروان دونوں سے روایت ہے، وہ دونوں کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ حدیبیہ کے سال نکلے جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو ہدی ١ ؎ کو قلادہ پہنایا اور اس کا اشعار کیا اور احرام باندھا۔
Al-Miswar bin Makhramah and al-Marwan said the Messenger of Allah ﷺ proceeded in the year of al-Hudaibiyyah (to Makkah). When he reached Dhu al-Hulaifah, he tied (garlanded) something in the neck of the sacrificial camel (which He took along with him), and made incision in its hump and put on Ihram.
Notes · وضاحت
١ ؎: ” ہدی “ اس جانور کو کہتے ہیں جو حج تمتع یا حج قران میں مکہ میں ذبح کیا جاتا ہے، نیز اس جانور کو بھی ” ہدی “ کہتے ہیں جس کو غیر حاجی حج کے موقع سے مکہ میں ذبح کرنے کے لئے بھیجتا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے ایک بختی اونٹ ہدی کیا پھر انہیں اس کی قیمت تین سو دینار دی گئی تو وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میں نے بختی اونٹ ہدی کیا اس کے بعد مجھے اس کی قیمت تین سو دینار مل رہی ہے، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے (ہدی کے لیے) ایک اونٹ خرید لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں اسی کو نحر کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ممانعت (نہی) اس لیے تھی کہ وہ اس کا اشعار کرچکے تھے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Umar ibn al-Khattab named a bukhti camel for sacrifice (at hajj). He was offered three hundred dinars for it (as its price). He came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, I named a bukhti camel for sacrifice and I was offered for it three hundred dinars. May I sell it and purchase another one for its price? No, sacrifice it. Abu Dawud said: This was due to the fact that Umar had made an incision in hump.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٧٤٨)، وقد أخرجہ: (حم (٢/١٤٥) (ضعیف) (ایک تو جہم لین الحدیث ہیں، دوسرے سالم سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے لیے قلادے بٹے پھر آپ نے انہیں اشعار کیا اور قلادہ ١ ؎ پہنایا پھر انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور خود مکہ میں مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ ﷺ کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی ٢ ؎۔
Aishah said: I twisted the garlands of the sacrificial animals of the Messenger of Allah ﷺ with my own hands, after which he made incision in their humps and garlanded them, and sent them as offerings to the house (Kabah), but he himself stayed back at Madinah and nothing which had been lawful for him had been forbidden.
Notes · وضاحت
١ ؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا رسی وغیرہ لٹکانے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگ ان جانوروں کو اللہ کے گھر کے لئے خاص جان کر ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقیم کے لئے بھی ہدی بھیجنا درست ہے اور صرف ہدی بھیج دینے سے وہ محرم نہیں ہوگا، اور نہ اس پر کوئی چیز حرام ہوگی جو محرم پر ہوتی ہے، جب تک کہ وہ احرام کی نیت کر کے احرام پہن کر خود حج کو نہ جائے، اور بعض لوگوں کی رائے ہے کہ وہ بھی مثل محرم کے ہوگا اس کے لئے بھی ان تمام چیزوں سے اس وقت تک بچنا ضروری ہوگا جب تک کہ ہدی قربان نہ کردی جائے، لیکن صحیح جمہور کا مذہب ہی ہے، جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔
عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ سے ہدی بھیجتے تو میں آپ کی ہدی کے قلادے بٹتی اس کے بعد آپ کسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے جس سے محرم اجتناب کرتا ہے۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ would send the sacrificial animals as offerings (to Makkah) from Madinah. I would twist the garlands of the sacrificial animals ; thereafter he would not abstain from anything from which a pilgrim putting on Ihram abstains.
ام المؤمنین (عائشہ) ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہدی روانہ کئے تو میں نے اپنے ہاتھ سے اس اون سے ان کے قلادے بٹے جو ہمارے پاس تھی پھر آپ ﷺ نے حلال ہو کر ہم میں صبح کی آپ نے وہ تمام کام کئے جو ایک حلال (غیر محرم) آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ sent sacrificial camels as offering (to the Kaabah) and I twisted with my own hands their garlands of coloured wool that we had with us. Next morning he came free from restrictions, having intercourse (with his wife) as a man not wearing Ihram does with his wife.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کرلے جا رہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر سوار ہوجاؤ ، وہ بولا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر سوار ہوجاؤ، تمہارا برا ہو ١ ؎، یہ آپ ﷺ نے دوسری یا تیسری بار میں فرمایا۔
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ saw a man driving the sacrificial camel. He said ride on it. He said this is a sacrificial camel. He again said ride on it, bother you, either the second or the third time he spoke.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آپ ﷺ نے بطور زجر و توبیخ کے فرمایا، کیوں کہ سواری کی اجازت آپ ﷺ پہلے دے چکے تھے، اور آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ ہدی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہدی کے جانور پر سواری درست ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ بوقت ضرورت و حاجت جائز ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ جب جی چاہے سوار ہوسکتا ہے، خواہ حاجت ہو یا نہ ہو، اور بعض نے سوار ہونے کو واجب کہا ہے، کیوں کہ اس میں زمانہ جاہلیت کے طریقہ کی مخالفت ہے، وہ لوگ ایسے جانوروں کی ان کے درجہ سے زیادہ قدر و منزلت کرتے تھے۔