ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے ہدی پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے، جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ تو اس پر سوار ہوجاؤ بھلائی کے ساتھ یہاں تک کہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے ١ ؎۔
Abu al-Zubair said: I asked Jabir bin Abdallah about riding on the sacrificial camels. He said I heard The Messenger of Allah ﷺ saying ride on them gently when you have nothing else till you find a mount.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے امام ابوحنیفہ کے مذہب کی تائید ہوتی ہے، جنہوں نے سوار ہونے کے لئے حاجت و ضرورت کی قید لگائی ہے۔
ناجیہ اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ ہدی بھیجا اور فرمایا: اگر ان میں سے کوئی مرنے لگے تو اس کو نحر کرلینا پھر اس کی جوتی اسی کے خون میں رنگ کر اسے لوگوں کے واسطے چھوڑ دینا ۔
Narrated Najiyah al-Aslami (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent sacrificial camels with him (as offering to the Kabah). He then said: If any one of them becomes fatigued, slaughter it, dip its shoes in its blood, and leave it for the people (to eat).
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٧١ (٩١٠)، سنن النسائی/الکبری /الأطعمة (٦٦٣٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٠١ (٣١٠٦)، ( تحفة الأشراف: ١١٥٨١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٤٧(١٤٨)، مسند احمد (٤/٣٣٤)، سنن الدارمی/المناسک ٦٦ (١٩٥٠) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی (چلنے سے) عاجز ہوجائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسے نحر کردینا پھر اس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا ١ ؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے، یا آپ ﷺ نے یوں فرمایا: من أهل رفقتک یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوارث کی حدیث میں اضربها کے بجائے ثم اجعله على صفحتها ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ کو کہتے سنا: جب تم نے سند اور معنی درست کرلیا تو تمہیں کافی ہے۔
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ sent a man of al-Aslam tribe and sent with him eighteen sacrificial camels (as offering to Makkah). What do you think if any one of them becomes fatigued. He replied: You should sacrifice it then dye its shoe with its blood, then mark with it on its neck. But you or any of your companions should not eat out of it. Abu Dawud said: The following words of this tradition are not supported by any other tradition “You should not eat of it yourself nor any of your companions”. The version of Abdal Warith has the words “then hang it in its neck” instead of the words “mark or strike with it”. Abu Dawud said I heard Abu Salamah say if the chain of narrators and the meaning are correct, it is sufficient for you.
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ یہ الزام نہ آئے کہ ہدی کے جانور کو کھانا چاہتا تھا، اس لئے نحر (ذبح) کر ڈالا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٦ (١٣٢٥)، سنن النسائی/الکبری /الحج (٤١٣٦)، وانظر أیضا ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٦٥٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٧، ٢٤٤، ٢٧٩) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہدی کے اونٹوں کا نحر کیا تو اپنے ہاتھ سے تیس (٣٠) اونٹ نحر کئے پھر مجھے حکم دیا تو باقی سارے میں نے نحر کئے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: When the Messenger of Allah ﷺ sacrificed the camels, he sacrificed thirty of them with his own hand, and then commanded me (to sacrifice them), so I sacrificed the rest of them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٠٢٢١) (منکر) ( یہ روایت صحیح مسلم کی روایت کے خلاف ہے جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے (٦٣) اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے، باقی علی ؓ نے کئے )
عبداللہ بن قرط ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن یوم النحر ہے پھر یوم القر ہے ١ ؎، اس دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے پانچ یا چھ اونٹنیاں لائی گئیں، تو ان میں سے ہر ایک آگے بڑھنے لگی کہ آپ نحر کی ابتداء اس سے کریں جب وہ گرگئیں تو آپ نے آہستہ سے کچھ کہا جو میں نہ سمجھ سکا تو میں نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو چاہے اس میں سے گوشت کاٹ لے ۔
Narrated Abdullah ibn Qurt (RA) : The Prophet ﷺ said: The greatest day in Allahs sight is the day of sacrifice and next the day of resting which Isa said on the authority of Thawr is the second day. Five or six sacrificial camels were brought to the Messenger of Allah ﷺ and they began to draw near to see which he would sacrifice first. When they fell down dead, he said something in a low voice, which I could not catch. So I asked: What did he say? He was told that he had said: Anyone who wants can cut off a piece.
Notes · وضاحت
١ ؎: عیسیٰ کہتے ہیں: ثور نے کہا: وہ دوسرا دن ہے، یعنی گیارہویں ذی الحجہ کا دن۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٨٩٧٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/الحج (٤٠٩٨)، مسند احمد (٤/٣٥٠) (صحیح )
عرفہ بن حارث کندی ؓ کہتے ہیں میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا، ہدی کے اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابوالحسن (علی ؓ کی کنیت ہے) کو بلاؤ ، چناچہ آپ کے پاس علی ؓ کو بلا کر لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم برچھی کا نچلا سرا پکڑو ، اور رسول اللہ ﷺ نے اوپر کا سرا پکڑا پھر اونٹوں کو نحر کیا جب فارغ ہوگئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور علی کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔
Narrated Arfah ibn al-Harith al-Kandi: I was present with the Messenger of Allah ﷺ at the Farewell Pilgrimage. When the sacrificial camels were brought to him, he said: Call AbulHasan (Ali) to me. Ali was then called for and he (the Prophet) said to him: Catch hold of the lower end of the lance, and the Messenger of Allah ﷺ himself caught hold of the upper end. He then pierced the camels with it. When he finished slaughtering, he rode on his mule and mounted Ali behind him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٠١٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن حارث کندی ازدی لین الحدیث ہیں )
جابر ؓ سے روایت ہے (ابن جریج کہتے ہیں: نیز مجھے عبدالرحمٰن بن سابط نے (مرسلاً ) خبر دی ہے) کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کا بایاں پاؤں باندھ کر اور باقی پیروں پر کھڑا کر کے اسے نحر کرتے ١ ؎۔
Abd al Rahman bin Thabit said: The Prophet ﷺ and his companions used to sacrifice the camel with its left leg tied and it remained standing on the rest of his legs.
Notes · وضاحت
١ ؎: اونٹ کو سینہ پر مار کر ذبح کرتے ہیں اس لیے نحر کا لفظ استعمال ہوا۔
یونس کہتے ہیں مجھے زیاد بن جبیر نے خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں میں منیٰ میں ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا کہ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا انہوں نے کہا: کھڑا کر کے (بایاں پیر) باندھ کر نحر کرو، یہی محمد ﷺ کا طریقہ تھا۔
Ziyad bin Jubair said: I was present with Ibn Umar at Minah. He passed a man who was sacrificing his camel while it was sitting. He said make it stand and tie its leg ; thus follow the practice (sunnah) of Muhammad ﷺ .
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے ہدی کے اونٹوں کے پاس کھڑا ہو کر ان کی کھالیں اور جھولیں تقسیم کروں اور مجھے حکم دیا کہ اس میں سے قصاب کو کچھ بھی نہ دوں اور فرمایا: اسے ہم اپنے پاس سے (اجرت) دیں گے۔
Ali said: The Messenger of Allah ﷺ commanded me to take charge of (his) sacrificial camels and to distribute the skins and saddle clothes (after sacrifice) as sadaqah. He commanded me not to give anything from it to the butcher. He said we used to give it (the wages) to the butcher ourselves.
سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے کہا: ابوالعباس! مجھے تعجب ہے کہ کے صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ کے احرام باندھنے کے سلسلے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ آپ نے احرام کب باندھا؟ تو انہوں نے کہا: اس بات کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، چونکہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی حج کیا تھا اسی وجہ سے لوگوں نے اختلاف کیا ہے، رسول اللہ ﷺ حج کی نیت کر کے مدینہ سے نکلے، جب ذی الحلیفہ کی اپنی مسجد میں آپ نے اپنی دو رکعتیں ادا کیں تو اسی مجلس میں آپ ﷺ نے احرام باندھا اور دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا، لوگوں نے اس کو سنا اور میں نے اس کو یاد رکھا، پھر آپ ﷺ سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوگئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا، بعض لوگوں نے اس وقت آپ ﷺ کو تلبیہ پڑھتے ہوئے پایا، اور یہ اس وجہ سے کہ لوگ الگ الگ ٹکڑیوں میں آپ کے پاس آتے تھے، تو جب آپ ﷺ کی اونٹنی آپ کو لے کر اٹھی تو انہوں نے آپ کو تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا: آپ نے تلبیہ اس وقت کہا ہے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی پھر رسول اللہ ﷺ چلے، جب مقام بیداء کی اونچائی پر چڑھے تو تلبیہ کہا تو بعض لوگوں نے اس وقت اسے سنا تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اسی وقت تلبیہ کہا ہے جب آپ بیداء کی اونچائی پر چڑھے حالانکہ اللہ کی قسم آپ نے وہیں تلبیہ کہا تھا جہاں آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ ﷺ نے اس وقت تلبیہ کہا جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی ہوئی اور پھر آپ نے بیداء کی اونچائی چڑھتے وقت تلبیہ کہا۔ سعید کہتے ہیں: جس نے ابن عباس ؓ کی بات کو لیا تو اس نے اس جگہ پر جہاں اس نے نماز پڑھی اپنی دونوں رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد تلبیہ کہا۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Saeed ibn Jubayr said: I said to Abdullah ibn Abbas (RA) : AbulAbbas, I am surprised to see the difference of opinion amongst the companions of the Messenger ﷺ about the wearing of ihram by the Messenger of Allah ﷺ when he made it obligatory. He replied: I am aware of it more than the people. The Messenger of Allah ﷺ performed only one hajj. Hence the people differed among themselves. The Messenger of Allah ﷺ came out (from Madina) with the intention of performing hajj. When he offered two rakahs of prayer in the mosque at Dhul-Hulayfah, he made it obligatory by wearing it. At the same meeting, he raised his voice in the talbiyah for hajj, when he finished his two rakahs. Some people heard it and I retained it from him. He then rode (on the she-camel), and when it (the she-camel) stood up, with him on its back, he raised his voice in the talbiyah and some people heard it at that moment. This is because the people were coming in groups, so they heard him raising his voice calling the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back, and they thought that the Messenger of Allah ﷺ had raised his voice in the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back. The Messenger of Allah ﷺ proceeded further; when he ascended the height of al-Bayda he raised his voice in the talbiyah. Some people heard it at that moment. They thought that he had raised his voice in the talbiyah when he ascended the height of al-Bayda. I swear by Allah, he raised his voice in the talbiyah at the place where he prayed, and he raised his voice in the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back, and he raised his voice in the talbiyah when he ascended the height of al-Bayda. Saeed (ibn Jubayr) said; He who follows the view of Ibn Abbas raises his voice in talbiyah (and ihram) at the place of is prayer after he finishes two rakahs of his prayer.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٥٥٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٠) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی خصیف کا حافظہ کمزور تھا، مگر حدیث میں مذکور تفصیل صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ یہی وہ بیداء کا مقام ہے جس کے بارے میں تم لوگ رسول اللہ ﷺ سے غلط بیان کرتے ہو کہ آپ نے تو مسجد یعنی ذی الحلیفہ کی مسجد کے پاس ہی سے تلبیہ کہا تھا۔
Ibn Umar said this is your al-Baida’ about which you ascribe falsehood to the Messenger of Allah ﷺ . He did not raise his voice in talbiyah but from the masjid, i. e. the mosque of Dhu al-Hulaifah.
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! میں نے آپ کو چار کام ایسے کرتے دیکھا ہے جنہیں میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا ہے؟ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں ابن جریج؟ وہ بولے: میں نے دیکھا کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو چھوتے ہیں، اور دیکھا کہ آپ ایسی جوتیاں پہنتے ہیں جن کے چمڑے میں بال نہیں ہوتے، اور دیکھا آپ زرد خضاب لگاتے ہیں، اور دیکھا کہ جب آپ مکہ میں تھے تو لوگوں نے چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیا لیکن آپ نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کے آنے تک احرام نہیں باندھا، تو عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: رہی رکن یمانی اور حجر اسود کی بات تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو صرف انہیں دو کو چھوتے دیکھا ہے، اور رہی بغیر بال کی جوتیوں کی بات تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی جوتیاں پہنتے دیکھی ہیں جن میں بال نہیں تھے اور آپ ان میں وضو کرتے تھے، لہٰذا میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں، اور رہی زرد خضاب کی بات تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو زرد رنگ کا خضاب لگاتے دیکھا ہے، لہٰذا میں بھی اسی کو پسند کرتا ہوں، اور احرام کے بارے میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت تک لبیک پکارتے نہیں دیکھا جب تک کہ آپ کی سواری آپ کو لے کر چلنے کے لیے کھڑی نہ ہوجاتی۔
Ubayd ibn Jurayj said to Abdullah ibn Umar (RA) : Abu Abdur Rahman, I saw you doing things which I did not see being done by your companions. He asked: What are they, Ibn Jurayj? He replied: I saw you touching only the two Yamani corners; and I saw you wearing shoes having no hair; I saw you dyeing in yellow colour; and I saw you wearing ihram on the eighth of Dhul-Hijjah, whereas the people had worn ihram when they sighted the moon. Abdullah ibn Umar replied: As regards the corners, I have not seen the Messenger of Allah ﷺ touching anything (in the Kabah) but the two Yamani corners. As for the tanned leather shoes, I have seen the Messenger of Allah ﷺ wearing tanned leather shoes, and he would wear them after ablution. Therefore I like to wear them. As regards wearing yellow, I have seen the Messenger of Allah ﷺ wearing yellow, so I like to wear with it. As regards shouting the talbiyah, I have seen the Messenger of Allah ﷺ raising his voice in talbiyah when his she-camel stood up with him on its back.
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر چار رکعت اور ذی الحلیفہ میں عصر دو رکعت ادا کی، پھر ذی الحلیفہ میں رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہوگئی، جب آپ ﷺ اپنی سواری پر بیٹھے اور وہ آپ کو لے کر سیدھی ہوگئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا۔
Anas said: Messenger of Allah ﷺ prayed four rak’ahs at Madinah and prayed two rak’ahs of afternoon prayer at Dhu-al Hulaifah. He then passed the night at Dhu-al Hulaifah till the morning came. When he rode on his mount and it stood up on its back, he raised his voice in talbiyah.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر بیٹھے جب بیداء کے پہاڑ پر چڑھے تو تلبیہ پڑھا۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ offered the noon prayer, and then rode on his mount. When he came to the hill of al-Bayda, he raised his voice in talbiyah.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٢٥ (٢٦٦٣)، ٥٦ (٢٧٥٦)، ١٤٣ (٢٩٣٤)، ( تحفة الأشراف: ٥٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٠٧)، سنن الدارمی/الحج ١٢ (١٨٤٨) (صحیح لغیرہ) ( اس حدیث کے روای حسن بصری ہیں جو مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس کی اصل سابقہ حدیث نمبر: (١٧٧٣) ہے، اس سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص ؓ کا کہنا ہے کہ اللہ کے نبی اکرم ﷺ جب فرع کا راستہ (جو مکہ کو جاتا ہے) اختیار کرتے تو جب آپ ﷺ کی سواری آپ کو لے کر سیدھی ہوجاتی تو آپ تلبیہ پڑھتے اور جب آپ احد کا راستہ اختیار کرتے تو بیداء کی پہاڑی پر چڑھتے وقت تلبیہ پڑھتے۔
Narrated Saad ibn Abi Waqqas (RA) : When the Prophet of Allah (peace be upon him0 undertook his journey by the way of al-Far, he shouted talbiyah when his mount stood up with him on its back. But when he travelled by the way of Uhud, he raised his voice in Talbiyah when he ascended the hill of al-Bayda.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٩٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، (لگا سکتی ہو) ، انہوں نے کہا: تو میں کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو! لبيك اللهم لبيك، ومحلي من الأرض حيث حبستني حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے ۔
Ibn Abbas said: Duba`ah, daughter of al-Zubair bin Abd al-Muttalib, came to the Messenger of Allah ﷺ and said Messenger of Allah ﷺ I want to perform Hajj; may I make a provision? He said Yes. She asked how should I say? He replied: Say “ Labbaik Allahumma Labbaik (I am at Thy service, Oh Allah, I am at Thy service). The place where I took off Ihram will be where Thou restrainest me. ”
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد کیا ١ ؎۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ performed Hajj exclusively (without performing Umrah in the beginning).
Notes · وضاحت
١ ؎: حج کے مہینے میں میقات سے صرف حج کی نیت سے احرام باندھنے کو افراد کہتے ہیں، نبی کریم ﷺ کے بارے میں صحیح یہ ہے کہ آپ نے حج قران کیا تھا، اس لئے کہ آپ ﷺ کے ساتھ ہدی کے جانور تھے، ورنہ صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا تھا کہ جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو وہ عمرہ پورا کر کے احرام کھول دیں، یعنی حج قران کو حج تمتع میں بدل دیں، دیکھئے حدیث نمبر: (٧٩٥)۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن الترمذی/الحج ١٠ (٨٢٠)، سنن النسائی/الحج ٤٨ (٢٧١٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٧ (٢٩٦٤)، ( تحفة الأشراف: ١٧٥١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ١١(٣٧)، مسند احمد (٦/٢٤٣)، سنن الدارمی/المناسک ١٦ (١٨٥٣) (صحیح الإسناد )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب ذی الحجہ کا چاند نکلنے کو ہوا تو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا احرام باندھے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھے ۔ موسیٰ نے وہیب والی روایت میں کہا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر میں ہدی نہ لے چلتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا ۔ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے : رہا میں تو میں حج کا احرام باندھتا ہوں کیونکہ میرے ساتھ ہدی ہے ۔ آگے دونوں راوی متفق ہیں (ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں) میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں تھی، آپ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ مجھے حیض آگیا، آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، میں رو رہی تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ ، میں نے عرض کیا: میری خواہش یہ ہو رہی ہے کہ میں اس سال نہ نکلتی (تو بہتر ہوتا) ، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، سر کھول لو اور کنگھی کرلو ۔ موسیٰ کی روایت میں ہے : اور حج کا احرام باندھ لو ، اور سلیمان کی روایت میں ہے: اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان اپنے حج میں کرتے ہیں ۔ تو جب طواف زیارت کی رات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن کو حکم دیا چناچہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر گئے۔ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس عمرے کے عوض (جو ان سے چھوٹ گیا تھا) دوسرے عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس طرح اللہ نے ان کے عمرے اور حج دونوں کو پورا کردیا۔ ہشام کہتے ہیں: اور اس میں ان پر اس سے کوئی ہدی لازم نہیں ہوئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بطحاء ١ ؎ کی رات آئی تو عائشہ ؓ حیض سے پاک ہوگئیں۔
Aishah said: We went out along with The Messenger of Allah ﷺ when the moon of the month of Dhu al-Hijja was going to appear shortly. When he reached Dhu al-Hulaifah he said: Anyone who wants to perform Hajj should raise his voice in Talbiyah for Hajj (after wearing Ihram); and he who wants to perform Umrah should raise his voice in talbiyah for an Umrah. The narrator Musa in the version of Wuhaib reported him (the Prophet) as saying if there were no sacrificial animals with me, I would raise my voice in talbiyah for an Umrah. But according to the version of Hammad bin Salamah, he said as for myself, I shall raise my voice in talbiyah for Hajj because I have sacrificial animal with me. The agreed version goes I (Aishah) was one of those persons who wore Ihram for an ‘Umrah. But on my way (to Makkah) I menstruated. The Messenger of Allah ﷺ entered upon me while I was weeping. He asked why are you weeping? I wished I would not come out (for Hajj) this year. He said give up your Umrah; untie your hair and comb. The version of Musa said and raise your voice in talbiyah for Hajj (after wearing Ihram). Sulaiman’s version goes and do as all the Muslims do during their Hajj. When the night for performing the obligatory circumambulation (tawaf al-Ziyarah) came, the Messenger of Allah ﷺ commanded Abdur-Rahman. He took her to al-Tan’im (instead of the words “her ‘Umrah”). She went round the Kaabah. Allah thus completed both her ‘Umrah and Hajj. Hisham said: No sacrificial animal was offered during all this time. In the version of Hammad bin Salamah, the narrator Musa added when the night of al-Batha came Ai’ shah was purified.
Notes · وضاحت
١ ؎: بطحاء سے مراد منیٰ ہے، یعنی قیام منیٰ کے ایام کی کسی رات میں وہ پاک ہوگئیں، علامہ عینی کہتے ہیں کہ عائشہ ؓ حیض تین ذی الحجہ بروز سنیچر مقام سرف میں شروع ہوا تھا، اور دسویں ذی الحجہ کو سنیچر کے روز پاک ہوئیں۔
Takhrij · تخریج
حدیث سلیمان بن حرب عن حماد بن زید قد أخرجہ: سنن النسائی/الحج ١٨٥ (٢٩٩٣)، ١٨٦ (٢٩٩٤)، ( تحفة الأشراف: ١٦٨٦٣، ١٦٨٨٢)، وحدیث موسیٰ بن اسماعیل عن حماد بن سلمة وموسی بن اسماعیل عن وہیب، قد تفرد بہما أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٢٩٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ١ (٢٩٤)، ٧ (٣٠٥)، ١٥(٣١٦)، ١٦ (٣١٧)، ١٨ (٣١٩)، الحج/٣١ (١٥٥٦)، ٣٣ (١٥٦٠)، ٣٤ (١٥٦٢)، ٧٧ (١٦٣٨)، ١١٥ (١٧٠٩)، ١٢٤ (١٧٢٠)، ١٤٥ (١٧٥٧)، العمرة ٧ (١٧٨٦)، ٩ (١٧٨٨)، الجھاد ١٠٥ (٢٩٥٢)، المغازي ٧٧ (٤٣٩٥)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن النسائی/الطھارة ١٨٣ (٢٩١) سنن ابن ماجہ/الحج ٣٦ (٢٩٦٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم لوگ حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ہم میں کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا، رسول اللہ ﷺ نے حج کا احرام باندھا، چناچہ جن لوگوں نے حج کا یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا انہوں نے یوم النحر (یعنی دسویں ذی الحجہ) تک احرام نہیں کھولا۔
Aishah wife the Prophet ﷺ narrated we went out with the Messenger of Allah ﷺ at the farewell pilgrimage. Some of us had put on Ihram for Umrah and some both for Hajj and Umrah, when the Messenger of Allah ﷺ had put on Ihram for Hajj only. He who had put on Ihram for Umrah, put off Ihram after performing Umrah and he who had worn Ihram both for Hajj and Umrah or only for Hajj did not take it off till the tenth (of the month).
اس سند سے بھی ابوالاسود سے اسی طریق سے اسی کے مثل مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: رہے وہ لوگ جنہوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو ان لوگوں نے (عمرہ کر کے) احرام کھول دیا ۔
The aforesaid tradition has also been narrated by Abu al-Aswad through a different chain of narrators. This version adds he who raises his voice in talbiyah for Umrah (and wearing Ihram for it) should put off Ihram after performing Umrah.