Sunan Abu Dawood 1760

مناسک حج کا بیان

1760Sunan Abu Dawood

ہدی کے جانور پر سواری کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، فَقَالَ: ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کرلے جا رہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر سوار ہوجاؤ ، وہ بولا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر سوار ہوجاؤ، تمہارا برا ہو ١ ؎، یہ آپ ﷺ نے دوسری یا تیسری بار میں فرمایا۔

Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ saw a man driving the sacrificial camel. He said ride on it. He said this is a sacrificial camel. He again said ride on it, bother you, either the second or the third time he spoke.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آپ ﷺ نے بطور زجر و توبیخ کے فرمایا، کیوں کہ سواری کی اجازت آپ ﷺ پہلے دے چکے تھے، اور آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ ہدی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہدی کے جانور پر سواری درست ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ بوقت ضرورت و حاجت جائز ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ جب جی چاہے سوار ہوسکتا ہے، خواہ حاجت ہو یا نہ ہو، اور بعض نے سوار ہونے کو واجب کہا ہے، کیوں کہ اس میں زمانہ جاہلیت کے طریقہ کی مخالفت ہے، وہ لوگ ایسے جانوروں کی ان کے درجہ سے زیادہ قدر و منزلت کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٣ (١٦٨٩)، والوصایا ١٢ (٢٧٥٥)، والأدب ٩٥ (٦١٦٠)، صحیح مسلم/الحج ٦٥ (١٣٢٢)، سنن النسائی/الحج ٧٤ (٢٨٠١)، ( تحفة الأشراف: ١٣٨٠١)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک ١٠٠ (٣١٠٣)، موطا امام مالک/الحج ٤٥ (١٣٩)، مسند احمد (٢/٢٥٤، ٢٧٨، ٣١٢، ٤٦٤، ٤٧٤، ٤٧٨) (صحیح )