کتاب الزکوٰة

Sunan Abu Dawood · Chapter 5 · 165 hadiths · Page 9 of 9

1716Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمَعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ وَ حَسَنٌ وَ حُسَيْنٌ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيهِمَا ؟ قَالَتْ: الْجُوعُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ فَجَاءَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتْ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ فَخُذْ لَنَا دَقِيقًا فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ حَتَّى جَاءَ فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتْ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا فَذَهَبَ فَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمِ لَحْمٍ فَجَاءَ بِهِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ وَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَهُمْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَذْكُرُ لَكَ فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلَالًا أَكَلْنَاهُ وَأَكَلْتَ مَعَنَا مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ، فَأَكَلُوا، فَبَيْنَمَا هُمْ مَكَانَهُمْ إِذَا غُلَامٌ يَنْشُدُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ الدِّينَارَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِيَ لَهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ، اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لَكَ: أَرْسِلْ إِلَيَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْهَمُكَ عَلَيَّ، فَأَرْسَلَ بِهِ فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ.

ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد ؓ نے ان سے بتایا کہ علی بن ابی طالب ؓ فاطمہ ؓ کے پاس آئے اور حسن اور حسین ؓ رو رہے تھے، تو انہوں نے پوچھا: یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں؟ فاطمہ نے کہا: بھوک (سے رو رہے ہیں) ، علی ؓ باہر نکلے تو بازار میں ایک دینار پڑا پایا، وہ فاطمہ ؓ کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: فلاں یہودی کے پاس جائیے اور ہمارے لیے آٹا لے لیجئے، چناچہ وہ یہودی کے پاس گئے اور اس سے آٹا خریدا، تو یہودی نے پوچھا: تم اس کے داماد ہو جو کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ وہ بولے: ہاں، اس نے کہا: اپنا دینار رکھ لو اور آٹا لے جاؤ، چناچہ علی ؓ آٹا لے کر فاطمہ ؓ کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو وہ بولیں: فلاں قصاب کے پاس جائیے اور ایک درہم کا گوشت لے آئیے، چناچہ علی ؓ گئے اور اس دینار کو ایک درہم کے بدلے گروی رکھ دیا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے، فاطمہ ؓ نے آٹا گوندھا، ہانڈی چڑھائی اور روٹی پکائی، اور اپنے والد (رسول اللہ ﷺ ) کو بلا بھیجا، آپ تشریف لائے تو وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں آپ سے واقعہ بیان کرتی ہوں اگر آپ اسے ہمارے لیے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں اور ہمارے ساتھ آپ بھی کھائیں، اس کا واقعہ ایسا اور ایسا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر کھاؤ ، ابھی وہ لوگ اپنی جگہ ہی پر تھے کہ اسی دوران ایک لڑکا اللہ اور اسلام کی قسم دے کر اپنے کھوئے ہوئے دینار کے متعلق پوچھ رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو اسے بلایا گیا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: بازار میں مجھ سے (میرا دینار) گرگیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: علی! قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: اللہ کے رسول ﷺ تم سے کہہ رہے ہیں: دینار مجھے بھیج دو، تمہارا درہم میرے ذمے ہے ، چناچہ اس نے وہ دینار بھیج دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اس (لڑکے) کو دے دیا۔

Sahl bin Saad said: Ali bin Abi Talib entered upon Fatimah while Hasan and Husain were crying. He asked: Why are they crying? She replied: Due to hunger. Ali went out and found a dinar in the market. He then came to Fatima and told her about it. She said: Go to such and such a Jew and get some flour for us. He came to the Jew and purchased flour with it. He said: Are you the son-in-law of him who believes that he is the Messenger of Allah. He said: Yes. The Jew said: Have your dinar with you and you will get the flour. Ali then went out and came to Fatima. He told her about the matter. She then said: Go to such and such a butcher and get some meat for us for a dirham. Ali went out and pawned the dinar for a dirham with him and got the meat, and brought it (to her). She then kneaded the flour, put the utensil on fire and baked the bread. She sent for her father: (i. e. the Prophet ﷺ . He came to them. She said to him: Messenger of Allah, I tell you all the matter. If you think it is lawful for us, we shall eat it and you will eat with us. She said: The matter is such and such. He said: eat in the name of Allah. So they ate it. While they were (eating) at their place, a boy cried adguring in the name of Allah and Islam: He was searching the dinar. The Messenger of Allah ﷺ commanded and he was called in. He asked him. The boy replied, I lost it somewhere in the market. The Prophet ﷺ said: Ali, go to the butcher and tell him that the Messenger of Allah ﷺ has asked you: send the dinar to me and one dirham of yours will be due on me. The butcher returned it and the Messenger of Allah ﷺ handed it to him (the boy).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٤٧٧٠) (حسن )
1717Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاهِهِ يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ أَبِي سَلَمَةَ، بِإِسْنَادِهِ، وَرَوَاهُ شَبَابَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانُوا لَمْ يَذْكُرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں لکڑی، کوڑے، رسی اور ان جیسی چیزوں کے بارے میں رخصت دی کہ اگر آدمی انہیں پڑا پائے تو اسے کام میں لائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے نعمان بن عبدالسلام نے مغیرہ ابوسلمہ سے اسی طریق سے روایت کیا ہے اور اسے شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے انہوں نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے روایت کیا ہے، راوی کہتے ہیں: لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے یعنی اسے جابر ؓ پر موقوف کہا ہے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ gave us licence to use (for our purpose) a stick, a rope, a whip and things of that type which a man picked up; he may benefit from them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٢٩٦٦) (ضعیف) (ابوالزبیر مدلس راوی ہیں اور بذریعہ عن روایت کئے ہیں )
1718Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَحْسَبُهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ضَالَّةُ الْإِبِلِ الْمَكْتُومَةُ غَرَامَتُهَا وَمِثْلُهَا مَعَهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: گمشدہ اونٹ اگر چھپا دیا جائے تو (چھپانے والے پر) اس کا جرمانہ ہوگا، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہوگا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: He who hides a stray camel shall pay a fine, and a like compensation with it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٤٢٥١) (صحیح )
1719Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ. قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ يَتْرُكُهَا حَتَّى يَجِدَهَا صَاحِبُهَا، قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ: عَنْ عَمْرٍو.

عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حاجی کے لقطے سے منع فرمایا۔ احمد کہتے ہیں: ابن وہب نے کہا: یعنی حاجی کے لقطے کے بارے میں کہ وہ اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے، ابن موہب نے أخبرني عمرو کے بجائے عن عمرو کہا ہے۔

Abdur-Rahman bin Uthman al-Taime said: The Messenger of Allah ﷺ prohibited taking the find of pilgrims. Ibn Wahb said: One should leave the find of a pilgrim till its owner finds it.

Takhrij · تخریج
م /اللقطة ١ (١٧٢٤)، سنن النسائی/ الکبری/ اللقطة (٥٨٠٥)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩٩) (صحیح )
1720Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ جَرِيرٍ بِالْبَوَازِيجِ فَجَاءَ الرَّاعِي بِالْبَقَرِ وَفِيهَا بَقَرَةٌ لَيْسَتْ مِنْهَا، فَقَالَ لَهُ جَرِيرٌ: مَا هَذِهِ ؟ قَالَ: لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ لَا نَدْرِي لِمَنْ هِيَ، فَقَالَجَرِيرٌ: أَخْرِجُوهَا، فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ.

منذر بن جریر کہتے ہیں میں جریر کے ساتھ بوازیج ١ ؎ میں تھا کہ چرواہا گائیں لے کر آیا تو ان میں ایک گائے ایسی تھی جو ان کی گایوں میں سے نہیں تھی، جریر نے اس سے پوچھا: یہ کیسی گائے ہے؟ اس نے کہا: یہ گایوں میں آ کر مل گئی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس کی ہے، جریر نے کہا: اسے نکالو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: گمشدہ جانور کو کوئی گم راہ ہی اپنے پاس جگہ دیتا ہے ٢ ؎۔

Narrated Al-Mundhir ibn Jarir: I accompanied Jarir at Bawazij. The shepherd brought the cows. Among them there was a cow that was not one of them. Jarir asked him: What is this? He replied: This was mixed with the cows and we do not know to whom it belongs. Jarir said: Take it out. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: No one mixes a stray animal (with his animals) but a man who strays from right path.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” بوازيج “: (عراق میں) نہر دجلہ کے قریب ایک شہر کا نام ہے۔ ٢ ؎: مطلب یہ ہے کہ کسی گم شدہ جانور کو اپنا بنا لینے کے لئے اس کو پکڑ لے تو وہ گمراہ ہے، رہا وہ شخص جو اسے اس لئے پکڑے تاکہ اس کی پہچان کرا کر اسے اس کے مالک کے حوالہ کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں زید بن خالد جہنی ؓ کی روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: من آوى ضالة فهو ضال ما لم يعرفها اور نسائی کی روایت کے الفاظ یوں ہیں: من أخذ لقطة فهو ضال ما لم يعرفها جو آدمی گم شدہ چیز اپنے پاس رکھے وہ گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کی تشہیر نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکبری (٥٧٩٩)، سنن ابن ماجہ/اللقطة ١ (٢٥٠٣)، ( تحفة الأشراف: ٣٢٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٠، ٣٦٢) (صحیح) (مرفوع حصہ صحیح ہے )
1566Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ الْخَاتَمِ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: كَيْفَ تُزَكِّيهِ ؟ قَالَ: تَضُمُّهُ إِلَى غَيْرِهِ.

سفیان سے پوچھا گیا: آپ اس کی زکاۃ کیسے دیں گے؟ انہوں نے کہا: تم اسے دوسرے میں ملا لو۔

The aforesaid tradition has also been narrated by Umar bin Yala through a different chain of narrators, like the tradition of ring. Sufyan, a narrator, was asked How do you pay zakat on it. He said You may combine it with other (ornaments).

1580Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ: لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ رَاضِعَ لَبَنٍ.

ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ کا محصل آیا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی کتاب میں پڑھا: زکاۃ کے خوف سے جدا مال اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی اکٹھا مال جدا کیا جائے، اس روایت میں دودھ والے جانور کا ذکر نہیں ہے۔

Suwaid bin Ghaflah reported The collector of the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم came to us. I caught hold of his hand and read in the document that the goods were not to be combined nor were they to be separated for fear of zakat. There is no mention of milch animals in this tradition.

1582Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ فِيهِ: وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْوَلَدُ.

اس میں مسلم بن شعبہ ہے اور اس میں ہے کہ «شافع» وہ بکری ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو۔ ۱۵۸۲/م- ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے عمرو بن حارث حمصی کی اولاد کے پاس حمص میں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا کہ زبیدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن جابر نے خبر دی ہے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے جبیر نے عبداللہ بن معاویہ غاضری سے جو غاضرہ قیس سے ہیں، روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین باتیں ہیں جو کوئی ان کو کرے گا ایمان کا مزا چکھے گا: جو صرف اللہ کی عبادت کرے، «لا إله إلا الله» کا اقرار کرے، اپنے مال کی زکاۃ خوشی سے ہر سال ادا کیا کرے، اور زکاۃ میں بوڑھا، خارشتی، بیمار اور گھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ اوسط درجے کا مال دے، اس لیے کہ اللہ نے نہ تو تم سے سب سے بہتر کا مطالبہ کیا اور نہ ہی تمہیں گھٹیا مال دینے کا حکم دیا ہے۔

This tradition has also been narrated by Zakariyya bin Ishaq through his chain of narrators. In this version Mulsim bin Shubah said: Shafi' means a goat which has a baby in its womb. Abu Dawud said: I read in a document possessed by Abdullah ibn Salim at Hims: Abdullah ibn Muawiyah al-Ghadiri reported the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: He who performs three things will have the taste of the faith. (They are: ) One who worships Allah alone and one believes that there is no god but Allah; and one who pays the zakat on his property agreeably every year. One should not give an aged animal, nor one suffering from itch or ailing, and one most condemned, but one should give animals of medium quality, for Allah did not demand from you the best of your animals, nor did He command you to give the animals of worst quality.