کتاب الزکوٰة

Sunan Abu Dawood · Chapter 5 · 165 hadiths · Page 8 of 9

1696Sunan Abu Dawood

حرص اور بخل کی مذمت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ.

جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رشتہ ناتا توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا ۔

Jubair bin Mutim reported on the authority of his father: The Prophet ﷺ said: Anyone who cuts off relationship from his nearest relatives will not enter Paradise.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ١١ (٥٩٨٤)، صحیح مسلم/البر والصلة ٦ (٢٥٥٦)، سنن الترمذی/البر والصلة ١٠ (١٩٠٩)، ( تحفة الأشراف: ٣١٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٠، ٨٣، ٨٤، ٨٥، ٣٨٢، ٣٨٩، ٣٩٧، ٤٠٣) (صحیح )
1697Sunan Abu Dawood

حرص اور بخل کی مذمت

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، وَفِطْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سُفْيَانُ: وَلَمْ يَرْفَعْهُ سُلَيْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفَعَهُ فِطْرٌ وَ الْحَسَنُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ وَلَكِنْ هُوَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشتہ ناتا جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں ناتا جوڑے بلکہ ناتا جوڑنے والا وہ ہے کہ جب ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے ۔

Abdullah bin Amr said: (Sufyan said: The version of the narrator Sulaiman does not go back to The Prophet ﷺ . Fitr and al-Hasan reported from him ): The Messenger of Allah ﷺ said: One who compensates is not a man who unites relationship: but the man who unites relationship is the one who joins it when the relationship is cut off.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ١٥ (٥٩٩١)، سنن الترمذی/البر والصلة ١٠ (١٩٠٨)، ( تحفة الأشراف: ٨٩١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٣، ١٩٠، ١٩٣) (صحیح )
1698Sunan Abu Dawood

حرص اور بخل کی مذمت

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالشُّحِّ، أَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا: بخل و حرص سے بچو اس لیے کہ تم سے پہلے لوگ بخل و حرص کی وجہ سے ہلاک ہوئے، حرص نے لوگوں کو بخل کا حکم دیا تو وہ بخیل ہوگئے، بخیل نے انہیں ناتا توڑنے کو کہا تو لوگوں نے ناتا توڑ لیا اور اس نے انہیں فسق و فجور کا حکم دیا تو وہ فسق و فجور میں لگ گئے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ preached and said: Abstain from avarice, for those who had been before you were annihilated due to avarice. It (avarice) commanded them to show niggardliness; it commanded them to cut off their relationship with their nearest relatives, so they cut off. It commanded them to show profligacy, so they showed it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٨٦٢٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری (١١٥٨٣)، مسند احمد (٢/١٥٩، ١٦٠، ١٩١، ١٩٥) (صحیح )
1699Sunan Abu Dawood

حرص اور بخل کی مذمت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ بَيْتَهُ أَفَأُعْطِي مِنْهُ، قَالَ: أَعْطِي وَلَا تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ.

اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے اس کے کچھ نہیں جو زبیر میرے لیے گھر میں لا دیں، کیا میں اس میں سے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو اور اسے بند کر کے نہ رکھو کہ تمہارا رزق بھی بند کر کے رکھ دیا جائے ۔

Asma, daughter of Abu Bakr, said: I said: Messenger of Allah ﷺ , I have nothing of my own except what al-Zubair (her husband) brings to me in his house: should I spend out of it? He said: Give and do not hoard so your sustenance will be hoarded.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البروالصلة ٤٠ (١٩٦٠)، سنن النسائی/الزکاة ٦٢ (٢٥٥١، ٢٥٥٢)، ( تحفة الأشراف: ١٥٧١٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٢١ (١٤٣٣)، ٢٢ (١٤٣٤)، والھبة ١٥ (٢٥٩٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٨ (١٠٢٩)، مسند احمد (٦/١٣٩، ٣٤٤، ٣٥٣، ٣٥٤) (صحیح )
1700Sunan Abu Dawood

حرص اور بخل کی مذمت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةِ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ عِدَّةً مِنْ مَسَاكِينَ قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ غَيْرُهُ: أَوْ عِدَّةً مِنْ صَدَقَةٍ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطِي وَلَا تُحْصِي فَيُحْصَى عَلَيْكِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کئی مسکینوں کا ذکر کیا (ابوداؤد کہتے ہیں: دوسروں کی روایت میں عدة من صدقة (کئی صدقوں کا ذکر ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: دو اور گنو مت کہ تمہیں بھی گن گن کر رزق دیا جائے ۔

Abu Mulaykah reported: Aisha (RA) counted a number of indigents. Abu Dawud said: The other version has: She counted a number of sadaqahs. The Messenger of Allah ﷺ said: Give and do not calculate, so calculation will be made against you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٦٢٣٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة ٦٢ (٢٥٥٢)، مسند احمد (٦/١٠٨، ١٣٩، ١٦٠) (صحیح )
1701Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا، فَقَالَا لِيَ: اطْرَحْهُ، فَقُلْتُ: لَا، وَلَكِنْ إِنْ وَجَدْتُ صَاحِبَهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ فَحَجَجْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَسَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقَالَ: وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَقَالَ: احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا، وَقَالَ: وَلَا أَدْرِي أَثَلَاثًا قَالَ عَرِّفْهَا أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً.

سوید بن غفلہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ کے ساتھ جہاد کیا، مجھے ایک کوڑا پڑا ملا، ان دونوں نے کہا: اسے پھینک دو، میں نے کہا: نہیں، بلکہ اگر اس کا مالک مل گیا تو میں اسے دے دوں گا اور اگر نہ ملا تو خود میں اپنے کام میں لاؤں گا، پھر میں نے حج کیا، میرا گزر مدینے سے ہوا، میں نے ابی بن کعب ؓ سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک تھیلی ملی تھی، اس میں سو (١٠٠) دینار تھے، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ نے فرمایا: ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ ، چناچہ میں ایک سال تک اس کی پہچان کراتا رہا، پھر آپ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ایک سال اور پہچان کراؤ ، میں نے ایک سال اور پہچان کرائی، اس کے بعد پھر آپ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ایک سال پھر پہچان کراؤ ، چناچہ میں ایک سال پھر پہچان کراتا رہا، پھر آپ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے عرض کیا: مجھے کوئی نہ ملا جو اسے جانتا ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی تعداد یاد رکھو اور اس کا بندھن اور اس کی تھیلی بھی، اگر اس کا مالک آجائے (تو بہتر) ورنہ تم اسے اپنے کام میں لے لینا ۔ شعبہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ سلمہ نے عرفها تین بار کہا تھا یا ایک بار۔

Suwayd ibn Ghaflah said: I fought along with Zayd ibn Suhan and Sulayman ibn Rabiah. I found a whip. They said to me: Throw it away. I said: No; if I find its owner (I shall give it to him); if not, I shall use it. Then I performed hajj; and when I reached Madina, I asked Ubayy ibn Kab. He said: I found a purse which contained one hundred dinars; so I came to the Prophet ﷺ . He said to me: Make the matter known for a year. I made it known for a year and then came to him. He then said to me: Make the matter known for a year. So I made it known for a year. I then (again) came to him. He said to me: Make the matter known for a year. Then I came to him and said: I did not find anyone who realises it. He said: Remember, its number, its container and its tie. If its owner comes, (give it to him), otherwise use it yourself. He (the narrator Shubah) said: I do not know whether he said the word make the matter known three times or once.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللقطة ١ (٢٤٢٦)، ١٠ (٢٤٣٧)، صحیح مسلم/اللقطة ١ (١٧٢٣)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٥ (١٣٧٤)، سنن النسائی/الکبری/ اللقطة (٥٨٢٠، ٥٨٢١)، سنن ابن ماجہ/اللقطة ٢ (٢٥٠٦)، ( تحفة الأشراف: ٢٨)، وقدأخرجہ: مسند احمد (٥/١٢٦، ١٢٧) (صحیح )
1702Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، وَقَالَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي قَالَ لَهُ ذَلِكَ فِي سَنَةٍ أَوْ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ.

اس سند سے بھی شعبہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے وہ کہتے ہیں: عرفها حولا تین بار کہا، البتہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپ نے اسے ایک سال میں کرنے کے لیے کہا یا تین سال میں۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Shubah through a different chain of narrators to the same effect. The version goes: He said: Make it known for a year. He said this three times. He said: I do not know whether he said “for a year” or “for three years”.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٢٨) (صحیح )
1703Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ فِي التَّعْرِيفِ: قَالَ: عَامَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، وَقَالَ: اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، زَادَ: فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَيْسَ يَقُولُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ إِلَّا حَمَّادٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، يَعْنِي فَعَرَفَ عَدَدَهَا.

حماد کہتے ہیں سلمہ بن کہیل نے ہم سے اسی سند سے اور اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں ہے: آپ ﷺ نے (لقطہٰ کی) پہچان کرانے کے سلسلے میں فرمایا: دو یا تین سال تک (اس کی پہچان کراؤ) ، اور فرمایا: اس کی تعداد جان لو اور اس کی تھیلی اور اس کے سر بندھن کی پہچان کرلو ، اس میں اتنا مزید ہے: اگر اس کا مالک آجائے اور اس کی تعداد اور سر بندھن بتادے تو اسے اس کے حوالے کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فعرف عددها کا کلمہ اس حدیث میں سوائے حماد کے کسی اور نے نہیں ذکر کیا ہے۔

The above mentioned tradition has also been transmitted by Salamah. Bin Kuhail through a different chain to the same effect. The version has ; about making the matter known he said ; “ two years or three. ” He said: Remember its number, its container and its string. The version adds: If its owner comes, and tells its number and its string, then give it to him. Abu Dawud said: None of the narrators said this word in this tradition except Hammad ; That is, “ If he tells its number. ”

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٧٠١، ( تحفة الأشراف: ٢٨) (صحیح )
1704Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، قَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ، فَقَالَ: خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْإِبِلِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، وَقَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے لقطہٰ (پڑی ہوئی چیز ) کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ، پھر اس کی تھیلی اور سر بندھن کو پہچان لو، پھر اسے خرچ کر ڈالو، اب اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! گمشدہ بکری کو ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو پکڑ لو، اس لیے کہ وہ یا تو تمہارے لیے ہے، یا تمہارے بھائی کے لیے، یا بھیڑیئے کے لیے ، اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ کو ہم کیا کریں؟ تو رسول اللہ ﷺ غصہ ہوگئے یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہوگئے یا آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایا: تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اس کا جوتا ١ ؎ اور اس کا مشکیزہ اس کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک آجائے ۔

Zaid bin Khalid al-Juhani said: A man asked the Messenger of Allah ﷺ about a find. He said: Make the matter known for a year, then note its string and its container and then use it for your purpose. Then if its owner comes, give it to him. He asked: Messenger of Allah, what about a stray sheep? He replied: Take it; that is for you, or for your brother, or for the wolf. He again asked: Messenger of Allah, What about stray camels? The Messenger of Allah ﷺ became angry so much so that his cheeks became red or ( the narrator is doubtful) his face became red. He replied: What have you to do with them? They have with them their feet and their stomachs (for drink) till their master comes to him.

Notes · وضاحت
١ ؎: جوتے سے مراد اونٹ کا پاؤں ہے، اور مشکیزہ سے اس کا پیٹ جس میں وہ کئی دن کی ضرورت کا پانی ایک ساتھ بھر لیتا ہے اور بار بار پانی پینے کی ضرورت نہیں محسوس کرتا، اسے بکری کی طرح بھیڑیے وغیرہ کا بھی خوف نہیں کہ وہ خود اپنا دفاع کرلیتا ہے، اس لئے اسے پکڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٢٨ (٩١)، المساقاة ١٢ (٢٣٧٢)، اللقطة ٢ (٢٤٢٧)، ٣ (٢٤٢٨)، ٤ (٢٤٢٩)، ٩ (٢٤٣٦)، ١١ (٢٤٣٨)، الطلاق ٢٢ (٥٢٩٢ مرسلاً )، الأدب ٧٥ (٦١١٢)، صحیح مسلم/اللقطة ٣١ (١٧٢٢)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٥ (١٣٧٢)، سنن النسائی/ الکبری /اللقطة (٥٨١٤، ٥٨١٥، ٥٨١٦)، سنن ابن ماجہ/اللقطة ١ (٢٥٠٤)، ( تحفة الأشراف: ٣٧٦٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٣٨ (٤٦، ٤٧)، مسند احمد (٤/١١٥، ١١٦، ١١٧) (صحیح )
1705Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: سِقَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، وَلَمْ يَقُلْ: خُذْهَا فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ، وَقَالَ فِي اللُّقَطَةِ: عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ: اسْتَنْفِقْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ رَبِيعَةَ مِثْلَهُ، لَمْ يَقُولُوا: خُذْهَا.

اس سند سے بھی مالک سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ: وہ اپنی سیرابی کے لیے پانی پر آجاتا ہے اور درخت کھا لیتا ہے ، اس روایت میں گمشدہ بکری کے سلسلے میں خذها (اسے پکڑ لو) کا لفظ نہیں ہے، البتہ لقطہٰ کے سلسلے میں فرمایا: ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک آجائے تو بہتر ہے ورنہ تم خود اس کو استعمال کرلو ، اس میں استنفق کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری، سلیمان بن بلال اور حماد بن سلمہ نے اسے ربیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے خذها کا لفظ نہیں کہا ہے۔

The above mentioned tradition has also been transmitted by Malik through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: They have their stomachs: They can go down to water and eat trees. He did not say about the stray sheep: take it. About a find he said: Make it known for a year; if it’s owner comes, (give it to him), otherwise use it yourself. This version has not the word: “ spend it”. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Thawri, Sulaiman bin Bilal, and Hammad bin Salamah on the authority of Rabi ‘ ah in a similar manner. They did not mention the word “take it”.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٣٧٦٣) (صحیح )
1706Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ،عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لقطہٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا ڈھونڈنے والا آجائے تو اسے اس کے حوالہ کر دو ورنہ اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان رکھو اور پھر اسے کھا جاؤ، اب اگر اس کا ڈھونڈھنے والا آجائے تو اسے (اس کی قیمت) ادا کر دو ۔

Narrated Zayd ibn Khalid al-Juhani: The Messenger of Allah ﷺ was asked about a find. He said: Make it known for a year. If its seeker comes, deliver it to him, otherwise note its container and its string. Then use it; if its seeker comes, deliver it to him.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللقطة ١(١٧٢٢)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٥ (١٣٧٣)، سنن النسائی/الکبری (٥٨١١)، سنن ابن ماجہ/ اللقطة ١ (٥٠٧)، (تحفة الأشراف: ٣٧٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٦، ٥/١٩٣) (صحیح )
1707Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ رَبِيعَةَ، قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: تُعَرِّفُهَا حَوْلًا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا عَرَفْتَ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ أَفِضْهَا فِي مَالِكَ فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے (لقطے کے متعلق) پوچھا گیا پھر راوی نے ربیعہ کی طرح حدیث ذکر کی اور کہا: لقطے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایک سال تک تم اس کی تشہیر کرو، اب اگر اس کا مالک آجائے تو تم اسے اس کے حوالہ کر دو، اور اگر نہ آئے تو تم اس کے ظرف اور سر بندھن کو پہچان لو پھر اسے اپنے مال میں ملا لو، پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے اس کو دے دو ۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Zaid bin Khalid al-Juhani through a different chain of narrators. This version has: The Messenger of Allah ﷺ was asked about a find. He replied: Make the matter known for a year; if its owner comes, give it to him, otherwise note its string and its container and have it along with your property. If its owner comes, deliver it to him.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٧٠٤)، ( تحفة الأشراف: ٣٧٦٣) (صحیح )
1708Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ، بِإِسْنَادِ قُتَيْبَةَ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِيهِ: فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ،وقَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ الَّتِي زَادَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِي حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَ رَبِيعَةَ: إِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِلَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ، فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، وَحَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيْضًا، قَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً، وَحَدِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَيْضًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً.

یحییٰ بن سعید اور ربیعہ سے قتیبہ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: اگر اس کا ڈھونڈنے والا آجائے اور تھیلی اور گنتی کی پہچان بتائے تو اسے اس کو دے دو ۔ اور حماد نے بھی عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے عمرو بن شعیب نے عن ابیہ عن جدہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے اسی کے مثل مرفوعاً روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ زیادتی جو حماد بن سلمہ نے سلمہ بن کہیل، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ اور ربیعہ کی حدیث (یعنی حدیث نمبر: ١٧٠٢ -١٧٠٣) میں کی ہے: إن جاء صاحبها فعرف عفاصها ووکاء ها فادفعها إليه یعنی: اگر اس کا مالک آجائے اور اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتادے تو اس کو دے دو ، اس میں: فعرف عفاصها ووکاء ها تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتادے کا جملہ محفوظ نہیں ہے۔ اور عقبہ بن سوید کی حدیث میں بھی جسے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے یعنی عرفها سنة (ایک سال تک اس کی تشہیر کرو) موجود ہے۔ اور عمر ؓ کی حدیث میں بھی نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: عرفها سنة تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ١ ؎۔

The above mentioned tradition has also been transmitted by Yahya bin Saeed and Rabiah through the chain of narrators mentioned by Qutaibah to the same effect. This version adds; if its seeker comes, and recognizes its container and its number, then give it to him. Hammad also narrated it from `Ubaid Allah bin Umar from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, from the Prophet ﷺ something similar. Abu Dawud said: This addition made by Hammad bin Salamah bin Kuhail, Yahya bin Saeed, `Ubaid Allah bin Umar and Rabiah; “if its owner comes and recognizes its container, and its string, ” is not guarded. The version narrated by Uqbah bin Suwaid on the authority of his father from the Prophet ﷺ has also the words: “make it known for a year”. The version of Umar bin al-Khattab has also been transmitted from the Prophet ﷺ . This version has: “Make it known for a year”.

Notes · وضاحت
١ ؎: کسی روایت میں تین سال پہچان (شناخت) کراتے رہنے کا تذکرہ ہے، اور کسی میں ایک سال، یہ سامان اور حالات پر منحصر ہے، یا ایک سال بطور وجوب اور تین سال بطور استحباب و ورع، ان دونوں روایتوں کا اختلاف تضاد کا اختلاف نہیں کہ ایک کو ناسخ قرار دیا جائے اور دوسرے کو منسوخ (ملاحظہ ہو: فتح الباری)۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٧٠٤)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (١٧١٣)، ( تحفة الأشراف: ٢٨، ٣٧٦٣، ٨٧٥٥، ٨٧٨٤) (صحیح )
1709Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ الْمَعْنَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوِي عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ فَإِنْ وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ.

عیاض بن حمار ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے لقطہٰ ملے تو وہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے ١ ؎ اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے، اگر اس کے مالک کو پا جائے تو اسے واپس کر دے، ورنہ وہ اللہ عزوجل کا مال ہے جسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے ۔

Narrated Iyad ibn Himar (RA) : The Prophet ﷺ said: He who finds something should call one or two trusty persons as witnesses and not conceal it or cover it up; then if he finds its owner he should return it to him, otherwise it is Allahs property which He gives to whom He will.

Notes · وضاحت
١ ؎: گواہ بنانا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ مال کی چاہت میں آگے چل کر آدمی کی نیت کہیں بری نہ ہوجائے، اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ اچانک مرجائے اور اس کے ورثاء اسے میراث سمجھ لیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الکبری (٥٨٠٨، ٥٨٠٩)، سنن ابن ماجہ/اللقطة ٢ (٢٥٠٥)، ( تحفة الأشراف: ١١٠١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٢) (صحیح )
1710Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ ؟ فَقَالَ: مَنْ أَصَابَ بِفِيهِ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ، وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ، وَذَكَرَ فِي ضَالَّةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ كَمَا ذَكَرَهُ غَيْرُهُ، قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: مَا كَانَ مِنْهَا فِي طَرِيقِ الْمِيتَاءِ أَوِ الْقَرْيَةِ الْجَامِعَةِ فَعَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَهِيَ لَكَ، وَمَا كَانَ فِي الْخَرَابِ يَعْنِي فَفِيهَا وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے درخت پر لٹکتے ہوئے پھل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو حاجت مند اسے کھائے اور چھپا کر نہ لے جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں، اور جو اس میں سے کچھ چھپا کرلے جائے تو اس کا دو گنا جرمانہ دے اور سزا الگ ہوگی، اور جب میوہ پک کر سوکھنے کے لیے کھلیان میں ڈال دیا جائے اور اس میں سے کوئی اس قدر چرا کرلے جائے جس کی قیمت سپر (ڈھال) کی قیمت کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ اس کے بعد گمشدہ اونٹ اور بکری کا ذکر کیا جیسا کہ اوروں نے ذکر کیا ہے، اس میں ہے: آپ سے لقطے کے سلسلے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو لقطہٰ گزر گاہ عام یا آباد گاؤں میں ملے تو ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو اور اگر نہ آئے تو وہ تمہارا ہے اور جو لقطہٰ کسی اجڑے یا غیر آباد مقام پر ملے تو اس میں اور رکاز (جاہلیت کے دفینہ) میں پانچواں حصہ حاکم کو دینا ہوگا ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ was asked about the hanging fruit. He replied: If a needy person takes some and does not take a supply away in his garment, he is not to be blamed, but he who carries any of it away is to be find twice the value and punished, and he who steals any of it after it has been put in the place where dates are dried is to have his hand cut off if its value reaches the price of a shield. Regarding stray camels and sheep he mentioned the same as others have done. He said: He was asked about finds and replied: If it is in a frequented road and a large town, make the matter known for a year, and if its owner comes, give it to him, but if he does not, it belongs to you. If it is in a place which has been a waste from ancient time, or if it is a hidden treasure (belonging to the Islamic period), it is subject to the payment of the fifth.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٥٤ (١٢٨٩)، سنن النسائی/قطع السارق ٩ (٤٩٦١)، ( تحفة الأشراف: ٨٧٩٨) ویأتی عند المؤلف برقم (٤٣٩٠) (حسن )
1711Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، بِإِسْنَادِهِ، بِهَذَا قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ، قَالَ: فَاجْمَعْهَا.

اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ گمشدہ بکری کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا: اسے پکڑے رکھو ۔

The above mentioned tradition has also been transmitted by Amr bin Shuaib through a different chain of narrators. This version adds: regarding the stray sheep he said: “Take it”.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٨ (٢٥٩٦)، ( تحفة الأشراف: ٨٨١٢) (حسن )
1712Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، بِهَذَا بِإِسْنَادِهِ، وقَالَ فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ: لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، خُذْهَا قَطُّ، وَكَذَا قَالَ فِيهِ أَيُّوبُ، وَ يَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخُذْهَا.

اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: گمشدہ بکری کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا: وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی، تو اسے پکڑے رکھو ۔ اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے (مرسلاً ) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: تو تم اسے پکڑے رکھو ۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Amr bin Shuaib through a different chain of narrators. This version has: He said about the stray sheep: You, your brother or the wolf may have them. Do take it. A similar version has been transmitted by Ayyub and Ya’qub bin `Ata from Amr bin Shu’aid from the Propher ﷺ . He said: then take it.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ قطع السارق ٨ (٤٩٦٠)، ( تحفة الأشراف: ٨٧٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٦) (حسن )
1713Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ: فَاجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا.

اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: گمشدہ بکری کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا: اسے پکڑے رکھو، یہاں تک کہ اس کا ڈھونڈھنے والا اس تک آجائے ۔

The above mentioned tradition has also been narrated by Amr bin Shuaib from his father, from his grandfather, from the Prophet ﷺ to the same effect. This version has: regarding the stray sheep he said: Take it (and keep it with you) till its seeker comes to it.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٧٠٨)، ( تحفة الأشراف: ٨٧٨٤) (حسن )
1714Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَجَدَ دِينَارًا فَأَتَى بِهِ فَاطِمَةَ، فَسَأَلَتْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هُوَ رِزْقُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّفَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ عَلِيٌّ وَ فَاطِمَةُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَنْشُدُ الدِّينَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ أَدِّ الدِّينَارَ.

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب ؓ کو ایک دینار ملا تو وہ اسے لے کر فاطمہ ؓ کے پاس آئے، انہوں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ اللہ عزوجل کا دیا ہوا رزق ہے ، چناچہ اس میں سے رسول اللہ ﷺ نے کھایا اور علی اور فاطمہ ؓ نے کھایا، اس کے بعد ان کے پاس ایک عورت دینار ڈھونڈھتی ہوئی آئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علی! دینار ادا کر دو ۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : Ali ibn Abu Talib found a dinar and he took it to Fatimah. She asked the Messenger of Allah ﷺ about it. He said: This is Allahs provision. Then the Messenger of Allah ﷺ ate out of the food (bought with it), and Ali and Fatimah also ate out of that food. But afterwards a woman came crying out about the dinar. The Prophet ﷺ said: Pay the dinar, Ali.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٤٤٤٣) (حسن )
1715Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ الْتَقَطَ دِينَارًا فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا فَعَرَفَهُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ فَرَدَّ عَلَيْهِ الدِّينَارَ فَأَخَذَهُ عَلِيٌّ وَقَطَعَ مِنْهُ قِيرَاطَيْنِ فَاشْتَرَى بِهِ لَحْمًا.

علی ؓ کہتے ہیں کہ انہیں ایک دینار پڑا ملا، جس سے انہوں نے آٹا خریدا، آٹے والے نے انہیں پہچان لیا، اور دینار واپس کردیا تو علی ؓ نے اسے واپس لے لیا اور اسے بھنا کر اس میں سے دو قیراط ١ ؎ کا گوشت خریدا۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: Bilal ibn Yahya al-Absi said: Ali found a dinar and purchased some flour with it. The seller of the flour recognised him and returned the dinar to him. Ali took it, deducted two qirat (carat) from it, and purchased meat with it.

Notes · وضاحت
١ ؎: قیراط: دینار کا بیسواں حصہ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٠٠٢٨) (صحیح )