Sunan Abu Dawood 1709

کتاب الزکوٰة

1709Sunan Abu Dawood

گری پڑی چیز اٹھا لینے کا بیان،

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ الْمَعْنَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوِي عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ فَإِنْ وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ.

عیاض بن حمار ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے لقطہٰ ملے تو وہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے ١ ؎ اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے، اگر اس کے مالک کو پا جائے تو اسے واپس کر دے، ورنہ وہ اللہ عزوجل کا مال ہے جسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے ۔

Narrated Iyad ibn Himar (RA) : The Prophet ﷺ said: He who finds something should call one or two trusty persons as witnesses and not conceal it or cover it up; then if he finds its owner he should return it to him, otherwise it is Allahs property which He gives to whom He will.

Notes · وضاحت
١ ؎: گواہ بنانا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ مال کی چاہت میں آگے چل کر آدمی کی نیت کہیں بری نہ ہوجائے، اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ اچانک مرجائے اور اس کے ورثاء اسے میراث سمجھ لیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الکبری (٥٨٠٨، ٥٨٠٩)، سنن ابن ماجہ/اللقطة ٢ (٢٥٠٥)، ( تحفة الأشراف: ١١٠١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٢) (صحیح )