ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو آدمی کو مالدار باقی رکھے یا (یوں فرمایا) وہ صدقہ ہے جسے دینے کے بعد مالک مالدار رہے اور صدقہ پہلے اسے دو جس کی تم کفالت کرتے ہو ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying The best sadaqah is that which leaves a competence ; and begin with those for whom you are responsible.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کم مال والے کا تکلیف اٹھا کردینا اور پہلے ان لوگوں کو دو جن کا تم خرچ اٹھاتے ہو ۔
Abu Hurairah reported I asked Messenger of Allah ﷺ , What kind of sadaqah is most excellent? He replied What a man with little property can afford to give; and begin with those for whom you are responsible.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٤٨١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٨) (صحیح )
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی، میں نے کہا: اگر میں کسی دن ابوبکر ؓ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہوگا، چناچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟ ، میں نے کہا: اسی قدر یعنی آدھا مال، اور ابوبکر ؓ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟ ، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں ١ ؎، تب میں نے (دل میں) کہا: میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : The Messenger of Allah ﷺ commanded us one day to give sadaqah. At that time I had some property. I said: Today I shall surpass Abu Bakr if I surpass him any day. I, therefore, brought half my property. The Messenger of Allah ﷺ asked: What did you leave for your family? I replied: The same amount. Abu Bakr brought all that he had with him. The Messenger of Allah ﷺ asked him: What did you leave for your family? He replied: I left Allah and His Messenger for them. I said: I shall never compete you in anything.
Notes · وضاحت
١ ؎: گذشتہ باب کی حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سارا مال اللہ کی راہ میں دینے سے اللہ کے رسول نے روکا ہے، جب کہ باب کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ابوبکر ؓ نے اپنی پوری دولت اللہ کی راہ میں دے دی، اور یہ بات آپ کی فضیلت و بزرگی کا باعث بھی بنی، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ممانعت کا حکم ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کے اعتماد اور توکل میں کمزوری ہو، اور وہ مال دینے کے بعد مفلسی سے گھبرائیں اور ندامت و شرمندگی محسوس کریں، لیکن اس کے برخلاف اگر کسی شخص کے اندر ابوبکر ؓ جیسا جذبہ، اللہ کی ذات پر اعتماد و توکل ہو تو اس کے لئے اس کام میں کوئی حرج نہیں بلکہ باعث خیر و برکت ہوگا، ان شاء اللہ۔
سعد بن عبادہ انصاری خزرجی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: کون سا صدقہ آپ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی (کا صدقہ) ١ ؎۔
Saeed reported Saad came to the Prophet ﷺ and asked him Which sadaqah do you like most? He replied Water.
Notes · وضاحت
١ ؎: پانی کا صدقہ: مثلاً کنواں کھدوانا، نل لگوانا، مسافروں، مصلیوں اور دیگر ضرورت مندوں کے لئے پانی کی سبیل لگانا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الوصایا ٩ (٣٦٩٤)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٨ (٣٦٨٤)، ( تحفة الأشراف: ٣٨٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٥، ٦/٧) (حسن )
سعد بن عبادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ام سعد (میری ماں) انتقال کر گئیں ہیں تو کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی ۔ راوی کہتے ہیں: چناچہ سعد نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا: یہ ام سعد ١ ؎ کا ہے۔
Narrated Saad ibn Ubadah (RA) : Saad asked: Messenger of Allah, Umm Saad has died; what form of sadaqah is best? He replied: Water (is best). He dug a well and said: It is for Umm Saad.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا ثواب ام سعد ؓ کے لئے ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٧٨، ( تحفة الأشراف: ٣٨٣٤) (حسن) (یہ روایت حدیث نمبر ١٦٧٩ سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں رجل ایک مبہم راوی ہے )
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا جب کہ وہ ننگا تھا تو اللہ اسے جنت کے سبز کپڑے پہنائے گا، اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کھلایا جب کہ وہ بھوکا تھا تو اللہ اسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو پانی پلایا جب کہ وہ پیاسا تھا تو اللہ اسے (جنت کی) مہربند شراب پلائے گا ۔
Narrated Abu Saeed (al-Khudri): The Prophet ﷺ said: If any Muslim clothes a Muslim when he is naked, Allah will clothe him with some green garments of Paradise; if any Muslim feeds a Muslim when he is hungry, Allah will feed him with some of the fruits of Paradise; and if any Muslim gives a Muslim drink when he is thirsty, Allah will give him some of the pure wine which is sealed to drink.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٤٣٨٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/صفة القیامة ١٨ (٢٤٤٩)، مسند احمد (٣/١٣) (ضعیف) (اس کے راوی نبی ح لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چالیس خصلتیں ہیں ان میں سب سے بہتر خصلت بکری کا عطیہ دینا ہے، جو کوئی بھی ان میں سے کسی (خصلت نیک کام) کو ثواب کی امید سے اور (اللہ کی طرف سے) اپنے سے کئے ہوئے وعدے کو سچ سمجھ کر کرے گا اللہ اسے اس کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حسان کہتے ہیں: ہم نے بکری عطیہ دینے کے علاوہ بقیہ خصلتوں اعمال صالحہ کو گنا جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے کوئی بھی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا وغیرہ تو ہم پندرہ خصلتوں تک بھی نہیں پہنچ سکے۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: There are forty characteristics; the highest of them is to give a goat on loan (for benefiting from its milk). If any man carries out any of those characteristics with the hope of getting a reward and testifying to the promise for it, Allah will admit him to Paradise for it. Abu Dawud said: In the version of Musaddad, Hassan said: So we counted other characteristics than lending the goat: to return the greeting, to respond to sneezing, and remove things which cause annoyance to the people from their path, and similar other things. We could not reach fifteen characteristics.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٣٥ (٢٦٣١)، ( تحفة الأشراف: ٨٩٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٠، ١٩٤، ١٩٦) (صحیح )
ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امانت دار خازن جو حکم کے مطابق پورا پورا خوشی خوشی اس شخص کو دیتا ہے جس کے لیے حکم دیا گیا ہے تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔
Abu Musa reported The Messenger of Allah ﷺ as saying The faithful trustee who gives what he is commanded completely and in full with a good will, and delivers it to the one whom he was told to give it, is one of the two who gives sadaqah.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے کسی فساد کی نیت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور مال کمانے کا ثواب اس کے شوہر کو اور خازن کو بھی اسی کے مثل ثواب ملے گا اور ان میں سے کوئی کسی کے ثواب کو کم نہیں کرے گا ۔
Aishah reported The Messenger of Allah ﷺ as saying When a woman gives (some of the property) from her husband’s house, not wasting it, she will have her reward for what she has spent, and her husband will have his for what he earned. The said applies to a trustee. In no respect does the one diminish the reward of the other.
سعد ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے بیعت کی تو ایک موٹی عورت جو قبیلہ مضر کی لگتی تھی کھڑی ہوئی اور بولی: اللہ کے نبی! ہم (عورتیں) تو اپنے باپ اور بیٹوں پر بوجھ ہوتی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے خیال میں أزواجنا کا لفظ کہا (یعنی اپنے شوہروں پر بوجھ ہوتی ہیں) ، ہمارے لیے ان کے مالوں میں سے کیا کچھ حلال ہے (کہ ہم خرچ کریں) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: رطب ہے تم اسے کھاؤ اور ہدیہ بھی کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رطب روٹی، ترکاری اور تر کھجوریں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ثوری نے بھی یونس سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Saad said When the Messenger of Allah ﷺ took the oath of allegiance from woman, a woman of high rank, who seemed to be one of the women of Mudar, rose and said Prophet of Allah ﷺ , we are dependant on our parents, our sons. (Abu Dawud said I think (this version) has the word “ and our husbands”.) So what part of their property can be spent lawfully? He said Fresh food which you eat and give as a present. Abu Dawud said The Arabic word ratb means bread, vegetables and fresh dates. Abu Dawud said Al-Thawri transmitted from Yunus in a similar manner.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٨٥٣) (ضعیف) (اس کے رواة عبدالسلام اور زیاد کے اندر کچھ کلام ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس (شوہر) کا آدھا ثواب ملے گا ١ ؎۔
Abu Hurairah reported The Messenger of Allah ﷺ as saying When a woman gives something her husband has earned without being commanded by him to do so, she has half his reward.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس مقدار پر محمول ہوگا جس کی عرفاً وعادۃً شوہر کی طرف سے بیوی کو خرچ کرنے کی اجازت ہوتی ہے، اگرچہ اس کی طرف سے صریح اجازت اسے حاصل نہ ہو، رہا اس سے زیادہ مقدار کا معاملہ تو شوہر کی صریح اجازت کے بغیر وہ اسے خرچ نہیں کرسکتی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ان سے کسی نے پوچھا، عورت بھی اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، البتہ اپنے خرچ میں سے دے سکتی ہے اور ثواب دونوں (میاں بیوی) کو ملے گا اور اس کے لیے یہ درست نہیں کہ شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمام کی (پچھلی) حدیث کی تضعیف کرتی ہے ١ ؎۔
Ata said Abu Hurairah was asked Whether a woman could give sadaqah from the house (property) of her husband. He replied `No’. She can give it from her maintenance. The reward will be divided between them. It is not lawful for her to give sadaqah from her husband’s property without his permission. Abu Dawud said This version weakens the version narrated by Hammam (bin Munabbih).
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عبارت سنن ابوداود کے اکثر نسخوں میں نہیں ہے، ہمام بن منبہ کی روایت صحیح ہے، اس کی تخریج بخاری و مسلم نے کی ہے، اس میں کوئی علت بھی نہیں ہے، لہٰذا ابوداود کا یہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے جب کہ عطا سے مروی ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت موقوف ہے، اور دونوں روایتوں کے درمیان تطبیق بھی ممکن ہے جیسا کہ نووی نے شرح مسلم میں ذکر کیا ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں جب لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون کی آیت نازل ہوئی تو ابوطلحہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مال مانگ رہا ہے، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اریحاء نامی اپنی زمین اسے دے دی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو ، تو انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب ؓ کے درمیان تقسیم کردیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے محمد بن عبداللہ انصاری سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ابوطلحہ کا نام: زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو ابن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار ہے، اور حسان: ثابت بن منذر بن حرام کے بیٹے ہیں، اس طرح ابوطلحہ ؓ اور حسان ؓ کا سلسلہ نسب حرام پر مل جاتا ہے وہی دونوں کے تیسرے باپ (پردادا) ہیں، اور ابی ؓ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے: ابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار، اس طرح عمرو: حسان، ابوطلحہ اور ابی تینوں کو سمیٹ لیتے ہیں یعنی تینوں کے جد اعلیٰ ہیں، انصاری (محمد بن عبداللہ) کہتے ہیں: ابی ؓ اور ابوطلحہ ؓ کے نسب میں چھ آباء کا فاصلہ ہے۔
Anas said When the verse “You will never attain righteousness until you give freely of what you love came down, Abu Talhah said Messenger of Allah ﷺ , I think our Lord asks us for our property. I call you as witness that I dedicate my land at Ariha ‘to Him’. The Messenger of Allah ﷺ said to him Divide it among your nearest relatives. So he divided it among Hassan bin Thabit and Ubayy bin Kaab. Abu Dawud said I have been gold by an Ansari Muhammad bin Abdallah that the name of Abu Talhah is Zaid bin Sahal bin al-Aswad bin Haram bin ‘Amar bin Zaid bin Manat bin Adi bin Amr bin Malik bin al-Najjar; and Hassan bin Tabit is son of al-Mundhir in al-Haram. Thus both of them (Abu Talhah and Hassan) have their common link in Haram who is the third great grandfather. Ubbay bin Kaab is son of Qais bin ‘Atik bin Zaid bin Muawiyah bin Amr bin Malik bin al-Najjar. Thus the common tie between Hassan, Abu Talhah and Ubbay is Amr (bin Malik). The Ansari said between Ubbay and Abi Talhah there are six great grandfathers.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن (آل عمران) ٦ (٢٩٢٧)، ( تحفة الأشراف: ٣١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوکالة ١٥ (٢٣١٨)، والوصایا ١٠ (٢٧٥٢)، و تفسیر القرآن ٥ (٤٥٥٤)، والأشربة ١٣ (٥٦١١)، صحیح مسلم/الزکاة ١٣ (٩٩٨)، موطا امام مالک/الجامع ٨٣، مسند احمد (٣/١١٥، ٢٨٥)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٣ (١٦٩٥) (صحیح )
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی، میں نے اسے آزاد کردیا، میرے پاس نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس کی خبر دی، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اس لونڈی کو اپنے ننھیال کے لوگوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے بڑے اجر کی چیز ہوتی ۔
Maimunah, wife of the Probhet ﷺ said: I had a slave girl and I set her free. When the Prophet ﷺ entered upon me, I informed him (of this). He said: May Allah give reward for it; if you had given her to your maternal uncles, it would have increased your reward
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے کام میں لے آؤ ، تو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے بیٹے کو دے دو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنی بیوی کو دے دو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے خادم کو دے دو ، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اب تم زیادہ بہتر جانتے ہو (کہ کسے دیا جائے) ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ commanded to give sadaqah. A man said: Messenger of Allah, I have a dinar. He said: Spend it on yourself. He again said: I have another. He said: Spend it on your children. He again said: I have another. He said: Spend it on your wife. He again said: I have another. He said: Spend it on your servant. He finally said: I have another. He replied: You know best (what to do with it).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٥٤ (٢٥٣٦)، ( تحفة الأشراف: ١٣٠٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥١، ٤٧١) (حسن )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جن کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے ضائع کر دے ١ ؎۔
Abdullah bin Amr reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: It is sufficient sin for a man that he neglects him whom he maintains.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جن کی کفالت اس کے ذمہ ہو ان سے قطع تعلق کر کے نیکی کے دوسرے کاموں میں اپنا مال خرچ کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٨٩٤٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة ١٢ (٩٩٦)، سنن النسائی/الکبری/عشرة النساء (٩١٧٦)، مسند احمد (٢/١٦٠، ١٩٤، ١٩٥) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے لیے یہ بات باعث مسرت ہو کہ اس کے رزق میں اور عمر میں درازی ہوجائے تو اسے چاہیئے کہ وہ صلہ رحمی کرے (یعنی قرابت داروں کا خیال رکھے) ۔
Anas reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Anyone who is pleased that his sustenance is expanded and his age extended should do kindness to his near relatives.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٥١٦، ١٥٥٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ١٣ (٢٠٦٧)، والأدب ١٢ (٥٩٨٦)، صحیح مسلم/البر والصلة ٦ (٢٥٥٩)، مسند احمد (٢٣٩٣، ٢٤٧) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں رحمن ہوں اور رَحِم (ناتا) ہی ہے جس کا نام میں نے اپنے نام سے مشتق کیا ہے، لہٰذا جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے کاٹے گا، میں اسے کاٹ دوں گا ۔
Narrated Abdur Rahman ibn Awf: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah the Exalted has said: I am Compassionate, and this has been derived from mercy. I have derived its name from My name. If anyone joins it, I shall join him, and if anyone cuts it off, I shall cut him off.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٩ (١٩٠٧)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٩١، ١٩٤) (صحیح )
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث سنی ہے۔
The above mentioned tradition has also been narrated by Abdur-Rahman bin Awf from the Messenger of Allah ﷺ through a different chain of narrators to the same effect.