بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا: میں نے ایک لونڈی اپنی ماں کو صدقہ میں دی تھی، اب وہ مرگئی ہیں اور وہی لونڈی چھوڑ کرگئی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا اجر پورا ہوگیا، اور وہ لونڈی تیرے پاس ترکے میں لوٹ آئی ۔
Buraidah said A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said I gave a slave girl as sadaqah to my mother who has now died and has left that slave girl. He said your reward is sure and the inheritance has given her back to you.
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم ڈول اور دیگچی عاریۃً دینے کو ماعون ١ ؎ میں شمار کرتے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عام استعمال کی ایسی چیزیں جنہیں عام طور پر لوگ ایک دوسرے سے عاریۃ لیتے رہتے ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Masud: During the time of the Messenger of Allah ﷺ we used to consider maun (this of daily use) lending a bucket and cooking-pot.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٢٧٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/التفسیر (١١٧٠١)، مسند احمد ٣٨٧) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس مال ہو وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز اللہ اسے اس طرح کر دے گا کہ اس کا مال جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر اس سے اس کی پیشانی، پسلی اور پیٹھ کو داغا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ایک ایسے دن میں فیصلہ فرما دے گا جس کی مقدار تمہارے (دنیاوی) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہوگی، اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھے گا وہ راہ یا تو جنت کی طرف جا رہی ہوگی یا جہنم کی طرف۔ (اسی طرح) جو بکریوں والا ہو اور ان کا حق (زکاۃ) ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز وہ بکریاں اس سے زیادہ موٹی ہو کر آئیں گی، جتنی وہ تھیں، پھر اسے ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے کچلیں گی، ان میں کوئی بکری ٹیڑھے سینگ کی نہ ہوگی اور نہ ایسی ہوگی جسے سینگ ہی نہ ہو، جب ان کی آخری بکری مار کر گزر چکے گی تو پھر پہلی بکری (مارنے کے لیے) لوٹائی جائے گی (یعنی باربار یہ عمل ہوتا رہے گا) ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے اس دن میں جس کی مقدار تمہارے (دنیاوی) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہوگی، اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ ( اسی طرح) جو بھی اونٹ والا ہے اگر وہ ان کا حق (زکاۃ) ادا نہیں کرتا تو یہ اونٹ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ طاقتور اور موٹے ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، جب آخری اونٹ بھی روند چکے گا تو پہلے اونٹ کو (روندنے کے لیے) پھر لوٹایا جائے گا، (یہ عمل چلتا رہے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا اس دن میں جس کی مقدار تمہارے (دنیاوی) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہوگی، پھر وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف ۔
Abu Hurairah reported that Messenger of Allah ﷺ as saying If any owner of treasure (gold and silver) does not pay what is due on it, Allah will make it heated in the Hell fire on the Day of Judgment, and his side, forehead and back will be cauterized with it until Allah gives His Judgment among mankind during a day whose extent will be fifty thousand years of your count and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell. If any owner does not pay zakat on them, the sheep wilkl appear on the Day or Judgment most strong and in great number, a soft sandy plain will be spread out for them ; they will gore him with their horns and trample him with their hoofs; there will be none of them with twisted horns or without horns. As often as the last of them passes him, the first of them will be brought back to him, until Allah pronounces His Judgment among mankind during a day whose extent will be fifty thousand years that you count, and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell. If any owner of camels does not pay what is due on them, they will appear in on the Day or Judgment most strong and in great number, a soft sandy plain will be spread out for them ; they will gore him with their horns and trample him with their hoofs; there will be none of them with twisted horns or without horns. As often as the last of them passes him, the first of them will be brought back to him, until Allah pronounces His Judgment among mankind during a day whose extent will be fifty thousand years that you count, and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٢٦٢٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٣ (١٤٠٢)، والجہاد ١٨٩ (٢٣٧٨)، وتفسر براء ة ٦ (٣٠٧٣)، والحیل ٣ (٩٦٥٨)، صحیح مسلم/الزکاة ٦ (٩٨٧)، سنن النسائی/الزکاة ٦ (٢٤٥٠)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢ (١٧٨٦)، موطا امام مالک/الزکاة ١٠(٢٢)، مسند احمد (٢/٤٩٠، ١٠١، ٢٦٢، ٣٨٣) (صحیح )
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں اونٹ کے قصے میں آپ ﷺ کے قول: لا يؤدي حقها . قال ومن حقها حلبها يوم وردها کا جملہ بھی ہے (یعنی ان کے حق میں سے یہ ہے کہ جب وہ پانی پینے (گھاٹ پر) آئیں تو ان کو دوہے) ، (اور دوہ کر مسافروں نیز دیگر محتاجوں کو پلائے) ۔
The above mentioned tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators in a similar manner from the Prophet ﷺ . This version adds after the words “does not pay what is due on them” in the description of the camels the words “ One thing which is due being to milk them when they come down to drink water. ”
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس طرح کا قصہ سنا تو راوی نے ان سے یعنی ابوہریرہ ؓ سے پوچھا: اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انہوں نے کہا: تم اچھا اونٹ اللہ کی راہ میں دو، زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی عطیہ دو، سواری کے لیے جانور دو، جفتی کے لیے نر کو مفت دو اور لوگوں کو دودھ پلاؤ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying something similar to this tradition. He (the narrator) said to Abu Hurairah (RA) : What is due on camels? He replied: That you should give the best of your camels (in the path of Allah), that you lend a milch she-camel, you lend your mount for riding, that you lend the stallion for covering, and that you give the milk (to the people) for drinking.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٢ (٢٤٤٤)، ( تحفة الأشراف: ١٥٤٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨٣، ٤٨٩، ٤٩٠) (حسن) (اس کے راوی ابوعمر الغدانی لین الحدیث ہیں، لیکن حدیث ماقبل ومابعد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے )
عبید بن عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ پھر اس نے اوپر جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے وإعارة دلوها (اس کے تھن دودھ دوہنے کے لیے عاریۃً دینا) ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Ubaid bin Umair through a different chain of narrators. This version goes: A man asked: Messenger of Allah ﷺ , what is due on camels? He replied in a similar way. This version adds and to lend its udders. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٨٩٩٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة ٦ (٩٨٨) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ جو دس وسق کھجور توڑے تو ایک خوشہ مسکینوں کے واسطے مسجد میں لٹکا دے۔
Jabir bin Abdallah said The bProphet ﷺ commanded that he who plucks ten wasqs of dates from date palms should hang a bunch of dates in the mosque for the poor
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣١٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٩، ٣٦٠) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اتنے میں ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر آیا اور دائیں بائیں اسے پھیرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس کوئی فاضل (ضرورت سے زائد) سواری ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس سواری نہ ہو، جس کے پاس فاضل توشہ ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس توشہ نہ ہو، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ہم میں سے فاضل چیز کا کسی کو کوئی حق نہیں ۔
Abu Saeed Al-Khudri said While we were traveling along with the Messenger of Allah ﷺ a man came to him on his she camel, and began to drive her right and left. The Messenger of Allah ﷺ said he who has a spare riding beast should give it to him who has no riding beast; and he who has surplus equipment should give it to who has no equipment. We thought that none of us had a right in surplus property.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ اللقطة ٤ (١٧٢٨)، ( تحفة الأشراف: ٤٣١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ والذين يکنزون الذهب والفضة نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری تو عمر ؓ نے کہا: تمہاری اس مشکل کو میں رفع کرتا ہوں، چناچہ وہ (نبی اکرم ﷺ کے پاس) گئے اور عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ کے صحابہ پر یہ آیت بہت گراں گزری ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے زکاۃ صرف اس لیے فرض کی ہے کہ تمہارے باقی مال پاک ہوجائیں (جس مال کی زکاۃ نکل جائے وہ کنز نہیں ہے) اور اللہ نے میراث کو اسی لیے مقرر کیا تاکہ بعد والوں کو ملے ، اس پر عمر ؓ نے تکبیر کہی، پھر آپ ﷺ نے عمر ؓ سے فرمایا: کیا میں تم کو اس کی خبر نہ دوں جو مسلمان کا سب سے بہتر خزانہ ہے؟ وہ نیک عورت ہے کہ جب مرد اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب وہ حکم دے تو اسے مانے اور جب وہ اس سے غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : When this verse was revealed: And those who hoard gold and silver, the Muslims were grieved about it. Umar said: I shall dispel your care. He, therefore, went and said: Prophet of Allah, your Companions were grieved by this verse. The Messenger of Allah ﷺ said: Allah has made zakat obligatory simply to purify your remaining property, and He made inheritances obligatory that they might come to those who survive you. Umar then said: Allah is most great. He then said to him: Let me inform you about the best a man hoards; it is a virtuous woman who pleases him when he looks at her, obeys him when he gives her a command, and guards his interests when he is away from her.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٣٨٣) (ضعیف) (اس کے راوی جعفر، مجاہد سے روایت میں ضعیف ہیں )
ام بجید ؓ یہ ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دروازے پر مسکین کھڑا ہوتا ہے لیکن میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو میں اسے دوں، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اگر تمہیں کوئی ایسی چیز نہ ملے جو تم اسے دے سکو سوائے ایک جلے ہوئے کھر کے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو ۔
Narrated Umm Bujayd: She took the oath of allegiance to the Messenger of Allah ﷺ and said to him: Messenger of Allah, a poor man stands at my door, but I find nothing to give him. The Messenger of Allah ﷺ said to her: If you do not find anything to give him, put something in his hand, even though it should be a burnt hoof.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٢٩ (٦٦٥)، سنن النسائی/الزکاة ٧٠ (٢٥٦٦) ( تحفة الأشراف: ١٨٣٠٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ٥ (٨)، مسند احمد (٤/٧٠) (صحیح )
اسماء ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس میری ماں آئیں جو قریش کے دین کی طرف مائل اور اسلام سے بیزار اور مشرکہ تھیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ اسلام سے بیزار اور مشرکہ ہیں، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو ۔
Asma said My mother came to me seeking some act of kindness from me during the treaty of the Quraish (at Hudaibiyyah). While she hated Islam and she was a polytheist. I said Messenger of Allah ﷺ , my mother has come to me while she hates Islam and she is a disbeliever. May I do an act of kindness to her? He replied Yes, do an act of kindness to her.
بہیسہ اپنے والد (عمیر) کہتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم ﷺ سے (آپ کے پاس آنے کی) اجازت طلب کی، (اجازت دے دی تو وہ آئے) اور وہ آپ ﷺ کے اور آپ کی قمیص کے درمیان داخل ہوگئے (یعنی آپ کی قمیص اٹھا لی) اور آپ ﷺ کے بدن مبارک کو چومنے اور آپ سے لپٹنے لگے، پھر انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نمک ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم جتنی نیکی کرو اتنی ہی وہ تمہارے لیے بہتر ہے (یعنی پانی نمک تو مت روکو اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو دوسری چیزیں بھی نہ روکو) ۔
Buhaysah reported on the authority of his father: My father sought permission from the Prophet ﷺ . (When permission was granted and he came near him) he lifted his shirt, and began to kiss him and embrace him (out of love for him). He asked: Messenger of Allah, what is the thing which it is unlawful to refuse? He replied: Water. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing which it is unlawful to refuse? He replied: Salt. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing which it is unlawful to refuse? He said: To do good is better for you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ویأتي برقم: (٣٤٧٦)، ( تحفة الأشراف: ١٥٦٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ٨٠، ٨١)، سنن الدارمی/البیوع ٧٠ (٢٦٥٥) (ضعیف) (اس کے رواة سیار اور ان کے والد لین الحدیث ہیں اور بہیسہ مجہول ہیں )
عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے ایسا کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو؟ ، ابوبکر ؓ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بھکاری مانگ رہا ہے، میں نے عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا تو ان سے اسے لے کر میں نے بھکاری کو دے دیا۔
Abdur-Rahman bin Abu Bakr (may Allah be pleased with him) said The Messenger of Allah ﷺ asked Is there anyone of you who provided food to a poor man today? Abu Bakr said I entered the mosque where a beggar was begging ; I found a piece of bread in the hand of Abdal-Rahman which I took and gave it to him
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٦٩٠) (صحیح) تراجع الألباني (141) (قصہ کے تذکرے کے بغیر ابوہریرہ کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس سند میں مبارک مدلس راوی ہیں اور بذریعہ عن روایت کئے ہوئے ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو، جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ دو، اگر تم بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم اسے بدلہ دے چکے ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone seeks protection in Allahs name, grant him protection; if anyone begs in Allahs name, give him something; if anyone gives you an invitation, accept it; and if anyone does you a kindness, recompense him; but if you have not the means to do so, pray for him until you feel that you have compensated him.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٧٢ (٢٥٦٨)، ( تحفة الأشراف: ٧٣٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦٨، ٩٥، ٩٩، ١٧٢) (صحیح )
جابر بن عبداللہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ ایک شخص انڈہ کے برابر سونا لے کر آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے یہ ایک کان میں سے ملا ہے، آپ اسے لے لیجئے، یہ صدقہ ہے اور اس کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں، رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا، وہ پھر آپ ﷺ کے پاس آپ کی دائیں جانب سے آیا اور ایسا ہی کہا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا، پھر وہ آپ ﷺ کے پاس آپ کی بائیں جانب سے آیا، رسول اللہ ﷺ نے پھر اس سے منہ پھیرلیا، پھر وہ آپ ﷺ کے پیچھے سے آیا آپ نے اسے لے کر پھینک دیا، اگر وہ اسے لگ جاتا تو اس کو چوٹ پہنچاتا یا زخمی کردیتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں ایک اپنا سارا مال لے کر چلا آتا ہے اور کہتا ہے: یہ صدقہ ہے، پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جس کا مالک صدقہ دے کر مالدار رہے ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah Al-Ansari (RA) : While we were sitting with the Messenger of Allah ﷺ a man brought him some gold equal in weight to an egg, and said: Messenger of Allah, I have got this from a mine; take it; it is sadaqah. I have no more than this. The Messenger of Allah ﷺ turned his attention from him. Then he came to him from his right side and repeated the same words. But he (the Prophet) turned his attention from him. He then came to him from his left side and repeated the same words. But he (again) turned his attention from him. He then came to him from behind. The Messenger of Allah ﷺ took it and threw it away. Had it hit him, it would have hurt him or wounded him. The Messenger of Allah ﷺ said: One of you brings all that he possesses and says: This is sadaqah. Then he sits down and spreads his hand before the people. The best sadaqah is that which leaves a competence.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٠٩٧)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الزکاة ٢٥ (١٧٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں، اور بذریعہ عن روایت کئے ہوئے ہیں )
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: خذ عنا مالک لا حاجة لنا به اپنا مال ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں ۔
The above mentioned tradition has also been transmitted by Ibn Ishaq through a different chain of narrators to the same effect. This version adds have your property with you from us. We have no need of it.
ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے (بطور صدقہ) ڈال دیں، انہوں نے ڈال دیا، پھر آپ ﷺ نے اس شخص کے لیے ان میں سے دو کپڑوں (کے دیئے جانے) کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا، آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: اپنے کپڑے لے لو ١ ؎۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : A man entered the mosque. The Prophet ﷺ commanded the people to throw their clothes as sadaqah. Thereupon they threw their clothes (as sadaqah). He then asked him to take two clothes from them. He reprimanded him and said: Take your clothe.
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کا صدقہ قبول نہیں کیا کیونکہ اس کو صرف دو کپڑے ملے تھے اور وہ اس کی ضرورت سے زائد نہیں تھے۔