کتاب الزکوٰة

Sunan Abu Dawood · Chapter 5 · 165 hadiths · Page 5 of 9

1636Sunan Abu Dawood

وہ شخص جسکے لئے بوجود مال دار ہونے کے صدقہ لینا جائز ہے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدٍ، كَمَا قَالَ مَالِكٌ: وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الثَّبْتُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اس سند سے بھی ابو سعید خدری ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ابن عیینہ نے زید سے اسی طرح روایت کیا جیسے مالک نے کہا ہے اور ثوری نے اسے زید سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک ثقہ راوی نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by abu-Said al-Khudri to the same effect to a different chain of narrators, attributing it to the Messenger of Allah ﷺ . Abu-Dawud said: Ibn ‘Uyainah reported from Zaid, from whom Malik narrated and Thwari narrated from Zaid that an authentic narrator reported from the Messenger of Allah ﷺ

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٤١٧٧، ١٩٠٩٠) (صحیح )
1637Sunan Abu Dawood

وہ شخص جسکے لئے بوجود مال دار ہونے کے صدقہ لینا جائز ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ الْبَارِقِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ابْنِ السَّبِيلِ أَوْ جَارٍ فَقِيرٍ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ فَيُهْدِي لَكَ أَوْ يَدْعُوكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ فِرَاسٌ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ حلال نہیں سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی راہ میں ہو یا مسافر ہو یا اس کا کوئی فقیر پڑوسی ہو جسے صدقہ کیا گیا ہو پھر وہ تمہیں ہدیہ دیدے یا تمہاری دعوت کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے فراس اور ابن ابی لیلیٰ نے عطیہ سے، عطیہ نے ابوسعید ؓ سے اور ابوسعید نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔

Abu-Said reported: Messenger of Allah ﷺ said: Sadaqah is not lawful for a rich person except what comes as a result of Jihad or what a poor neighbor gifts you out of the sadaqah given to him, or he entertains you in a feast. Abu-Dawud said: This has been transmitted by Abu- Said through a different chain of narrators in a similar way.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٤٢١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١، ٤٠، ٩٧) (ضعیف) (عطیہ عوفی کی وجہ سے یہ روایت سنداً ضعیف ہے، ورنہ سابق سند سے صحیح ہے )
1638Sunan Abu Dawood

کسی شخص کو کس قدر زکوة دی جا سکتی ہے؟

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِيَعْنِي دِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي قُتِلَ بِخَيْبَرَ.

بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی جس کا نام سہل بن ابی حثمہ تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ان کو دیت کے دیئے یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کیا گیا تھا ١ ؎۔

Basheer bin Yasar said that a man from the Ansar called Sahi bin abu-Hatmah told him that Messenger of Allah ﷺ gave one Hundred camels to him a blood-wit from among the camels of sadaqah, i. e a blood-wit for the Ansari who was killed at Khaibar.

Notes · وضاحت
١ ؎: شاید یہ غارمین (قرضداروں) کا حصہ ہوگا کیوں کہ دیت میں زکاۃ صرف نہیں ہوسکتی، ویسے اس سے معلوم ہوا کہ ایک شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ دیا جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدیات ٢٢ (٦٨٩٨)، صحیح مسلم/القسامة ١ (١٦٦٩)، سنن النسائی/القسامة ٢ (٤٧١٤)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٨ (٢٦٧٧)، (تحفة الأشراف: ٤٦٤٤، ١٥٥٣٦، ١٥٥٩٢) (صحیح) ویأتی ہذا الحدیث مفصلاً برقم (٤٥٢٠ )
1639Sunan Abu Dawood

سوال کرنا کب جائز ہے؟

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا.

سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سوال کرنا آدمی کا اپنے چہرے کو زخم لگانا ہے تو جس کا جی چاہے اپنے چہرے پر (نشان زخم) باقی رکھے اور جس کا جی چاہے اسے (مانگنا) ترک کر دے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے یا کسی ایسے مسئلہ میں مانگے جس میں کوئی اور چارہ کار نہ ہو ۔

Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: Acts of begging are lacerations with which a man disfigures his face, so he who wishes may preserve his self-respect, and he who wishes may abandon it; but this does not apply to one who begs from a ruler, or in a situation which makes it necessary.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٣٨ (٦٨١)، سنن النسائی/الزکاة ٩٢ (٢٦٠٠)، ( تحفة الأشراف: ٤٦١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠، ١٩، ٢٢) (صحیح )
1640Sunan Abu Dawood

سوال کرنا کب جائز ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: يَا قَبِيصَةُ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ قَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا الْفَاقَةُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا.

قبیصہ بن مخارق ہلالی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک قرضے کا ضامن ہوگیا، چناچہ (مانگنے کے لے) میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: قبیصہ! رکے رہو یہاں تک کہ ہمارے پاس کہیں سے صدقے کا مال آجائے تو ہم تمہیں اس میں سے دیں ، پھر فرمایا: قبیصہ! سوائے تین آدمیوں کے کسی کے لیے مانگنا درست نہیں: ایک اس شخص کے لیے جس پر ضمانت کا بوجھ پڑگیا ہو، اس کے لیے مانگنا درست ہے اس وقت تک جب تک وہ اسے پا نہ لے، اس کے بعد اس سے باز رہے، دوسرے وہ شخص ہے جسے کوئی آفت پہنچی ہو، جس نے اس کا مال تباہ کردیا ہو، اس کے لیے بھی مانگتا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا سرمایہ پا جائے کہ گزارہ کرسکے، تیسرے وہ شخص ہے جو فاقے سے ہو اور اس کی قوم کے تین عقلمند آدمی کہنے لگیں کہ فلاں کو فاقہ ہو رہا ہے، اس کے لیے بھی مانگنا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا مال پا جائے جس سے وہ گزارہ کرسکے، اس کے بعد اس سے باز آجائے، اے قبیصہ! ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے، جو مانگ کر کھاتا ہے گویا وہ حرام کھا رہا ہے ۔

Qabisah bin Mukhiriq al-Hilali said: I became a guarantor for a payment, and I came to Messenger of Allah ﷺ . He said: Wait till I receive the sadaqah and I shall order it to be given to you. He then said: Begging, Qabisah, is allowable only to one of three classes: a man who has become a guarantor for a payment to whom begging is allowed till he gets it, after which he must stop (begging); a man who has been stricken by a calamity and it destroys his property to whom begging is allowed till he gets what will support life (or he said, what will provide a reasonable subsistence); and a man who has been smitten by poverty, about whom three intelligent members of his people confirm by saying: So and so has been smitten by poverty, to such a person begging is allowed till be gets what will support life (or he said, what will provide a reasonable subsistence), after which he must stop (begging). Any other reason for begging, Qabisah, is forbidden, and one who engages in such consumes it as a thing which is forbidden.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣٦ (١٠٤٤)، سنن النسائی/الزکاة ٨٠ (٢٥٨٠)، ٨٦ (٢٥٩٢)، ( تحفة الأشراف: ١١٠٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٧، ٥/٦٠) (صحیح )
1641Sunan Abu Dawood

سوال کرنا کب جائز ہے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ، فَقَالَ: أَمَا فِي بَيْتِكَ شَيْءٌ ؟قَالَ: بَلَى، حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ وَقَعْبٌ نَشْرَبُ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ، قَالَ: ائْتِنِي بِهِمَا، قَالَ: فَأَتَاهُ بِهِمَا فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ ؟قَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ، قَالَ: مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍمَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ وَأَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ وَأَعْطَاهُمَا الْأَنْصَارِيَّ، وَقَالَ: اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ وَاشْتَرِ بِالْآخَرِ قَدُومًا فَأْتِنِي بِهِ، فَأَتَاهُ بِهِ، فَشَدَّ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودًا بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَبِعْ وَلَا أَرَيَنَّكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ فَاشْتَرَى بِبَعْضِهَا ثَوْبًا وَبِبَعْضِهَا طَعَامًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ الْمَسْأَلَةُ نُكْتَةً فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ، أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نبی اکرم ﷺ کے پاس مانگنے کے لیے آیا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے گھر میں کچھ نہیں ہے؟ ، بولا: کیوں نہیں، ایک کمبل ہے جس میں سے ہم کچھ اوڑھتے ہیں اور کچھ بچھا لیتے ہیں اور ایک پیالا ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ دونوں میرے پاس لے آؤ ، چناچہ وہ انہیں آپ کے پاس لے آیا، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: یہ دونوں کون خریدے گا؟ ، ایک آدمی بولا: انہیں میں ایک درہم میں خرید لیتا ہوں، آپ ﷺ نے پوچھا: ایک درہم سے زیادہ کون دے رہا ہے؟ ، دو بار یا تین بار، تو ایک شخص بولا: میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں، آپ ﷺ نے اسے وہ دونوں چیزیں دے دیں اور اس سے درہم لے کر انصاری کو دے دئیے اور فرمایا: ان میں سے ایک درہم کا غلہ خرید کر اپنے گھر میں ڈال دو اور ایک درہم کی کلہاڑی لے آؤ ، وہ کلہاڑی لے کر آیا تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی ٹھونک دی اور فرمایا: جاؤ لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور بیچو اور پندرہ دن تک میں تمہیں یہاں نہ دیکھوں ، چناچہ وہ شخص گیا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور بیچتا رہا، پھر آیا اور دس درہم کما چکا تھا، اس نے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ قیامت کے دن مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے میں کوئی داغ ہو، مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے درست ہے: ایک تو وہ جو نہایت محتاج ہو، خاک میں لوٹتا ہو، دوسرے وہ جس کے سر پر گھبرا دینے والے بھاری قرضے کا بوجھ ہو، تیسرے وہ جس پر خون کی دیت لازم ہو اور وہ دیت ادا نہ کرسکتا ہو اور اس کے لیے وہ سوال کرے ۔

Narrated Anas ibn Malik: A man of the Ansar came to the Prophet ﷺ and begged from him. He (the Prophet) asked: Have you nothing in your house? He replied: Yes, a piece of cloth, a part of which we wear and a part of which we spread (on the ground), and a wooden bowl from which we drink water. He said: Bring them to me. He then brought these articles to him and he (the Prophet) took them in his hands and asked: Who will buy these? A man said: I shall buy them for one dirham. He said twice or thrice: Who will offer more than one dirham? A man said: I shall buy them for two dirhams. He gave these to him and took the two dirhams and, giving them to the Ansari, he said: Buy food with one of them and hand it to your family, and buy an axe and bring it to me. He then brought it to him. The Messenger of Allah ﷺ fixed a handle on it with his own hands and said: Go, gather firewood and sell it, and do not let me see you for a fortnight. The man went away and gathered firewood and sold it. When he had earned ten dirhams, he came to him and bought a garment with some of them and food with the others. The Messenger of Allah ﷺ then said: This is better for you than that begging should come as a spot on your face on the Day of Judgment. Begging is right only for three people: one who is in grinding poverty, one who is seriously in debt, or one who is responsible for compensation and finds it difficult to pay.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ١٠ (١٢١٨)، سنن النسائی/البیوع ٢٠ (٤٥١٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٥ (٢١٩٨)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠٠، ١١٤، ١٢٦) (ضعیف) (اس کے راوی أبوبکر حنفی مجہول ہیں )
1642Sunan Abu Dawood

سوال کرنے اور مانگنے کی مذمت کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ أَمَّا هُوَ إِلَيَّ فَحَبِيبٌ وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ تِسْعَةً، فَقَالَ: أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ، قُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ، حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ، فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَتُصَلُّوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا، وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً، قَالَ: وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا، قَالَ: فَلَقَدْ كَانَ بَعْضُ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا أَنْ يُنَاوِلَهُ إِيَّاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدِيثُ هِشَامٍ لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا سَعِيدٌ.

ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے پیارے اور امانت دار دوست عوف بن مالک ؓ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم سات، آٹھ یا نو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت نہیں کرو گے؟ ، جب کہ ہم ابھی بیعت کرچکے تھے، ہم نے کہا: ہم تو آپ سے بیعت کرچکے ہیں، آپ ﷺ نے یہی جملہ تین بار دہرایا چناچہ ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دئیے اور آپ سے بیعت کی، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! ہم ابھی بیعت کرچکے ہیں؟ اب کس بات کی آپ سے بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات کی کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں پڑھو گے اور (حکم) سنو گے اور اطاعت کرو گے ، ایک بات آپ نے آہستہ سے فرمائی، فرمایا: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے ، چناچہ ان لوگوں میں سے بعض کا حال یہ تھا کہ اگر ان کا کوڑا زمین پر گر جاتا تو وہ کسی سے اتنا بھی سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دیدے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی حدیث سعید کے علاوہ کسی اور نے بیان نہیں کی۔

Awf bin Malik said: We were with Messenger of Allah ﷺ , seven or eight or nine. He said: Do you take the oath of allegiance to the Messenger of Allah ﷺ , and we shortly took the oath of allegiance. We said: we have already taken the oath of allegiance to you. He repeated the same words three times. We then stretched our hands and took the oath of allegiance to him. A man (or us) said: We took the oath of allegiance to you; now on what should we take the oath of allegiance, Messenger of Allah ? He replied: That you should worship Allah, do not associate anything with Him, offer five times prayer, listen and obey. He uttered a word quietly: And do not beg from the people. When the whip fell on the ground, none of that group asked anyone to pick up the whip for him. Abu Dawud said: The version of Hisham was not narrated by anyone except Saeed.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣٥ (١٠٤٣)، سنن النسائی/الصلاة ٥ (٤٦١)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤١ (٢٨٦٨)، ( تحفة الأشراف: ١٠٩١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٧) (صحیح )
1643Sunan Abu Dawood

سوال کرنے اور مانگنے کی مذمت کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: وَكَانَ ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَكْفُلُ لِي أَنْ لَا يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا وَأَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ ؟فَقَالَ ثَوْبَانُ: أَنَا، فَكَانَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا.

ثوبان ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے غلام تھے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟ ، ثوبان نے کہا: میں (ضمانت دیتا ہوں) ، چناچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔

Thawban, the client of the Messenger of Allah ﷺ , reported him as saying: If anyone guarantees me that he will not beg from people, I will guarantee him Paradise. Thawban said: I (will not beg). He never asked anyone for anything.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٢٠٨٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة ٨٦ (٢٥٩١)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٥ (١٨٣٧)، مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٦، ٢٧٩، ٢٨١) (صحیح )
1644Sunan Abu Dawood

سوال سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ، حَتَّى إِذَا نَفَدَ مَا عِنْدَهُ، قَالَ: مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدًا مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا، انہوں نے پھر مانگا، آپ ﷺ نے پھر دیا، یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا، ختم ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جو بھی مال ہوگا میں اسے تم سے بچا کے رکھ نہ چھوڑوں گا، لیکن جو سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچا لیتا ہے، جو بےنیازی چاہتا ہے اللہ اسے بےنیاز کردیتا ہے، جو صبر کی توفیق طلب کرتا ہے اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے، اور اللہ نے صبر سے زیادہ وسعت والی کوئی نعمت کسی کو نہیں دی ہے ۔

Abu Said al-Khudri said: Some of the Ansar begged from the Messenger of Allah ﷺ and he gave them something. They later begged from him again and he gave them something so that what he had was exhausted. He then said: What I have I shall never store away from you but Allah will strengthen the abstinence of him who abstains, will give a satisfaction to him who wants to be satisfied, and will strengthen the endurance of him who shows endurance. No one has been given a more ample gift than endurance.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٠ (١٤٦٩)، والرقاق ٢٠ (٦٤٧٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٢ (١٠٥٣)، سنن الترمذی/البر ٧٧ (٢٠٢٤)، سنن النسائی/الزکاة ٨٥ (٢٥٨٩)، ( تحفة الأشراف: ٤١٥٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصدقة ٢ (٧)، مسند احمد (٣/٣، ٩، ١٢، ١٤، ٤٧، ٩٣)، سنن الدارمی/الزکاة ١٨ (١٦٨٦) (صحیح )
1645Sunan Abu Dawood

سوال سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى عَاجِلٍ.

ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے ظاہر کر دے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہوگا، اور جو اس کو اللہ سے ظاہر کرے (یعنی اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا مانگے) تو قریب ہے کہ اسے اللہ بےپروا کر دے یا تو جلد موت دے کر یا جلد مالدار کر کے ۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: If one who is afflicted with poverty refers it to me, his poverty will not be brought to an end; but if one refers it to Allah, He will soon give him sufficiency, either by a speedy death or by a sufficiency which comes later.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزہد ١٨ (٢٣٢٦) ( تحفة الأشراف: ٩٣١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٩، ٤٠٧، ٤٤٢) (صحیح )
1646Sunan Abu Dawood

سوال سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ، عَنْ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، أَنَّ الْفِرَاسِيّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، وَإِنْ كُنْتَ سَائِلًا لَا بُدَّ فَاسْأَلِ الصَّالِحِينَ.

ابن الفراسی سے روایت ہے کہ فراسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا! اللہ کے رسول! کیا میں سوال کروں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں اور اگر سوال کرنا ضروری ہی ہو تو نیک لوگوں سے سوال کرو ۔

Narrated Ibn al-Firasi: Al-Firasi asked the Messenger of Allah ﷺ : May I beg, Messenger of Allah? The Prophet ﷺ said: No, but if there is no escape from it, beg from the upright.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٨٤ (٢٥٨٨)، ( تحفة الأشراف: ١٥٥٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣٤) (ضعیف) (اس کے راوی مسلم لین الحدیث اور ابن الفراسی مجہول ہیں )
1647Sunan Abu Dawood

سوال سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ، قَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَعَمَّلَنِي، فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَهُ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ.

ابن ساعدی کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے مجھے صدقے پر عامل مقرر کیا تو جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کردیا تو انہوں نے میرے لیے محنتانے (اجرت) کا حکم دیا، میں نے عرض کیا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا اور میرا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے، عمر ؓ نے کہا: جو تمہیں دیا جا رہا ہے اسے لے لو، میں نے بھی یہ کام رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کیا تھا، آپ ﷺ نے مجھے دینا چاہا تو میں نے بھی وہی بات کہی جو تم نے کہی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو اس میں سے کھاؤ اور صدقہ کرو ۔

Ibn al-Saidi said: Umar employed me to collect the sadaqah. When I finished doing so and gave it to him, he ordered payment to be given to me. I said: I did only for Allah’s sake, and my reward will come from Allah. He said: Take what you are given, for I acted (as a collector) during the time of the Messenger of Allah ﷺ and he assigned me a payment. Thereupon, I said the same kind of thing as you have said, to which Messenger of Allah ﷺ said: When you are given something without asking for it, you should use it for your own purpose and as sadaqah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥١ (١٤٧٣)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٧ (١٠٤٥)، سنن النسائی/الزکاہ ٩٤ (٢٦٠٥)، ( تحفة الأشراف: ١٠٤٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧، ٤٠، ٥٢) (صحیح )
1648Sunan Abu Dawood

سوال سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ مِنْهَا وَالْمَسْأَلَةَ: الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: اخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ: الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُتَعَفِّفَةُ، وقَالَ أَكْثَرُهُمْ: عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ، وقَالَ وَاحِدٌ: عَنْ حَمَّادٍ، الْمُتَعَفِّفَةُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے ١ ؎، عبدالوارث نے کہا: اليد العليا المتعففة (اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے) ، اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں:اليد العليا المنفقة نقل کیا ہے (یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے) اور ایک راوی نے حماد سے المتعففة روایت کی ٢ ؎۔

Abdullah bin Umar (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said when he was on the pulpit speaking of sadaqah and abstention from it and begging: the upper hand is better than the lower one, the upper being the one which bestows and the lower which begs. Abu Dawud said: The version of this tradition narrated by Ayyub from Nafi is disputed. The narrator Abd al-Warith said in his version: `The upper hand is the one which abstains from begging;” but most of the narrators have narrated from Hammad bin Zaid from Ayyub the words “ The upper hand is the one which bestows. ” A narrator from Hammad said in his version “the one which abstains from begging. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایوب کے تلامذہ نے ایوب سے اس حدیث میں اختلاف کیا ہے بعض رواۃ (جیسے حماد بن زید وغیرہ) نے ایوب سے اليد العليا المنفقة کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے جیسا کہ مالک نے روایت کی ہے، اس کے برخلاف عبدالوارث نے ایوب سے اليد العليا المتعففة کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔ ٢ ؎: یعنی حماد کے تلامذہ نے بھی حماد سے روایت میں اختلاف کیا ہے ان کے اکثر تلامذہ نے ان سے المنفقة کا لفظ روایت کیا ہے، اور ایک راوی نے جو مسدد بن مسرہد ہیں ان سے المتعففة کا لفظ روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١٨ (١٤٢٩)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٢ (١٠٣٣)، سنن النسائی/الزکاة ٥٢ (٢٥٣٤)، (تحفة الأشراف: ٨٣٣٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصدقة ٢ (٨)، مسند احمد (٢/٩٧)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٢ (١٦٩٢) (صحیح )
1649Sunan Abu Dawood

سوال سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّعْرَاءِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ: فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى، فَأَعْطِ الْفَضْلَ وَلَا تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِكَ.

مالک بن نضلہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاتھ تین طرح کے ہیں: اللہ کا ہاتھ جو سب سے اوپر ہے، دینے والے کا ہاتھ جو اس کے بعد ہے اور لینے والے کا ہاتھ جو سب سے نیچے ہے، لہٰذا جو ضرورت سے زائد ہو اسے دے دو اور اپنے نفس کی بات مت مانو ۔

Narrated Malik ibn Nadlah: The Prophet ﷺ said: Hands are of three types: Allahs hand is the upper one; the bestowers hand is the one near it; the beggars hand is the lower one. So bestow what is surplus, and do not submit yourself to the demand of your soul.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٢٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٣) (صحیح )
1650Sunan Abu Dawood

بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا، قَالَ: حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ.

ابورافع ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، اس نے ابورافع سے کہا: میرے ساتھ چلو اس میں سے کچھ تمہیں بھی مل جائے گا، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر پوچھ لوں، چناچہ وہ آپ کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: قوم کا غلام انہیں ١ ؎ میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں ۔

Narrated Abu Rafi: The Prophet ﷺ sent a man of the Banu Makhzum to collect sadaqah. He said to Abu Rafi: Accompany me so that you may get some of it. He said: (I cannot take it) until I go to the Prophet ﷺ and ask him. Then he went to him and asked him. He said: The sadaqah is not lawful for us, and the client of a people is treated as one of them.

Notes · وضاحت
١ ؎: ابو رافع رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے لہٰذا وہ بھی بنی ہاشم میں سے ہوئے، اس لئے ان کے لئے بھی صدقہ لینا جائز نہیں ہوا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٢٥ (٦٥٧)، سنن النسائی/الزکاة ٩٧ (٢٦١٣)، ( تحفة الأشراف: ١٦٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠، ٣٩٠، ١٢٠١٨) (صحیح )
1651Sunan Abu Dawood

بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا ، قَالَ: حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ .

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر کسی پڑی ہوئی کھجور پر ہوتا تو آپ کو اس کے لے لینے سے سوائے اس اندیشے کے کوئی چیز مانع نہ ہوتی کہ کہیں وہ صدقے کی نہ ہو۔

Anas said: The Messenger of Allah ﷺ came upon a date on the road; he would not take it for fear of being a part of the sadaqah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٦٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٤ (٢٠٥٥)، واللقطة ٦ (٢٤٣١)، صحیح مسلم/الزکاة ٥٠ (١٠٧١)، مسند احمد (٣/١٨٤، ١٩٢، ٢٥٨) (صحیح )
1652Sunan Abu Dawood

بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لَأَكَلْتُهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، هَكَذَا.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک کھجور (پڑی) پائی تو فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہو تاکہ یہ صدقے کی ہوگی تو میں اسے کھا لیتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

Anas said: Messenger of Allah ﷺ found a date and said: Were it not that I fear it may be part of the sadaqah, I would eat it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٦٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة ٥٠ (١٠٧١)، مسند احمد (٣/٢٩١) (صحیح )
1653Sunan Abu Dawood

بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ كُرَيْبٍمَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ مِنَ الصَّدَقَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے نبی اکرم ﷺ کے پاس اس اونٹ کے سلسلہ میں بھیجا جو آپ ﷺ نے انہیں صدقے میں سے دیا تھا ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : My father sent me to the Prophet ﷺ to take the camels which he had given him from among those of sadaqah.

Notes · وضاحت
١ ؎: عباس ؓ بنی ہاشم میں سے ہیں اور بنی ہاشم کے لئے صدقہ جائز نہیں، اسی وجہ سے خطابی نے یہ تاویل کی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس ؓ سے یہ اونٹ بطور قرض لیا ہو، پھر جب آپ ﷺ کے پاس صدقہ کے اونٹ آگئے ہوں تو آپ ﷺ نے اسی قرض کو صدقہ کے اونٹ سے واپس کیا ہو، اور بیہقی نے ایک تاویل یہ بھی کی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ بنی ہاشم پر صدقہ حرام ہونے سے پہلے کی بات ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٣٤٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ قیام اللیل ٢٧ (١٣٣٩)، مسند احمد (١/٣٦٤) (صحیح )
1654Sunan Abu Dawood

بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ، زَادَأَبِي يُبَدِّلُهَا لَهُ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی طرح کی روایت مروی ہے البتہ اس میں (ابوعبیدہ نے) یہ اضافہ کیا ہے کہ میرے والد اسے آپ ﷺ سے بدل رہے تھے ١ ؎۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Ibn Abbas through a different chain of narrators in a similar manner. This version adds: “My father exchanged them for him”.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میرے والد عباس ؓ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس اس لئے بھیجا کہ آپ اس اونٹ کو جو آپ نے انہیں دیا تھا صدقہ کے اونٹ سے بدل دیں اس مفہوم کے لحاظ سے من الصدقة “ ” يبدلها سے متعلق ہوگا، ناکہ أعطاها سے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ اونٹ صدقہ کے علاوہ مال سے دیا تھا، پھر جب صدقہ کے اونٹ آئے تو انہوں نے اسے بدلنا چاہا اس صورت میں خطابی اور بیہقی کی اس تاویل کی ضرورت نہیں جو انہوں نے اوپر والی حدیث کے سلسلہ میں کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٣٥٠) (صحیح )
1655Sunan Abu Dawood

فقیر صدقہ کے مال سے غنی کو تحفہ دے سکتا ہے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ، قَالَ: مَا هَذَا ؟قَالُوا: شَيْءٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا، آپ نے پوچھا: یہ گوشت کیسا ہے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ چیز ہے جسے بریرہ ؓ پر صدقہ کیا گیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس (بریرہ) کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے (بریرہ کی طرف سے) ہدیہ ہے ۔

Anas said when some meat was brought to the Prophet ﷺ , he asked What is this? He was told this is a thing (meat), which was given as sadaqah to Barirah. Thereupon, he said it is sadaqah for her and a gift to us.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٦٢ (١٤٩٥)، والھبة ٧ (٢٥٧٧٧)، صحیح مسلم/الزکاة ٥٢ (١٠٧٤)، سنن النسائی/العمری ١ (٣٧٩١)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٧، ١٣٠، ١٨٠، ٢٧٦) (صحیح )