ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان باحیات تھے، ہم لوگ صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے غلہ یا پنیر یا جو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع نکالتے تھے، پھر ہم اسی طرح نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ ؓ حج یا عمرہ کرنے آئے تو انہوں نے منبر پر چڑھ کر لوگوں سے کچھ باتیں کیں، ان میں ان کی یہ بات بھی شامل تھی: میری رائے میں اس گیہوں کے جو شام سے آتا ہے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں، پھر لوگوں نے یہی اختیار کرلیا، اور ابوسعید نے کہا: لیکن میں جب تک زندہ رہوں گا برابر ایک ہی صاع نکالتا رہوں گا۔ امام ابوداؤد (رح) کہتے ہیں: اسے ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے ابن اسحاق سے، ابی اسحاق نے عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام سے، عبداللہ بن عبداللہ نے عیاض سے اور عیاض نے ابوسعید سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے، ایک شخص نے ابن علیہ سے أو صاعًا من حنطة بھی نقل کیا ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے۔
Abu Saeed Al-khudri said: When the Messenger of Allah ﷺ lived among us, we use to bring forth zakat, on closing the fast of Ramadan one sa’ of grain or of cheese, or of barley, or of dried dates, or of raisens, payable by every young and old freeman and slave. We continued to pay this till mu-awayah came to perform Haj or Umra and he spoke to the people on the pulpit. What he said to the people was: I think that Mudds of the wheat of syrria is equivalent to one sa’ of dried dates. So the people adopted it. Abu Saeed said: But I continued to pay one sa’ of wheat as long as I lived on. Abu Dawud said: this tradition has also been transmitted by Abu Saeed through a different chain of narrators to the same effect. A man has narrated in this version from Ibn-Ulayyah one sa’ of wheat. But this version is not guarded.
اس سند سے اسماعیل (اسماعیل ابن علیہ) سے یہی حدیث (نمبر: ١٦١٦ کے اخیر میں مذکور سند سے) مروی ہے اس میں حنطہٰ کا ذکر نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معاویہ بن ہشام نے اس حدیث میں ثوری سے، ثوری نے زید بن اسلم سے، زیدی اسلم نے عیاض سے، عیاض نے ابوسعید سے نصف صاع من بُرٍّ نقل کیا ہے، لیکن یہ زیادتی معاویہ بن ہشام کا یا اس شخص کا وہم ہے جس نے ان سے روایت کی ہے۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Saeed through a different chain of narrators. This version adds: “Half a sa’ of wheat “. But this is a misunderstanding on the part of muawayah bin Hisham and of those who narrated from him.
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ ایک ہی صاع نکالوں گا، ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کھجور، یا جو، یا پنیر، یا انگور کا ایک ہی صاع نکالتے تھے۔ یہ یحییٰ کی روایت ہے، سفیان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: یا ایک صاع آٹے کا، حامد کہتے ہیں: لوگوں نے اس زیادتی پر نکیر کی، تو سفیان نے اسے چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ زیادتی ابن عیینہ کا وہم ہے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : I shall always pay one sa. We used to pay during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ one sa of dried dates or of barley, or of cheese, or of raisins. This is the version of Yahya. Sufyan added in his version: or one sa of flour. The narrator Hamid (ibn Yahya) said: The people objected to this (addition); Sufyan then left it. Abu Dawud said: This addition is a misunderstanding on the part of Ibn Uyainah.
Takhrij · تخریج
تفرد أبو داود بروایة سفیان بن عیینة، وروایة یحییٰ القطان صحیحة موافقة لرقم: ١٦١٦، ( تحفة الأشراف: ٤٢٦٩) (حسن) (یحییٰ القطان کی روایت حسن ہے، اور ابن عیینہ کی روایت میں وہم ہے، اس لئے ضعیف ہے )
عبداللہ بن ابوصعیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گیہوں کا ایک صاع ہر دو آدمیوں پر لازم ہے (ہر ایک کی طرف سے آدھا صاع) چھوٹے ہوں یا بڑے، آزاد ہوں یا غلام، مرد ہوں یا عورت، رہا تم میں جو غنی ہے، اللہ اسے پاک کر دے گا، اور جو فقیر ہے اللہ اسے اس سے زیادہ لوٹا دے گا، جتنا اس نے دیا ہے ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں غنيٍ أو فقيرٍ کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔
Abdullah bin Thalabah or Thalabah bin Abdullah bin Abu Suair reported on his fathers authority that the Messenger of Allah ﷺ said: One sa of wheat is to be taken from every two, young or old, freeman or slave, male or female. Those of you who are rich will be purified by Allah, and those of you who are poor will have more than they gave returned by Him to them. Sulayman added in his version: rich or poor
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٢٠٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٢) (ضعیف) (نعمان بن راشد کے سبب یہ روایت ضعیف ہے )
ثعلبہ بن صعیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر شخص کی جانب سے نکالنے کا حکم دیا۔ علی بن حسین نے اپنی روایت میں أو صاع بر أو قمح بين اثنين کا اضافہ کیا ہے (یعنی دو آدمیوں کی طرف سے گیہوں کا ایک صاع نکالنے کا) ، پھر دونوں کی روایتیں متفق ہیں: چھوٹے بڑے آزاد اور غلام ہر ایک کی طرف سے ۔
Abdullah bin Thalabah ibn Suayr reported on the authority of his father: The Messenger of Allah ﷺ stood and gave a sermon; he commanded to give sadaqah, at the end of Ramadan when the fasting is closed, one sa of dried dates or of barley payable by every person. The narrator Ali added in his version: or one sa of wheat to be taken from every two. Both the chains of narrators are then agreed upon the version: payable by young and old, freeman and slave.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٢٠٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٢) (صحیح )
عبدالرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن ثعلبہ (جزم کے ساتھ بغیر شک کے) کہا ١ ؎۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے عبداللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبداللہ صالح کو عذری کہا ہے ٢ ؎، رسول اللہ ﷺ نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا، یہ خطبہ مقری (عبداللہ بن یزید) کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا۔
Abdullah bin Thalabah said (the narrator Ahmad bin salih said: He, i. e “Abd al-Razzaq, said: He is ‘Adawl. Abu Dawud said: Ahmed bin Salih said: He is ‘Adhri): The Messenger of Allah ﷺ delivered a speech before the closing fast (‘Id) by two days. He then transmitted the tradition like that of al Muqri (Abdullah bin Yazid).
Notes · وضاحت
١ ؎: نعمان بن راشد اور بکر بن وائل کی جو روایت زہری سے اوپر گزری ہے اس میں شک کے ساتھ آیا ہے۔ ٢ ؎: عدوی تصحیف ہے۔
حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے رمضان کے اخیر میں بصرہ کے منبر پر خطبہ دیا اور کہا: اپنے روزے کا صدقہ نکالو ، لوگ نہیں سمجھ سکے تو انہوں نے کہا: اہل مدینہ میں سے کون کون لوگ یہاں موجود ہیں؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ، اس لیے کہ وہ نہیں جانتے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ صدقہ فرض کیا کھجور یا جَو سے ایک صاع، اور گیہوں سے آدھا صاع ہر آزاد اور غلام، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے پر ، پھر جب علی ؓ آئے تو انہوں نے ارزانی دیکھی اور کہنے لگے: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کردی ہے، اب اسے ہر شے میں سے ایک صاع کرلو ١ ؎ تو بہتر ہے ۔ حمید کہتے ہیں: حسن کا خیال تھا کہ صدقہ فطر اس شخص پر ہے جس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں۔
Al-Hasan said: Ibn Abbas preached towards the end of Ramadan on the pulpit (in the mosque) of al-Basrah. He said: Bring forth the sadaqah relating to your fast. The people, as it were, could not understand. Which of the people of Madina are present here? Stand for your brethren, and teach them, for they do not know. The Messenger of Allah ﷺ prescribed this sadaqah as one sa of dried dates or barley, or half a sa of wheat payable by every freeman or slave, male or female, young or old. When Ali came (to Basrah), he found that price had come down. He said: Allah has given prosperity to you, so give one sa of everything (as sadaqah). The narrator Humayd said: Al-Hasan maintained that the sadaqah at the end of Ramadan was due on a person who fasted.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گیہوں بھی ایک صاع دو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٣٦ (٢٥١٠)، ( تحفة الأشراف: ٥٣٩٤) (ضعیف) (حسن بصری کا سماع ابن عباس ؓ سے نہیں ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عمر بن خطاب ؓ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس ؓ نے (زکاۃ دینے سے) انکار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابن جمیل اس لیے نہیں دیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ نے اس کو غنی کردیا، رہے خالد بن ولید تو خالد پر تم لوگ ظلم کر رہے ہو، انہوں نے اپنی زرہیں اور سامان جنگ اللہ کی راہ میں دے رکھے ہیں ١ ؎، اور رہے رسول اللہ ﷺ کے چچا عباس تو ان کی زکاۃ میرے ذمہ ہے اور اسی قدر اور ہے ٢ ؎، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ چچا والد کے برابر ہے ۔ راوی کو شک ہے صنو الأب کہا، یا صنو أبيه کہا۔
Abu Hurairah said: The Prophet ﷺ sent Umar bin al-Khattab to collect sadaqa (All the people paid the zakat but ibn-jamil, Khalid bin al-walid and al-abbas refused. So the Messenger of Allah ﷺ said: Ibn-jamil is not (so much) objecting, but he was poor and Allah enriched him. As for Khalid bin Walid, you are wronging him, for he has kept back his courts of mail and weapons to use them in Allah’s path. As for al-Abbas, the uncle of the Messenger of Allah ﷺ , I shall be responsible for it and an equal amount along with it. Then he said did you not know (Umar) that a man’s paternal uncle is of the same stock as the father or his father?
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہوں نے اپنی زرہیں اور اپنے سامان اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے وقف کر رکھا ہے، پھر ان کی زکاۃ کیسی، اسے تو انہوں نے اللہ ہی کی راہ میں دے رکھا ہے، یا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے بن مانگے اپنی خوشی سے یہ چیزیں اللہ کی راہ میں دیدیں ہیں، تو وہ بھلا زکاۃ کیوں نہیں دیں گے، تمہیں لوگوں نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہوگی۔ ٢ ؎: باب سے مطابقت اسی لفظ سے ہے یعنی: ” اس سال کی زکاۃ اور اسی کے مثل آئندہ کی زکاۃ بھی “۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ عباس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے زکاۃ جلدی (یعنی سال گزرنے سے پہلے) دینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کو اس کی اجازت دی۔ راوی نے ایک بار فرخص له في ذلك کے بجائے فأذن له في ذلك روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہشیم نے منصور بن زاذان سے، منصور نے حکم سے حکم نے حسن بن مسلم سے اور حسن بن مسلم نے نبی کریم ﷺ سے (مرسلاً ) روایت کی ہے اور ہشیم کی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے، (یعنی: اس روایت کا مرسل بلکہ معضل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے) ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Al-Abbas asked the Prophet ﷺ about paying the sadaqah (his zakat) in advance before it became due, and he gave permission to do that. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Hushaim through a different chain of narrators. The version of Hushaim is more sound.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٣٧ (٦٧٨)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٧ (١٧٩٥)، ( تحفة الأشراف: ١٠٠٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٠٤)، سنن الدارمی/الزکاة ١٢ (١٦٧٦) (حسن )
عطا کہتے ہیں زیاد یا کسی اور امیر نے عمران بن حصین ؓ کو زکاۃ کی وصولی کے لیے بھیجا، جب وہ لوٹ کر آئے تو اس نے عمران سے پوچھا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: کیا آپ نے مجھے مال لانے بھیجا تھا؟ ہم نے اسے لیا جس طرح ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں لیتے تھے، اور اس کو صرف کردیا جہاں ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں صرف کرتے تھے ١ ؎۔
Ibrahim ibn Ata, the client of Imran ibn Husayn, reported on the authority of his father: Ziyad, or some other governor, sent Imran ibn Husayn to collect sadaqah (i. e. zakat). When he returned, he asked Imran: Where is the property? He replied: Did you send me to bring the property? We collected it from where we used to collect in the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ , and we spent it where we used to spend during the time of the Messenger of Allah ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شہر کے لوگوں سے زکاۃ وصولی جائے اسی شہر کے فقراء اور محتاجوں میں وہ تقسیم ہو، اگر وہاں کے لوگوں کو ضرورت نہ ہو تو دوسرے شہر کے ضرورتمندوں کی طرف اسے منتقل کیا جائے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو سوال کرے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے اس سوال سے مستغنی اور بےنیاز کرتی ہو تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر خموش یا خدوش یا کدوح یعنی زخم ہوں گے ، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کتنے مال سے آدمی غنی ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے ہوں ۔ یحییٰ کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا: مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے ١ ؎ تو سفیان نے کہا: ہم سے اسے زبید نے محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: He who begs (from people) when he is affluent will come on the Day of Resurrection with scrapes, scratchings, or lacerations on his face. He was asked: What constitutes affluence, Messenger of Allah? He replied: It is fifty dirhams or its value in gold. The narrator Yahya said: Abdullah ibn Sufyan said to Sufyan: I remember that Shubah does not narrate from Hakim ibn Jubayr. Sufyan said: Zubayr transmitted to us this tradition from Muhammad ibn Abdur Rahman ibn Yazid.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حکیم بن جبیر ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت زبید کر رہے ہیں جس سے یہ ضعف جاتا رہا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٢٢ (٦٥٠)، سنن النسائی/الزکاة ٨٧ (٢٥٩٣)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٦ (١٨٤٠)، (تحفة الأشراف: ٩٣٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٤١)، سنن الدارمی/الزکاة ١٥ (١٦٨٠) (صحیح )
بنی اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی بقیع غرقد میں جا کر اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے کچھ مانگ کر لاؤ جو ہم کھائیں، پھر وہ لوگ اپنی محتاجی کا ذکر کرنے لگے، چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا، وہ آپ سے مانگ رہا تھا اور آپ اس سے کہہ رہے تھے: میرے پاس کچھ نہیں ہے جو میں تجھے دوں، آخر وہ ناراض ہو کر یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میری عمر کی قسم، تم جسے چاہتے ہو دیتے ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ میرے اوپر اس لیے غصہ ہو رہا ہے کیونکہ اسے دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے، تم میں سے جو سوال کرے اور اس کے پاس ایک اوقیہ (چالیس درہم) یا اس کے برابر مالیت ہو تو وہ الحاح کے ساتھ سوال کرنے کا مرتکب ہوتا ہے ١ ؎، اسدی کہتے ہیں: میں نے (اپنے جی میں) کہا: ہماری اونٹنی تو اوقیہ سے بہتر ہے، اوقیہ تو چالیس ہی درہم کا ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: چناچہ میں لوٹ آیا اور آپ سے کچھ بھی نہیں مانگا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس جو اور منقی آیا، آپ نے اس میں سے ہمیں بھی حصہ دیا، أو كما قال یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنی کردیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مالک نے کیا ہے۔
Ata bin Yasar said: A man from Banu Asad said: I and my family alighted at Baqi al-Gharqad. My wife said to me: Go the Messenger of Allah ﷺ and beg something from him for our eating, and made a mention of there need. So I went to the Messenger of Allah ﷺ . I found with a man who was begging from him and he was saying to him: I have nothing to give you. The man turned away from him in anger while he was saying: By my life, you give anyone you wish. The Messenger of Allah ﷺ said: He’s anger with me, for I have nothing to give him. If any of you begs when he has an Uqiyah or its equivalent, he has begged immoderately. The man of Banu Asad said: So I said: The she camel of ours is better than an uqiyah, while an uqiyah is equivalent to 40 Dirhams. I therefore returned and did not beg from him. Afterwards some barley and raisins where brought to the Messenger of Allah ﷺ . He gave us a share from them (or as he reported)till Allah, the Exalted, made us self-sufficient (i. e well off). Abu Dawud said: Al-Thawri narrated it as Malik narrated.
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں الحاف ہے یعنی الحاح اور شدید اصرار، ایسا سوال کرنا قرآن کے مطابق ناپسندیدہ عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٩٠ (٢٥٩٧)، ( تحفة الأشراف: ١٥٦٤٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصدقة ١(٣)، مسند احمد (٤/٣٦، ٥/٤٣٠) (صحیح )
ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو سوال کرے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہو تو اس نے الحاف کیا ، میں نے (اپنے جی میں) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے۔ (ہشام کی روایت میں ہے: چالیس درہم سے بہتر ہے) ، چناچہ میں لوٹ آیا اور میں نے آپ سے کچھ نہیں مانگا ١ ؎۔ ہشام کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اوقیہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چالیس درہم کا ہوتا تھا۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone begs when he has something equivalent to an uqiyah in value, he has begged immoderately. So I said: My she-camel, Yaqutah, is better than an uqiyah. The version of Hisham goes: better than forty dirhams. So I returned and did not beg anything from him. Hisham added in his version: An uqiyah during the time of the Messenger of Allah ﷺ was equivalent to forty dirhams.
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کو اللہ کے رسول ﷺ سے کچھ مانگنے کے لئے بھیجا تھا جیسا کہ نسائی کی روایت میں صراحت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٨٩ (٢٥٩٦)، ( تحفة الأشراف: ٤١٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٩) (حسن )
ابوکبشہ سلولی کہتے ہیں ہم سے سہل بن حنظلیہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس آئے، انہوں نے آپ سے مانگا، آپ نے انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دینے کا حکم دیا اور معاویہ ؓ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لیے خط لکھ دیں جو انہوں نے مانگا ہے، اقرع نے یہ خط لے کر اسے اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلے گئے لیکن عیینہ خط لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: محمد! کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کے پاس ایسا خط لے کر جاؤں جو متلمس ١ ؎ کے صحیفہ کی طرح ہو، جس کا مضمون مجھے معلوم نہ ہو؟ معاویہ نے ان کی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے بیان کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو سوال کرے اس حال میں کہ اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے سوال سے بےنیاز کردیتی ہو تو وہ جہنم کی آگ زیادہ کرنا چاہ رہا ہے ۔ (ایک دوسرے مقام پر نفیلی نے جہنم کی آگ کے بجائے جہنم کا انگارہ کہا ہے) ۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس قدر مال آدمی کو غنی کردیتا ہے؟ (نفیلی نے ایک دوسرے مقام پر کہا: غنی کیا ہے، جس کے ہوتے ہوئے سوال نہیں کرنا چاہیئے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: اتنی مقدار جسے وہ صبح و شام کھا سکے ۔ ایک دوسری جگہ میں نفیلی نے کہا: اس کے پاس ایک دن اور ایک رات یا ایک رات اور ایک دن کا کھانا ہو، نفیلی نے اسے مختصراً ہم سے انہیں الفاظ کے ساتھ بیان کیا جنہیں میں نے ذکر کیا ہے۔
Narrated Sahl ibn Hanzaliyyah (RA) : Uyaynah ibn Hisn and Aqra ibn Habis came to the Messenger of Allah ﷺ . They begged from him. He commanded to give them what they begged. He ordered Muawiyah to write a document to give what they begged. Aqra took his document, wrapped it in his turban, and went away. As for Uyaynah, he took his document and came to the Prophet ﷺ at his home, and said to him: Muhammad, do you see me? I am taking a document to my people, but I do not know what it contains, just like the document of al-Mutalammis. Muawiyah informed the Messenger of Allah ﷺ of his statement. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: He who begs (from people) when he has sufficient is simply asking for a large amount of Hell-fire. (An-Nufayl (a transmitter) said elsewhere: embers of Hell.) They asked: Messenger of Allah, what is a sufficiency? (Elsewhere an-Nufayl said: What is a sufficiency which makes begging unfitting?) He replied: It is that which would provide a morning and an evening meal. (Elsewhere an-Nufayl said: It is when one has enough for a day and night, or for a night and a day.) He (an-Nufayl) narrated to us this tradition briefly in the words that I have mentioned.
Notes · وضاحت
١ ؎: متلمس ایک شاعر گزرا ہے، اس نے بادشاہ عمرو بن ہند کی ہجو کی تھی، بادشاہ نے کمال ہوشیاری سے اپنے عامل کے نام خط لکھ کر اس کو دیا اور کہا کہ تم اس لفافے کو لے کر فلاں عامل کے پاس جاؤ، وہ تمہیں انعام سے نوازے گا، خط میں ہجو کے جرم میں اسے قتل کردینے کا حکم تھا، راستہ میں متلمس کو شبہہ ہوا، اس نے لفافہ پھاڑ کر خط پڑھا تو اس میں اس کے قتل کا حکم تھا، چناچہ اس نے خط پھاڑ کر پھینک دیا اور اپنی جان بچا لی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٤٦٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٠، ١٨١) (صحیح )
زیاد بن حارث صدائی ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، پھر ایک لمبی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے کہا: آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: مجھے صدقے میں سے دیجئیے، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: اللہ تعالیٰ صدقے کے سلسلے میں نہ پیغمبر کے اور نہ کسی اور کے حکم پر راضی ہوا بلکہ خود اس نے اس سلسلے میں حکم دیا اور اسے آٹھ حصوں میں بانٹ دیا اب اگر تم ان آٹھوں ١ ؎ میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دوں گا ۔
Narrated Ziyad ibn al-Harith as-Sudai: I came to the Messenger of Allah ﷺ and swore allegiance to him, and after telling a long story he said: Then a man came to him and said: Give me some of the sadaqah (alms). The Messenger of Allah ﷺ said: Allah is not pleased with a Prophets or anyone elses decision about sadaqat till He has given a decision about them Himself. He has divided those entitled to them into eight categories, so if you come within those categories, I shall give you what you desire.
Notes · وضاحت
١ ؎: ان آٹھ قسموں کا ذکر اس آیت میں ہے: إنما الصدقات للفقراء والمساکين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله والله عليم حكيم (سورة التوبة: ٦٠)، ” زکاۃ صرف فقراء، مساکین اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے ہے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے ہے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لئے یہ فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے “۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٦٥٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک دو لقمہ در بدر پھرائے، بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرتا ہو، اور نہ ہی لوگ اسے سمجھ پاتے ہوں کہ وہ مدد کا مستحق ہے کہ اسے دیں ۔
Abu Hurairah reported Messenger of Allah ﷺ as saying: The poor man (miskin) is not one who is admitted (by the people) with one or two dates or with one or two morsels but is one, who does not beg anything from his people and is not taken notice of so that alms may be given to him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٢٣٥٥)، وقد أخرجہ: خ /الزکاة ٥٣ (١٤٧٦)، و تفسیر البقرة ٤٨ (٤٥٣٩)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٤ (١٠٣٩)، سنن النسائی/الزکاة ٧٦ (٢٥٧٢)، موطا امام مالک/ صفة النبی ٥ (٧)، مسند احمد (٢/٢٦٠، ٣١٦، ٣٩٣، ٤٤٥، ٤٥٧)، سنن الدارمی/الزکاة ٢ (١٦٥٦) (صحیح )
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں ہے: لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ (مسکین وہ ہے ) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے، اسی کو محروم کہتے ہیں، اور مسدد نے المتعفف الذي لا يسأل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے فذاک المحروم کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said something similar as mentioned in the preceding tradition. This version adds: But the poor man (miskin) who abstains from begging from the people is one (according to the version of Musaddad who does not get enough so that he may not beg from the people, nor is his need known to the people, so that alms be given to him. This is the one who has been deprived. Musaddad did not mention the words one who avoids begging from the people. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Muhammad bin Thawr and Abd al-Razzaq on the authority of Mamar. They mentioned that the word deprived is the statement of al-Zuhri, and this is more sound.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٧٦ (٢٥٧٤)، ( تحفة الأشراف: ١٥٢٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٠) (صحیح) دون قوله: ” فذاک المحروم “ فإنه مقطوع من کلام الزهري
عبیداللہ بن عدی بن خیار ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے، انہوں نے بھی آپ سے مانگا، آپ ﷺ نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور پھر نظر جھکا لی، آپ نے ہمیں موٹا تازہ دیکھ کر فرمایا: اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں دے دوں لیکن اس میں مالدار کا کوئی حصہ نہیں اور نہ طاقتور کا جو مزدوری کر کے کما سکتا ہو ۔
Narrated Ubaydullah ibn Adl ibn al-Khiyar (RA) : Two men informed me that they went to the Prophet ﷺ when he was at the Farewell Pilgrimage while he was distributing the sadaqah and asked him for some of it. He looked us up and down, and seeing that we were robust, he said: If you wish, I shall give you something, but there is nothing spare in it for a rich man or for one who is strong and able to earn a living.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٩١ (٢٥٩٩)، ( تحفة الأشراف: ١٥٦٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٤، ٥/٣٦٢)، (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صدقہ مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ طاقتور اور مضبوط آدمی کے لیے (حلال ہے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سفیان نے سعد بن ابراہیم سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے ابراہیم نے کہا ہے نیز اسے شعبہ نے سعد سے روایت کیا ہے، اس میں لذي مرة سوي کے بجائے لذي مرة قوي کے الفاظ ہیں، نبی اکرم ﷺ سے مروی بعض روایات میں لذي مرة قوي اور بعض میں لذي مرة سوي کے الفاظ ہیں۔ عطا بن زہیر کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو ؓ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: إن الصدقة لا تحل لقوي ولا لذي مرة سوي۔
Narrated Abdullah ibn Amr (RA) : The Prophet ﷺ said: Sadaqah may not be given to a rich man or to one who has strength and is sound in limbs. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Sufyan from Saad bin Ibrahim like the tradition narrated by Ibrahim. The version of Shubah from Saad has: for a man who has strength and is robust. The other version of this tradition from the Prophet ﷺ have the words for a man who has strength and is robust. Others have for a man who has strength and is sound in limbs. Ata bin Zuhair said that he had met Abdullah bin Amr who said: Sadaqah is not lawful for a strong man nor for a man who has strength and is sound in limbs.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٢٣ (٦٥٢)، ( تحفة الأشراف: ٨٦٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٤، ١٩٢)، سنن الدارمی/الزکاة ١٥ (١٦٧٩) (صحیح )
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں سوائے پانچ لوگوں کے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا زکاۃ کی وصولی کا کام کرنے والے کے لیے، یا مقروض کے لیے، یا ایسے شخص کے لیے جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا ہو، یا ایسے شخص کے لیے جس کا کوئی مسکین پڑوسی ہو اور اس مسکین پر صدقہ کیا گیا ہو پھر مسکین نے مالدار کو ہدیہ کردیا ہو ۔
Narrated Ata ibn Yasar: The Prophet ﷺ said: Sadaqah may not be given to rich man, with the exception of five classes: One who fights in Allahs path, or who collects it, or a debtor, or a man who buys it with his money, or a man who has a poor neighbour who has been given sadaqah and gives a present to the rich man.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٧ (١٨٤١)، ( تحفة الأشراف: ٤١٧٧، ١٩٠٩٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ١٧(٢٩)، مسند احمد (٣/٤، ٣١، ٤٠، ٥٦، ٩٧) (صحیح) (اگلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ یہ روایت مرسل ہے )