بنی ہاشم کے لئے صدقہ لینا جائز نہیں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ كُرَيْبٍمَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ مِنَ الصَّدَقَةِ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے نبی اکرم ﷺ کے پاس اس اونٹ کے سلسلہ میں بھیجا جو آپ ﷺ نے انہیں صدقے میں سے دیا تھا ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : My father sent me to the Prophet ﷺ to take the camels which he had given him from among those of sadaqah.
Notes · وضاحت
١ ؎: عباس ؓ بنی ہاشم میں سے ہیں اور بنی ہاشم کے لئے صدقہ جائز نہیں، اسی وجہ سے خطابی نے یہ تاویل کی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس ؓ سے یہ اونٹ بطور قرض لیا ہو، پھر جب آپ ﷺ کے پاس صدقہ کے اونٹ آگئے ہوں تو آپ ﷺ نے اسی قرض کو صدقہ کے اونٹ سے واپس کیا ہو، اور بیہقی نے ایک تاویل یہ بھی کی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ بنی ہاشم پر صدقہ حرام ہونے سے پہلے کی بات ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٦٣٤٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ قیام اللیل ٢٧ (١٣٣٩)، مسند احمد (١/٣٦٤) (صحیح )