Sunan Abu Dawood 1685

کتاب الزکوٰة

1685Sunan Abu Dawood

عورت کا اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُ مَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُ مَا اكْتَسَبَ وَلِخَازِنِهِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے کسی فساد کی نیت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور مال کمانے کا ثواب اس کے شوہر کو اور خازن کو بھی اسی کے مثل ثواب ملے گا اور ان میں سے کوئی کسی کے ثواب کو کم نہیں کرے گا ۔

Aishah reported The Messenger of Allah ﷺ as saying When a woman gives (some of the property) from her husband’s house, not wasting it, she will have her reward for what she has spent, and her husband will have his for what he earned. The said applies to a trustee. In no respect does the one diminish the reward of the other.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١٧ (١٤٢٥)، ٢٥ (١٤٣٧)، ٢٦ (١٤٤٠)، والبیوع ١٢ (٢٠٦٥)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٥ (١٠٢٤)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٤ (٦٧٢)، سنن النسائی/الزکاة ٥٧ (٢٥٤٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٥ (٢٢٩٤)، ( تحفة الأشراف: ١٧٦٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٤، ٩٩، ٢٧٨) (صحیح )