Sunan Abu Dawood 1699

کتاب الزکوٰة

1699Sunan Abu Dawood

حرص اور بخل کی مذمت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ بَيْتَهُ أَفَأُعْطِي مِنْهُ، قَالَ: أَعْطِي وَلَا تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ.

اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے اس کے کچھ نہیں جو زبیر میرے لیے گھر میں لا دیں، کیا میں اس میں سے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو اور اسے بند کر کے نہ رکھو کہ تمہارا رزق بھی بند کر کے رکھ دیا جائے ۔

Asma, daughter of Abu Bakr, said: I said: Messenger of Allah ﷺ , I have nothing of my own except what al-Zubair (her husband) brings to me in his house: should I spend out of it? He said: Give and do not hoard so your sustenance will be hoarded.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البروالصلة ٤٠ (١٩٦٠)، سنن النسائی/الزکاة ٦٢ (٢٥٥١، ٢٥٥٢)، ( تحفة الأشراف: ١٥٧١٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٢١ (١٤٣٣)، ٢٢ (١٤٣٤)، والھبة ١٥ (٢٥٩٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٨ (١٠٢٩)، مسند احمد (٦/١٣٩، ٣٤٤، ٣٥٣، ٣٥٤) (صحیح )