حرص اور بخل کی مذمت
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ بَيْتَهُ أَفَأُعْطِي مِنْهُ، قَالَ: أَعْطِي وَلَا تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ.
اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے اس کے کچھ نہیں جو زبیر میرے لیے گھر میں لا دیں، کیا میں اس میں سے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو اور اسے بند کر کے نہ رکھو کہ تمہارا رزق بھی بند کر کے رکھ دیا جائے ۔
Asma, daughter of Abu Bakr, said: I said: Messenger of Allah ﷺ , I have nothing of my own except what al-Zubair (her husband) brings to me in his house: should I spend out of it? He said: Give and do not hoard so your sustenance will be hoarded.