جنازوں کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 18 · 152 hadiths · Page 8 of 8

3230Sunan Abu Dawood

قبر ستان میں جوتا پہن کر جانا

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ السَّدُوسِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ بَشِيرٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ، فَهَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا اسْمُكَ ؟، قَالَ: زَحْمٌ، قَالَ: بَلْ أَنْتَ بَشِيرٌ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا، ثَلَاثًا، ثُمَّ مَرَّ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا، وَحَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةٌ، فَإِذَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي الْقُبُورِ عَلَيْهِ نَعْلَانِ، فَقَالَ: يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ، وَيْحَكَ، أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ، فَنَظَرَ الرَّجُلُ، فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَلَعَهُمَا، فَرَمَى بِهِمَا.

رسول اللہ ﷺ کے غلام بشیر ؓ (جن کا نام زمانہ جاہلیت میں زحم بن معبد تھا وہ ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: تمہارا کیا نام ہے؟ ، انہوں نے کہا: زحم، آپ ﷺ نے فرمایا: زحم نہیں بلکہ تم بشیر ہو کہتے ہیں: اسی اثناء میں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ کا گزر مشرکین کی قبروں پر سے ہوا، آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: یہ لوگ خیر کثیر (دین اسلام) سے پہلے گزر (مر) گئے ، پھر آپ ﷺ مسلمانوں کی قبروں پر سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے خیر کثیر (بہت زیادہ بھلائی) حاصل کی اچانک آپ ﷺ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو جوتے پہنے قبروں کے درمیان چل رہا تھا آپ ﷺ نے فرمایا: اے جوتیوں والے! تجھ پر افسوس ہے، اپنی جوتیاں اتار دے اس آدمی نے (نظر اٹھا کر) دیکھا اور رسول اللہ ﷺ کو پہچانتے ہی انہیں اتار پھینکا۔

Narrated Bashir, the Client of the Messenger of Allah: Bashirs name in pre-Islamic days was Zahm ibn Mabad. When he migrated to the Messenger of Allah ﷺ . He asked: What is your name? He replied: Zahm. He said: No, you are Bashir. He (Bashir) said: When I was walking with the Messenger of Allah ﷺ he passed by the graves of the polytheists. He said: They lived before (a period of) abundant good. He said this three times. He then passed by the graves of Muslims. He said: They received abundant good. The Messenger of Allah ﷺ suddenly saw a man walking in shoes between the graves. He said: O man, wearing the shoes! Woe to thee! Take off thy shoes. So the man looked (round), When he recognized the Messenger of Allah ﷺ , he took them off and threw them away.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ١٠٧ (٢٠٥٠)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٦ (١٥٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٣، ٨٤، ٢٢٤) (حسن )
3231Sunan Abu Dawood

قبر ستان میں جوتا پہن کر جانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيد، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ.

انس ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب بندہ اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹنے لگتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے ۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ as saying: When a servant (of Allah) is placed in his grave, and his Companions depart from him, he hears the stepping sound of their shoes.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٦٧ (١٣٣٨)، ٨٦ (١٣٧٣)، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧٠)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٨ (٢٠٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٦، ٢٣٣)، ویأتی ہذا الحدیث فی السنة (٤٧٥١، ٥٧٥٢) (صحیح )
3232Sunan Abu Dawood

کسی ضرورت کی بنا پر میت کو قبر سے نکالا جا سکتا ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ، فَكَانَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَاجَةٌ، فَأَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَمَا أَنْكَرْتُ مِنْهُ شَيْئًا، إِلَّا شُعَيْرَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ.

جابر ؓ کہتے ہیں میرے والد کے ساتھ ایک اور شخص کو دفن کیا گیا تھا تو میری یہ دلی تمنا تھی کہ میں ان کو الگ دفن کروں گا تو میں نے چھ مہینے بعد ان کو نکالا تو ان کی داڑھی کے چند بالوں کے سوا جو زمین سے لگے ہوئے تھے میں نے ان میں کوئی تبدیلی نہیں پائی۔

Narrated Jabir: A man was buried with my father. I had a desire at heart for that (place for my burial). So I took him out after six months. I did not find any change (in his body) except a few hair that touched the earth.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣١١٠) (صحیح الإسناد )
3233Sunan Abu Dawood

میت کی تعریف بیان کرنا

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَى، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ شُهَدَاءُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی خوبیاں بیان کیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: وجبت جنت اس کا حق بن گئی پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: وجبت دوزخ اس کے گلے پڑگئی پھر فرمایا: تم میں سے ہر ایک دوسرے پر گواہ ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : People with a bier passed by the Messenger of Allah ﷺ . They (the companions) spoke highly of him. He said: Paradise is certain for him. Then some people with another (bier) passed by him. They spoke very badly of him. He said: Hell is certain for him. He then said: Some of you are witness to others.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٥٠ (١٩٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٣٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٠ (١٤٩١)، مسند احمد (٢/٢٦١، ٤٦٦، ٤٧٠، ٤٩٩، ٥٢٨) (صحیح )
3234Sunan Abu Dawood

قبروں کی زیارت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيَسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي تَعَالَى عَلَى أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَاسْتَأْذَنْتُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا، فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ بِالْمَوْتِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو (بھی) رلا دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی مغفرت طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت چاہی تو مجھے اس کی اجازت دے دی گئی، تو تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ visited his mothers grave and wept and cause those around him to weep. The Messenger of Allah ﷺ then said: I asked my Lords permission to pray for forgiveness for her, but I was not allowed. I then asked His permission to visit her grave, and I was allowed. So visit graves, for they make one mindful of death.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٦)، سنن النسائی/الجنائز ١٠١ (٢٠٣٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٨ (١٥٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤١) (صحیح )
3235Sunan Abu Dawood

قبروں کی زیارت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روکا تھا سو اب زیارت کرو کیونکہ ان کی زیارت میں موت کی یاددہانی ہے ۔

Narrated Buraidah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: I forbade you to visit graves, but you may now visit them, for in visiting them there is a reminder (of death).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٧)، والأضاحي ٥ (١٩٧٧)، والأشربة ٦ (١٩٩٩)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٠ (٢٠٣٤)، الأضاحي ٣٦ (٤٤٤١)، الأشربة ٤٠ (٥٦٥٤، ٥٦٥٥، ٥٦٥٦، ٥٥٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٠٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٠، ٣٥٥، ٣٥٦، ٣٥٧، ٣٦١) (صحیح )
3236Sunan Abu Dawood

عورتوں کا قبروں کی زیارت کرنا ممنوع ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور قبروں پر مسجدیں بنانے والوں اور اس پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ cursed women who visit graves, those who built mosques over them and erected lamps (there).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٢٢ (٣٢٠)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٤ (٢٠٤٥)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٩ (١٥٧٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٩، ٢٨٧، ٣٢٤، ٣٣٧) (ضعیف) (اس کے راوی ابو صالح باذام ضعیف ہیں لیکن اس میں صرف چراغ جلانے والی بات ضعیف ہے، بقیہ دو باتوں کے صحیح شواہد موجود ہیں )
3237Sunan Abu Dawood

جب قبروں پر سے گذرے تو کیا کہے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان گئے تو فرمایا: السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بکم لاحقون سلامتی ہو تم پر اے مومن قوم کی بستی والو! ہم بھی انشاء اللہ آ کر آپ لوگوں سے ملنے والے ہیں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ went out to the graveyard and said: Peace be upon you, inhabitants of the dwellings who are of the community of the believers. If Allah wills we shall join you.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٢ (٢٤٩)، سنن النسائی/الطھارة ١١٠ (١٥٠)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٦ (٤٣٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٨٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة ٦ (٢٨)، مسند احمد (٢/٣٠٠، ٤٠٨) (صحیح )
3238Sunan Abu Dawood

جو شخص حالت احرام میں انتقال کر جائے اس کی تجہیز وتکفین کس طرح ہوگی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ، وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ، فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ: كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: خَمْسُ سُنَنٍ كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، أَيْ يُكَفَّنُ الْمَيِّتُ فِي ثَوْبَيْنِ وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، أَيْ إِنَّ فِي الْغَسَلَاتِ كُلِّهَا سِدْرًا، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، وَكَانَ الْكَفَنُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جسے اس کی سواری نے گردن توڑ کر ہلاک کردیا تھا، وہ حالت احرام میں تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اس کے دونوں کپڑوں (تہبند اور چادر) ہی میں دفناؤ، اور پانی اور بیری کے پتے سے اسے غسل دو، اس کا سر مت ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ اس حدیث میں پانچ سنتیں ہیں: ١۔ ایک یہ کہ اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفناؤ یعنی احرام کی حالت میں جو مرے اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے گا۔ ٢۔ دوسرے یہ کہ اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو یعنی ہر غسل میں بیری کا پتہ رہے۔ ٣۔ تیسرے یہ کہ اس (محرم) کا سر نہ ڈھانپو۔ ٤۔ چوتھے یہ کہ اسے کوئی خوشبو نہ لگاؤ۔ ٥۔ پانچویں یہ کہ پورا کفن میت کے مال سے ہو ١ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : To the Messenger of Allah ﷺ was brought man wearing ihram who was thrown by his she-camel and has his neck broken and had died. He then said: Shroud him in his two garments, was him with water and lotus leaves, but do not cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection saying the talbiyah. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: There are five rules of the law (sunan) in this tradition: Shroud him in his two garment, that is, the dead should be shrouded in his two garments. Wash him with water and lotus leaves, that is, washing all times should be with lotus leaves. Do not bring any perfume near him. The shroud will be made from the property (of the dead).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قرض کی ادائیگی ثلث وصیت کی تنفیذ، اور وراثت کی تقسیم کفن دفن کے بعد بچے ہوئے مال سے ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ١٩ (١٢٦٥)، ٢١ (١٢٦٧)، جزاء الصید ٢٠ (١٨٤٩)، ٢١ (١٨٥٠)، صحیح مسلم/الحج ١٤ (١٢٠٦)، سنن الترمذی/الحج ١٠٥ (٩٥١)، سنن النسائی/الجنائز ٤١ (١٩٠٥)، المناسک ٤٧ (٢٧١٤)، ٩٧ (٢٨٥٦)، ١٠١ (٢٨٦١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٩ (٣٠٨٤)، (تحفة الأشراف: ٥٥٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٦٦، ٢٨٦)، سنن الدارمی/المناسک ٣٥ (١٨٩٤) (صحیح )
3239Sunan Abu Dawood

جو شخص حالت احرام میں انتقال کر جائے اس کی تجہیز وتکفین کس طرح ہوگی

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، وَأَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ، قَالَ: وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ أَيُّوبُ: ثَوْبَيْهِ، وَقَالَ عَمْرٌو: ثَوْبَيْنِ، وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: قَالَ أَيُّوبُ: فِي ثَوْبَيْنِ، وَقَالَ عَمْرٌو: فِي ثَوْبَيْهِ، زَادَ سُلَيْمَانُ وَحْدَهُ: وَلَا تُحَنِّطُوهُ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ اسے دو کپڑوں میں کفناؤ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلیمان نے کہا ہے کہ ایوب کی روایت میں ثوبين کے بجائے ثوبيه (اسی کے دونوں کپڑے میں) ہے اور عمرو نے ثوبين کا لفظ نقل کیا ہے۔ ابو عبید نے کہا کہ ایوب نے في ثوبين اور عمرو نے في ثوبيه کہا ہے، اور تنہا سلیمان نے ولا تحنطوه (اسے خوشبو نہ لگاؤ) کا اضافہ کیا ہے۔

A similar tradition has also been narrated by Ibn Abbas through a different chain of narrators. This version has: Shroud him in two garments. Abu Dawud said: The narrator Sulaiman said the Ayyub said: his two garments, Amr said: tow garments, Ibn Ubaid said that Ayyub said: in two garments and Amr said: in his two garments. Sulaiman alone added: do not put any perfume on him.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٣٧، ٥٥٨٢) (صحیح )
3240Sunan Abu Dawood

جو شخص حالت احرام میں انتقال کر جائے اس کی تجہیز وتکفین کس طرح ہوگی

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ، بِمَعْنَى سُلَيْمَانَ: فِي ثَوْبَيْنِ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے سلیمان کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں في ثوبين ہے۔

A similar tradition has also been narrated by Ibn Abbas through a different chain of transmitters to the effect as narrated by Sulaiman saying: in two garments.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ٥٥٨٢) (صحیح )
3241Sunan Abu Dawood

جو شخص حالت احرام میں انتقال کر جائے اس کی تجہیز وتکفین کس طرح ہوگی

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ، فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں ایک محرم کو اس کی اونٹنی نے گردن توڑ کر ہلاک کردیا، اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے غسل دو اور کفن پہناؤ (لیکن) اس کا سر نہ ڈھانپو اور اسے خوشبو سے دور رکھو کیونکہ وہ لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : A man wearing ihram was thrown by his she-camel and had his neck broken and he died. He was brought to the Messenger of Allah ﷺ , and he said: Wash and shroud him, but do not cover his head and do not put any perfume on him, for he will be raised on the Day of Resurrection saying the talbiyah.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ٥٤٩٧) (صحیح )
3101Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاهُ رَجُلٌ فِي الْأَكْحَلِ، فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ، فَيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ .

جب جنگ خندق کے دن سعد بن معاذ ؓ زخمی ہوئے ان کے بازو میں ایک شخص نے تیر مارا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ نصب کر دیا تاکہ آپ ﷺ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔

Narrated Aishah: When Saad bin Muadh suffered affliction on the day of Trench (i. e. the battle of Trench) a man shot an arrow in the vein of his hand. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم pitched a tent for him the mosque so that he might visit him from near.