ابومرحب سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نبی اکرم ﷺ کی قبر میں اترے تھے وہ کہتے ہیں: مجھے ایسا لگ رہا ہے گویا کہ میں ان چاروں (علی، فضل بن عباس، اسامہ، اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ) کو دیکھ رہا ہوں۔
Narrated Abu Marhab (RA) : That Abdur-Rahman bin Awf alighted in the grave of the Prophet ﷺ . He said: I still seem to see the four of them.
ابواسحاق کہتے ہیں کہ حارث نے وصیت کی کہ ان کی نماز (نماز جنازہ) عبداللہ بن یزید ؓ پڑھائیں، تو انہوں نے ان کی نماز پڑھائی اور انہیں قبر میں پاؤں کی طرف سے داخل کیا اور کہا: یہ مسنون طریقہ ہے۔
Abu Ishaq said: Al-Harith left his will that Abdullah ibn Yazid should offer his funeral prayer; so he prayed over him. He then put him in the grave from the side of his legs and said: This is a Sunnah (model practice of the Prophet).
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے میں نکلے، قبر پر پہنچے تو ابھی قبر کی بغل کھدی ہوئی نہ تھی، تو نبی اکرم ﷺ قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھے۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: We went out with the Messenger of Allah ﷺ to the funeral of a man of the Ansar, but when we reached the grave, the niche in the side had not yet been made, so the Prophet ﷺ sat down facing the qiblah, and we sat down along with him.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٨١ (٢٠٠٣)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٧ (١٥٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٧، ٢٩٥، ٢٩٧، ٢٩٦) ویأتی ہذا الحدیث فی السنة (٤٧٥٣، ٤٧٥٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب میت کو قبر میں رکھتے تو: بسم الله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم کہتے تھے، یہ الفاظ مسلم بن ابراہیم کے ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : When the Prophet ﷺ placed the dead in the grave, he said: In the name of Allah, and following the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ . This is Muslims version.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٦٦٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٥٤ (١٠٤٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٨ (١٥٥٠)، مسند احمد (٢/٢٧، ٤٠، ٥٩، ٦٩، ١٢٧) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا مرگیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اور اپنے باپ کو گاڑ کر آؤ، اور میرے پاس واپس آنے تک بیچ میں اور کچھ نہ کرنا ، تو میں گیا، اور انہیں مٹی میں دفنا کر آپ کے پاس آگیا، آپ ﷺ نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا تو میں نے غسل کیا، آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: I said to the Prophet ﷺ : Your old and astray uncle has died. He said: Go and bury your father, and then do not do anything until you come to me. So I went, buried him and came to him. He ordered me (to take a bath), so I took a bath, and he prayed for me.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٨٤ (٢٠٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٧، ١٣١) (صحیح )
ہشام بن عامر ؓ کہتے ہیں غزوہ احد کے دن انصار رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم زخمی اور تھکے ہوئے ہیں آپ ہمیں کیسی قبر کھودنے کا حکم دیتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کشادہ قبر کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمی رکھو ، پوچھا گیا: آگے کسے رکھیں؟ فرمایا: جسے قرآن زیادہ یاد ہو ۔ ہشام ؓ کہتے ہیں: میرے والد عامر ؓ بھی اسی دن شہید ہوئے اور دو یا ایک آدمی کے ساتھ دفن ہوئے۔
Narrated Hisham ibn Amir: The Ansar came to the Messenger of Allah ﷺ on the day of Uhud and said: We have been afflicted with wound and fatigue. What do you command us? He said: Dig graves, make them wide, bury two or three in a single grave. He was asked: Which of them should be put first? He replied: The one who knew the Quran most. He (Hisham) said: My father Amir died on the day and was buried with two or one.
اس سند سے بھی حمید بن ہلال سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں اتنا زیادہ ہے کہ: خوب گہری کھودو ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Humaid bin Hilal with a different chain of transmitters and to the same effect. This version adds: And deepen (the graves).
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٣١، ١٨٦٧٦) (صحیح )
ابوہیاج حیان بن حصین اسدی کہتے ہیں مجھے علی ؓ نے بھیجا اور کہا کہ میں تمہیں اس کام پر بھیجتا ہوں جس پر مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا، وہ یہ کہ میں کسی اونچی قبر کو برابر کئے بغیر نہ چھوڑوں، اور کسی مجسمے کو ڈھائے بغیر نہ رہوں ١ ؎۔
Narrated Abu Hayyaj al-Asadi: Ali said to me: I am sending you on the same mission as the Messenger of Allah ﷺ sent me that I should not leave a high grave without leveling it and an image without obliterating it.
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد کسی ذی روح کا مجسمہ ہے، اس روایت سے قبر کو اونچا کرنے یا اس پر عمارت بنانے کی ممانعت نکلتی ہے۔
ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں ہم سر زمین روم میں رودس ١ ؎ میں فضالہ بن عبید ؓ کے ساتھ تھے، وہاں ہمارا ایک ساتھی انتقال کر گیا تو فضالہ ؓ نے ہمیں اس کی قبر کھودنے کا حکم دیا، پھر وہ (دفن کے بعد) برابر کردی گئی، پھر انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ اسے برابر کردینے کا حکم دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رودس سمندر کے اندر ایک جزیرہ ہے۔
Narrated Abu Ali al-Hamdani (RA) : We were with Fudalah bin Ubaid at Rudis in the land of Rome. One of our Companions dies, Fudalah commanded us to dig his grave; it was (dug and) levelled. He then said: I heard the Messenger of Allah ﷺ commanding to level them. Abu Dawud said: Rudis is an island, in the sea.
Notes · وضاحت
١ ؎: اسکندریہ کے سامنے ایک جزیرہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣١ (٩٦٨)، سنن النسائی/الجنائز ٩٩ (٢٠٣٢)، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٨، ٢١) (صحیح )
قاسم کہتے ہیں میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اماں! نبی اکرم ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی قبریں میرے لیے کھول دیجئیے (میں ان کا دیدار کروں گا) تو انہوں نے میرے لیے تینوں قبریں کھول دیں، وہ قبریں نہ بہت بلند تھیں اور نہ ہی بالکل پست، زمین سے ملی ہوئی (بالشت بالشت بھر بلند تھیں) اور مدینہ کے اردگرد کے میدان کی سرخ کنکریاں ان پر بچھی ہوئی تھیں۔ ابوعلی کہتے ہیں: کہا جاتا ہے رسول اللہ ﷺ آگے ہیں، اور ابوبکر ؓ آپ کے سر مبارک کے پاس ہیں، اور عمر ؓ آپ کے قدموں کے پاس، عمر ؓ کا سر رسول اللہ ﷺ کے مبارک قدموں کے پاس ہے۔
Narrated Al-Qasim ibn Muhammad ibn Abu Bakr (RA) : I said to Aisha (RA) ! Mother, show me the grave of the Messenger of Allah ﷺ and his two Companions (Allah be pleased with them). She showed me three graves which were neither high nor low, but were spread with soft red pebbles in an open space. Abu Ali said: It is said that the Messenger of Allah ﷺ is forward, Abu Bakr is near his hed and Umar is near is feet. His head is at the feet of the Messenger of Allah ﷺ .
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٥٤٦) (ضعیف) (اس کے راوی عمرو بن عثمان مجہول الحال ہیں )
عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ دیر رکتے اور فرماتے: اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا مانگو، اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو، کیونکہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بحیر سے بحیر بن ریسان مراد ہیں۔
Narrated Uthman ibn Affan (RA) : Whenever the Prophet ﷺ became free from burying the dead, he used to stay at him (i. e. his grave) and say: Seek forgiveness for your brother, and beg steadfastness for him, for he will be questioned now. Abu Dawud said: The full name of the narrator Buhair is Buhair bin Raisan.
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام میں عقر نہیں ہے ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: لوگ زمانہ جاہلیت میں قبر کے پاس جا کر گائے بکری وغیرہ ذبح کیا کرتے تھے ١ ؎۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: There is no slaughtering (at the grave) in Islam. Abd al-Razzaq said: They used to slaughter cows or sheep at grave.
Notes · وضاحت
١ ؎: قبر کے پاس گائے بکری وغیرہ ذبح کرنا یہی عقر ہے، اسلام میں اس سے ممانعت ہوگئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩٧) (صحیح )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مدینہ سے نکلے اور اہل احد پر اپنے جنازے کی نماز کی طرح نماز پڑھی، پھر لوٹے۔
Narrated Uqbah bin Amir: One day the Messenger of Allah ﷺ went out and prayed over the martyrs of Uhud like his prayer over the dead, and then returned.
اس سند سے بھی یزید بن حبیب سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے شہداء احد پر آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھی، یہ ایسی نماز تھی جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو وداع کرتے ہوئے پڑھے (درد و سوز میں ڈوبی ہوئی) ١ ؎۔
Narrated Yazid bin Habib: The Prophet ﷺ prayed over the martyrs of Uhud after eight years like a man who bids farewell to the living and dead.
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا یہ آخر دعاء تھی اس لئے کہ غزوہ احد ٣ ہجری میں ہوا، اور اس کے آٹھ برس بعد آپ ﷺ کی وفات ہوئی ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو قبر پر بیٹھنے ١ ؎، اسے پختہ بنانے، اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرماتے سنا ہے ٢ ؎۔
Narrated Jabir: I heard the Prophet ﷺ forbid to sit on the grave, to plaster it with gypsum, and to build any structure over it.
Notes · وضاحت
١ ؎: قبر پر بیٹھنے سے مراد حاجت کے لئے بیٹھنا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مطلق بیٹھنا مراد ہے کیونکہ اس میں صاحب قبر کا استخفاف ہے۔ ٢ ؎: قبر پر بیٹھنے سے صاحب قبر کی توہین ہوتی ہے اور قبر کو مزین کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے اگر ایک طرف فضول خرچی ہے تو دوسری جانب اس سے لوگوں کا شرک میں مبتلا ہونے کا خوف ہے، کیونکہ قبروں پر بنائے گئے قبے اور مشاہد شرک کے مظاہر و علامات میں سے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٢ (٩٧٠)، سنن الترمذی/الجنائز ٥٨ (١٠٥٢)، سنن النسائی/الجنائز ٩٦ (٢٠٢٩)، (تحفة الأشراف: ٢٢٧٤، ٢٧٩٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٣ (١٥٦٢)، مسند احمد (٣/٢٩٥، ٣٣٢، ٣٩٩) (صحیح )
اس سند سے بھی جابر ؓ سے یہی حدیث مروی ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی زیادتی کرنے سے (بھی منع فرماتے تھے) ۔ سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ہے: یا اس پر کچھ لکھنے سے ١ ؎ مسدد نے اپنی روایت میں: أو يزاد عليه کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی روایت میں مجھے حرف وأن کا پتہ نہ لگا۔
The tradition mentioned above has also been narrated by Jabir through a different chain of transmitters. Abu Dawud said: Uthman said: or anything added to it. Sulaiman bin Musa said: or anything written on it. Musaddad did not mention in his version the words or anything added to it. Abu Dawud said: The word and that (wa an) remained hidden to me.
Notes · وضاحت
١ ؎: قبر پر لکھنے سے مراد وہ کتبہ ہے، جو بعض لوگ قبر پر لگاتے ہیں، اور جس میں میت کے اوصاف اور تاریخ وفات درج کئے جاتے ہیں، اور بعض لوگوں نے کہا کہ مراد اللہ یا رسول اللہ ﷺ کا نام لکھنا ہے یا قرآن مجید کی آیتیں وغیرہ لکھنا ہے، کیونکہ بسا اوقات کوئی جانور اس پر پاخانہ یا پیشاب وغیرہ کردیتے ہیں جس سے ان چیزوں کا استخفاف لازم آتا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کا آگ کے شعلہ پر بیٹھنا، اور اس سے کپڑے کو جلا کر آگ کا اس کے جسم کی کھال تک پہنچ جانا اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ قبر پر بیٹھے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: It is better that one of you should sit on the live coals which burns his clothing and come in contact with his skin than that he should sit on a grave.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٦٣٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز ٣٣ (٩٧١)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٥ (٢٠٤٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٥ (١٥٦٦)، مسند احمد (٢/٣١١، ٣٨٩، ٤٤٤، ٥٢٨) (صحیح )