Sunan Abu Dawood 3218

جنازوں کا بیان

3218Sunan Abu Dawood

قبر کو برابر کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي هَيَّاجٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: بَعَثَنِي عَلِيٌّ، قَالَ لِي: أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! أَنْ لَا أَدَعَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ، وَلَا تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتُهُ.

ابوہیاج حیان بن حصین اسدی کہتے ہیں مجھے علی ؓ نے بھیجا اور کہا کہ میں تمہیں اس کام پر بھیجتا ہوں جس پر مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا، وہ یہ کہ میں کسی اونچی قبر کو برابر کئے بغیر نہ چھوڑوں، اور کسی مجسمے کو ڈھائے بغیر نہ رہوں ١ ؎۔

Narrated Abu Hayyaj al-Asadi: Ali said to me: I am sending you on the same mission as the Messenger of Allah ﷺ sent me that I should not leave a high grave without leveling it and an image without obliterating it.

Notes · وضاحت
١ ؎: مراد کسی ذی روح کا مجسمہ ہے، اس روایت سے قبر کو اونچا کرنے یا اس پر عمارت بنانے کی ممانعت نکلتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣١ (٩٦٩)، سنن الترمذی/الجنائز ٥٦ (١٠٤٩)، سنن النسائی/الجنائز ٩٩ (٢٠٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٨٣) وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٦، ٨٩، ١١١، ١٢٨) (صحیح )