قبر کے پاس ذبح کرنے کی ممانعت
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: كَانُوا يَعْقِرُونَ عِنْدَ الْقَبْرِ بَقَرَةً أَوْ شَاةً.
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام میں عقر نہیں ہے ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: لوگ زمانہ جاہلیت میں قبر کے پاس جا کر گائے بکری وغیرہ ذبح کیا کرتے تھے ١ ؎۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: There is no slaughtering (at the grave) in Islam. Abd al-Razzaq said: They used to slaughter cows or sheep at grave.
Notes · وضاحت
١ ؎: قبر کے پاس گائے بکری وغیرہ ذبح کرنا یہی عقر ہے، اسلام میں اس سے ممانعت ہوگئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩٧) (صحیح )