ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ زور دے کر قسم کھاتے تو فرماتے: والذي نفس أبي القاسم بيده قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ swore an oath strongly, he said: No, by Him in Whose hand is the soul of Abul Qasim.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٠٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦، ٦٦) (ضعیف) (اس کے راوی عکرمہ صدوق ہیں، لیکن غلطی کرتے ہیں، اور عاصم بن شمیخ کی صرف عجلی نے توثیق کی ہے، عجلی توثیق رواة میں متساہل ہیں )
عاصم بن لقیط کہتے ہیں کہ لقیط بن عامر ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک وفد لے کر گئے، لقیط ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے تمہارے معبود کی ۔
Narrated Laqit ibn Amir: We came to the Messenger of Allah ﷺ in a delegation. The Prophet ﷺ then said: By the age of thy god.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١١٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢) (ضعیف) (اس کے راوی اسود اور ان کے والد عبد اللہ دونوں لین الحدیث ہیں )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم اللہ کی میں کسی بات کی قسم کھا لوں اور پھر بھلائی اس کے خلاف میں دیکھوں تو انشاء اللہ میں اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا اور اسے اختیار کرلوں گا جس میں بھلائی ہوگی یا کہا: میں اسے اختیار کرلوں گا جس میں بھلائی ہوگی اور اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا ۔
Narrated Abu Burdah (RA) : On the authority of his father that the Prophet ﷺ said: I swear by Allah that if Allah wills I shall swear on an oath and then consider something else to be better than it without making atonement for my oath and doing the thing that is better. Or he said (according to another version): But doing the thing that is better and making atonement for my oath.
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عبدالرحمٰن بن سمرہ! جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر اس کے بجائے دوسری چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو اسے اختیار کرلو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے سنا ہے وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کو جائز سمجھتے تھے۔
Narrated Abdur-Rahman bin Samurah (RA) : The Prophet ﷺ said to me: Abdur-Rahman bin Samurah, when you swear an oath and consider something else to be better than it, do the thing that is beter and make atonement for your oath. Abu Dawud said: I heard Ahmad (b. Hanbal) permitting to make atonement before breaking the oath.
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ سے اسی طرح مروی ہے اس میں ہے: تو قسم کا کفارہ ادا کرو پھر اس چیز کو اختیار کرو جو بہتر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوموسی اشعری، عدی بن حاتم اور ابوہریرہ ؓ کی روایات جو اس موضوع سے متعلق ہیں ان میں بعض میں الکفارة قبل الحنث ہے اور بعض میں الحنث قبل الکفارة ہے۔
A similar tradition has been transmitted by Abdur-Rahman bin Samurah through a different chain if narrators. This version has: Make atonement for your oath and then do the thing that is better. Abu Dawud said: The version of this tradition transmitted by Abu Musa al-Ashari, Adi bin Hatim and Abu Hurairah are variant. Some of them indicate breaking the oath before making atonement, and other making atonement before breaking the oath.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے، پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا، ابوبکر ؓ نے اس کی تعبیر بتائی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے کچھ تعبیر درست بیان کی ہے اور کچھ میں تم غلطی کر گئے ہو ابوبکر ؓ نے کہا: قسم ہے آپ پر اے اللہ کے رسول! میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہمیں ضرور بتائیں میں نے کیا غلطی کی ہے؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: قسم مت دلاؤ ۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : Abu Hurairah narrated that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: I had a dream last night, and he then mentioned it. So Abu Bakr interpreted it. The Prophet ﷺ said: You are partly right and partly wrong. He then said: I adjure you, Messenger of Allah, may my father be sacrificed on you, do tell me the mistake I have committed. The Prophet ﷺ said: Do not adjure.
عبداللہ بن عباس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں انہوں نے قسم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ ﷺ نے انہیں (تعبیر کی غلطی) نہیں بتائی ١ ؎۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Abbas through a different chain of narrators. In this version there is no mention of the word qasam (oath). It has the words: He did not inform him.
Notes · وضاحت
١ ؎: ممکن ہے تعبیر کی غلطی نہ بتانے میں کوئی مصلحت رہی ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٨) (ضعیف) (یہ سند سلیمان بن کثیر کی وجہ سے ضعیف ہے، وہ زہری سے روایت میں ضعیف ہیں لیکن پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے مدعی سے گواہ طلب کیا، اس کے پاس گواہ نہ تھا تو آپ ﷺ نے مدعی علیہ سے قسم کھانے کے لیے کہا، اس نے اس اللہ کی قسم کھائی جس کے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں، تم نے کیا ہے (یعنی جس کام کے نہ کرنے پر تم نے قسم کھائی ہے اسے کیا ہے) لیکن تمہارے اخلاص کے ساتھ لا إله إلا الله کہنے کی وجہ سے اللہ نے تجھے بخش دیا ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ آپ ﷺ نے اسے کفارہ کا حکم نہیں دیا ٢ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Two men brought their dispute to the Prophet ﷺ . The Prophet ﷺ asked the plaintiff to produce evidence, but he had no evidence. So he asked the defendant to swear. He swore by Allah There is no god but He. The Messenger of Allah ﷺ said: Yes, you have done it, but you have been forgiven for the sincerity of the statement: There is no god but Allah. Abu Dawud said: This tradition means that he did not command him to make atonement
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ کبائر اخلاص کے ساتھ کلمۂ توحید پڑھنے پر معاف کردیئے جاتے ہیں۔ ٢ ؎: کیونکہ یہ ایسا گناہ ہے جسے کفارہ مٹا نہیں سکتا اس کا کفارہ صرف توبہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے خمس ليس لهن کفارة: الشرک بالله وقتل النفس بغير حق وبهت مؤمن والفرار يوم الزحف ويمين صابرة يقتطع بها مالا بغير حق۔
عبدالرحمٰن بن حرملہ کہتے ہیں کہ ام حبیب بنت ذؤیب بن قیس مزنیہ قبیلہ بنو اسلم کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں پھر وہ ام المؤمنین صفیہ ؓ کے بھتیجے کے نکاح میں آئیں، آپ نے ہم کو ایک صاع ہبہ کیا، اور ہم سے بیان کیا کہ ام المؤمنین صفیہ ؓ کے بھتیجے سے روایت ہے، اور انہوں نے ام المؤمنین صفیہ سے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین کہتی ہیں کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا صاع ہے۔ انس ؓ کہتے ہیں: میں نے اس کو جانچا یا کہا میں نے اس کا اندازہ کیا تو ہشام بن عبدالملک کے مد سے دو مد اور آدھے مد کے برابر پایا ١ ؎۔
Narrated Safiyyah bint Huyayy: Ibn Harmalah said: Umm Habib gave us a sa and told us narration from the nephew of Safiyyah on the authority of Safiyyah that it was the sa of the Prophet ﷺ . Anas ibn Ayyad said: I tested it and found its capacity two and half mudd according to the mudd of Hisham.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک مد دو رطل کا ہوتا ہے تو ایک صاع پانچ رطل کا ہوا یہ صاع حجازی کہلاتا ہے اور صاع عراقی (٨) رطل کا ہوتا ہے یعنی (٤) مد کا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٩٠٣) (ضعیف الإسناد )
محمد بن محمد بن خلاد ابوعمر کا بیان ہے کہ میرے پاس ایک مکوک ١ ؎ تھا اسے مکوک خالد کہا جاتا تھا، وہ ہارون کے کیلجہ (ایک پیمانہ ہے) سے دو کیلجہ کے برابر تھا۔ محمد کہتے ہیں: خالد کا صاع ہشام یعنی ابن عبدالملک کا صاع ہے۔
Narrated Muhammad bin Muhmmad bin Khattab Abu Umar (RA) : We had a makkuk which was called Makkuk Khalid. Its capacity was two measurements according to the measurements of Harun. The narrator said: The sa of Khalid was the sa of Hisham bin Abd al-Malik.
امیہ بن خالد کہتے ہیں جب خالد قسری گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے صاع کو دو چند کردیا تو ایک صاع (١٦) رطل کا ہوگیا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن محمد بن خلاد کو حبشیوں نے سامنے کھڑا کر کے قتل کردیا تھا انہوں نے ہاتھ سے بتایا کہ اس طرح (یہ کہہ کر) ابوداؤد نے اپنا ہاتھ پھیلایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے باطن کو زمین کی طرف کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ان کو خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ انہوں نے کہا: اللہ نے مجھے جنت میں داخل فرما دیا، تو میں نے کہا: پھر تو آپ کو حبشیوں کے سامنے کھڑا کر کے قتل کئے جانے سے کچھ نقصان نہ پہنچا۔
Narrated Umayyah bin Khalid: When Khalid al-Qasri was made ruler (of Hijaz and Kufah), he doubled the measure of sa. The sa then measured sixteen rotls. Abu Dawud said: Muhammad bin Muhammad bin Khattab was slain by Negroes in confinement. He said while signing with his hand: in this way. Abu Dawud extended his hand and turned his palms towards earth and said: I saw him in the dream and asked him: How did Allah deal with you ? He replied: He admitted to Paradise. I said: Your detention did not harm you.
Notes · وضاحت
١ ؎: خالد قسری کا یہ عمل دلیل نہیں ہے، عراقی صاع (٨) رطل کا ہوتا ہے، حجازی نبوی صاع (٥) رطل کا ہوتا ہے۔
معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مارا ہے، تو رسول ﷺ نے اس تھپڑ کو عظیم جانا، تو میں نے عرض کیا: میں کیوں نہ اسے آزاد کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ میں اسے لے کر گیا، آپ ﷺ نے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان کے اوپر، آپ ﷺ نے (پھر) پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے ۔
Narrated Muawiyah bin al-Hakam al-Sulami (RA) : I said: Messenger of Allah, I have a slave girl whom I slapped. This grieved the Messenger of Allah ﷺ . I said to him: Should I not emancipate her? He said: Bring her to me. He said: Then I brought her. He asked: Where is Allah ? She replied: In the heaven. He said: Who am I ? She replied: You are the Messenger of Allah. He said: Emancipate her, she is a believer.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم:(٩٣٠)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٨) (صحیح )
شرید سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کردینے کی وصیت کی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دوں، اور میرے پاس نوبہ (حبش کے پاس ایک ریاست ہے) کی ایک کالی لونڈی ہے۔۔۔ پھر اوپر گزری ہوئی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ خالد بن عبداللہ نے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے، شرید کا ذکر نہیں کیا ہے۔
سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨٣)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢، ٣٨٨، ٣٨٩)، دی/ النذور ١٠ (٢٣٩٣) (حسن صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے، آپ ﷺ نے اس (لونڈی) سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی آسمان کے اوپر ہے) پھر آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ تو اس نے نبی اکرم ﷺ اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی (یہ کہا) آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے (لونڈی لے کر آنے والے شخص سے) کہا: اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man brought the Prophet ﷺ a black slave girl. He said: Messenger of Allah, emancipation of believing slave is due to me. He asked her: Where is Allah ? She pointed to the heaven with her finger. He then asked her: Who am I ? She pointed to the Prophet ﷺ and to the heaven, that is to say: You are the Messenger of Allah. He then said: Set her free, she is a believer.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٣٥٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩١) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی مسعود ی اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، اور یزید بن ہارون نے ان سے اختلاط کے بعد ہی روایت لی ہے لیکن معاویہ سلمی کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے) (الصحیحة: ٣١٦١، تراجع الألباني: ١٠٧ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نذر سے منع فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ نذر تقدیر کے فیصلے کو کچھ بھی نہیں ٹالتی سوائے اس کے کہ اس سے بخیل (کی جیب) سے کچھ نکال لیا جاتا ہے۔ مسدد کی روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نذر کسی چیز کو ٹالتی نہیں ١ ؎۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade to make a vow. He said: It has not effect against fate, it is only from the miserly that it is means by which something is extracted. Musaddad said: The Messenger of Allah ﷺ said: A vow does not avert anything (i. e. has no effect against fate).
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نذر ماننے والے کو اس کی نذر سے کچھ بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ نذر ماننے والے کے حق میں منجانب اللہ جو فیصلہ ہوچکا ہے اس میں اس کی نذر سے ذرہ برابر تبدیلی نہیں آسکتی، اس لئے یہ سوچ کر نذر نہ مانی جائے کہ اس سے مقدر شدہ امر میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ کہتا ہے:) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لاسکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو لیکن نذر اسے اس تقدیر سے ملاتی ہے جسے میں نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، یہ بخیل سے وہ چیز نکال لیتی ہے جسے وہ اس نذر سے پہلے نہیں نکالتا ہے (یعنی اپنی بخالت کے سبب صدقہ خیرات نہیں کرتا ہے مگر نذر کی وجہ سے کر ڈالتا ہے) ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: A vow does not provide for the son of Adam anything which I did not decree for him, but a vow draws it. A Divine decree is one which I have destined, it is extracted from a miser. He is given what he was not given before.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث قدسی ہے اگرچہ نبی اکرم ﷺ نے صراحۃً اسے اللہ کی طرف مرفوع نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٨٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان ٢٦ (٦٦٩٢)، صحیح مسلم/النذر ٢ (١٦٤٠)، سنن الترمذی/النذر ١٠ (١٥٣٨)، سنن النسائی/الأیمان ٢٥ (٣٨٣٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥ (٢١٢٣)، مسند احمد (٢/٢٣٥، ٢٤٢، ٣٠١، ٣١٤، ٤١٢، ٤٦٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت کی نذر مانے تو اللہ کی اطاعت کرے اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone vows to obey Allah, let him obey Him, but if anyone vows to disobey Him, let him not disobey Him.
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا معصیت کی نذر نہیں پوری کی جائے گی کیونکہ یہ غیر مشروع ہے، لیکن کفارہ دیا جائے گا۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران آپ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو دھوپ میں کھڑا تھا آپ نے اس کے متعلق پوچھا، تو لوگوں نے بتایا: یہ ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں، نہ سایہ میں آئے گا، نہ بات کرے گا، اور روزہ رکھے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ بات کرے، سایہ میں آئے اور بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے ۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : While the Prophet ﷺ was preaching a man was standing in the sun. He asked about him. They said: He is Abu Israil who has taken a vow to stand and not to sit, or go into shade, or speak, but to fast. Thereupon he said: Command him to speak, to go into the shade, sit and complete his fast.