Sunan Abu Dawood 3288

قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان

3288Sunan Abu Dawood

نذر ماننے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ، وَأَنَا شَاهِدٌ أَخْبَرَكُمْ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ الْقَدَرَ بِشَيْءٍ لَمْ أَكُنْ قَدَّرْتُهُ لَهُ، وَلَكِنْ يُلْقِيهِ النَّذْرُ الْقَدَرَ قَدَّرْتُهُ، يُسْتَخْرَجُ مِنَ الْبَخِيلِ، يُؤْتِي عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُؤْتِي مِنْ قَبْلُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ کہتا ہے:) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لاسکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو لیکن نذر اسے اس تقدیر سے ملاتی ہے جسے میں نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، یہ بخیل سے وہ چیز نکال لیتی ہے جسے وہ اس نذر سے پہلے نہیں نکالتا ہے (یعنی اپنی بخالت کے سبب صدقہ خیرات نہیں کرتا ہے مگر نذر کی وجہ سے کر ڈالتا ہے) ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: A vow does not provide for the son of Adam anything which I did not decree for him, but a vow draws it. A Divine decree is one which I have destined, it is extracted from a miser. He is given what he was not given before.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث قدسی ہے اگرچہ نبی اکرم ﷺ نے صراحۃً اسے اللہ کی طرف مرفوع نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٨٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان ٢٦ (٦٦٩٢)، صحیح مسلم/النذر ٢ (١٦٤٠)، سنن الترمذی/النذر ١٠ (١٥٣٨)، سنن النسائی/الأیمان ٢٥ (٣٨٣٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥ (٢١٢٣)، مسند احمد (٢/٢٣٥، ٢٤٢، ٣٠١، ٣١٤، ٤١٢، ٤٦٣) (صحیح )