ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: معصیت کی نذر نہیں ہے (یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ as saying: No vow must be taken to do an act of disobedience, and the atonement for it is the same as for an oath. The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Shabbuyah say: Ibn al-Mubarak said about this tradition that Abu Salamah had transmitted it. This indicates that al-Zuhri did not hear it from Abu Salamah. Ahmad bin Muhammad said: This is verified by what Ayyub bin Sulaiman narrated to us. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: I have corrupted this tradition for us. He was asked: Do you think that it is correct that this tradition has been corrupted? Has any person other than Ibn Abi Uwais transmitted it ? He replied: Ayyub was similar to him in respect of reliability, and Ayyub transmitted it.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأیمان ٢ (١٥٢٤)، سنن النسائی/الأیمان ٤٠ (٣٨٦٥-٣٨٦٩)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦ (٢١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٤٧) (صحیح )
اس سند سے بھی ابن شہاب سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں میں نے احمد بن شبویہ کو کہتے سنا: ابن مبارک نے کہا ہے (یعنی اس حدیث کے بارے میں) کہ ابوسلمہ ؓ نے بیان کیا ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ زہری نے اسے ابوسلمہ ؓ سے نہیں سنا ہے۔ احمد بن محمد کہتے ہیں: اس کی تصدیق وہ روایت کر رہی ہے جسے ہم سے ایوب یعنی ابن سلیمان نے بیان کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں نے اس حدیث کو ہم پر فاسد کردیا ہے ان سے پوچھا گیا: کیا آپ کے نزدیک اس حدیث کا فاسد ہونا صحیح ہے؟ اور کیا ابن اویس کے علاوہ کسی اور نے بھی اسے روایت کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایوب یعنی ایوب بن سلیمان بن بلال ان سے قوی و بہتر راوی ہیں اور اسے ایوب نے روایت کیا ہے۔
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت کی نذر نہیں ہے (یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔ احمد بن محمد مروزی کہتے ہیں: اصل حدیث علی بن مبارک کی حدیث ہے جسے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے محمد بن زبیر سے اور محمد نے اپنے والد زبیر سے اور زبیر نے عمران بن حصین ؓ سے اور عمران نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ احمد کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس حدیث میں وہم ہوگیا ہے ان سے زہری نے لے کر اس کو مرسلاً ابوسلمہ ؓ سے انہوں نے عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اوزاعی سے، اوزاعی نے یحییٰ سے، یحییٰ نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے ہم مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: No vow must be taken to do an act of disobedience, and the atonement for it is the same as for an oath. Ahmad bin Muhammad al-Marwazi said: The correct chain of this tradition is: Ali bin al-Mubarak, from Yahya bin Abi Kathir, from Muhammad bin al-Zubair, from his father, on the authority of Imran bin Husain from the Prophet ﷺ Abu Dawud said: By this he (al-Marwazi) means that the narrator Sulaiman bin Arqam had some misunderstanding about this tradition. Al-Zuhri narrated it from him and then transmitted it (omitting his name) from Abu Salamah on the authority of Aisha (RA) . Abu Dawud said: Baqiyyah has transmitted it from al-Auzai from Yahya, from Muhammad bin al-Zubair with a similar chain of Ibn al-Mubarak.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٨٢) (صحیح بما قبلہ) (اس سند میں سلیمان بن ارقم ضعیف راوی ہیں اس لئے پچھلی سند سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
عقبہ بن عامر ؓ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ ننگے پیر اور ننگے سر حج کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے حکم دو کہ اپنا سر ڈھانپ لے اور سواری پر سوار ہو اور (بطور کفارہ) تین دن کے روزے رکھے ۔
Narrated Uqbah ibn Amir: Uqbah consulted the Prophet ﷺ about his sister who took a vow to perform hajj barefooted and bareheaded. So he said: Command her to cover her head and to ride, and to fast three days.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأیمان ١٦ (١٥٤٤)، سنن النسائی/الأیمان ٣٢ (٣٨٤٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢٠ (٢١٣٤) (تحفة الأشراف: ٩٩٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٤٣، ٣/١٤٥، ١٤٧، ١٤٩، ١٥١)، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٧٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبیدا للہ بن زحر سخت ضعیف ہیں اس میں صیام والی بات ضعیف ہے، باقی کے صحیح شواہد موجود ہیں )
عبدالرزاق کہتے ہیں: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے لکھا کہ مجھے بنو ضمرہ کے غلام عبیداللہ بن زحر نے یا کوئی بھی رہے ہوں خبر دی کہ انہیں ابوسعید رعینی نے یحییٰ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Saeed al-Ruaini with the same chain as narrated by Yahya (b. Saeed) and to the same effect.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٠) (ضعیف) (عبید اللہ بن زخر کی وجہ سے یہ روایت بھی ضعیف ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو جب خبر ملی کہ عقبہ بن عامر ؓ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی نذر سے بےنیاز ہے، اسے کہو: سوار ہوجائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اور خالد نے عکرمہ ؓ سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : That when the Prophet ﷺ was informed that the sister of Uqbah bin Amir had taken a vow to perform Hajj on foot, he said: Allah is not in need of her vow. So ask her to ride. Abu Dawud said: Saib bin Arubah has transmitted a similar tradition. Khalid has also transmitted a similar tradition on the authority of Ikrimah from the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ: (٣٢٩٢)، (تحفة الأشراف: ٦١٩٧، ١٩١٢١) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر ؓ کی بہن نے پیدل بیت اللہ جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے سواری سے جانے اور ہدی ذبح کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : That the sister of Uqbah bin Amir took vow to walk on foot to the Kabah. Thereupon the Prophet ﷺ ordered her to ride and slaughter a sacrificial animal.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی اس نذر کا کفارہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦١٩٧، ١٩١٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٩، ٢٥٢، ٣١١)، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٨٠) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل حج کرنے کے لیے جانے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا (یعنی اس مشقت کا کوئی ثواب نہ دے گا) اسے چاہیئے کہ وہ سوار ہو کر حج کرے اور قسم کا کفارہ دیدے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man came to Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, my sister has taken a vow to perform hajj on foot. The Prophet ﷺ said: Allah gets no good from the affliction your sister imposed on herself, so let her perform hajj riding and make atonement for her oath.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٣٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٠، ٣١٥) (ضعیف) (اس کے راوی شریک القاضی حافظہ کے ضعیف ہیں، اور اس میں بھی کفارہ (بذریعہ صیام) کی بات منکر ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اپنے دونوں بیٹوں کے درمیان (سہارا لے کر) چلتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا: اس نے (خانہ کعبہ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس سے بےنیاز ہے کہ یہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالے آپ نے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن ابی عمرو نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ ؓ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
Narrated Anas bin Malik (RA): The Messenger of Allah ﷺ saw a man that he was supported between his sons. He asked about him, and (the people) said: He has taken a vow to walk (on foot). Thereupon he said: Allah has no need that this man should punish himself, and he ordered him to ride. Abu Dawud said: Amr bin Abi Amir has also narrated a similar tradition from al-Araj on the authority of Abu Hurairah from the Prophet ﷺ .
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے انسان کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں ناتھ ڈال کرلے جایا جا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس کی ناتھ کاٹ دی، اور حکم دیا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کرلے جاؤ۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ while going round the Kabah passed a man who was led with a ring of bridle in his nose. The Prophet ﷺ cut it off with his hand and ordered to lead him by catching his hand.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر ؓ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی اور پیدل جانے کی طاقت نہیں رکھتی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے (عقبہ بن عامر ؓ سے) کہا: اللہ تعالیٰ کو تمہاری بہن کے پیدل جانے کی پرواہ نہیں، (تم اپنی بہن سے کہو کہ) وہ سوار ہوجائیں اور (نذر کے کفارہ کے طور پر) ایک اونٹ کی قربانی دے دیں ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The sister of Uqbah ibn Amir took a vow that she would perform hajj on foot, and she was unable to do so. The Prophet ﷺ said: Allah is not in need of the walking of your sister. She must ride and offer a sacrificial camel.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ٦٢١٧) (صحیح )
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہاری بہن کے پیدل بیت اللہ جانے کا اللہ کوئی ثواب نہ دے گا ۔
Narrated Uqbah ibn Amir al-Juhani (RA) : Uqbah said to the Prophet ﷺ : My sister has taken a vow that she will walk to the House of Allah (the Kabah). Thereupon he said: Allah will not do anything of the walking of your sister to the House of Allah (i. e. the Kabah).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٣٢٩٣، ٣٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ٩٩٣٨) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو مکہ پر فتح نصیب کیا تو میں بیت المقدس میں دو رکعت ادا کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم یہیں پڑھ لو (یعنی مسجد الحرام میں اس لیے کہ اس سے افضل ہے اور سہل تر ہے) ، اس نے پھر وہی بات دہرائی، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: یہیں پڑھ لو پھر اس نے (سہ بارہ) وہی بات پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اب تمہاری مرضی (چاہو تو یہاں پڑھ لو اور بیت المقدس جانا چاہو تو وہاں چلے جاؤ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے روایت ہے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : A man stood on the day of Conquest (of Makkah) and said: Messenger of Allah, I have vowed to Allah that if He grants conquest of Makkah at your hands, I shall pray two rakahs in Jerusalem. He replied: Pray here. He repeated (his statement) to him and he said: Pray here. He again repeated (his statement) to him. He (the Prophet) replied: Pursue your own course, then. Abu Dawud said: A similar tradition has been narrated by Abdur-Rahman bin Awf from the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٤٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦٣)، سنن الدارمی/النذور ٤ (٢٣٨٤) (صحیح )
عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بعض صحابہ رسول ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہاں (یعنی مسجد الحرام میں) نماز پڑھ لیتے تو تمہارے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی جگہ پر کافی ہوتا (وہاں جانے کی ضرورت نہ رہتی) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے انصاری نے ابن جریج سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے حفص بن عمر کے بجائے جعفر بن عمر کہا ہے اور عمرو بن حنۃ کے بجائے عمر بن حیۃ کہا ہے: اور کہا ہے ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے۔
The tradition mentioned above (No. 3299) has also been transmitted by Umar ibn Abdur-Rahman ibn Awf on the authority of his father and the Companions of the Prophet ﷺ . This version has: The Prophet ﷺ said: By Him Who sent Muhammad with truth, if you prayed here, this would be sufficient for you like the prayer in Jerusalem. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by al-Ansari, from Ibn-Juraij. He said: Jafar bin Umar and Amr bin Hayyah. He said: They transmitted from Abdur-Rahman bin Awf and from the Companions of the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٧٣) (ضعیف الإسناد) ( اس کے رواة یوسف، حفص، عمر وبن عبدالرحمن سب کے سب لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا اور کہا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی جسے وہ پوری نہ کرسکیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ان کی جانب سے پوری کر دو ۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : Saad bin Ubadah asked the Messenger of Allah ﷺ : My Mother has died and she could not fulfill her vow which she had taken. The Messenger of Allah ﷺ said: Fulfill it on her behalf.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت بحری سفر پر نکلی اس نے نذر مانی کہ اگر وہ بخیریت پہنچ گئی تو وہ مہینے بھر کا روزہ رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے بخیریت پہنچا دیا مگر روزہ نہ رکھ پائی تھی کہ موت آگئی، تو اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ ﷺ کے پاس (مسئلہ پوچھنے) آئی تو اس کی جانب سے آپ نے اسے روزے رکھنے کا حکم دیا۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A woman made a voyage and vowed that she would fast one month if Allah made her reach her destination with peace and security. Allah made her reach her destination with security but she died before she could fast. Her daughter or sister (the narrator doubted) came to the Messenger of Allah ﷺ . So he commanded to fast on her behalf.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٤٦٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الأیمان ٣٣ (٣٨٤٨)، مسند احمد (١/٢١٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ میری والدہ کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے کیا میں اس کی جانب سے رکھ دوں؟ آپ ﷺ نے پوچھا: اگر تمہاری والدہ کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا قرض تو اور بھی زیادہ ادا کئے جانے کا مستحق ہے ۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : A woman came to the Prophet ﷺ and said (to him) that one months fast was due from her mother who had died. May I fulfill them on her behalf? He asked: Suppose some debt was due from your mother, would you pay it ? She replied: Yes. He said: So the debt due to Allah is the one which most deserves to be paid.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کے سر پر دف بجاؤں گی، آپ ﷺ نے فرمایا: (بجا کر) اپنی نذر پوری کرلو اس نے کہا: میں نے ایسی ایسی جگہ قربانی کرنے کی نذر (بھی) مانی ہے جہاں جاہلیت کے زمانہ کے لوگ ذبح کیا کرتے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا کسی صنم (بت) کے لیے؟ اس نے کہا: نہیں، پوچھا: کسی وثن (بت) کے لیے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرلو ۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather said: A woman came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, I have taken a vow to play the tambourine over you. He said: Fulfil your vow. She said: And I have taken a vow to perform a sacrifice in such a such a place, a place in which people had performed sacrifices in pre-Islamic times. He asked: For an Idol? She replied: No. He asked: For an image? She replied: No. He said: Fulfil your vow.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧٥٦) (حسن صحیح )
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ (ایک جگہ کا نام ہے) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرلو البتہ گناہ کی نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہیں ۔
Narrated Thabit ibn ad-Dahhak (RA) : In the time of the Prophet ﷺ a man took a vow to slaughter a camel at Buwanah. So he came to the Prophet ﷺ and said: I have taken a vow to sacrifice a camel at Buwanah. The Prophet ﷺ asked: Did the place contain any idol worshipped in pre-Islamic times? They (the people) said: No. He asked: Was any pre-Islamic festival observed there? They replied: No. The Prophet ﷺ said: Fulfil your vow, for a vow to do an act of disobedience to Allah must not be fulfilled, neither must one do something over which a human being has no control.