ابوحرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم ان کی نافرمانی سے ڈرو تو انہیں بستروں میں (تنہا) چھوڑ دو ۔ حماد کہتے ہیں: یعنی ان سے صحبت نہ کرو۔
Abu Harrah Al Ruqashi reported on the authority of his uncle” The Prophet ﷺ said “If you fear the recalcitrance abandon them in their beds. ” The narrator Hammad said “By abandonment he meant abandonment of intercourse. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، ( تحفة الأشراف: ١٥٥٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٢) (حسن )
ایاس بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو نہ مارو ، چناچہ عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: (آپ کے اس فرمان کے بعد) عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہوگئی ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے انہیں مارنے اور تادیب کی رخصت دے دی، پھر عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر ازواج مطہرات کے پاس پہنچنے لگیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر محمد کے گھر والوں کے پاس پہنچ رہی ہیں، یہ (مار پیٹ کرنے والے) لوگ تم میں بہترین لوگ نہیں ہیں ۔
Iyas ibn Abdullah ibn Abu Dhubab reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not beat Allahs handmaidens, but when Umar came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Women have become emboldened towards their husbands, he (the Prophet) gave permission to beat them. Then many women came round the family of the Messenger of Allah ﷺ complaining against their husbands. So the Messenger of Allah ﷺ said: Many women have gone round Muhammads family complaining against their husbands. They are not the best among you.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٥١ (١٩٨٥)، ( تحفة الأشراف: ١٧٤٦)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٩١٦٧)، سنن الدارمی/النکاح ٣٤ (٢٦٦٥) (صحیح )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے کہا: علی! (اجنبی عورت پر) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے، دوسری جائز نہیں ١ ؎۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet ﷺ said: to Ali (RA) : Do not give a second look, Ali, (because) while you are not to blame for the first, you have no right to the second.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیوں کہ پہلی نظر بغیر قصد و اختیار کے پڑی ہے اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور دوسری نظر چونکہ قصداً ہوگی اس لئے اس پر گناہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٢٨ (٢٧٧٧)، ( تحفة الأشراف: ٢٠٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٥٩، ٥/٣٥١، ٣٥٧) (حسن )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت عورت سے بدن نہ چپکائے وہ اپنے شوہر سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کرے گویا اس کا شوہر اسے دیکھ رہا ہے ۔
Ibn Masud reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “ A woman should not rub her body directly with the body of another woman so that she describes it to her husband as if he were looking at her. ”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١١٨ (٥٢٤١)، سنن الترمذی/الأدب ٣٨ (٢٧٩٢)، ( تحفة الأشراف: ٩٢٥٢)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ عشرة النساء (٩٢٣١)، مسند احمد (١/٣٨٧، ٤٤٠، ٤٤٣، ٤٦٢، ٤٦٤) (صحیح )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو دیکھا تو (اپنی بیوی) زینب بنت حجش ؓ کے پاس آئے اور ان سے اپنی ضرورت پوری کی، پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا: عورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ١ ؎، تو جس کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آئے وہ اپنی بیوی کے پاس آجائے، کیونکہ یہ اس کے دل میں آنے والے احساسات کو ختم کر دے گا ۔
Jabir said “The Prophet ﷺ saw a woman so he entered upon Zainab daughter of Jahsh and had intercourse with her. He ﷺ then came out and said to his companions and said to them “A woman advances in the form of a devil. When one of you finds that he should go to his wife (and have intercourse with her) for that will repel what he is feeling.
Notes · وضاحت
١ ؎: عورت کو شیطان کی شکل میں اس وجہ سے فرمایا کہ جیسے شیطان آدمی کو بہکاتا ہے ویسے بےپردہ عورت بھی بہکاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٢ (١٤٠٣)، سنن الترمذی/الرضاع ٩ (١١٥٨)، ( تحفة الأشراف: ٢٩٧٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٩١٢١)، مسند احمد (٣/٣٣٠) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے (قرآن میں وارد لفظ) لمم (چھوٹے گناہ) کے مشابہ ان اعمال سے زیادہ کسی چیز کو نہیں پایا جو ابوہریرہ ؓ سے حدیث میں مذکور ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زنا کا جتنا حصہ ہر شخص کے لیے لکھ دیا ہے وہ اسے لازمی طور پر پا کر رہے گا، چناچہ آنکھوں کا زنا (غیر محرم کو بنظر شہوت) دیکھنا ہے زبان کا زنا (غیر محرم سے شہوت کی) بات کرنی ہے، (انسان کا) نفس آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔
Ibn Abbas said “I did not see anything more resembling to minor sins than what Abu Hurairah reported from the Prophet ﷺ who said “Allaah has decreed for the children of Adam a share in adultery, he will get it by all means, the adultery of eyes is looking; the adultery of tongue is speaking; the soul desires and has a passion; the private parts confirms or falsifies it. ”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستئذان ١٢ (٤٢٤٣)، و القدر ٩ (٢٦١٢)، صحیح مسلم/القدر ٥ (٢٦٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٧٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر انسان کے لیے زنا کا حصہ متعین ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں، ان کا زنا پکڑنا ہے، پیر زنا کرتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے، اور منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ لینا ہے ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying “ Every child of Adam has his share in adultery. He then narrated the rest of the tradition. This version goes “And the hands commit adultery; their adultery is catching; and the legs commit adultery; their adultery is walking; and the mouth commits adultery – its adultery is kissing. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: چوں کہ یہ امور زنا کے ذرائع ہیں، اس لئے تشدیداً انہیں بھی زنا سے تعبیر کیا گیا ہے، گو ان کا گناہ زنا کے گناہ کے برابر نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٢٦٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٣، ٥٣٦) (حسن )
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٢٨٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧٩) (حسن صحیح )
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ حنین کے دن مقام اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو وہ لشکر اپنے دشمنوں سے ملے، ان سے جنگ کی، اور جنگ میں ان پر غالب رہے، اور انہیں قیدی عورتیں ہاتھ لگیں، تو ان کے شوہروں کے مشرک ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام نے ان سے جماع کرنے میں حرج جانا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں یہ آیت نازل فرمائی: والمحصنات من النساء إلا ما ملکت أيمانکم اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں (سورۃ النساء: ٢٤) تو وہ ان کے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت ختم ہوجائے۔
Abu Saeed Al Khudri said “The Messenger of Allah ﷺ sent a military expedition to Awtas on the occasion of the battle of Hunain. They met their enemy and fought with them. They defeated them and took them captives. Some of the Companions of Messenger of Allah ﷺ were reluctant to have intercourse with the female captives in the presence of their husbands who were unbelievers. So, Allaah the exalted sent down the Quranic verse “And all married women (are forbidden) unto you save those (captives) whom your right hand posses. ” This is to say they are lawful for them when they complete their waiting period.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ٩ (١٤٥٦)، سنن الترمذی/ النکاح ٣٦ (١١٣٢)، تفسیر سورة النساء (٣٠١٦)، سنن النسائی/النکاح ٥٩ (٣٣٣٥)، ( تحفة الأشراف: ٤٤٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٧٢، ٨٤)، سنن الدارمی/الطلاق ١٧ (٢٣٤٠) (صحیح )
ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے ، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہوجائے، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں ۔
Abu Al Darda said “The Messenger of Allah ﷺ was in a battle. He saw a woman who was nearing the time when she was to deliver a child. “He said “Perhaps the master has intercourse with her. ”. They (the people) said “Yes”. He said “I am inclined to invoke a curse on him which will enter his grave with him. How can he make it (the child) an heir when it is not lawful for him? How can he take it into his service when that is not lawful for him?”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٢٣ (١٤٤١)، ( تحفة الأشراف: ١٠٩٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٥، ٦/٤٤٦)، سنن الدارمی/السیر ٣٨ (٢٥٢١) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ اوطاس کی قیدی عورتوں کے متعلق فرمایا: کسی بھی حاملہ سے وضع حمل سے قبل جماع نہ کیا جائے اسی طرح کسی بھی غیر حاملہ سے جماع نہ کیا جائے، یہاں تک کہ اسے ایک حیض آجائے ۔
Abu Saeed Al Khudri traced to Prophet ﷺ the following statement regarding the captives taken at Atwas. There must be no intercourse with pregnant woman till she gives birth to her child or with the one who is not pregnant till she has had one menstrual period.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٩٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٨، ٦٢، ٨٧) (صحیح )
حنش صنعانی کہتے ہیں کہ رویفع بن ثابت انصاری ہم میں بحیثیت خطیب کھڑے ہوئے اور کہا: سنو! میں تم سے وہی کہوں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ جنگ حنین کے دن فرما رہے تھے: اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے کسی بھی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے سوا کسی اور کی کھیتی کو سیراب کرے ، (آپ ﷺ کا مطلب حاملہ لونڈی سے جماع کرنا تھا) اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی قیدی لونڈی سے جماع کرے یہاں تک کہ وہ استبراء رحم کرلے، (یعنی یہ جان لے کہ یہ عورت حاملہ نہیں ہے) اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ مال غنیمت کے سامان کو بیچے یہاں تک کہ وہ تقسیم کردیا جائے۔
Narrated Ruwayfi ibn Thabit al-Ansari (RA) : Should I tell you what I heard the Messenger of Allah ﷺ say on the day of Hunayn: It is not lawful for a man who believes in Allah and the last day to water what another has sown with his water (meaning intercourse with women who are pregnant); it is not lawful for a man who believes in Allah and the Last Day to have intercourse with a captive woman till she is free from a menstrual course; and it is not lawful for a man who believes in Allah and the Last Day to sell spoil till it is divided.
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: یہاں تک کہ وہ ایک حیض کے ذریعہ استبراء رحم کرلے ، اس میں بحيضة کا اضافہ ہے، اور یہ ابومعاویہ کا وہم ہے اور یہ ابوسعید ؓ کی حدیث میں صحیح ہے، اور اس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے: اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کے جانور پر سواری نہ کرے کہ اسے دبلا کر کے واپس دے ، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کا کپڑا نہ پہنے کہ پرانا کر کے لوٹا دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ حیض کا لفظ محفوظ نہیں ہے یہ ابومعاویہ کا وہم ہے۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Ibn Ishaq through a different chain of narrators. This version has the traditional word “a menstrual course” in the phrase “till she is free from a menstrual course”. This is a misunderstanding on the part of the narrator Abu Muawiyah. This is correct in the tradition of Abu Saeed Al Khudri. This version has the additional words “he who believes in Allaah and the Last Day should not ride on a mount belonging to the spoil of Muslims and when he makes it emaciated returns it; he who believes in Allaah and the Last Day should not put on cloth belonging to the spoils of Muslims and when makes it old (shabby) returns it. Abu Dawud said “The word “menstrual course” is not guarded. This is a misunderstanding on the part of Abu Muawiyah”
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب کسی عورت سے نکاح کرے یا کوئی خادم خریدے تو یہ دعا پڑھے: اللهم إني أسألک خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بک من شرها ومن شر ما جبلتها عليه اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی جبلت اور اس کی طبیعت کا خواستگار ہوں، جو خیر و بھلائی تو نے ودیعت کی ہے، اس کے شر اور اس کی جبلت اور طبیعت میں تیری طرف سے ودیعت شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کی چوٹی پکڑ کر یہی دعا پڑھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ سعید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ پھر اس کی پیشانی پکڑے اور عورت یا خادم میں برکت کی دعا کرے ۔
Amr bin Shuaib on his fathers authority said that his grandfather (Abdullah ibn Amr ibn al-As) reported the Prophet ﷺ said: If one of you marries a woman or buys a slave, he should say: O Allah, I ask You for the good in her, and in the disposition You have given her; I take refuge in You from the evil in her, and in the disposition You have given her. When he buys a camel, he should take hold of the top of its hump and say the same kind of thing. Abu Dawud said: Abu Saeed added the following words in his version: He should then tale hold of her forelock and pray for blessing in the case of a woman or a slave.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٧ (١٩١٨)، ( تحفة الأشراف: ٨٧٩٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الیوم واللیلة (٢٤٠) (حسن )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے: بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ہم کو شیطان سے بچا اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے گزند سے محفوظ رکھ پھر اگر اس مباشرت سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا یا شیطان اسے کبھی نقصان نہ پہنچ اس کے گا ۔
Ibn Abbas reported the Prophet ﷺ as saying “If anyone who means to have intercourse with his wife says “In the name of Allaah, O Allaah, keep us away from the devil and keep the devil away from what You hast provided us. ” It will be ordained that no devil will ever harm the child born to them.
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہود کہتے تھے کہ اگر آدمی اپنی بیوی کی شرمگاہ میں پیچھے سے صحبت کرے تو لڑکا بھینگا ہوگا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی نساؤكم حرث لکم فأتوا حرثکم أنى شئتم (سورۃ البقرہ: ٢٢٣) تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ ١ ؎۔
Muhammad bin Al Munkadir said I heard Jabir say The Jews used to say “When a man has intercourse with his wife through the vagina, but being on her back the child will have a squint, so the verse came down. Your wives are a tilth to you, so come to your tilth however you will. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کھڑے اور بیٹھے، آگے سے اور پیچھے سے، چت لٹا کر یا کروٹ بشرطیکہ دخول فرج میں ہو نہ کہ دبر میں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ ابن عمر ؓ کو بخشے ان کو أنى شئتم کے لفظ سے وہم ہوگیا تھا، اصل واقعہ یوں ہے کہ انصار کے اس بت پرست قبیلے کا یہود (جو کہ اہل کتاب ہیں کے) ایک قبیلے کے ساتھ میل جول تھا اور انصار علم میں یہود کو اپنے سے برتر مانتے تھے، اور بہت سے معاملات میں ان کی پیروی کرتے تھے، اہل کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں سے ایک ہی آسن سے صحبت کرتے تھے، اس میں عورت کے لیے پردہ داری بھی زیادہ رہتی تھی، چناچہ انصار نے بھی یہودیوں سے یہی طریقہ لے لیا اور قریش کے اس قبیلہ کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں کو طرح طرح سے ننگا کردیتے تھے اور آگے سے، پیچھے سے، اور چت لٹا کر ہر طرح سے لطف اندوز ہوتے تھے، مہاجرین کی جب مدینہ میں آمد ہوئی تو ان میں سے ایک شخص نے انصار کی ایک عورت سے شادی کی اور اس کے ساتھ وہی طریقہ اختیار کرنے لگا اس پر عورت نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں تو ایک ہی (مشہور) آسن رائج ہے، لہٰذا یا تو اس طرح کرو، ورنہ مجھ سے دور رہو، جب اس بات کا چرچا ہوا تو رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کی خبر لگ گئی چناچہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نساؤكم حرث لکم فأتوا حرثکم أنى شئتم نازل فرمائی یعنی آگے سے پیچھے سے، اور چت لٹا کر اس سے مراد لڑکا پیدا ہونے کی جگہ ہے یعنی شرمگاہ میں جماع ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : Ibn Umar misunderstood (the Quranic verse, So come to your tilth however you will)--may Allah forgive him. The fact is that this clan of the Ansar, who were idolaters, lived in the company of the Jews who were the people of the Book. They (the Ansar) accepted their superiority over themselves in respect of knowledge, and they followed most of their actions. The people of the Book (i. e. the Jews) used to have intercourse with their women on one side alone (i. e. lying on their backs). This was the most concealing position for (the vagina of) the women. This clan of the Ansar adopted this practice from them. But this tribe of the Quraysh used to uncover their women completely, and seek pleasure with them from in front and behind and laying them on their backs. When the muhajirun (the immigrants) came to Madina, a man married a woman of the Ansar. He began to do the same kind of action with her, but she disliked it, and said to him: We were approached on one side (i. e. lying on the back); do it so, otherwise keep away from me. This matter of theirs spread widely, and it reached the Messenger of Allah ﷺ . So Allah, the Exalted, sent down the Quranic verse: Your wives are a tilth to you, so come to your tilth however you will, i. e. from in front, from behind or lying on the back. But this verse meant the place of the delivery of the child, i. e. the vagina.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیوں کہ کھیتی اس مقام کو کہیں گے جہاں سے ولادت ہوتی ہے نہ کہ دبر کو جو نجاست کی جگہ ہے۔