عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب علی ؓ نے فاطمہ ؓ سے شادی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا: اسے کچھ دے دو ، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: تمہاری حطمی زرہ ١ ؎ کہاں ہے؟ ٢ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : When Ali married Fatimah, the Prophet ﷺ said to him: Give her something. He said: I have nothing with me. He said: Where is your Hutamiyyah (coat of mail).
Notes · وضاحت
١ ؎: ” حطمي “: زرہ ہے جو تلوار کو توڑ دے، یا حطمہ کوئی قبیلہ تھا جو زرہ بنایا کرتا تھا۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/النکاح ٧٦ (٣٣٧٨)، ( تحفة الأشراف: ٦٠٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨) (حسن صحیح )
محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے روایت ہے وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جب علی ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ ؓ سے شادی کی اور ان کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں منع فرما دیا جب تک کہ وہ انہیں کچھ دے نہ دیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس کچھ نہیں ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے اپنی زرہ ہی دے دو ، چناچہ انہیں زرہ دے دی، پھر وہ ان کے پاس گئے۔
Muhammad ibn Abdur Rahman ibn Thawban reported on the authority of a man from the Companions of the Prophet ﷺ : When Ali married Fatimah, daughter of the Messenger of Allah ﷺ , he intended to have intercourse with her. The Messenger of Allah ﷺ prohibited him to do so until he gave her something. Ali said: I have nothing with me, Messenger of Allah. The Prophet ﷺ said: Give her your coat of mail. So he gave her his coat of mail, and then cohabited with her.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک عورت کو اس کے شوہر کے پاس پہنچا دینے کا حکم دیا قبل اس کے کہ وہ اسے کچھ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خیثمہ کا سماع ام المؤمنین عائشہ ؓ سے نہیں ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ commanded me to send a woman to her husband before he gave something to her. Abu Dawud said: The narrator Khaithamah did not hear (any tradition) from Aisha (RA) .
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٤ (١٦٠٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٦٩) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کردیا ہے )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہوگی اور جو کچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا (انعام وغیرہ) ، مرد جس چیز کے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے ۔
Amr bin Shuaib on his fathers authority said that his grandfather reported The Messenger of Allah ﷺ said: A woman who marries on a dower or a reward or a promise before the solemnisation of marriage is entitled to it; and whatever is fixed for her after solemnisation of marriage belongs to whom it is given. A man is more entitled to receive a thing given as a gift on account of his daughter or sister (than other kinds of gifts).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/النکاح ٦٧ (٣٣٥٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤١ (١٩٥٥)، ( تحفة الأشراف: ٨٧٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٢) (ضعیف) (اس کے راوی ابن جریج مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعيفة، للالبانی ١٠٠٧ )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب کسی شخص کو شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: بارک الله لک و بارک عليك وجمع بينكما في خير اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں کو خیر پر جمع کر دے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Prophet ﷺ congratulated a man on his marriage, he said: May Allah bless for you, and may He bless on you, and combine both of you in good (works).
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٧ (١٠٩١)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٣ (١٩٠٥)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٢٥٩)، ( تحفة الأشراف: ١٢٦٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨١)، سنن الدارمی/النکاح ٦ (٢٢١٩) (صحیح )
بصرہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک کنواری پردہ نشین عورت سے نکاح کیا، میں اس کے پاس گیا، تو اسے حاملہ پایا تو اس کے متعلق اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض تمہیں مہر ادا کرنا پڑے گا، اور (پیدا ہونے والا) بچہ تمہارا غلام ہوگا، اور جب وہ بچہ جن دے - (حسن کی روایت میں) تو تو اسے کوڑے لگا (واحد کے صیغہ کے ساتھ) اور ابن السری کی روایت میں تو تم اسے کوڑے لگاؤ (جمع کے صیغہ کے ساتھ) ، یا آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر حد جاری کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو قتادہ نے سعید بن زید سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کیا ہے نیز اسے یحییٰ ابن ابی کثیر نے یزید بن نعیم سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے سبھی لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور یحییٰ ابن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ بصرہ بن اکثم نے ایک عورت سے نکاح کیا اور سبھی لوگوں کی روایت میں ہے: آپ نے لڑکے کو ان کا غلام بنادیا ۔
A man from the Ansar called Basrah said: I married a virgin woman in her veil. When I entered upon her, I found her pregnant. (I mentioned this to the Prophet). The Prophet ﷺ said: She will get the dower, for you made her vagina lawful for you. The child will be your slave. When she has begotten (a child), flog her (according to the version of al-Hasan). The version of Ibn AbusSari has: You people, flog her, or said: inflict hard punishment on him. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Qatadah from Saad bin Yazid on the authority of Ibn al-Musayyab in a similar way. This tradition has been narrated by Yahya bin Abi Kathir from Yazid bin Nuaim from Saeed bin al-Musayyab, and Ata al-Khurasani narrated it from Saeed bin al-Musayyab ; they all narrated this tradition from the Prophet ﷺ omitting the link of the Companion (i. e. a mursal tradition). The version of Yahya bin Abi Kathir has: Basrah bin Aktham married a woman. The agreed version has: He made the child his servant.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٢٠٢٤ و ١٨٧٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابن جریج مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ بصرہ بن اکثم نامی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر راوی نے اسی مفہوم کی روایت نقل کی لیکن اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے درمیان جدائی کرا دی اور ابن جریج والی روایت زیادہ کامل ہے۔
Saeed bin al-Musayyab said: A man called Basrah bin Akhtam married a woman. The narrator then reported the rest of the tradition to the same effect. This version added: And he separated them. The tradition narrated by Ibn Juraij is perfect.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٢١٢٤، ١٨٧٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن نعیم لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ بروز قیامت اس حال میں آئے گا، کہ اس کا ایک دھڑا جھکا ہوا ہوگا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When a man has two wives and he is inclined to one of them, he will come on the Day of resurrection with a side hanging down.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٤١ (١١٤١)، سنن النسائی/عشرة النساء ٢ (٣٩٩٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٧ (١٩٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩٥، ٣٤٧، ٤٧١)، سنن الدارمی/النکاح ٢٤ (٢٢٥٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (اپنی بیویوں کی) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے، پھر یہ دعا فرماتے تھے: اے اللہ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے، رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے (یعنی دل کا میلان) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to divide his time equally and said: O Allah, this is my division concerning what I control, so do not blame me concerning what You control and I do not. Abu Dawud said: By it meant the heart.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٤١ (١١٤٠)، سنن النسائی/عشرة النساء ٢ (٣٣٩٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٧ (١٩٧١)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٤)، سنن الدارمی/النکاح ٢٥ (٢٢٥٣) (ضعیف) (حماد بن زید اور دوسرے زیادہ ثقہ رواة نے اس کو عن ابی قلابة عن النبی ﷺ مرسلا روایت کیا ہے )
عروہ کہتے ہیں ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: میرے بھانجے! رسول اللہ ﷺ ہم ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ ﷺ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں، اور بغیر محبت کے آپ ﷺ سب کے قریب ہوتے، اس طرح آپ اپنی اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے ساتھ رات گزارتے، اور سودہ بنت زمعہ ؓ عمر رسیدہ ہوگئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں الگ کردیں گے تو کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میری باری عائشہ ؓ کے لیے رہے گی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ بات قبول فرما لی، عائشہ ؓ کہتی تھیں کہ ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں یا اور اسی جیسی چیزوں کے سلسلے میں آیت کریمہ: وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا (سورۃ النساء: ١٢٨) نازل کی: اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدمزاجی کا خوف ہو ۔
Narrated Hisham bin Urwah (RA) : On the authority of his father that Aisha (RA) said: O my nephew, the Messenger of Allah ﷺ did not prefer one of us to the other in respect of his division of the time of his staying with us. It was very rare that he did not visit us any day (i. e. he visited all of us every day). He would come near each of his wives without having intercourse with her until he reached the one who had her day and passed his night with her. When Saudah daughter of Zamah became old and feared that the Messenger of Allah ﷺ would divorce her, she said: Messenger of Allah, I give to Aisha (RA) the day you visit me. The Messenger of Allah ﷺ accepted it from her. She said: We thing that Allah, the Exalted, revealed about this or similar matter the Quranic verse: If a wife fears cruelty or desertion on her husbands part. . . . [4: 128]
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٠٢٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح ٩٩ (٥٢١٢)، صحیح مسلم/التفسیر ١ (٣٠٢٢)، مسند احمد (٦/١٠٧) (حسن صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ آیت کریمہ: ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء آپ ان میں سے جسے آپ چاہیں دور رکھیں اور جسے آپ چاہیں اپنے پاس رکھیں (سورۃ الاحزاب: ٥١) نازل ہوئی تو ہم میں سے جس کسی کی باری ہوتی تھی اس سے اللہ کے رسول ﷺ اجازت لیتے تھے۔ معاذہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا: آپ ایسے موقع پر کیا کہتی تھیں؟ کہنے لگیں: میں تو یہ ہی کہتی تھی کہ اگر میرا بس چلے تو میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہ دوں۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to aske our permission on the day he had to stay with one of his wives (by turns) after the following Quranic verse was revealed: You may distance those whom you like, and draw close to those whom you like [33: 51]. The narrator Muadhah said: I said to her: What did you say to the Messenger of Allah ﷺ ? She said: I used to say: If had an option for that, I would not preferred anyone to myself.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٧ (٤٧٨٩)، صحیح مسلم/الطلاق ٤ (١٤٧٦)، سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٨٩٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧٦، ١٥٨، ٢٦١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت کے موقع پر سب بیویوں کو بلا بھیجا، وہ جمع ہوئیں تو فرمایا: اب تم سب کے پاس آنے جانے کی میرے اندر طاقت نہیں، اگر تم اجازت دے دو تو میں عائشہ کے پاس رہوں ، چناچہ ان سب نے آپ ﷺ کو اس کی اجازت دے دی۔
Aishah said The Messenger of Allah ﷺ sent for his wives during his illness. When they got together, he ﷺ said “I am unable to visit all of you. If you think to permit me to stay with Aisha (RA) you may do so. ” So they permitted him (to stay with Aisha (RA) ).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٧٦٨٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٤ (١٦١٨)، مسند احمد (٦/٣١ ١٨٧، ٢٩١) (صحیح )
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر ؓ نے ان سے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تو جس کا نام نکلتا اس کو لے کر سفر کرتے، آپ ﷺ نے ہر بیوی کے لیے ایک دن رات کی باری بنا رکھی تھی، سوائے سودہ بنت زمعہ ؓ کے انہوں نے اپنی باری عائشہ ؓ کو دے رکھی تھی۔
Aishah wife of the Prophet ﷺ reported “When the Messenger of Allah ﷺ intended to go on a journey he cast lots amongst his wives and the one who was chosen by lot went on it with him. He divided his time, day and night (equally) for each of his wives except that Saudah daughter of Zam’ah gave her day to Aisha (RA) .
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ١٥ (٢٥٩٣)، والنکاح ١٧ (٥٠٩٢)، ( تحفة الأشراف: ١٦٧٠٣، ١٦٦٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٧ (١٩٧٠)، سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٨٩٢٣)، مسند احمد (٦/ ١١٧، ١٥١، ١٩٧، ٢٦٩)، سنن الدارمی/الجہاد ٣١ (٢٤٦٧) (صحیح )
عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ مستحق شرطیں وہ ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۔
Uqbah bin Amir reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “The condition worthier to be fulfilled by you is the one by which you made the private parts (of your wife) lawful (for you).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نکاح کے وقت یہ طے ہو کہ بیوی اپنے میکے ہی میں رہے گی اور شوہر اس شرط کو قبول کرلے تو ظاہر حدیث کے مطابق اب اس کو اس کے میکے سے نکالنے کا حق نہیں ہے۔
قیس بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں حیرہ آیا، تو دیکھا کہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں تو میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں سجدہ کیا جائے، میں جب آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے کہا کہ میں حیرہ شہر آیا تو میں نے وہاں لوگوں کو اپنے سردار کے لیے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اللہ کے رسول! آپ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں، آپ ﷺ نے فرمایا: بتاؤ کیا اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو گے، تو اسے بھی سجدہ کرو گے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرنا، اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس وجہ سے کہ شوہروں کا حق اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے ۔
Narrated Qays ibn Saad (RA) : I went to al-Hirah and saw them (the people) prostrating themselves before a satrap of theirs, so I said: The Messenger of Allah ﷺ has most right to have prostration made before him. When I came to the Prophet ﷺ , I said: I went to al-Hirah and saw them prostrating themselves before a satrap of theirs, but you have most right, Messenger of Allah, to have (people) prostrating themselves before you. He said: Tell me, if you were to pass my grave, would you prostrate yourself before it? I said: No. He then said: Do not do so. If I were to command anyone to make prostration before another I would command women to prostrate themselves before their husbands, because of the special right over them given to husbands by Allah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٠٩٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ١٥٩ (١٥٠٤) (صحیح) (قبر پر سجدہ کرنے والا جملہ صحیح نہیں ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کرے اور اس کے پاس نہ آئے جس کی وجہ سے شوہر رات بھر ناراض رہے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying “When a man calls his wife to come to his bed and she refuses and does not come to him and he spends the night angry, the angels curse her till the morning. ”
معاویہ بن حیدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اوپر ہماری بیوی کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو، اور گھر کے علاوہ اس سے جدائی ١ ؎ اختیار نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ولا تقبح کا مطلب یہ ہے کہ تم اسے قبحک الله نہ کہو۔
Narrated Muawiyah al-Qushayri (RA) : Muawiyah asked: Messenger of Allah, what is the right of the wife of one of us over him? He replied: That you should give her food when you eat, clothe her when you clothe yourself, do not strike her on the face, do not revile her or separate yourself from her except in the house. Abu Dawud said: The meaning of do not revile her is, as you say: May Allah revile you.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی بات پر ناراض ہو تو اسے گھر سے دوسری جگہ نہ بھگاؤ گھر ہی میں رکھو بطور سرزنش صرف بستر الگ کر دو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٣(١٨٥٠)، ( تحفة الأشراف: ١١٣٩٦)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٩١٧١)، مسند احمد (٤/٤٤٧، ٥/٣) (حسن صحیح )
معاویہ بن حیدہ قشیری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنی عورتوں کے پاس کدھر سے آئیں، اور کدھر سے نہ آئیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: اپنی کھیتی ١ ؎ میں جدھر سے بھی چاہو آؤ، جب خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، اور جب خود پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرہ کی برائی نہ کرو، اور نہ ہی اس کو مارو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعبہ نے أطعمها إذا طعمت واکسها إذا اکتسيت کے بجائے تطعمها إذا طعمت وتکسوها إذا اکتسيت روایت کیا ہے۔
Bahz bin Hakim reported on the authority of his father from his grandfather (Muawiyah ibn Haydah) as saying: I said: Messenger of Allah, how should we approach our wives and how should we leave them? He replied: Approach your tilth when or how you will, give her (your wife) food when you take food, clothe when you clothe yourself, do not revile her face, and do not beat her. Abu Dawud said: The version of Shubah has: That you give her food when you have food yourself, and that you clothe her when you clothe yourself.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قبل (شرمگاہ) میں جس طرف سے بھی چاہو آؤ، نہ کہ دبر (پاخانہ کے راستہ) میں کیونکہ دبر حرث ” کھیتی “ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٣٨٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٩١٦٠)، مسند احمد ( ٥/٣، ٥) (حسن صحیح )
معاویہ قشیری ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: ہماری عورتوں کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو تم خود کھاتے ہو وہی ان کو بھی کھلاؤ، اور جیسا تم پہنتے ہو ویسا ہی ان کو بھی پہناؤ، اور نہ انہیں مارو، اور نہ برا کہو ۔
Narrated Muawiyah al-Qushayri (RA) : I went to the Messenger of Allah ﷺ and asked him: What do you say (command) about our wives? He replied: Give them food what you have for yourself, and clothe them by which you clothe yourself, and do not beat them, and do not revile them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٣٩٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ عشرة النساء (٩١٥١) (صحیح )