شوہر عورت کو دوسرے ملک میں نہ لے جانے شرط کرے
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ.
عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ مستحق شرطیں وہ ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۔
Uqbah bin Amir reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “The condition worthier to be fulfilled by you is the one by which you made the private parts (of your wife) lawful (for you).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نکاح کے وقت یہ طے ہو کہ بیوی اپنے میکے ہی میں رہے گی اور شوہر اس شرط کو قبول کرلے تو ظاہر حدیث کے مطابق اب اس کو اس کے میکے سے نکالنے کا حق نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشروط ٦ (٢٧٢١)، والنکاح ٥٣ (٥١٥١)، صحیح مسلم/النکاح ٨ (١٤١٨)، سنن الترمذی/النکاح ٢٢ (١١٢٧)، سنن النسائی/النکاح ٤٢ (٣٢٨٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤١ (١٩٥٤)، ( تحفة الأشراف: ٩٩٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٤، ١٥٠، ١٥٢)، سنن الدارمی/النکاح ٢١ (٢٢٤٩) (صحیح )