نکاح کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 7 · 130 hadiths · Page 4 of 7

2106Sunan Abu Dawood

مہر کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُرَحِمَهُ اللَّهُ، فَقَالَ: أَلَا لَا تُغَالُوا بِصُدُقِ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً.

ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے، اللہ ان پر رحم کرے، ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: خبردار! عورتوں کے مہر بڑھا چڑھا کر مت باندھو اس لیے کہ اگر یہ (مہر کی زیادتی) دنیا میں باعث شرف اور اللہ کے یہاں تقویٰ اور پرہیزگاری کا ذریعہ ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اس کے زیادہ حقدار تھے، آپ نے تو اپنی کسی بھی بیوی اور بیٹی کا بارہ اوقیہ (چار سو اسی درہم) سے زیادہ مہر نہیں رکھا۔

Abul Ajfa as-Sulami said: Umar (Allah be pleased with him) delivered a speech to us and said: Do not go to extremes in giving women their dower, for if it represented honour in this world and piety in Allahs sight, the one of you most entitled to do so would have been the Prophet ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ did not marry any of his wives or gave any of his daughters in marriage for more than twelve uqiyahs.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٢٣ (١١١٤)، سنن النسائی/النکاح ٦٦ (٣٣٥١)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٧ (١٨٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤١، ٤٨)، سنن الدارمی/النکاح ١٨ (٢٢٤٦) (حسن صحیح )
2107Sunan Abu Dawood

مہر کا بیان

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْهَرَهَا عَنْهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: حَسَنَةُ هِيَ أُمُّهُ.

ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ عبیداللہ بن حجش کے نکاح میں تھیں، حبشہ میں ان کا انتقال ہوگیا تو نجاشی (شاہ حبشہ) نے ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کردیا، اور آپ کی جانب سے انہیں چار ہزار (درہم) مہر دے کر شرحبیل بن حسنہ ؓ کے ہمراہ انہیں آپ ﷺ کے پاس روانہ کردیا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حسنہ شرحبیل کی والدہ ٢ ؎ ہیں۔

Urwah reported on the authority of Umm Habibah that she was married to Abdullah ibn Jahsh who died in Abyssinia, so the Negus married her to the Prophet ﷺ giving her on his behalf a dower of four thousand (dirhams). He sent her to the Messenger of Allah ﷺ with Shurahbil ibn Hasanah. Abu Dawud said: Hasanah is his mother.

Notes · وضاحت
١ ؎: ازواج مطہرات ؓن میں سب سے زیادہ انہیں کا مہر تھا، باقی ازاواج مطہرات اور صاحبزادیوں کا مہر حد سے حد پانچ سو درہم تک تھا، جیسا کہ حدیث نمبر (٢١٠٥) میں گزرا۔ ٢ ؎: یہ والد کے بجائے اپنی والدہ کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٥٨٥٥) (صحیح )
2108Sunan Abu Dawood

مہر کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ زَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدَاقِ أَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ.

ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ نجاشی (شاہ حبشہ) نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان ؓ کا نکاح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چار ہزار درہم کے عوض کردیا اور یہ بات آپ کو لکھ بھیجی تو آپ نے قبول فرما لیا۔

Az-Zuhri said: The Negus married Umm Habibah daughter of Abu Sufyan to the Messenger of Allah ﷺ for a dower of four thousand dirhams. He wrote it to the Messenger of Allah ﷺ who accepted it.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ١٥٨٥٥، ١٩٤٠٠) (ضعیف )
2109Sunan Abu Dawood

کم سے کم مہر کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْيَمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، قَالَ: مَا أَصْدَقْتَهَا ؟قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ. قال أَبُو دَاوُدَ: النَّوَاةُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَالنَّشُّ عِشْرُونَ، والأوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کرلی ہے، پوچھا: اسے کتنا مہر دیا ہے؟ جواب دیا: گٹھلی (نواۃ ١ ؎ ) کے برابر سونا، آپ ﷺ نے فرمایا: ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ٢ ؎۔

Narrated Anas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ saw the trace of yellow on Abdur-Rahman bin Awf. The Prophet ﷺ said: What is this ? He replied: Messenger of Allah, I have married a woman. He asked: How much dower did you give her ? He said: A nawat weight of gold. He said: Hold a wedding feast, even if only with a sheep.

Notes · وضاحت
١ ؎: نواۃ پانچ سو درہم کو کہتے ہیں، یعنی پانچ درہم (لگ بھگ پندرہ گرام) کے برابر سونا مہر مقرر کیا اور بعضوں نے کہا ہے کہ نواۃ سے کھجور کی گٹھلی مراد ہے۔ ٢ ؎: یہ بات آپ ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ کی مالی حیثیت دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال درست نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ ﷺ نے صفیہ ؓ کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ١ (٢٠٤٩)، مناقب الأنصار ٣ (٣٧٨١)، ٥٠ (٣٩٣٧)، النکاح ٧ (٥٠٧٢)، ٤٩ (٥١٣٨)، ٥٤ (٥١٥٣)، ٥٦ (٥١٥٥)، ٦٨ (٥١٦٧)، الأدب ٦٧ (٦٠٨٢)، الدعوات ٥٣ (٦٣٨٣)، صحیح مسلم/النکاح ١٣ (١٤٧٢)، سنن الترمذی/النکاح ١٠ (١٠٩٤) البر والصلة ٢٢ (١٩٣٣)، سنن النسائی/النکاح ٧٥ (٣٣٧٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٤ (١٩٠٧)، موطا امام مالک/النکاح ٢١(٤٧)، مسند احمد (٣/١٦٥، ١٩٠، ٢٠٥)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٨ (٢١٠٨)، النکاح ٢٢ (٢٢٥٠) (صحیح )
2110Sunan Abu Dawood

کم سے کم مہر کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جِبْرَائِيلَ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقِ امْرَأَةٍ مِلْءَ كَفَّيْهِ سَوِيقًا أَوْ تَمْرًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا. وَرَوَاهُأَبُو عَاصِمٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ الطَّعَامِ عَلَى مَعْنَى الْمُتْعَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَلَى مَعْنَى أَبِي عَاصِمٍ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے (اس عورت کو اپنے لیے) حلال کرلیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے جابر ؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے ابوعاصم نے صالح بن رومان سے، صالح نے ابو الزبیر سے، ابو الزبیر نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک مٹھی اناج دے کر متعہ کرتے تھے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ابو الزبیر سے انہوں نے جابر سے ابوعاصم کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone gives as a dower to his wife two handfuls of flour or dates he has made her lawful for him. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Abdur Rahman ibn Mahdi, from Salih ibn Ruman, from Abu al-Zubayr on the authority of Jabir as his own statement (not going back to the Prophet). It has also been transmitted by Abu Asim from Salih ibn Ruman, from Abuz Zubayr on the authority of Jabir who said: During the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ we used to contract temporary marriage for a handful of grain. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Ibn Juraij from Abu al-Zubair on the authority of Jabir similar to the one narrated by Abu Asim.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بات متعہ کی حرمت سے پہلے کی ہے، جیسا کہ مؤلف کے ذکر کردہ کلام سے ظاہر ہو رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، ( تحفة الأشراف: ٢٩٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٥) (ضعیف) (ابو زبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ابن رومان مجہول ہیں، نیز حدیث کے موقوف و مرفوع ہونے میں اضطراب ہے )
2111Sunan Abu Dawood

کسی کام یا محنت کے اوپر نکاح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ ؟فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِزَارَكَ جَلَسْتَ وَلَا إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا، قَالَ: لَا أَجِدُ شَيْئًا، قَالَ: فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کردیا ہے، پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی (اور آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا) تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اگر آپ کو حاجت نہیں تو اس سے میرا نکاح کرا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اسے مہر میں ادا کرنے کے لیے کچھ ہے؟ وہ بولا: میرے اس تہبند کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اپنا ازار اسے (مہر میں) دے دو گے تو تمہارے پاس تو ازار بھی نہیں رہے گا، لہٰذا کوئی اور چیز تلاش کرو ، وہ بولا: اور تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ، تو اس نے تلاش کیا لیکن اسے کچھ نہ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تجھے کچھ قرآن یاد ہے؟ کہنے لگا: ہاں فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، ان کا نام لے کر اس نے بتایا تو آپ ﷺ نے اس سے کہا: جو کچھ تجھے قرآن یاد ہے اسی کے (یاد کرانے کے) بدلے میں نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کردیا ١ ؎۔

Narrated Sahl bin Saad al-Saeedi: A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, I have offered myself to you. When she stood for a long time, a man got up and said: Messenger of Allah, marry her to me if you have no need for her. The Messenger of Allah ﷺ asked: Have you anything to give her as dower ? He replied: I have nothing by this lower garment of mine. The Messenger of Allah ﷺ said: If you give your lower garment, you will sit while you have no lower garment. So look for something else. He said: I do not find anything. He said: Look for something, even though it should be an iron ring. The man sought it but found nothing. The Messenger of Allah ﷺ said: Do you know anything from the Quran ? He said: Yes, I know surah so and so, which he named. The Messenger of Allah ﷺ said: I have given you her in marriage for the part of the Quran which you know.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر میں مال کی کوئی تحدید نہیں، خواہ قلیل ہو یا کثیر اس طرح محنت مزدوری یا تعلیم قرآن پر بھی نکاح درست ہے، جمہور علما کی یہی رائے ہے، اور بعض نے دس درہم کی تحدید کی ہے، ان کے نزدیک اس سے کم میں مہر درست نہیں، لیکن ان کے دلائل اس قابل نہیں کہ ان صحیح احادیث کا معارضہ کرسکیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوکالة ٩ (٢٣١٠)، و فضائل القرآن ٢١ (٥٠٢٩)، ٢٢ (٥٠٣٠)، والنکاح ١٤(٥٠٨٧)، ٣٢ (٥١٢١)، ٣٥ (٥١٢٦)، ٣٧ (٥١٣٢)، ٤٠ (٥١٣٥)، ٤٤ (٥١٤١)، ٥٠ (٥١٤٩)، ٥١ (٥١٥٠)، واللباس ٤٩(٧١١٧)، سنن الترمذی/النکاح ٢٣ (١١١٤)، سنن النسائی/النکاح ٦٩ (٣٣٦١)، (تحفة الأشراف: ٤٧٤٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح ١٣(١٤٢٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٧(١٨٨٩)، موطا امام مالک/النکاح ٣ (٨)، مسند احمد (٥/٣٣٦)، سنن الدارمی/النکاح ١٩ (٢٢٤٧) (صحیح )
2112Sunan Abu Dawood

کسی کام یا محنت کے اوپر نکاح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ، لَمْ يَذْكُرِ الْإِزَارَ وَالْخَاتَمَ، فَقَالَ: مَا تَحْفَظُ مِنَ الْقُرْآنِ ؟قَالَ: سُورَةَ الْبَقَرَةِ، أَوِ الَّتِي تَلِيهَا، قَالَ: فَقُمْ، فَعَلِّمْهَا عِشْرِينَ آيَةً وَهِيَ امْرَأَتُكَ.

ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی واقعہ کی طرح مروی ہے لیکن اس میں تہبند اور انگوٹھی کا ذکر نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تجھے قرآن میں سے کیا یاد ہے؟ جواب دیا: سورة البقرہ یا اس کے بعد والی سورت تو آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اسے بیس آیتیں سکھا دو اور وہ تمہاری بیوی ہے ۔

A tradition similar to the one narrated above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version does not mention the lower garment and iron ring. He (the Prophet) said: How much do you memorize from Quran? He said: Surat al-Baqarah or the one that follows it. He said: Stand up and teach her twenty verses: she is your wife.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤١٩٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ النکاح (٥٥٠٦) (ضعیف) (اس کے راوی عسل ضعیف ہیں )
2113Sunan Abu Dawood

کسی کام یا محنت کے اوپر نکاح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، نَحْوَ خَبَرِ سَهْلٍ، قَالَ: وَكَانَ مَكْحُولٌ يَقُولُ: لَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

مکحول سے بھی سہل کی روایت کی طرح مروی ہے، مکحول کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے لیے یہ درست نہیں۔

Makhul has also transmitted a tradition like the one narrated by Sahl (b. Saad al-Saeedi). Makhul used to say: This is not lawful for anyone after the Messenger of Allah ﷺ .

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٩٤٧٨) (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے، مکحول صحابی نہیں تابعی ہیں )
2114Sunan Abu Dawood

جو شخص مہر کی تعیین کے بغیر نکاح کرے اور پھر مر جائے تو اس کا مہر کیا ہوگا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا الصَّدَاقَ، فَقَالَ: لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور پھر اس سے ہمبستری کرنے سے پہلے اور اس کا مہر متعین کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گیا تو انہوں نے کہا: اس عورت کو پورا مہر ملے گا اور اس پر عدت لازم ہوگی اور اسے میراث سے حصہ ملے گا۔ اس پر معقل بن سنان ؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے بروع بنت واشق کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ فرمایا۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Masruq said on the authority of Abdullah ibn Masud (RA) : Abdullah (ibn Masud) was asked about a man who had married a woman without cohabiting with her or fixing any dower for her till he died. Ibn Masud said: She should receive the full dower (as given to women of her class), observe the waiting period (Iddah), and have her share of inheritance. Thereupon Maqil ibn Sinan said: I heard the Messenger of Allah ﷺ giving the same decision regarding Birwa daughter of Washiq (as the decision you have given).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٤٤(١١٤٥)، سنن النسائی/النکاح ٦٨(٣٣٥٨)، والطلاق ٥٧(٣٥٥٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٨ (١٨٩١)، (تحفة الأشراف: ١١٤٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٨٠، ٤/٢٨٠)، سنن الدارمی/النکاح ٤٧ (٢٢٩٢) (صحیح )
2115Sunan Abu Dawood

جو شخص مہر کی تعیین کے بغیر نکاح کرے اور پھر مر جائے تو اس کا مہر کیا ہوگا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ،عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَاقَ عُثْمَانُ مِثْلَهُ.

اس سند سے بھی عبداللہ سے مروی ہے عثمان نے اسی کے مثل روایت بیان کی۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Alqamah on the authority of Abdullah. Uthman (b. Abi Shaibah) narrated a similar tradition.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ١١٤٦١) (صحیح )
2116Sunan Abu Dawood

جو شخص مہر کی تعیین کے بغیر نکاح کرے اور پھر مر جائے تو اس کا مہر کیا ہوگا

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أُتِيَ فِي رَجُلٍ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ شَهْرًا، أَوْ قَالَ: مَرَّاتٍ، قَالَ: فَإِنِّي أَقُولُ فِيهَا: إِنَّ لَهَا صَدَاقًا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، وَإِنَّ لَهَا الْمِيرَاثَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ، فَقَامَ نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ فِيهِمْ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ، فَقَالُوا: يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، نَحْنُ نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَاهَا فِينَا فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ، وَإِنَّ زَوْجَهَا هِلَالُ بْنُ مُرَّةَ الْأَشْجَعِيُّ كَمَا قَضَيْتَ، قَالَ: فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَرَحًا شَدِيدًا حِينَ وَافَقَ قَضَاؤُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس ایک شخص کا یہی مسئلہ پیش کیا گیا، راوی کا بیان ہے کہ لوگوں کی اس سلسلہ میں مہینہ بھر یا کہا کئی بار آپ کے پاس آمدورفت رہی، انہوں نے کہا: اس سلسلے میں میرا فیصلہ یہی ہے کہ بلا کم وکاست اسے اپنی قوم کی عورتوں کی طرح مہر ملے گا، وہ میراث کی حقدار ہوگی اور اس پر عدت بھی ہوگی، اگر میرا فیصلہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، اگر غلط ہے تو میری جانب سے اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور اللہ کے رسول اس سے بری ہیں، چناچہ قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ جن میں جراح و ابوسنان بھی تھے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ابن مسعود! ہم گواہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں بروع بنت واشق۔ جن کے شوہر ہلال بن مرہ اشجعی ہیں، کے سلسلہ میں ایسا ہی فیصلہ کیا تھا جو آپ نے کیا ہے، عبداللہ بن مسعود ؓ کو جب ان کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے موافق ہوگیا تو بڑی خوشی ہوئی۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Abdullah ibn Utbah ibn Masud said: Abdullah ibn Masud was informed of this story of a man. The people continued to visit him for a month or visited him many times (the narrator was not sure). He said: In this matter I hold the opinion that she should receive the type of dower given to women of her class with no diminution or excess, observe the waiting period (iddah) and have her share of inheritance. If it is erroneous, that is from me and from Satan. Allah and His Messenger are free from its responsibility. Some people from Ashja got up; among them were al-Jarrah and Abu Sinan. They said: Ibn Masud, we bear witness that the Messenger of Allah ﷺ gave a decision for us regarding Birwa, daughter of Washiq, to the same effect as the decision you have given. Her husband was Hilal ibn Murrah al-Ashjai. Thereupon Abdullah ibn Masud was very pleased when his decision agreed with the decision of the Messenger of Allah ﷺ .

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٢٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٣٠، ٤٣١، ٤٤٧، ٤٤٨) (صحیح )
2117Sunan Abu Dawood

جو شخص مہر کی تعیین کے بغیر نکاح کرے اور پھر مر جائے تو اس کا مہر کیا ہوگا

حَدَّثَنَا مُحمَّدُ بنُ يَحْيَى بنِ فارِسٍ الذُّهْلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَصْبَغِ الْجَزَرِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانَةَ ؟قَالَ: نَعَمْ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكِ فُلَانًا ؟قَالَتْ: نَعَمْ، فَزَوَّجَ أَحَدَهُمَا صَاحِبَهُ، فَدَخَلَ بِهَا الرَّجُلُ وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ وَكَانَ مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَنِي فُلَانَةَ وَلَمْ أَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ أُعْطِهَا شَيْئًا، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَعْطَيْتُهَا مِنْ صَدَاقِهَا سَهْمِي بِخَيْبَرَ، فَأَخَذَتْ سَهْمًا فَبَاعَتْهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَحَدِيثُهُ أَتَمُّ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ، ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يُخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ مُلْزَقًا، لِأَنَّ الْأَمْرَ عَلَى غَيْرِ هَذَا.

عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح فلاں عورت سے کر دوں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر عورت سے کہا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ فلاں مرد سے تمہارا نکاح کر دوں؟ اس نے بھی جواب دیا: ہاں، چناچہ آپ ﷺ نے ان دونوں کا نکاح کردیا، اور آدمی نے اس سے صحبت کرلی لیکن نہ تو اس نے مہر متعین کیا اور نہ ہی اسے کوئی چیز دی، یہ شخص غزوہ حدیبیہ میں شریک تھا اور اسی بنا پر اسے خیبر سے حصہ ملتا تھا، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں عورت سے میرا نکاح کرایا تھا، لیکن میں نے نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اسے کچھ دیا، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر سے ملنے والا حصہ اس کے مہر میں دے دیا، چناچہ اس عورت نے وہ حصہ لے کر ایک لاکھ میں فروخت کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن خطاب ؓ نے حدیث کے شروع میں ان الفاظ کا اضافہ کیا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو اور ان کی حدیث سب سے زیادہ کامل ہے اور اس میں إن رسول الله ﷺ قال للرجل کے بجائے قال رسول الله ﷺ للرجل ہے پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اندیشہ ہے کہ یہ حدیث الحاقی ہو کیونکہ معاملہ اس کے برعکس ہے ١ ؎۔

Narrated Uqbah ibn Amir: The Prophet ﷺ said to a man: Would you like me to marry you to so-and-so? He said: Yes. He also said to the woman: Would you like me to marry you to so-and-so? She said: Yes. He then married one to the other. The man had sexual intercourse with her, but he did not fix any dower for her, nor did he give anything to her. He was one of those who participated in the expedition to al-Hudaybiyyah. One part of the expedition to al-Hudaybiyyah had a share in Khaybar. When he was nearing his death, he said: The Messenger of Allah ﷺ married me to so-and-so, and I did not fix a dower for her, nor did I give anything to her. I call upon you as witness that I have given my share in Khaybar as her dower. So she took the share and sold it for one lakh (of dirhams). Abu Dawud said: The version of Umar bin al-Khattab added in the beginning of this tradition, and his version is more perfect. He reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The best marriage is the one that is most easy. The Messenger of Allah ﷺ said to the man. The narrator then transmitted the rest of the tradition to the same effect. Abu Dawud said: I am afraid this tradition has been added later on, for the matter is otherwise.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ درحقیقت مرض الموت میں اس شخص نے مہر سے زائد کی بابت ایسا کہا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٩٦٢) (صحیح )
2118Sunan Abu Dawood

خطبہ نکاح کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ فِي النِّكَاحِ وَغَيْرِهِ. ح

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سکھایا: إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ به من شرور أنفسنا من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله کان عليكم رقيبا اے ایمان والو! اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے (سورۃ النساء: ١) يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مسلمان ہی رہ کر مرو (سورۃ آل عمران: ١٠٢) ۔ يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا * يصلح لکم أعمالکم ويغفر لکم ذنوبکم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی (سورۃ الاحزاب: ٧١، ٧٠) ، محمد بن سلیمان کی روایت میں إن نہیں ہے۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ taught us the address in case of some need: Praise be to Allah from Whom we ask help and pardon, and in Whom we take refuge from the evils within ourselves. He whom Allah guides has no one who can lead him astray, and he whom He leads astray has no one to guide him. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. You who believe, . . . fear Allah by Whom you ask your mutual rights, and reverence the wombs. Allah has been watching you. . . . you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as Muslims. . . . you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as Muslims. . . . . you who believe, fear Allah and say what is true. He will make your deeds sound, and forgive your sins. He who obeys Allah and His Messenger has achieved a mighty success. The narrator, Muhammad ibn Sulayman, did mention the word inna (verily).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ١٧ (١١٠٥)، سنن النسائی/الجمعة ٢٤ (١٤٠٥)، والنکاح ٣٩ (٣٢٧٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٩ (١٨٩٢)، مسند احمد (١/٣٩٢، ٤٠٨، ٤١٣، ٤١٨، ٤٢٣، ٤٣٧)، سنن الدارمی/النکاح ٢٠ (٢٢٤٨)، ( تحفة الأشراف: ٩٥٠٦، ٩٦١٨) (صحیح )
2119Sunan Abu Dawood

خطبہ نکاح کا بیان

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ الْمَعْنَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْأَبِي الْأَحْوَصِ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ أَنْ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا 70 يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا 71 سورة الأحزاب آية 70-71، لَمْ يَقُلْ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنْ.

2119Sunan Abu Dawood

خطبہ نکاح کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا تَشَهَّدَ، ذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ بَعْدَ قَوْلِهِ: وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ وَلَا يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ پڑھتے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی لیکن اس میں ورسوله کے بعد یہ الفاظ زائد ہیں: أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدى الساعة من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا اللہ نے آپ کو حق کے ساتھ قیامت سے پہلے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمابرداری کرے گا، وہ ہدایت پا چکا، اور جو ان کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑے گا بلکہ اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچائے گا ۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ recited the tashahhud. . . . He then narrated the same tradition. In this version after the word and His Messenger he added the words: He has sent him in truth as a bearer of glad tidings and a warner before the Hour. He who obeys Allah and His Prophet is on the right path, and he who disobeys them does not harm anyone except himself, and he does not harm Allah to the least.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، ( تحفة الأشراف: ٩٦٣٦) (ضعیف )
2120Sunan Abu Dawood

خطبہ نکاح کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْعَلَاءِ ابْنَ أَخِي شُعَيْبٍ الرَّازِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ: خَطَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَنْكَحَنِي مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَشَهَّدَ.

بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں میں نے امامہ بنت عبدالمطلب سے نکاح کے لیے نبی اکرم ﷺ کے پاس پیغام بھیجا تو آپ نے بغیر خطبہ پڑھے ان سے میرا نکاح کردیا۔

Narrated Ismail bin Ibrahim: On the authority of a man from Banu Sulaim: I asked the Prophet ﷺ to marry Umamah daughter of Abd al-Muttalib to me. So he married her to me without reciting the tashahhud (i. e. the sermon for marriage).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٥٥٣٠) (ضعیف) (اس کے راوی العلاء لین الحدیث، اور اسماعیل مجہول ہیں )
2121Sunan Abu Dawood

نا بالغ لڑکی کا نکاح جائز ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعٍ، قَالَ سُلَيْمَانُ: أَوْ سِتٍّ. وَدَخَلَ بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول ﷺ نے مجھ سے شادی کی، اس وقت سات سال کی تھی (سلیمان کی روایت میں ہے: چھ سال کی تھی) اور آپ ﷺ میرے پاس آئے (شب زفاف منائی) اس وقت میں نو برس کی تھی۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ married me when I was seven years old. The narrator Sulaiman said: or Six years. He had intercourse with me when I was nine years old.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٧١٠٦، ١٦٨٧١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح ٣٨ (٥١٣٣)، ٣٩ (٥١٣٤)، ٥٩ (٥١٥٨)، صحیح مسلم/النکاح ١٠ (١٤٢٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٣ (١٨٧٦)، سنن النسائی/النکاح ٢٩ (٣٢٥٧)، مسند احمد (٦/١١٨)، سنن الدارمی/النکاح ٥٦ (٢٣٠٧) (صحیح )
2122Sunan Abu Dawood

باکرہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے پاس کتنے دن رہے

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات رہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسے اپنے خاندان کے لیے بےعزتی مت تصور کرنا، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات رات رہ سکتا ہوں لیکن پھر اپنی اور بیویوں کے پاس بھی سات سات رات رہوں گا ۔

Abd al-Malik bin Abi Bakr reported from his father on the authority of Umm Salamah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ married Umm Salamah, he stayed with her three night, and said: Your people (i. e. clan) are not being humbled for you in my estimation. If you wish I shall stay with you seven nights ; and if I stay you seven nights, I shall stay with my other wives seven nights.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١٢ (١٤٦٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٦ (١٩١٧)، ( تحفة الأشراف: ١٨٢٢٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ عشرة النساء (٨٩٢٥)، موطا امام مالک/النکاح ٥(١٤)، مسند احمد (٦/٢٩٢، ٢٩٦، ٣٠٧)، سنن الدارمی/النکاح ٢٧ (٢٢٥٦) (صحیح )
2123Sunan Abu Dawood

باکرہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے پاس کتنے دن رہے

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا. زَادَ عُثْمَانُ: وَكَانَتْ ثَيِّبًا. وقَالَ: حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، أَخْبَرَنَا أَنَسٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے صفیہ ؓ سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات گزاری، اور وہ ثیبہ تھیں ١ ؎۔

Narrated Anas bin Malik (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ married Safiyyah, he stayed with her three nights. The narrator Uthman added: She was non virgin (previously married). He said: This tradition has been narrated to me by Hushaim, reported by Humaid, and transmitted by Anas.

Notes · وضاحت
١ ؎: عثمان بن ابی شیبہ کے الفاظ ہیں کانت ثیباً ثیبہ وہ عورت ہے جس کی شادی پہلے ہوچکی ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٧٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٩٩) (صحیح )
2124Sunan Abu Dawood

باکرہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے پاس کتنے دن رہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَلَوْ قُلْتُ: إِنَّهُ رَفَعَهُ لَصَدَقْتُ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: السُّنَّةُ كَذَلِكَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب کوئی ثیبہ کے رہتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات رات رہے، اور جب ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات رہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ انس ؓ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے تو سچ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ سنت اسی طرح ہے ۔

Narrated Anas bin Malik (RA) : When a man who has a wife married a virgin he should stay with her seven nights ; if he marries to a woman who has been previously married he should stay with her three nights. (The narrator said:) If I say that he (Anas) narrated this tradition from the Prophet ﷺ I shall be true. But he said: The Sunnah is so-and-so.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١٠٠ (٥٢١٣)، ١٠١ (٥٢١٤)، صحیح مسلم/الرضاع ١٢ (١٤٦١)، سنن الترمذی/النکاح ٤٠ (١١٣٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٦ (١٩١٦)، ( تحفة الأشراف: ٩٤٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ٥(١٥)، سنن الدارمی/النکاح ٢٧ (٢٢٥٥) (صحیح )